آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

نبیل نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 24, 2007

  1. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    چلیں پھر تو آپ سے اس موضوع پر خوب اچھی گفتگو رہے گی۔ میرا ارادہ ہے کہ اکبر کے ہندوستان پر ایک لڑی کھولوں یا اگر پہلے ہی کھلی ہے تو اس میں مراسلہ پوسٹ کروں۔ اکبر فی الحال تو ایک شاطر بادشاہ دکھائی دے رہا ہے کہ جو اپنی حکومت بڑھانے کے ساتھ تلاش حق میں ہر ہر مذہب کے جید علماء کی ناز برداریاں کر رہا ہے جس سے انکو یہ لگتا ہے کہ وہ اسی مذہب کا ہے یا جلد تبدیلی مذہب کا اعلان کرے گا۔ :)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. ام عبدالوھاب

    ام عبدالوھاب محفلین

    مراسلے:
    45
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    السلام علیکم!
    بہت خوبصورت سلسلہ ہے،ماشاءاللہ۔دینی اور دنیوی علم میں اضافہ کا باعث بنے گا ان شاء اللہ۔
    میں آجکل ڈاکٹر مصطفےٰخاں صاحب کی لکھی ہوئی "اقبال اور قرآن "پڑھ رہی ہوں۔
    ایک شعر منتخب کیا ہے؛
    اقبالؒ اور قرآن
    میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات میں
    غلغلہ ہائے الاماں بت ک۔دۂ صفات میں
    (بالِ جبریل۔۔ص 297)
    اللہ کو اللہ ہی کی خاطر چاہنے والاجب اسکے حریم میں پہہنچتا ہے تو ایک شور اٹھتا ہےکہ کیا ایسا بھی کوئی چاہنے والا ہے جو صفات کی وجہ سے نہیں بلکہ ذات کی وجہ سے مجھے چاہتا ہے؟اور عالمِ صفات میں بھی ایک ہلچل مچ جاتی ہے۔کہ صفات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یہ چاہنے والاسیدھا حریمِ ذات میں پہنچ رہا ہے۔یہ ایک خاس الخاص موحد کی شان ہے۔
    ھُوَاللہُ رَبِّیْ وَلَآاُشْرِکُ بِرَبِْیْ اَحَدا٭
    (سورۃ الکھف:::38)
    ترجمہ::وہ اللہ ہی میرا رب ہے۔اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں ٹھہراتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عبدالصمدچیمہ

    عبدالصمدچیمہ لائبریرین

    مراسلے:
    232
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہے تو ہندوستان ہی جناب کتنا بھی فرق نکلے گا۔
     
  4. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    وعلیکم السلام۔ ذات حریم تک پہنچنے والے کسی غیر مرد نبی کو آپ جانتی ہیں؟
     
  5. ام عبدالوھاب

    ام عبدالوھاب محفلین

    مراسلے:
    45
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    غیر مرد نبی؟کچھ سمجھی نہیں۔
    اللہ کو اسکی رحمت اور رحمانیت کی پرواہ کیے بغیر چاہنا کیونکہ اسکی ذاتِ واحد ہے ہی چاہے جانے کے قابل۔(عبادت کے لائق)یہی بندگی کی معراج ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اٰیک مدت مدید کے بعد دوپہر کے وقت قدرتی روشنی میں مستقل اور دلجمعی کے ساتھ مطالعے کا موقع اس لاک ڈاؤن میں ملا تو اس کے لیے میں نے کتاب بھی ویسی ہی ڈھونڈنی چاہی یعنی جو پڑھے ہوئے بھی دہائیاں گزر گئی ہوں، ضخیم بھی ہو اور اردو بھی ہو سو علامہ شبلی نعمانی اور سید سلمان ندوی کی شہرہ آفاق "سیرۃ النبی" پڑھ رہا ہوں، الحمد للہ۔ :)
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,411
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سربراہان مملکت کے تبدیل ہونے سے کبھی کبھی بہت فرق پڑتا ہے۔

    یہی ہندوستان جب شیر شاہ سوری کے ہاتھ میں تھا تب ہندوستان کچھ اور ہی تھا۔
     
    • متفق متفق × 1
    • غمناک غمناک × 1
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,411
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ایک مسلمان کی حیثیت سے دیکھا جائے تو اکبر کے معاملات کافی خراب تھے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  9. عبدالصمدچیمہ

