اجڑے ہوئے ہڑپہ کے آثار کی طرح

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 22, 2014

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    آج ایک غزل پڑھنے کو ملی، شاعر کا نام محسن نقوی لکھا ہوا تھا مگر باوجود تلاش کے بھی کلیاتِ محسن میں نہ ملی۔ لہٰذا شاعر فی الحال "نا معلوم"

    اجڑے ہوئے ہڑپہ کے آثار کی طرح
    زندہ ہیں لوگ وقت کی رفتار کی طرح

    کیا رہنا ایسے شہر میں مجبوریوں کے ساتھ
    بکتے ہیں لوگ شام کے اخبار کی طرح

    بچوں کا رزق موت کے جووئے میں رکھ دیا,
    سرکس میں کودتے ہوئے فنکار کی طرح

    قاتل براجمان ہیں منصف کے سائے میں
    مقتول پھر رہے ہیں ازادار کی طرح

    وعدے ضرورتوں کی نظر کردیئے گئے
    رشتے ہیں سارے ریت کی دیوار کی طرح

    محسن میرے وجود کو سنگسار کرتے وقت
    شامل تھا سارا شہر اک تہوار کی طرح

    (شاعر: نا معلوم)
     

اس صفحے کی تشہیر