آپ نے آکر پشیمانِ تمنا کر دیا (از قلم نیرنگ خیال)

سید عمران

محفلین
نہ جانے کون بیچارہ اپنا سفر مکمل کر گیا۔۔۔ :)
لاہور کے ابتدائی قیام کے دوران ایک دن بابا نے بتایا کہ یار وہ فلاں شخص فوت ہوگیا ہے۔ میرے ذہن میں وہ آدمی موجود نہ تھا تو بابا نے نشانی کے طور پر بتایا کہ یار وہ کبھی کبھار امامت بھی کرواتا تھا ا وراذان بھی دے دیا کرتا تھا۔ یہ سننا تھا کہ سر شرمندگی سے جھک گیا۔ تو وہ یک چشم گُل گزر گیا۔
یہ والے صاحب۔۔۔
 

جاسمن

مدیر
ایک اور خوبصورت تحریر۔
عمومی رویوں کی نشاندہی کرتی ہوئی۔
یہ آپ ہی نہیں تھے/ہیں۔۔۔۔یہ "وہ"بھی ہے۔
یہ "میں"بھی ہوں۔
اس شخص کے اس قدر گرم جوشی سے ملنے سے ایک شرمندگی کا احساس جاگتا ہے۔
آخر میں گو آپ کے جملے مذاحیہ پیرائے میں ہیں۔۔۔لیکن میں نہیں ہنس سکی۔
ہم معافیاں آگے ہی آگے کیوں لے جاتے ہیں نیرنگ!
سارے کام پورے اور یہ کام ادھورا؟؟؟
اب آپ جائیں تو ان سے ایک تفصیلی ملاقات ضرور کیجیے گا۔
ان سے پوچھیے گا کہ اللہ اکبر کہتے ہوئے ان کی آواز بھیگ کیوں جاتی ہے؟
ان سے پوچھیے گا کہ انہوں نے آپ کو یاد کیسے رکھا؟
ان سے پرانی باتیں ضرور شئیر کیجیے گا۔
اور ہاں!معافی میں دیر نہیں کرنی۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ایک اور خوبصورت تحریر۔
عمومی رویوں کی نشاندہی کرتی ہوئی۔
یہ آپ ہی نہیں تھے/ہیں۔۔۔۔یہ "وہ"بھی ہے۔
یہ "میں"بھی ہوں۔
سب سے پہلے تو ہمیشہ کی طرح حوصلہ افزائی کرنے پر شکرگزار ہوں۔
بلاشبہ یہ کوتاہیاں کمیاں ہر ایک کے ساتھ ہیں۔

اس شخص کے اس قدر گرم جوشی سے ملنے سے ایک شرمندگی کا احساس جاگتا ہے۔
شرمندگی کا احساس تب جاگتا ہے جب ایک زیادتی یا ندامت اس سے منسوب ہو۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے اس پر ندامت ہے یا نہیں۔ :D
تفنن برطرف۔۔۔ آپ کی بات درست ہے۔

آخر میں گو آپ کے جملے مذاحیہ پیرائے میں ہیں۔۔۔لیکن میں نہیں ہنس سکی۔
یہ بات درست ہے۔ اور شاید تحریر متضاد کیفیات کے اظہار لئے ہے۔ سو ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں جانا اتنا سہل بہرحال نہیں ہوتا۔

ہم معافیاں آگے ہی آگے کیوں لے جاتے ہیں نیرنگ!
سارے کام پورے اور یہ کام ادھورا؟؟؟
سچی اور کھری بات یہ ہے کہ "کیوں کہ ہم کمینے ہوتے ہیں اورمعافی مانگنا ہی نہیں چاہتے۔" اور شوگر کوٹڈ بات یہ ہے کہ ہم اس بات کو جھٹکنا چاہتے ہیں۔ یہ بات چاہتے ہیں کہ امتداد زمانہ کی گرد ان باتوں کو دھندلا دے۔ اور کہیں شرمساری و ندامت بھی دفن ہوجائے۔

اب آپ جائیں تو ان سے ایک تفصیلی ملاقات ضرور کیجیے گا۔
ان سے پوچھیے گا کہ اللہ اکبر کہتے ہوئے ان کی آواز بھیگ کیوں جاتی ہے؟
میری ان سے کافی ملاقاتیں ہیں۔ وہ ابو کے جاننے والے بھی ہیں۔ اور ہمارے گھر کے پاس ہی ان کی دکان بھی ہے۔
میں یہاں تذکرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مگر سچ بتاؤں تو میں نے بلکہ ہم نے چھپ کر بھی دیکھا تھا کہ یہ سچ مچ روتے ہیں یا ایویں آواز نکالتے ہیں۔ اب مجھ سے مزید تفصیلات مت پوچھیے گا۔

ان سے پوچھیے گا کہ انہوں نے آپ کو یاد کیسے رکھا؟
ان سے پرانی باتیں ضرور شئیر کیجیے گا۔
اور ہاں!معافی میں دیر نہیں کرنی۔
وہ تو ابو سے ان کی ملاقات رہتی ہے سو وہ سب کو ہی جانتے ہیں۔ اسی لئے تو ان کو یہ خبر بھی تھی کہ میں اسلام آباد ہوتا ہوں۔
جی ان شاء اللہ معافی بھی مانگوں گا۔ ان کو پتا ہی ہے۔

اور اب آپ سے ایک سوال:
بچوں کی معصومانہ شرارتوں کو جن سے کسی کو نقصان نہیں پہنچ رہا، یا جو زمانہ شعور سے پہلے کی گئی ہیں۔ اور محض یاد بن کر ذہن سے چپک گئی ہیں ان پر واقعی انسان کو اپنے بڑوں سے معافی مانگنی چاہیے؟ اور اگر مانگنی چاہیے تو کیوں؟ شرارت اگر بچے نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ اپنی رائے کا بےدھڑک اظہار اگر ان کے ہاں بھی نہ ہوگا تو کہاں سے آئے گا۔ بچوں کی شرارتوں سے لطف بڑے نہیں لیں گے انہیں معاف نہیں کریں گے اور درگزر سے کام نہیں لیں گے تو کون لے گا؟
 

غدیر زھرا

لائبریرین
عمدہ تحریر میں چھپا گہرا پیغام۔۔ہم اپنی سستی اور کاہلی کو دلیل دیتے ہیں ہم دراصل اپنی کوتاہی کو جواز دیتے ہیں ہم میں اتنا ظرف ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی زندہ وجود سے اپنی غلطی کا اقرار کر پائیں ہم صرف مردوں سے معافی مانگ سکتے ہیں زندوں سے نہیں۔ اب اس واقعہ سے جڑی چاشنی ختم ہوئی کیونکہ اب وہ خواہش بھی نہ رہی :)
 
جب میری عمر کوئی دس سال کے قریب تھی۔ان دنوں نیکی کا نشہ سا چڑھا رہتا تھا
نیکی کا نشہ بس اسی عمر میں تھا یا اب بھی ہے ۔۔۔؟؟ ویسے میرا یہ خیال ہے کہ نیکی کا نشہ ساری عمر رہنا چاہے اور پتہ نہیں کون سی شام زندگی کی آخری شام ہو جائے اور وہ دن بھی نیکی کے نشے میں گزرا ہو تو کیا کہنے ۔۔
موقع نہیں گنوانا چاہیے موقعے بار بار نہیں ملا کرتے ۔۔۔
بعد میں ملامت کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔


ویسے تحریر بڑی شاندار ہے اور انداز بیاں تو اور بھی شاندار ہے ۔۔سلامت رہیں۔۔
 

جاسمن

مدیر
اور اب آپ سے ایک سوال:
بچوں کی معصومانہ شرارتوں کو جن سے کسی کو نقصان نہیں پہنچ رہا، یا جو زمانہ شعور سے پہلے کی گئی ہیں۔ اور محض یاد بن کر ذہن سے چپک گئی ہیں ان پر واقعی انسان کو اپنے بڑوں سے معافی مانگنی چاہیے؟ اور اگر مانگنی چاہیے تو کیوں؟ شرارت اگر بچے نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ اپنی رائے کا بےدھڑک اظہار اگر ان کے ہاں بھی نہ ہوگا تو کہاں سے آئے گا۔ بچوں کی شرارتوں سے لطف بڑے نہیں لیں گے انہیں معاف نہیں کریں گے اور درگزر سے کام نہیں لیں گے تو کون لے گا؟
پشیمان ہوں کہ شاید آپ کو رنجش ہوئی۔معذرت۔
آپ اپنی جگہ درست کہہ رہے ہیں۔
میں نے تو کم لیکن میرے بڑے بھائی نے ایسی بے شمار شرارتیں کی ہیں۔۔۔جن سے کی گئیں وہ اب دنیا میں نہیں۔
اگر میرے ذہن میں تھوڑا سا بھی اضطراب ہو تو جب تک اسے دور نہ کر لوں۔۔چین نہیں آتا۔۔۔میں نے اس نیت سے کہا کہ اگر آپ کے ذہن میں بھی ایسا کوئی تھوڑا سا اضطراب ہوا تو ان سے معافی سے دور ہوگا۔
دوسری طرف ایک اور بھی نظریہ ہے کہ اگر کسی بچے سے کوئی ایسی شرارت سرزد ہوجائے(یہ بات آپ کے واقعہ کے تناظر میں نہیں ہے)جس سے کسی بڑے کی دل شکنی یو، بے عزتی ہوتی ہو تو پھر اس بچے کے بڑوں کو چاہیے کہ اسے بڑوں کے احترام اور ان سے معافی کے لئے کہیں۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
عمدہ تحریر میں چھپا گہرا پیغام۔۔ہم اپنی سستی اور کاہلی کو دلیل دیتے ہیں ہم دراصل اپنی کوتاہی کو جواز دیتے ہیں ہم میں اتنا ظرف ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی زندہ وجود سے اپنی غلطی کا اقرار کر پائیں ہم صرف مردوں سے معافی مانگ سکتے ہیں زندوں سے نہیں۔ اب اس واقعہ سے جڑی چاشنی ختم ہوئی کیونکہ اب وہ خواہش بھی نہ رہی :)
بہت نوازش غدیر۔۔۔ شکریہ تمہارا۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
نیکی کا نشہ بس اسی عمر میں تھا یا اب بھی ہے ۔۔۔؟؟ ویسے میرا یہ خیال ہے کہ نیکی کا نشہ ساری عمر رہنا چاہے اور پتہ نہیں کون سی شام زندگی کی آخری شام ہو جائے اور وہ دن بھی نیکی کے نشے میں گزرا ہو تو کیا کہنے ۔۔
بلاشبہ جنااب۔۔ اخروی کامیابی سب کا مطمع نظر ہونی چاہیے۔

موقع نہیں گنوانا چاہیے موقعے بار بار نہیں ملا کرتے ۔۔۔
بلاشبہ۔۔۔ سب کتابیں ایسا ہی کہتی ہیں۔

بعد میں ملامت کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔
یہ بھی ہے۔

ویسے تحریر بڑی شاندار ہے اور انداز بیاں تو اور بھی شاندار ہے ۔۔سلامت رہیں۔۔
بہت نوازش سر۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
پشیمان ہوں کہ شاید آپ کو رنجش ہوئی۔معذرت۔
نہیں معذرت کی ضرورت نہیں جاسمن صاحبہ۔ میں اپنا مدعا بیان کرنے سے قاصر رہا۔ ایک آدھ دن میں کوشش کرتا ہوں کہ ذرا تفصیلی لکھ سکوں۔

آپ اپنی جگہ درست کہہ رہے ہیں۔
شکریہ

میں نے تو کم لیکن میرے بڑے بھائی نے ایسی بے شمار شرارتیں کی ہیں۔۔۔جن سے کی گئیں وہ اب دنیا میں نہیں۔
کچھ شریک کیجیے۔

اگر میرے ذہن میں تھوڑا سا بھی اضطراب ہو تو جب تک اسے دور نہ کر لوں۔۔چین نہیں آتا۔۔۔میں نے اس نیت سے کہا کہ اگر آپ کے ذہن میں بھی ایسا کوئی تھوڑا سا اضطراب ہوا تو ان سے معافی سے دور ہوگا۔
یہ تو ہے۔ اضطراب بےسکونی کا سبب ہے۔

دوسری طرف ایک اور بھی نظریہ ہے کہ اگر کسی بچے سے کوئی ایسی شرارت سرزد ہوجائے(یہ بات آپ کے واقعہ کے تناظر میں نہیں ہے)جس سے کسی بڑے کی دل شکنی یو، بے عزتی ہوتی ہو تو پھر اس بچے کے بڑوں کو چاہیے کہ اسے بڑوں کے احترام اور ان سے معافی کے لئے کہیں۔
یہاں بھی متفق ہوں۔
 
Top