آوارگانِ شوق سبھی گھر کے ہو گئے ۔ رضی اختر شوق

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 6, 2020

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,683
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    آوارگانِ شوق سبھی گھر کے ہو گئے
    اک ہم ہی ہیں کہ کوچۂ دلبر کے ہو گئے

    پھر یوں ہوا کہ تجھ سے بچھڑنا پڑا ہمیں
    پھر یوں لگا کہ شہر سمندر کے ہو گئے

    کچھ دائرے تغیرِ دنیا کے ساتھ ساتھ
    ایسے کھنچے کہ ایک ہی محور کے ہو گئے

    اس شہر کی ہوا میں ہے ایسا بھی اک فسوں
    جس جس کو چھو گئی سبھی پتھر کے ہو گئے

    سورج ڈھلا ہی تھا کہ وہ سائے بڑھے کہ شوقؔ
    کم قامتانِ شہر برابر کے ہو گئے

    رضی اختر شوقؔ
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 7, 2020
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر