آغا حشرؔ کاشمیری کے نما ئن۔دہ ڈ را مے

الف عین

لائبریرین
تیسرا باب پہلا سین
مکانِ بیرم
(بیرم کے سامنے رقص ونغمہ)
کورس :۔ تورے رے بانکے لوچن ۔ پر ان پیارے موہن۔ موری رے پریت چھوڑونا ۔ آؤ رے بیگی آؤ۔ واری۔ واری جاؤں ساجن ۔ ہاں تو رے رے بانکے لوچن ۔ آیو رے مورے آنگن ۔ آیو رے مورے آنگن ۔ واری ۔ واری جاؤں ساجن۔ ہاں تورے ...
بیرم :۔ آہا ! گانا بھی کیا عمدہ چیز ہے ۔ کیسی ہی غمگین اور پژ مردہ روح کیوں نہ ہو اس کو سن کر طبیعت بہل جاتی ہے ، مگر میرا دل تو اس وقت خوش ہوگا جب میرے سرپر خاقان کا تاج اور اس ہاتھ میں عصائے سلطنت اور اس ملک کے سکّے پر میرانام کندہ ہوگا۔ اے مضطرب روح کیوں گھبراتی ہے ۔ اگر میرا آج کا سوچا ہوا داؤ چل گیا تو یہ سب کچھ بھی ہاتھ آجائے گا ۔
(ماہ پارہ آتی ہے )
ماہ پارہ :۔ کیوں بیرم؟
بیرم :۔ ہیں ! کون ؟ حضور ہیں !
ماہ پارہ:۔ بیرم ! تم نے پھر وہی ادا دکھا ئی ۔ دیکھو ! اگر تم مجھ کو حضور یا جناب کہہ کر پکارتے رہے تو میں ایسی محبت سے باز آئی ۔
بیرم :۔ کیوں پیاری !کیا تہذیب سے بات کرنا بھی کوئی برائی ہے۔اگر لغت میں یہ لفظ نہ ہوتے تو بیرم کو کس طرح معلوم ہوتا کہ اس کا دل پیاری ماہ پارہ کی محبت سے معمور ہے ۔
ماہ پارہ:۔ خوب ! تو معلوم ہوا کہ تمھارے دل میں میری عزت ہی عزت ہے ۔ محبت نہیں۔
بیرم:۔ نہیں عزت اور محبت دونوں۔
ماہ پارہ :۔ کیا آدھے دل میں محبت اور آدھے دل میں عزت؟
بیرم:۔ بیشک!
ماہ پارہ :۔(سائڈ میں) جی ہاں۔ اگر سارا دل میری ہی محبت میں وقف کر دیا ہوتا تو بی دل آرا کی محبت کو کہاں رکھتے ۔
بیرم(گانا):۔ چتون نے تیرِ نظارہ ،دل پر ہے آہ مارا۔ چتون نے تیرِ نظارہ ، دل پر ہے آہ مارا۔
ماہ پارہ(گانا) :۔ میں دل دے کر پچھتائی ۔ الفت میں نہ راحت پائی ۔ چاہت سے باز آئی۔
بیرم:(گانا)۔ دل میں ہے پیت بسائی ۔ یہ تن سارا ، تجھ پہ واری ، پیاری ، ماہ پارہ ، چتون نے تیرِنظارہ ۔
ماہ پارہ(گانا):۔ دودن کی سب دل داری ہے ۔ بس منہ دیکھے کی یاری ہے ۔
بیرم (گانا) :۔ ہے دل پر آہ مارا ۔ چتون نے تیرِ نظارہ ...
ماہ پارہ:۔ (نثر) دیکھو بیرم ! میں تم سے کہے دیتی ہوں کہ اگر تمھارا دل ، دل آرا یا کسی اور خام پارا کی محبت میں گرفتار ہوگا تو وہ خنجر ایک دفعہ وفادار شوہر کے گلے پر چل چکا ہے ، ایک بے وفا عاشق کے قتل کو سب سے پہلے تیار ہوگا۔
بیرم:۔ ارر ررکم بختی ! پیاری ماہ پارہ تمھارا دل کتنا بدگمان ہے مگر میں نے کل جو ایک بات کہی تھی کچھ اس کا بھی دھیان ہے ۔
ماہ پارہ:۔ ہاں بیرم !میں تمام رات سوچتی رہی مگر مجھے کوئی تجویز نظر نہیں آئی ۔ کچھ تم ہی بتاؤ۔
بیرم:۔ میں بتاؤں ۔ اچھا تو سنو۔ دیکھو کوئی دیکھتا تو نہیں ۔
ماہ پارہ:۔ کوئی نہیں ۔
بیرم:۔ خاقان اور زارا کو قتل کر ادو۔
ماہ پارہ :۔ شاید دل آرا اس کے خلاف ہو۔
بیرم:۔ ہو کیا ؟ وہ تو ہے ۔ دیکھو پیاری اگر تم یہ چاہتی ہو کہ سوائے تمھارے اس سلطنت کا کوئی حق دار نہ ہو اور اس عشق ومحبت میں کھٹکنے والا خار نہ ہو تو ایک تدبیر کرو۔
ماہ پارہ:۔وہ کیا ؟
بیرم:۔ یہ تو میں تمھیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ رعیت خاقان اور زارا کو مظلوم سمجھتی ہے اس لیے وہ جنگ کرکے اِن کو چھڑانا چاہتی ہے ۔ اگر وہ دونوں آزاد ہوئے تو یہ سرا ور تاج دونوں جاتے رہیں گے اس لیے میں آج دو قاتلوں کو بھیج کر خاقان کو قتل کراؤں گا ۔ اس کے بعد تم قید خانے میں جاکر زارا کو اپنے ہاتھ سے خاک وخون میں ملاؤ اور اس کے قتل کا الزام دل آرا پر لگاؤ۔ اس طرح خاقان میرے ہاتھ سے، زارا تمھارے ہاتھ سے اور دل آرا باغی رعیت کے ہاتھ شہید ہوگی۔ پھر تمھارے لیے ہمیشہ کے لیے عید ہوگی۔
ماہ پارہ:۔ اچھا ! تو میں جاتی ہوں۔
بیرم:۔ ہاں ! پیاری جاؤ۔
(ماہ پارہ جاتی ہے دل آرا داخل ہوتی ہے )
دل آرا:۔ خوب ! خوب ! لیلےٰ مجنوں کی جوڑی جارہی ہے ۔کیوں جی ! اب تو خوب ملاقاتیں ہوتی ہیں ۔ خوب گُھل مِل کے باتیں ہوتی ہیں۔
بیرم:۔ کیا خاک باتیں ہوتی ہیں ۔ بس جانے دو ایسی باتیں نہ کرو۔
دل آرا:۔ کیو ں جی ! خیر تو ہے ۔
بیرم:۔ پیاری شاید زمانے کا خون سفید ہو گیا ہے یا ان ستاروں کا کچھ الٹا بھید ہو گیا ہے ۔
دل آرا:۔ ہیں ! ایسا بھیانک مضمون۔
بیرم:۔ خون !خون! پیاری دل آرا تمھار ا خون ۔
دل آرا:۔ میرا خون ؟ سبب ؟
بیرم :۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ رعیت خاقان اور زارا کو مظلوم سمجھتی ہے اس لیے بلوہ کرکے انھیں چھڑانا چاہتی ہے ، اس وجہ سے ماہ پارہ کو یہ وسواس ہو گیا ہے کہ اگر وہ دونوں قید سے چھوٹے تو یہ سرا ور تاج دونوں جاتے رہیں گے ۔ اس لیے آج ہی رات کو خاقان کو دو قاتلوں سے قتل کرائے گی اور زارا کو اپنے ہاتھ سے خاک وخون میں ملائے گی اور اس کے قتل کا الزام تم پر لگائے گی۔
دل آرا:۔ اُف اس قدر نیت میں فتور!
بیرم:۔ ہاں پیاری ! اب تم سمجھ گئی ہوگی کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔
دل آرا:۔ یہی کہ خاقان کو قاتلوں کے ہاتھ سے زارا کو اپنے ہاتھ سے اور مجھے باغی رعیت کے ہاتھ سے قتل کرائے ۔
بیرم:۔ اور خود تاج وتخت کی مالک بن جائے مگر تم اس سانپ کو ڈسنے کا موقع ہی کیوں دو ؟کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس وقت اس کی چھری زارا کے خون میں ڈوب چکی ہو تو فوراً تم وہاں پہنچ جاؤ اور شور کر کے اسے گرفتار کراؤ اور آج رات کو جس قدر مددمجھ سے پہنچ سکے گی پہنچاؤں گا ۔ صبح کو تمھیں اس ملک کی اکیلی ملکہ بننے کی مبارک باد دینے سب سے پہلے میں ہی آؤں گا۔ (سائڈ )میں) قبرستان میں۔
دل آرا:۔ٹھیک ! تومیں جاتی ہوں اور اس کی ٹوہ لگاتی ہوں۔(جاتی ہے)
بیرم:۔ ہاں جاؤ سدھارو ۔ ہا ! ہا ! ہا ! ہا ! واہ میاں بیرم ! خوب گھسّا دیا ۔ واللہ ان سیانی ڈائنوں کو شیشے میں اتارنا یاروں ہی کا کام ہے ۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ ماہ پارہ ،دل آرا سے طاقت اور جوش میں کہیں زیادہ بڑھ کر ہے ۔ جب یہ بھتنی اس چڑیل سے لپٹے گی تو اس کے ایک ہی وار میں اِس کا بیڑا پارہوگا۔ پھر باقی رہاہی کون ۔ ماہ پارہ یا کوئی اور ۔ تو وہ میرے طمنچے یا رعایا کے فیصلے کا شکار ہوگا ۔ پھر بندہ اکیلا ہی اس ملک کا مالک ومختار ہوگا۔
بیر م (گانا):۔ من متوالا ، سب سے نرالا ، رنگت والا، بھر بھر پیالہ ، پی جام اعلیٰ۔ لا۔لا جی کب تک ساقی ترسے ، بادل سے وسکی برسے ۔ آہا ہا ہا ہا ! رنگ راگ اُڑابے لاگ اُڑا ۔ہاں کاگ اُڑا ! دے بھر بھر پیالہ ۔ پی جام ، بھر جام اعلیٰ۔


