آپ کے پسندیدہ ادیب

یاقوت

محفلین
ایک اور نام قدرت اللہ شہاب بھی ہے۔
""شہاب نامہ"" محترم کی مشہور ترین کتاب جو کہ حقیقت میں اپنے آپ میں خود ایک تاریخ ہے یہ داستان ہے ایک ایسے شخص کی جس نے متحدہ ہندوستان دیکھا اور پاکستان بنتے بھی دیکھا اور پاکستان کے پہلے 3،4سربراہان کا سیکرٹری بھی رہا سوائے قائد کے۔""یاخدا ""آپ کا مشہور زمانہ افسانہ اور ""ماں جی"" لازوال خاکہ ہے۔
 
آخری تدوین:
افسوس کہ جن حضرات کو ٹیگ کیا تھا۔ خیر سے کوئی نہیں آیا۔:-(
میں نے ذکر تو کیا اپنے پسندیدہ ترین مصنفین کا۔ اور بھی ہیں، فی الحال ایک، ایک پر ہی اکتفا کیا۔ وارث بھائی بھی شریک رہے۔

باقی جہاں آپ نے ٹیگ کیا ہے، وہاں محفلین کو ٹیگ نہیں کیا جاتا۔ بلکہ موضوع سے متعلق ٹیگ لکھے جاتے ہیں۔ محفلین کو ٹیگ جرنے کے لیے @ کے ساتھ بغیر سپیس کے مطلوبہ محفلین کا مکمل نام لکھا جاتا ہے۔ جیسے بافقیہ :)
 
مختار مسعود اور پطرس بخاری کے علاوہ

مزاح میں مشتاق یوسفی کا قدردان ہوں۔
کرنل محمد خان کی بجنگ آمد ہی اردو مزاح کے ایک بڑے حصہ پر حاوی سمجھتا ہوں۔

سنجیدہ میں نظریہ کو الگ بھی رکھیں تو نثری اسلوب کے لحاظ سے بھی مولانا مودودیؒ کا اسلوب پسند ہے۔
 

یاقوت

محفلین
اقبال احمد اقبال نے بھی ""کالے خان بھورے خان"" کے نام سے ایک مزاحیہ مضامین کا سلسلہ شروع کیا تھا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ کافی مزیدار مضامین ہیں۔
 

جاسمن

لائبریرین
اقبال احمد اقبال نے بھی ""کالے خان بھورے خان"" کے نام سے ایک مزاحیہ مضامین کا سلسلہ شروع کیا تھا جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ کافی مزیدار مضامین ہیں۔

مجھے بھی احمد اقبال کا طرزِ تحریر بہت پسند یے۔ خاص طور پہ ان کے مزاح کا انداز اور وطن سے محبت۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میں یہاں مرزا غالب کی زندگی پر بننے والی ڈرامہ سیریل کے لنکس دوں گا۔مرزا غالب کا کردار نصیرالدین شاہ نے ادا کیا اور کمال کیا ہے۔گانے میں زیادہ تر مرزا صاحب کے کلام کو ہی منظوم انداز میں گایا گیا ہے جنہیں گایا ہے جگجیت اور چترا سنگھ نے۔حقیقت یہ ہے کہ اس ڈرامے کو بے انتہا اثر پذیر کرنے میں ان دونوں گلوکاروں کی آواز نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ڈرامہ کافی سارے حصوں میں تھا جنہیں یکجا کر کے 4 حصوں میں اکٹھا کیا گیا ہے ذیل میں چاروں حصے ترتیب وار پیش کیے جاتے ہیں۔

Mirza_Ghalib_%281988_TV_series%29_DVD_cover.jpg
میں نے یہ ڈرامہ اس وقت دیکھا تھا جب "دُور درشن" سے 1988ء میں یہ نشر کیا جاتا تھا۔ جموں بوسٹر کی وجہ سے سیالکوٹ میں دُور درشن کلیئر نظر آتا تھا۔ تبھی سے اس ڈرامے، غالب اور جگجیت سنگھ کے سحر میں مبتلا ہوں۔ اب بھی ہر کچھ عرصے کے بعد اس کو یو ٹیوب پر دیکھ لیتا ہوں۔
 

بافقیہ

محفلین
میں نے یہ ڈرامہ اس وقت دیکھا تھا جب "دُور درشن" سے 1988ء میں یہ نشر کیا جاتا تھا۔ جموں بوسٹر کی وجہ سے سیالکوٹ میں دُور درشن کلیئر نظر آتا تھا۔ تبھی سے اس ڈرامے، غالب اور جگجیت سنگھ کے سحر میں مبتلا ہوں۔ اب بھی ہر کچھ عرصے کے بعد اس کو یو ٹیوب پر دیکھ لیتا ہوں۔
جی جناب! جو دیکھے وہ ضرور اس کے سحر میں مبتلا ہوگا۔ یہاں بھی کچھ یہی حال ہے۔۔۔
 

بافقیہ

محفلین
عبدالماجد دریابادی ۔۔۔ اپنے طرز کے آپ موجد اور آپ خاتم۔
’’آپ بیتی‘‘ ’’سفر حجاز‘‘ ’’معاصرین‘‘ ’’وفیات ماجدی‘‘ اور آپ کا ہفتہ وار رسالہ ’’صدق اور صدق جدید‘‘ آپ کے زبردست انشاءپردازی کے نمونے ہیں۔
محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق۔ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور آزادی اور مولانا جوہر کی زندگی، تحریک خلافت وغیرہ کو سمجھنے کیلئے ایک آئینہ۔
آپ کی تفسیر ماجدی گو کہ قرآن مجید کی تفسیر ہے مگر پڑھنے والا اسلوب نگارش کے باعث کچھ زیادہ ہی مستفید ہوسکتا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
افغان روس جنگ سے متعلق ایک خاص واقعہ سمجھ لیجے۔ کہ کس طرح پانچ مختلف قومیتوں کے مجاہدین ایک خاص سچویشن کا شکار ہوئے اور کس طرح اس سچویشن سے نمٹمے کی کوششیں کرتے رہے۔ اور اس مخصوص صورتحال میں ان کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کیا کیا رہے۔
 

یاقوت

محفلین
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا ذکر نہیں ہوا ابھی تک موصوف کی نقوش اقبال خاصے کی کتاب ہے۔یہ نام ندوہ کی تاریخ میں سید سلیمان ندویؒ کے سب بعد سے معروف نام ہے ۔ حلیم الطبع،قادرالقلم،قدیم و جدید کا حسین امتزاج مولانا موصوف ہیں ۔ انکی کتابیں ""انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" "تاریخ دعوت و عزیمت"" اپنے آپ میں انکے شہ پارے ہیں۔
 
آخری تدوین:
Top