آپس کی باتیں دوسری لڑی

شمشاد

لائبریرین
غالبا ریاض وسط یقینا ریاض ہے
زمینی راستے میں ایک بار حج اور ایک بار عمرہ کے لئے بطخہ سے ہوتے ہوئے ریاض، طایف میں میقاط احرام باندھا تھا
پھر کعبہ شریف پہنچا۔ کچھ دنوں کے بعد مدینۃ المنورہ پھر مکہ معظمہ پھر ویسے ہی طائف، ریاض بطخہ سلہ دبئی۔۔
بہت اچھا لگا تقریبا 22 سے 24گھنٹے لگتے ہیں اور بس جو تھی وہ سپیتکو تھی ان کی سروس شارجہ ، دبئی سے ہے سعودیہ کے لئے
دن میں دوبار۔۔
اگر آپ دبئی سے آئیں تو یہی راستہ بنتا ہے۔ طائف سے تقریباً ۲۰ کیلومیٹر مکہ المکرمہ کی طرف جاتے ہوئے ایک جگہ سیل الکبیر آتی ہے۔ اور اس طرف سے مکہ المکرمہ میں داخل ہونے والوں کے لیے یہی میقات ہے۔
SAPTCO کی بسیں بہت سے ممالک میں جاتی ہیں۔ خاص کر مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مصر بھی ان کی بسیں جاتی ہیں۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت مصروف صبح تھی کہ ساڑھے آٹھ بجے کے قريب ايک بوڑھا شخص جو 80 سال کا ہو گا اپنے انگوٹھے کے ٹانکے نکلوانے کيلئے آيا ۔ اُسے 9 بجے کا وقت ديا گيا تھا مگر وہ جلدی ميں تھا کہ اُسے 9 بجے کسی اور جگہ پہنچنا ہے ۔ ميں نے اہم معلومات لے ليں اور اُسے بيٹھنے کيلئے کہا کيونکہ اس کی باری آنے ميں ايک گھنٹہ سے زيادہ لگ جانے کا اندازہ تھا ۔ ميں نے ديکھا کہ وہ بار بار گھڑی پر نظر ڈال رہا ہے اور پريشان لگتا ہے ۔ اس بزرگ کی پريشانی کا خيال کرتے ہوئے ميں نے خود اس کے زخم کا معائنہ کيا تو زخم مندمل ہوا ديکھ کر ميں نے ايک ڈاکٹر سے مطلوبہ سامان لے کر خود اس کے ٹانکے نکال کر پٹی کر دی۔

ميں نے اسی اثناء ميں بزرگ سے پوچھا کہ “کيا اُسے کسی اور ڈاکٹر نے 9 بجے کا وقت ديا ہوا ہے کہ وہ اتنی جلدی ميں ہے ؟”
وہ بولا کہ اُس نے ايک نرسنگ ہوم جانا ہے جہاں اُس نے 9 بجے اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے
اس پر ميں نے بزرگ کی بيوی کی صحت کے بارے ميں پوچھا تو بزرگ نے بتايا کہ اس کی بيوی الزائمر بيماری کا شکار ہونے کے بعد کچھ عرصہ سے نرسنگ ہوم ميں ہے
ميں نے پوچھا کہ “اگر وہ وقت پر نہ پہنچے تو اس کی بيوی ناراض ہو گی ؟”
اُس بزرگ نے جواب ديا کہ “وہ تو پچھلے 5 سال سے مجھے پہچانتی بھی نہيں ہے”

ميں نے حيران ہو کر پوچھا “اور آپ اس کے باوجود ہر صبح اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرتے ہيں ؟ حالانکہ وہ پہچانتی بھی نہيں کہ آپ کون ہيں”
بزرگ نے مسکرا کر کہا “درست کہ وہ مجھے نہيں جانتی مگر ميں تو اُسے جانتا ہوں کہ وہ کون ہے”

يہ سن کر ميں نے بڑی مشکل سے اپنے آنسو روکے گو ميرا کليجہ منہ کو آ رہا تھا ۔ ميں نے سوچا “يہ ہے محبت جو ہر انسان کو چاہيئے...!
سچی محبت نہ جسمانی ہوتی ہے نہ رومانی.
(از ممتاز مفتی "چھڈ یار")

بہ شکریہ : عامر غنی (تکلف برطرف: فیس بک)
 

سیماب

محفلین
احمد بھائی تو تنہا ہی ہیں اور پہلے سے ہیں۔ ابھی ان کی شادی ہی کب ہوئی ہے۔
ارے میں اوس تنہا کی بات نہیں کر رہی تھی جس کے پا س اچھے دوست ہوں وہ تنہا نہیں ہوتا۔ رہی اُس تنہائی کی بات تو وہ بھی پوری ہو ہی جائے گی انشاءاللہ :)
 
Top