(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
تیسرا باب دوسراسین
قید خانہ
(پھاٹک کا بند ہونااور پلنگ پر خاقان کا لیٹے ہوئے اور اس کی چھاتی پر زارا کا ہاتھ رکھے ہوئے سرنیچا کیے گاتے دکھائے دینا)
زارا(گانا) :۔
اے نصیب رحم کر تو ہمیں کیوں ستارہا ہے


ہنسے کب تھے اس قدر ہم جو تو یوں رُلا رہا ہے

خاقان:۔ (خود سے ) غریب!بوڑھا ! بیکس ! رحم !رحم !
زارا:۔
جلتی ہے جان، آگ لگے اس نصیب کو


آرام نیند میں بھی نہیں، اس غریب کو

زارا(گانا):۔
میں کسی کا مدعا ہوں، کہ امید بے صلہ ہوں


اے مرے خدا میں کیا ہوں جوفلک ستارہا ہے

خاقان:۔پکڑو۔ مارو۔جلادو۔انھیں ڈونوں نے مجھ بوڑھے شخص کو ٹھوکروں سے مارا ہے ۔ انھیں دونوں نے زبردستی میرے سر سے تاج اُتارا ہے ۔
زارا:۔
بے چینیوں کا تیری عوض کردگار دے


اے مضطرب دماغ بس اب تو قرار دے

گانازارا :۔
بنے اشک جان ودل تک ، لہو بن کے بہہ گئے سب


روئیں کیا غریب آنکھیں کہ اب ان میں کیا رہا ہے



اے نصیب رحم کر تو ...
(زارا کا گاتے گاتے سوجانا ، دو جلاّدوں کا اندھیرے میں آنا)
جلاّد (۱) :۔ سوتاہے!
جلاّد(۲):۔ بول !
جلاّد (۱):۔ مار!
جلاّد(۲):۔ کیا نیند میں؟
جلاّد (۱) :۔ تو کیا جگائے گا؟
جلاّد(۲):۔ چپ! وہ جاگی ۔
زارا:۔ تم! تم ! تم کون ہو ؟
جلاّد (۲):۔ غُل نہ مچاؤ۔
جلاّد(۱):۔ ادھر آؤ۔
زارا:۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ تمھارا کیا مطلب ہے ؟ ٹھہرو میں ابّا جان کو جگادوں۔
جلاّد(۱):۔ اب وہ نہیں جاگ سکتا۔
زارا:۔ تمھاری آنکھوں سے مجھے ڈر معلوم ہوتا ہے ۔ تم کون ہو؟
جلا ّد (۲):۔ دو آمیوں کے لباس میں ایک شخص کی موت۔
زارا:۔ موت ! کس کی ؟
جلاّد (۱):۔ اِس کی۔
زارا:۔ اِس کی ! کیا تم اِسے شہید کرنے آئے ہو ؟ اس سے کیا قصور ہوا ہے ؟ اِس نے کیا گناہ کیا ہے ؟
جلاّد (۲):۔ کوئی نہیں۔
زارا:۔ تو پھر !اِس غریب کا قتل کیوں منظور ہے ؟ کیا اس لیے قتل کرتے ہو کہ یہ بے قصور ہے ؟
جلاّد(۱):۔ چپ رہو! جب ہم اپنے ہاتھ کا وار اور چھری کی دھار کو آزماتے ہیں تو نصیحت سننے والے کان اپنے ہمراہ نہیں لاتے ہیں ۔
زارا:۔ مگر آنکھیں تو ہمراہ ہوتی ہیں۔
جلاّد (۱):۔ وہ سوائے ایک تڑپتی ہوئی لاش کے اور کچھ دیکھنا نہیں چاہتیں۔
زارا:۔ مگر بھائیو! تم تھوڑی دیر کے لیے انھیں مجبورکرو تاکہ تمھاری روح کی بھلائی پر بھی نظر ڈالیں ۔ میرے بھائیو! یہ احسان ومروت کی دنیا کا چراغ جس کے گِرد معصومیت جگنو کی طرح ہالا کیے ہوئے ہے ، جو دنیا کا دوست تھا اور جس کے آج تم دشمن بن گئے ہو ، اگر اس غریب کو تم نے قتل بھی کیا ، تو کیا پھل پاؤگے ؟ آخر اپنے کیے پر پچھتاؤگے۔ طاقت اور زور تھا وہ بڑھاپے نے لوٹ لیا ۔ دولت وسلطنت تھی وہ ظالم بیٹیوں نے چھین لی۔ ہوش وحواس تھے وہ مصیبت نے لے لیے ۔ اب مٹھی بھر ہڈیاں اورکمزورسسکتی ہوئی جان باقی ہے وہ بھی تمھارے کام نہیں آسکتی ۔ سانسیں ہوا میں مِل جائیں گی ۔ ہڈیاں گل کر خاک ہو جائیں گی۔ جان خدا کے پاس پہنچ جائے گی۔اگر کچھ باقی رہے گا تو میرے لیے ماتم واضطراب اور تمھارے لیے دنیا کی رسوائی ، خداکی لعنت اورجہنم کا عذاب ۔
جلاّد(۱):۔ اگر ہم کو اس کام سے باز رکھنے کے لیے کوئی جہنم میں لے جائے اور پھر وہاں سے واپس لائے تب بھی ہم یہی کام کریں گے۔
زارا:۔ یعنی؟
جلاّد (۱):۔ یعنی اس کا کام تمام کریں گے۔
زارا:۔ افسوس ! تم نے ثابت کر دیا کہ تم مٹی کے نہیں بلکہ پتھر کے بنے ہوئے ہو ۔ میرے بھائیو!میں ایک شہزادی ہو کر تم سے بھیک مانگتی ہوں کہ میرے باپ کی زندگی بخش دو۔
جلاّد (۱):۔ بس چپ رہو۔
زارا:۔ دیکھو میری طرف دیکھو۔
جلاّد(۱):۔ اِدھر آؤ۔
زارا:۔ سنو ۔ میری سنو۔
جلاّد(۱):۔ میں کہتا ہوں چپ۔
(خاقان کا سوتے سے اٹھنا)
خاقان:۔ تم کون ؟ چھوڑدو ۔ چھوڑدو۔ میری زارا کو چھوڑدو۔ ورنہ میں اپنے دانتوں سے ...
(جلاّدوں کا خاقان کا منہ بند کرکے پکڑکے لے جانا)
زارا:۔ ہائے! ہائے ظالمو ! کیا کرتے ہو ؟ خدا کے لیے میرے باپ پر ترس کھاؤ۔
(بے ہوش ہوکر گِر جانا)
(ماہ پارہ کا آنا)
ماہ پارہ:۔ سوتی ہے ۔ وہ جاگی ۔ (ماہ پارہ کا چُھپ جانا)
