اب عہدِ گُل آ گیا ہے - خلیل الرحمٰن اعظمی

الف عین

لائبریرین
رخ پہ گردِ ملال تھی، کیا تھی
حاصلِ ماہ و سال تھی، کیا تھی

ایک صورت سی یاد ہے اب بھی
آپ اپنی مثال تھی، کیا تھی

میری جانب اُٹھی تھی کوئی نگہ
ایک مبہم سوال تھی، کیا تھی

اس کو پا کر بھی اس کو پا نہ سکا
جستجوئے جمال تھی، کیا تھی

صبح تک خود سے ہم کلام رہا
یہ شبِ جذبو حال تھی، کیا تھی

دل میں تھی، پرلبوں تک آ نہ سکی
آرزوئے وصال تھی، کیا تھی

اپنے زخموں پہ اک فسردہ ہنسی
کوششِ اندمال تھی، کیا تھی

عمر بھر میں بس ایک بار آئی
ساعتِ لا زوال تھی، کیا تھی

خوں کی پیاسی تھی پر زمینِ وطن
ایک شہرِ خیال تھی، کیا تھی


باعثِ رنجشِ عزیزاں تھی
خوئے کسبِ کمال تھی، کیا تھی

اک جھلک لمحۂ فراغت کی
ایک امرِ محال تھی، کیا تھی

کوئی خواہاں نہ تھا کہ جنسِ ہنر
ایک مفلس کا مال تھی، کیا تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
اختتام
۔۔۔۔۔

ماہنامہ شاعر ممبئی خلیل الرحمٰن اعظمی نمبر (شمارہ 4 5 اور 6، 1980) کے لیے شہریار کا کیا گیا انتخاب
ٹائپنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
 
Top