    عبدالصمدچیمہ لائبریرین

    مراسلے:
    232
    جھنڈا:
    Pakistan
    یہ بات تو ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اکبر کے سیکولر یعنی سیاسی معاملات انتہائی کامیاب تھے اور یہ بھی کہ مسلمان حکمرانوں میں قرنِ اول میں خلافتِ راشدہ کے بعد ہی سے سیکولر اور مذہبی معاملات الگ الگ ہو گئے تھے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کتاب میں ایک قصہ ہے کہ پادری سے کہتا ہے کہ ایک عالم کی تفسیر مجھے پسند نہیں سو آپ مسلمانوں کے مقابلے پر آگ پر چلنے کا مقابلہ قبول کر لیں میں اسے مجبور کر دوں گا۔ پادری نے انکار کر دیا اور اس طرح معاملہ ختم ہوا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    23,912
    دینَ الٰہی (فارسی: دین الهی؛ انگریزی: "Religion of God")، مغل بادشاہ، اکبر نے اپنے دور میں، ایک نئے مذہب کی شروعات کی، جس کا نام دین الٰہی رکھا۔ اس مذہب کا مقصد، تمام مذاہب والوں کو یکجا کرنا اور، ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ اکبر کے مطابق، دین اسلام، ہندو مت، مسیحیت، سکھ مذہب اور زرتشت مذاہب کے، عمدہ اور خالص اُصولوں کو اکھٹا کر کے ایک نیا دینی تصور قائم کرنا، جس سے رعایا میں نا اتفاقیاں دور ہوں اور، بھائی چارگی قائم ہو۔

    اکبر دیگر مذاہب کے ساتھ خوش برتاؤ کرنے اور، دیگر مذاہب کی قدر کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس مذہب کے فروغ کے لیے اکبر نے فتح پور سکری شہر میں ایک عمارت کی تعمیر کی جس کا نام عبادت خانہ رکھا۔ اس عبادت خانے میں تمام مذہب کے لوگ جمع ہوتے اور، مذہبی فلسفہ پر بحث و مباحثہ کرتے۔

    ان بحث و مباحثہ کے نتائج میں اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ، حق، کسی ایک مذہب کا ورثہ نہیں ہے، بلکہ ہر مذہب میں حق اور سچائی پائی جاتی ہی۔

    دین الٰہی، اپنی مخلوط تصورات کو اور دین کے تحت اپنے فکر و فلسفہ کو عملی صورت میں، دین الٰہی پیش کیا۔ اس نئی فکر کے مطابق، اللہ کا وجود نہیں ہے اور نبیوں کا وجود بھی نہیں ہے۔ تصوف، فلسفہ اور فطرت کی عبادت ہی عین مقصد ہے۔ اس نئے مذہب کو اپنانے والوں میں سے دم آخر تک بیربل رہا۔ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک راجہ مان سنگھ جو سپاہ سالار بھی تھا، دین الٰہی کی دعوت ملنے پر کہا کہ؛ میں مذاہب کی حیثیت سے ہندو مت اور اسلام ہی کی نشان دہی کرتا ہوں، کسی اور مذہب کو نہیں۔ مباد شاہ کی تصنیف شدہ کتاب دبستان مذاہب کے مطابق، اس دین الٰہی مذہب کے پیرو کار صرف 19 رہے۔ اور رفتہ رفتہ ان کی تعداد بھی کم ہو گئی۔

    دین الٰہی ایک فطری رواجوں پر مبنی مذہب تھا، اس میں، شہوت، غرور و مکر ممنوع تھا، محبت شفقت اور رحیمیت کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ یوں کہا جائے کہ یہ ایک روحانی فلسفہ تھا۔ اس میں روح کو زیادہ اہمیت دی گیی۔ جانوروں کو غذا کے طور پر کھانا منع تھا۔ نہ اس کی کوئی مقدس کتاب تھی اور نہ ہی کوئی مذہبی رہنما اور نہ اس کے کوئی وارث۔
    دین الٰہی - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
     
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    23,912
    اکبر ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں میں سے واحد بادشاہ تھا جسے خطے کے تمام مذاہب و ادیان میں آج بھی مثبت الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ اس کا بنایا ہوا دین الٰہی تو نہ چلا سکا البتہ اس نے اپنے دور حیات میں ہندوستان کی مختلف مذہبی کمیونیٹیز کے مابین عملا ہم آہنگی اور بھائی چارہ پیدا کر لیا تھا ۔ آج بھی خطے میں بڑھتی مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے ایک اکبر کی ضرورت ہے۔
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  14. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد صرف خلیفہ وقت رشد و ہدایت کا نمونہ نہ رہا بقیہ تمام امور میں وہ مجبور تھا کہ اسلامی تعلیمات کے تحت فیصلہ کرے۔ اسلامی خلافت یا یوں کہیے سیاست کبھی بھی سیکولر یا لادین نہیں رہی۔ لیکن اس معیار کی بھی نہ رہی جو خلافت راشدہ کے دوران معیار رکھتی تھی۔
     
    • غمناک غمناک × 1
  15. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,761
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    1,267
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بار بار گفتگو میں یورپ اور اسلامی ممالک کا تقابل ہوتا رہتا ہے چنانچہ داعیہ پیدا ہوا کہ یورپ کا عروج از ڈاکٹر مبارک علی پڑھی جائے۔

    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 1
  17. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,761
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    • زبردست زبردست × 1
  18. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,761
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,761
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
  20. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,761
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm

اس صفحے کی تشہیر