زارا:۔ بھیڑیے آئے اور اس کو پکڑ کر لے گئے۔
ماہ پارہ:۔ کمبخت ابھی تک اپنے باپ کو یاد کرکے رور ہی ہے۔
زارا:۔ آسمان سن رہاتھا۔ یہ زمین دیکھ رہی تھی ۔ یہ دیواریں پاس کھڑی تھیں مگرکسی نے ترس نہ کھایا ،کسی نے اس کونہ بچایا۔
ماہ پارہ:۔ اب تجھے بھی کوئی نہ بچائے گا۔
زارا:۔ کون ! ماہ پارہ ! میری اچھی بہن ! دوڑ ۔ دوڑ۔ ورنہ بیچارہ غریب قتل کر دیا جائے گا۔
ماہ پارہ:۔ کون غریب، کون بیچارہ؟
زارا:۔ اری تو نہیں جانتی ! وہی غریب جس کی بدولت آج تو شہزادی کہلاتی ہے ۔
ماہ پارہ:۔ تو کیا تیرا باپ؟
زارا:۔ میرا باپ ! تو کیا وہ تیرا باپ نہیں ہے ؟ کیا اس کے گوشت اور لہو سے میں ہی پیدا ہوئی ہوں؟ تو نہیں؟ میری اچھی بہن تو اس کی مہربانیوں کو اس قدر جلدی تو نہ بھول جا۔کچھ تو اس کی محبت کو یاد کر۔ اگر اور کچھ نہیں کر سکتی تو صرف اتنا ہی کرکہ ان ظالموں کے ہاتھ سے اسے آزاد کرا۔
ماہ پارہ:۔ وہ آزاد ہی کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔
زارا:۔ ارے نہیں وہ اُسے قتل کرنے کے لیے لے گئے ہیں۔
ماہ پارہ:۔ وہ قتل ہی کرنے کے لائق ہے ۔
زارا:۔ اری یہ تو کہتی ہے جو اس کی بیٹی ہے ۔ کیا اُس منہ سے یہ ناپاکی ظاہر ہوتی ہے جس کو اس غریب فرشتے نے سینکڑوں بار پیار ومحبت سے چوما ہے ۔
ماہ پارہ:۔ بس خاموش ورنہ زبان کا ٹ لی جائے گی۔
زارا:۔ اگر تو زبان کاٹ لے گی تو میں آنکھوں کے اشارے سے سمجھاؤں گی۔
ماہ پارہ:۔ وہ بھی پھوڑدی جائیں گی۔
زارا:۔ تو میں اپنا سر اس غریب کے لیے تیرے قدموں پر جھکاؤں گی۔
ماہ پارہ:۔ وہ بھی علیٰحدہ کر دیا جائے گا۔
زارا:۔ اللہ ۔ اللہ۔ تو اتنی جلاّد ہے!
ماہ پارہ:۔ کمبخت یہ تو معمولی بیداد ہے ۔
زارا:۔ سبب ؟
ماہ پارہ:۔ بے سبب!
زارا:۔ گناہ ؟
ماہ پارہ:۔ بے گناہ!
زارا:۔ قصور؟
ماہ پارہ:۔ بے قصور!
زارا:۔ یہ جفا کاری!
ماہ پارہ:۔ مرضی ہماری!
زارا:۔ رحم رحم جلاّد رحم ! او خدا !
ماہ پارہ:۔ بس ہو چکا اب سر جھکا ۔
ماہ پارہ:۔ (خودسے) ہیں یہ کیسی آواز ہے !کوئی اندر تو نہیں چھپا ۔ ذرا دیکھ آؤں۔
زارا:۔ ہائے ! ہائے کوئی ترس کھانے والا نہیں۔کوئی بچانے والا نہیں ۔ اب کیا کروں؟ کہاں جاؤں؟ ہاں وہاں چھپ جاؤں۔
(زارا کا چھب جانا ۔ بیرم اور دل آرا کا نشہ کی حالت میں آنا)
دل آرا:۔ پلنگ تو خالی ہے ۔
بیرم:۔ شاید وہ زارا کو قتل کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں لے گئی ہو۔
دل آرا :۔ اچھا تو میں یہیں ٹھہرتی ہوں ۔ جس وقت وہ خون میں ڈوبی ہوئی نکلے۔
بیرم:۔ تو فوراً تم شور مچاکر اس کو پکڑوادینا۔
دل آرا:۔ اور تم بھی جس وقت میری آواز سنو فوراً باہر آجانا ۔ آ۔ آ۔او اجل رسیدہ ماہ پارہ آ۔ دیکھ تو سہی۔کہ تیری چالاکیاں آج تیرے لیے کیا کیا جال بچھاتی ہیں ۔مگر ہاں ۔ بیرم نے حوصلہ بڑھانے کے لیے شراب کس قدر پلادی ہے کہ میری آنکھیں بند ہوتی جارہی ہیں۔ (پلنگ پر لیٹ جانا ، ماہ پارہ کا آنا )
ماہ پارہ:۔ کوئی نہیں ۔ اب میں اپنا کام کروں ۔ لے اے ناپاک !خس کم جہاں پاک!
(دل آرا کے خنجر مارنا)
دل آرا:۔ آہ ۔ قاتل ۔ سفّاک۔
زارا:۔ اوہ ! غضب!
ماہ پارہ :۔ ہیں یہ کون ؟ زارا ! اور یہ کون ؟ دل آرا ! ہیں یہ میں نے کیا کیا؟
دل آرا:۔ جو تو چاہتی تھی۔
ماہ پارہ:۔ میں کیا چاہتی تھی دل آرا۔
دل آرا:۔ یہی کہ زارا کا خون بہائے اور اس کا الزام مجھ پر لگائے۔
ماہ پارہ:۔ دل آرا ! دل آرا! تو دھوکا کھاتی ہے ۔
دل آرا:۔ نہیں ! نہیں ! دھوکا نہیں ۔ بیرم تم خاموش کھڑے ہو ۔ بولتے کیوں نہیں؟
ماہ پارہ:۔ تو کیا یہ سب بیرم نے کیا؟
بیرم:۔ ہائے ۔ ہائے ۔ یہ کمبخت تو سب کچھ کہہ دے گی۔ اب یہاں سے بھاگنا چاہیے ۔
ماہ پارہ:۔ ٹھہر ! او نمک حرام غلام تو کہاں جاتا ہے ؟
(بیرم کا بھاگنا چاہنا۔ ماہ پارہ کا بیرم کو اور بیرم کا ماہ پارہ کو پستول مارنا ، دونوں کا مرجانا)
ٹیبلو
(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
تیسرا باب تیسراسین
تاریک جنگل
(جلاّدوں کا خاقان کو قتل کرنے کے لیے لانا۔ شوہر زارا کا پستول سے جلاّدوں کو مارنا اور خاقان کو چھڑا کر لے جانا)

ٹیبلو

(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
تیسرا باب چوتھا سین
دربار
اہلِ دربار(گانا) :۔ لاثانی ۔ لاثانی ۔ ہے شان یزدانی۔ دکھائی فصلِ شادمانی ۔ درودیوار سے ، شہر و باز ار سے ،نقش ونگار سے ، ہے اظہار، جوشِ خمار ، رنگِ بہار، باغِ جہاں پہ ہے چھایا نکھار ۔ ہر خار زار ہے گل زار۔ باغِ پُر بہار۔ لاثانی ۔ لاثانی۔
زارا:۔ ابّاجان !قدم رنجہ فرمائیے ۔ یہ تاج وتخت جو مدت سے آپ کے قدموں سے محروم ہو گیا تھا ۔ اسے پھر دوبارہ مبارک بنائیے۔
خاقان:۔ بس ! اے میرے خون کے سب سے زیادہ پاک قطرے ! اب میرا تخت وہ لکڑی کا تختہ ہوگا جس پر موت سلاکر بادشاہوں کے بادشاہ کے دربار میں لے جائے گی اور میری قبا وہ قبا ہوگی جو مرنے کے بعد دو گز کفن وہ اپنے ہاتھوں سے پہنائے گی ۔
زارا:۔ ابّا جان!
خاقان:۔ باپ کی جان قربان ! غور تو کر کہ یہ وہی ہاتھ ہیں جنھوں نے مغرور ہو کر تیراحق چھینا تھا ۔ اب اس کے انصاف کو دیکھ کہ انھیں ہاتھوں سے تیرا حق تجھے واپس دلاتا ہے ۔
ارسلان :۔
یوں پاتے ہیں اعزاز جو کرتے ہیں عمل نیک

اہلِ دربا ر:۔
نیکی کا زمانے میں سدا ملتا ہے پھل نیک

خاقان :۔ میرے شریف دوست تم نے میری جو خدمت کی ہے اس کا شکریہ میں زبان سے ادا نہیں کر سکتا ۔
ارسلان:۔ حضور اس غلام کو بار بار کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ سوائے افسوس کے اورکون سی وفاداری اس خانہ زاد سے وقوع میں آئی ۔ سچّی ہمدردی اور ہمیشہ یادرکنے والی وفاداری وہ تھی جو شریف سعدان نے دکھائی۔
خاقان :۔ ہائے ! میرا باوفا سعدان ۔ شہیدِ جفا سعدان ؂
ضحّاک ، نہ فرعون، نہ شدّاد نے کیا
جو تجھ پر اور مجھ پر اس اولاد نے کیا
سینے میں ہو گیا ہے دلِ نا امید خون
دیکھا تو کیا سنا بھی نہ ایسا سفید خون
شوہر زارا:۔ حضور جو خدا کو منظور تھا اس کا ہونا ضرور تھا۔
خاقان:۔ آؤ میرے پیارے بچو ۔ ایک مرتبہ دوبارہ میرے سامنے ہاتھ ملاؤ ؂
اہلِ زمیں پہ صورتِ مہرِ فلک رہو
زندہ رہو نہال رہو حشرؔ تک رہو
اہلِ دربار(گانا):۔ آؤ مِل کر شادی رچائیں ۔ ناچیں ۔گائیں۔تازہ کھلاگلزار آؤ مِل کر شادی رچائیں ۔ جوڑا شاہانہ ۔ کیا ہے سہانا ۔ جوبن کی کیسی بہار۔ پیاری دلاری شہزادی ۔ ہماری گاؤ مبارک بادی۔ آؤ مِل کر شادی رچائیں۔کھِلی کھِلی کیسی چمپا کلی۔جوڑی کیسی سندر پیاری ملی۔ واری واری سکھیاں۔گاؤگاؤ سکھیاں ۔ ناچو ناچو سکھیاں ۔ دھاکٹ تک دھم۔دھر ۔ دھرکٹ تک ۔ دھاکٹ ۔ آؤ مِل کر شادی رچائیں ۔ ناچیں گائیں۔

(ڈراپ سین )

/////////
 

الف عین

لائبریرین
تعارف​

یہودی کی لڑکی ، حشرؔ کے تیسرے دور کی تمثیل ہے جس کا پلاٹ ڈبلیو۔ٹی۔ مانکریف (W.T.MONCRIEFF) کے میلو ڈرا ما ’’دی جیوس‘ THE JEWESS)) سے ماخوذ ہے ۔
حشرؔنے ’’یہ ڈراما اپنی دوسری کمپنی انڈین شیکسپئیر تھیئٹریکل کمپنی کے لیے ۱۹۱۳ میں لکھا‘‘۔(۲۷) ’’ یہودی کی لڑکی ‘‘ کی مقبولیت کے بارے میں ڈاکٹر نامی کا خیال ہے ’’یہودی کی لڑکی‘ ‘ خود آغا حشرؔ کی کمپنی’’ دی انڈین تھئیٹر یکل کمپنی‘‘ نے دہلی میں اسٹیج کیا ۔ دوسرے سال جب کمپنی بنارس پہونچی اور اس کو طالب کے ’’کرشمۂ قدرت‘‘ سے مقابلہ کرنا پڑاکیونکہ بالیوالا کمپنی اس وقت کلکتہ میں تھی تو حشرؔ نے اصل ڈراما ، سین اور کرداروں میں بہت سی تبدیلیاں کیں اور جدید انتظامات کے تحت الفریڈ تھیئٹر میں پیش کیا‘‘۔(۲۸)
’’ اس کے بعد ’’دی نیو کھٹاؤ پارسی تھئیٹریکل کمپنی آف بمبئی نے لکشمی تھیئٹرحیدرآباد میں اس کو ’’وفاکی پتلی‘‘ کے نام سے اسٹیج کیا ‘‘۔(۲۹)
’’یہودی کی لڑکی‘‘ تین ایکٹ کی تمثیل ہے ، پہلے ایکٹ میں آٹھ سین ، دوسرے میں سات اور تیسرے میں تین ہیں، کل اٹھارہ سین ہیں ۔
پلاٹ :۔ یہودی قوم پر رومی حکمرانوں کا ظلم واستبداد ، اس کے مذہبی تشخص کو ختم کرنے نیز اس سے نفرت وحقارت اور قدم قدم پر اس کی آزمائش کے علاوہ باعصمت وبا وفا را حیل (یہودی کی لڑکی) کی داستانِ محبت اور اس کے ایثار وقربانی پر مبنی ہے ۔
سلطنتِ روم میں یہودی قوم کے علاوہ عیسائی اور پارسی بھی آباد ہیں ۔ مذہبی رہنما بروٹس ، یہودیوں سے سخت نفرت ہی نہیں کرتا بلکہ انھیں حقیر اور ذلیل بھی سمجھتا ہے ۔عزرا اسی یہودی قوم کا سردار ہے ، اس کے ایک لڑکی راحیل ہے ۔ شہزادہ مارکس(شہزادی ڈیسیا کامنگیتر) راحیل سے محبت کرتا ہے۔ راحیل بھی اسے بیحد چاہتی ہے ۔ جب راحیل کو معلوم ہوتا ہے کہ مارکس یہودی نہیں رومی ہے تو اسے بہت افسوس ہوتا ہے ۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے کے باوجود مارکس کے لیے وہ اپنی محبت میں کوئی کمی نہیں پاتی ۔ مارکس اسے اپنے ساتھ بھاگ چلنے کا مشورہ دیتا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کو تیار ہو جاتی ہے ۔ عین وقت پرعز را نمودار ہوتا ہے اور معاملے کو جان کر بیحد ناراض ہوتا ہے اور مارکس کو سخت سست کہتا ہے ۔ وہ دونوں کی شادی صرف اس شرط پر منظور کرتا ہے کہ مارکس یہودی مذہب قبول کر لے لیکن رومی مارکس کسی قیمت پر راضی نہیں ہوتا۔ انتہائی غصے میں عزرا اسے گھر سے نکال دیتا ہے ۔
راحیل ، مارکس پر دغابازی کا الزام عائد کرکے اپنا مقدمہ بادشاہ (مارکس کا باپ) کے دربار میں پیش کرتی ہے ۔ بروٹس ، یہودیوں کے خلاف زہر اُگلتا، اور دلی نفرت کا اظہار کرتا ہے ۔ بادشاہ چونکہ انصاف پسند اور قانون کا محافظ ہے اس لیے راحیل کی شکایت غور سے سنتا ہے اور مارکس کو اس کی نازیبا حرکت اور دھوکے بازی کے جرم میں سخت سزا کا مستحق قرار دیتا ہے ۔ بروٹس ، عزرا اور راحیل کی مخالفت اور مارکس کی موافقت میں بادشاہ کو مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے مگر بادشاہ اپنے منصفانہ مزاج کی بدولت آئینِ حکومت کی عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہزادے کو ہتھکڑی پہنانے اور مذہبی عدالت میں اس پر مقدمہ چلانے کا حکم صادر کر دیتا ہے ۔
ادھر ڈیسیا ، راحیل کے پاس جاتی اور اس سے مارکس کو معاف کر دینے کی درخواست کرتی ہے ۔ بڑی منت سماجت کے بعد راحیل اپنا مقدمہ واپس لے لیتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی سزا موت ہے ۔ مارکس کو رِہا کر دیا جاتا ہے ۔ عزرا اور راحیل کو اس جرم کی پاداش میں کہ انھوں نے مارکس پر غلط الزام لگایا ہے، کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤمیں ڈال دینے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ یہی وہ لمحہ ہے جب عزرا اس راز کا انکشاف کرتا ہے کہ راحیل بروٹس کی بیٹی ہے اس کی نہیں۔ جس وقت شہر میں آگ لگی ہوئی تھی وہ راحیل کو بچا کر لے آیا تھا اور اسے اپنی بچی کی طرح پرورش کیا ۔ بروٹس عزرا کی فراخ دلی ، عالی ظرفی اور انساں دوستی کا قائل ہو جاتا ہے اور راحیل کو اپنے سینے سے لگالیتا ہے ۔ راحیل یہ پسند کرتی ہے کہ وہ عزرا ہی کے ساتھ رہے اور بروٹس بھی بخوشی اُسے اِس کی اجازت دے دیتا ہے کہ وہ جس مذہب میں پروان چڑھی ہے اور جس کی گود میں اس کی پرورش ہوئی ہے ، زندگی بھر اسی کے ساتھ رہے ۔ آخر میں مارکس ، راحیل سے اپنی بے وفائی کی معافی مانگتا ہے ۔ مارکس اور ڈیسیا کی شادی ہو جاتی ہے اور اس طرح کہانی اختتام پذیر ہوتی ہے ۔
کردار نگاری:۔عزرا، راحیل اور مارکس ڈرامے کے مرکزی کردار ہیں ۔ ان کے علاوہ بادشاہ ، کینشش، بروٹس اور ڈیسیا کے کردار بھی اہمیت کے حامل ہیں۔
عزرا ایک راسخ الاعتقاد یہودی ہے جو رومیوں کے جبر واستبداد اور سخت سے سخت مخالفت کے باوجود اپنے مذہب پر قائم رہتا ہے ۔ اس نے ایمان کے مقابلے میں کبھی جان کی پروانہ کی ۔ رومی حاکموں کے آگے کبھی سر خم نہ کیا ۔
رومی حکمران اپنے دیوتاؤں کا جشنِ عام منانے کے موقع پر پوری رعایا کو جس میں وہ اقوام بھی شامل ہیں جو ان کے دیوتاؤں کو نہیں مانتیں ، اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ انھیں اپنا ہرکام چھوڑ کر اس میں حصہ لینا ہوگا اور اگر وہ ایسانہ کریں گی تو ان کو زندہ آگ میں جلادیا جائے گا ۔ کینشش (را ہبِ سلطنت) عزرا کو پکڑوا کر بلواتا ہے ۔ ایک سردار اسے سجدہ کرنے پر مجبور کرتا ہے مگر وہ انکار کر دیتا ہے اور اس طرح منھ توڑ جواب دیتا ہے ۔
عزرا :۔ جھکوں!کس کے آگے؟ ان قدموں کے آگے جن قدموں نے اس سر سے بھی زیادہ سفید بوڑھے مردوں کو ٹھوکریں ماری ہیں،جنھوں نے اپنی جوانی کی ضربوں سے مظلوم قوم کے سینوں کی ہڈیاں توڑ ڈالی ہیں ۔ نہیں میں کبھی نہیں جھکوں گا ؂

اس کی چوکھٹ پہ ہوگا سجدہ، جدھر وہ ہوگا اُدھر جھکے گا


بحزخدا کے کسی کے آگے نہ دل جھکا ہے نہ سر جھکے گا

عزرا کے کردار کا دوسرا پہلو ہے محبت ، رحم دلی اور انسان نوازی۔ وہ اپنے دشمن بروٹس کی بیٹی راحیل کو اپنی بیٹی کی طرح پالتا ہے اور اس سے بیحد محبت کرتا ہے۔ راحیل کو کبھی محسوس نہیں ہونے دیتا کہ وہ اس کی بیٹی نہیں ہے۔ راست بازی، قومی جوش اور مذہبی تشخص کی ایک اعلیٰ مثال ہے عزرا۔
راحیل، وفا شعاری ، نسائیت اور جرأت مندی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے ، وہ عزرا کا بیحد احترام کرتی ہے اور وہ اس کی راسخ الاعتقادی سے بھی خوب واقف ہے ۔ جیل خانے میں مارکس جب راحیل سے ملنے جاتا ہے تو اس سے کہتا ہے کیا تمھارا باپ تمھارے لیے اپنا مذہب نہیں چھوڑ سکتا؟ اس پر راحیل جواب دیتی ہے ؂

وہ بندۂ حق راہِ وفا سے نہ پھرے گا


پھر جائے گا دنیا سے خدا سے نہ پھرے گا

راحیل، مارکس کو دل وجان سے چاہتی ہے ۔ وہ مارکس سے اس وقت بھی بیحد محبت کرتی ہے جب اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ مارکس یہودی نہیں رومی ہے ۔ مارکس ، راحیل کو اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے اور اس کو اپنے ساتھ بھاگ چلنے کا مشورہ دیتا ہے جسے وہ منظور کر لیتی ہے ، مگر بروقت عزرا آجاتا ہے اور وہ دونوں اپنے ارادے میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔عزرا ،مارکس سے راحیل کی شادی کرنے پر اس صورت میں راضی ہوتا ہے کہ وہ یہودی مذہب اختیار کر لے مگر وہ ایسا کرنے سے انکارکر دیتا ہے۔ عزرا ، مارکس سے راحیل کی شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔ راحیل کو اس کا انکار سن کر بہت صدمہ ہوتا ہے اور وہ مارکس کو دھوکہ باز سمجھتی ہے ۔ وہ اپنی بے عزتی برداشت نہ کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے ۔ بادشاہ رومی ہوتے ہوئے بھی عادل اور حق پرست ہے ۔ وہ راحیل کی فریاد پر اپنے بیٹے مارکس کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیتا ہے اور راحیل اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتی ہے ۔
راحیل ، انسانیت اور وفا کا پیکرہے ۔ وہ عورت کے درد اور اس کی دلی کیفیت کو خوب سمجھتی ہے ۔ اسی لیے ڈیسیاکی التجا پر مارکس کو معاف کر دیتی ہے اور مقدمہ واپس لے لیتی ہے ۔
راحیل :۔ نہیں ! نہیں! عورتوں کا نام نہیں ہنساؤں گی ۔ مردوں کو یہ کہنے کا موقع نہیں دوں گی کہ ایک رومن شہزادی نے سر جھکایا اور ایک مغرور یہودن نے رحم نہ کھایا۔ جب میرا جسم، پاک خاک میں مل جائے اور بے وفادنیا ہماری قوم کو خود غرض بتائے ،اُس وقت تم پکار کر کہہ دینا کہ شکستہ دل راحیل اگر چہ یہودی تھی مگر سچی ، وفادار اور پیار کا گلشن تھی۔
بادشاہ کا رول مختصر ہی سہی مگر راحیل کے لیے اس کا عادلانہ رویہ او ر منصفانہ سلوک اس کے کردار کو عظمت اور بلندی بخشتا ہے ۔ ایک طرف بیٹا ہے اور دوسری طرف قانون، مگر بادشاہ بیٹے کی محبت پر قانون کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کی انصاف پسندی ہی اس کے کردار کا جمال بھی ہے اور جلال بھی۔
مارکس رومی شہزادہ ہوتے ہوئے بھی راحیل سے محبت کرتا ہے مگر اس سے شادی کرنے کے لیے اپنے مذہب کو ترک کرنے پر راضی نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے ملک کے قانون کے خلاف کسی یہودی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا لیکن وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہے اور راحیل کو بھُلا بھی نہیں سکتا ۔ راحیل جب بادشاہ سے اپنی داستانِ غم سناتی ہے تو مارکس اپنے جرم کا اقرار کرنے میں ہچکچاتا نہیں۔ یہی اس کے کردار کی خوبی ہے کہ وہ سچ کا دامن نہیں چھوڑتا اور اسی وجہ سے وہ سزا کا مستحق قرار پاتاہے ۔ جب عزرا اور راحیل پر مقدمہ چلتا ہے تو وہ بروٹس سے راحیل کو بچانے کی درخواست کرتا ہے ۔ آخر میں وہ راحیل سے اپنی گزشتہ زیادتیوں کی معافی مانگتا ہے ۔
مارکس کے کردار کے ذریعہ حشرؔنے ایسے افراد کی تصویر کشی کی ہے جو قانون کے سامنے بے بس اور محبت کے ہاتھوں مجبور ہیں اور کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے مگر ساتھ ہی انھیں اپنی کمزوریوں کا احساس بھی ہے ۔
بروٹس انتہائی ظالم ، سفاک اور جابر رومی ہے۔ راحیل جب مارکس پر دغابازی کا مقدمہ واپس لیتی ہے تو عزرا اور راحیل کو کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤ میں ڈالنے کا حکم دیتا ہے ۔ اس وقت عزرا جب یہ راز بتاتا ہے کہ راحیل در اصل بروٹس کی بیٹی ہے اس کی نہیں ، یہ ایک لمحہ بروٹس کی زندگی اور شخصیت کا رخ بدل دیتا ہے ۔ ظالم بروٹس کے سینے میں پدرانہ محبت کا طوفان برپا ہو جاتا ہے اور وہ عزرا سے گڑگڑاکر التجا کرتا اور راحیل کی زندگی کی بھیک مانگتا ہے ۔
ڈیسیا کا کردار بھی صاف ستھرا اور نسائیت سے بھر پور ہے ۔ وہ مارکس سے بیحد محبت کرتی ہے اور شہزادی ہوتے ہوئے راحیل سے اپنے محبوب اور منگیتر مارکس کی زندگی بچانے کی التجا کرتی ہے ۔
اس ڈرامے کے کردار ایسے کردار ہیں جو قاری اور ناظر پر گہرا تأثر چھوڑتے ہیں ۔ یہ کردار ہمارے معاشرے کے جانے پہچانے انسان ہیں جو اچھائی برائی،نیکی بدی اورانسانی احساسات وجذبات کی زندہ اورمتحرک تصویریں ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔
زبان وبیان:۔مکالموں میں جوشِ بیان اور شدتِ جذبات کے باوجود تکلّف اور تصنّع بہت کم ہے ۔ تشبیہات خوبصورت اورد ل آویز ہیں ۔ اشعار کا استعمال کرداروں کی شخصیت اور ان کی قلبی کیفیات کو ابھارنے کے لیے بڑی فنکاری سے کیا گیا ہے ۔ مفقیٰ اورغیر مقفیٰ نثری مکالموں اور چھوٹے چھوٹے فقروں سے ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے میں حشر نے بڑی چابکدستی سے کام لیا ہے۔ حشرؔنے قافیے کو اس خوبصورتی سے نباہا ہے کہ عبارت میں بے ساختگی وپرکاری اور ادبی حسن کے ساتھ ساتھ ڈرامائی لطف واثر قاری کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ زبان کی سلاست ، سادگی اور روانی اس ڈرامے کا طرّۂ امتیاز ہے ۔
’’یہودی کی لڑکی‘‘میں گانے بہت کم ہیں ۔ جو ہیں وہ بیحد دلکش اور مترنم ہیں۔
’’یہودی کی لڑکی ‘‘ میں اصل ڈرامے کے ساتھ کامک بھی شامل ہے۔ اس کامک کااصل کہانی سے کوئی تعلق نہیں ہے سوائے اس کے کہ رومن سرداروں کی مہربانی سے ’’گھسیٹا‘‘ حجام پوسٹ مین بن جاتا ہے ۔
اس کامک میں آغا حشرؔنے انگریزی تہذیب ومعاشرت پر بھر پور مزاح کے ساتھ ساتھ نشتر زنی بھی کی ہے اس کے علاوہ شاعری کے نام پر کی جانے والی تُک بندی پر طنز کیا گیا ہے ۔
بہرحال یہ کامک عام دلچسپی اور پسندیدگی کا حامل ہے ۔
آغا حشرؔ کے اس ڈرامے کی مقبولیت اور ہر د لعزیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر چھوٹی بڑی کمپنی نے اس کو پیش کیا ۔
’’یہودی کی لڑکی‘‘ ادبی، سیاسی ، اور سماجی، ہر صورت سے حشرؔ کا ایک عظیم کارنامہ اور اردو زبان کا ایک شاہکار ہے ۔
 

الف عین

لائبریرین
ڈرامے کے کردار

مردانہ

بادشاہ :۔ مارکس کاباپ
کینشش:۔ راہبِ سلطنت
مارکس:۔ راحیل اور ڈیسیا کا عاشق
عزرا :۔* یہودی سوداگر
بروٹس :۔ مذہبی پیشوا

زنانہ

ڈیسیا :۔ شہزادی، مارکس کی محبوبہ
راحیل : عزرا کی بیٹی
جونا:۔ شاہی خادمہ
نیز چوب دار، سپاہی ، منادی والا، گانے والی سہیلیاں ، سردار وغیرہ

*عزرا ’’یہودی کی لڑکی ‘‘ میں مرد کا کردار ہے، اس لئے عزرا لکھنا ہی صحیح اور درست ہے۔ دوسرے نسخوں میں عذرا لکھا ہے جو غلط ہے ۔
کامک
مردانہ

گھسیٹا :۔ حجام ، پوسٹ مین ، چمپا کا خاوند روز کا عاشق
مسیتا :۔ ایک بیرا ، روز کا طالب
پھول من :۔ چمپا کا عاشق
مسٹر وڈ : ۔ ایلس کا بدمزاج شوہر
زنانہ

چمپا :۔ گھسیٹا کی بیوی
ایلس :۔ مسٹر وڈ کی بیوی
روز : ۔ الفریڈ
بڑھیا : ۔
 

الف عین

لائبریرین
ڈرامے کے کردار​

مردانہ

بادشاہ :۔ مارکس کاباپ
کینشش:۔ راہبِ سلطنت
مارکس:۔ راحیل اور ڈیسیا کا عاشق
عزرا :۔* یہودی سوداگر
بروٹس :۔ مذہبی پیشوا

زنانہ

ڈیسیا :۔ شہزادی، مارکس کی محبوبہ
راحیل : عزرا کی بیٹی
جونا:۔ شاہی خادمہ
نیز چوب دار، سپاہی ، منادی والا، گانے والی سہیلیاں ، سردار وغیرہ

*عزرا ’’یہودی کی لڑکی ‘‘ میں مرد کا کردار ہے، اس لئے عزرا لکھنا ہی صحیح اور درست ہے۔ دوسرے نسخوں میں عذرا لکھا ہے جو غلط ہے ۔
کامک
مردانہ

گھسیٹا :۔ حجام ، پوسٹ مین ، چمپا کا خاوند روز کا عاشق
مسیتا :۔ ایک بیرا ، روز کا طالب
پھول من :۔ چمپا کا عاشق
مسٹر وڈ : ۔ ایلس کا بدمزاج شوہر
زنانہ

چمپا :۔ گھسیٹا کی بیوی
ایلس :۔ مسٹر وڈ کی بیوی
روز : ۔ الفریڈ
بڑھیا : ۔
 

الف عین

لائبریرین
پہلا باب پہلاسین

(سہیلیوں کا حمد گاتے ہوئے آنا)
گانا
والی تو جگ کا ہے مالی،جل میں تھل میں تیرے نور کی تجلی دیکھی مورے والی‘ ڈالی ڈالی کوئلیاکو کے گن تورے ، برگ وبار کوہسار ہرا بھرا‘کُنجن کے بن میں ، صدف کے من میں ، ہے لعل یمن میں ،سیّاں کے من میں۔والی تو جگ کاہے مالی ...

(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
پہلاباب دوسراسین
محل

(سہیلیوں کا گاتے دکھائی دینا)
سکھی جوبن کے ماتے ہیں ، کیسے تیکھے پیارے نجریا کے بان جن نینن کے سنگ چھیڑکرے، وارے اپنی جان ۔سکھی جوبن...
ڈیسیا:۔ باتیں نہ ایسی بناؤنا ری۔گوئیاں بول نہ لاگے موکوبھلے، برکھا رین موہے سو ہے ناہیں ۔ سکھ چندر جوت نہ آئے ۔
سب:۔مانو ری جوبن کیسی سندریا ۔ سکھ درشن امرت واپر ۔ مانوری گوئیاں کرو نہ ابھمان۔
(ڈیسیا کا گانا)
وقت کانٹا سا کھٹکتا ہے نکلتا ہی نہیں
دن عجب چھاتی کا پتھر ہے کہ ڈھلتا ہی نہیں
گردشِ تقدیر سے الٹا ، اثر تدبیر کا
وہ بھی اب ملتا نہیں جوتھا مری تقدیر کا
جونا :۔ پیاری ڈیسیا ! پہلے تو شہزادے صاحب نے مجھے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا ، مگر میں نے سامنے ہوکر انھیں گھیر لیا۔
ڈیسیا :۔ تب تو ضرور خوش ہوکر مجھے پوچھا ہوگا؟
جونا:۔ پوچھا نہ پریکھا، وہاں تو کچھ اور ہی ہے لیکھا ؂

تمھیں بت مان کر کرتا تھا جو توقیر پتھر کی


اب اس کے دل میں شاید آگئی تاثیر پتھر کی

ڈیسیا: ۔ ؂
تو اس کا پیار کیا سمجھے گی اے تصویر پتھر کی


اگر سمجھے تو ہو جائے بتِ بے پیر پتھر کی

جونا: ۔ ؂
نہ رکھو اس بتِ عیار کا خنجر کلیجے میں


بس اب رکھ لو تم اس بت کی جگہ پتھر کلیجے میں

ڈیسیا :۔ ؂
چبھوتی ہے تو اے جلاّد کیوں خنجر کلیجے میں


زباں تیری اترتی ہے چھری بن کر کلیجے میں

جونا:۔ پیاری ڈیسیا ! شہزادے کی سواری آرہی ہے ، اب جی بھر کر دیکھ لیجیے۔
(سہیلیوں کا جانا)
(ڈیسیا کا آکر شہزادے مارکس سے اظہارِ محبت کرنا اور گانا)
(گانا)
دیکھو بلماں موری ، بالی عمر یا ... میں بل بل جاؤں، گروالگاؤں ، سجن موہن کورجھاؤں ، آؤ جان، ہوئے نیناں دشمن میری جان کے ، جگر پر ہیں چر کے نجربان کے، دلدار ، غم خوار، جان نثار ! توپہ جوبن اپناواروں ۔ آؤ جان ...
مر مٹی تیرے لیے اور تجھے دھیان نہیں
غیر کا درد نہ ہو جس میں وہ انسان نہیں
اے دغاباز، جفاکار نہ ٹھکرا دل کو
توڑنا سہل ہے پر جوڑنا آسان نہیں
ڈیسیا:۔ مارکس! میرے پیارے دل رُبا !
مارکس:۔ڈیسیا! تم یہاں کس فراق میں ؟
ڈ یسیا:۔ تمھارے اشتیاق میں ؂

آئے نہ میرے پاس کئی دن گزر گئے


اب کیا ہم ایسے آپ کے دل سے اتر گئے


مارکس:۔
جو دن تھے آنے جانے کے وہ دن گزر گئے


اب تو خبر نہیں کدھر آئے کدھر گئے

ڈ یسیا:۔ بے وفا ! کیا دل دینے والی کی یہی سزا ہوتی ہے ؟
مارکس:۔ غبار اسی طرف کو جاتا ہے جدھر کی ہوا ہوتی ہے ۔
ڈیسیا:۔ ڈیر مارکس! نگاہوں کا وہ میل کیا ہو ا؟
مارکس:۔ کیا جانوں پتلیوں کا وہ کھیل کیا ہوا !
ڈ یسیا:۔ پیارے مارکس ! تمھاری چال ڈھال ۔ صورت وہی ہے ، مگر نہ وہ دل ہے نہ وہ نظر۔ ہائے ؂

جو نظر اب ہے وہ پہلے تری بے دید نہ تھی


اس طرح آنکھ بدل لے گا یہ امید نہ تھی

آخر پیارے مارکس! اس بے رخی کا سبب ؟
مارکس:۔ کچھ نہیں ۔
ڈیسیا:۔ اس ناراضگی کا باعث؟
مارکس :۔ کوئی نہیں۔
ڈیسیا:۔ پھر کیا ہو گیا؟
مارکس:۔ سودا ہو گیا۔
ڈیسیا:۔ ہوش وحواس کدھر گئے؟
مارکس:۔ محروم آرزوؤں کے ساتھ وہ بھی مرگئے۔
ڈیسیا:۔ تو کیا اب تم سے کوئی امید نہیں؟
مارکس:۔ امید دلانے والی چیز ہی میرے پاس نہیں۔
ڈیسیا:۔ وہ کیا؟
مارکس:۔ دل!

میں دل کو روؤں گا دل روئے گا عمر بھر مجھ کو


نہ میری دل کو خبر ہے ، نہ دل کی ہے خبر مجھ کو

ڈیسیا:۔ ارے یہ کیا رمز ، کیا معمہ ہے ؟
مارکس:۔ یہی کہ دل اب نکما ہے ۔ میرا ساتھ چھوڑدو ، اپنا ہاتھ ہٹالو۔
ڈیسیا:۔ میرا دل دے دو۔ اپنا ہاتھ چھڑالو۔
(منہ پھیرکر شہزادے کا چلاجانا ، ڈیسیا کا افسوس کرنا اور گانا)
گانا
کسی ظالم کے پھندے میں آنا نہیں
دل کسی بے وفا سے لگانا نہیں
اس کی زلفوں میں دل کو پھنسانا نہیں
ہائے ظالم کو اس دل نے جانا نہیں
چاہ کر نا کسی نے بھی جانا نہیں
پیار کرنے کا گویا زمانا نہیں
(ڈیسیا اور سہیلیوں کا مل کر گانا)
ڈیسیا:۔ موہے کا ہے عالی رے پیروا تر ساوے ، نارے غم جیاں کلپنیاں جل گیاں سیاّں۔
سہیلی:۔ آہیں یہ بھرنا ، جیا میں جلنا ، من کو کرونہ ہلکان، ذی شان۔
ڈیسیا:۔ پیت نے ماری بر ہا کٹاری، جائے جیا کے پار۔
سہیلی:۔ دکھ ہا ری، اے پیاری ، ہرباری ہم واری۔
ڈیسیا:۔ گئے چھانٹر موہے بلماں، اک آگ لگی ہے تن ماں،جل خاک بھئی من ماں،دکھ دیت ہے اب سیّاں۔
سہیلی:۔ بے قرار بار بار ہوکر چین رکھو جان۔
ڈیسیا:۔ موہے کاہے ...
(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
پہلا باب تیسراسین
ر ا ستہ
(راحیل کا گانا)
دل تیرِ اداکا نشانہ ہوا،یہ نشانہ ہوا،تھا اپنا مگر اب بیگانہ ہوا،آنکھ مِلتے ہی ظالم روانہ ہو ا ۔ دل...
شیدا ہوا یہ دل نازک بدن پر ،غنچہ دہن پر ۔ تیرے ہونٹ ہیں لعلِ یمن، یہ زلف ہے مُشکِ ختن ؂
کیفِ شرابِ ہستی ہے اک عذاب ہم کو
زنجیرِ آتشیں ہے موجِ شراب ہم کو
آرام ہجر کی شب آئے تو کیوں کر آئے
ہے موت ہی میسرہم کو ، نہ خواب ہم کو
(مارکس کا یہودی لباس میں آنا)
مارکس:۔

کرتی ہے آتشِ غم تیری کباب ہم کو


پھونکے ہی جارہا ہے یہ اجتناب ہم کو


الفت میں تم پریشاں، فرقت میں ہم ہیں نالاں


وہاں اضطراب تم کو ، یہاں اضطراب ہم کو

پیاری راحیل !میری یہ خواہش ہے کہ تم چہرے پر نقاب ڈالے بغیر گھر سے باہر نہ نکلا کرو۔
راحیل:۔ کیوں پیارے ! اس کی وجہ؟
مارکس:۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح بارش سے دُھلے ہوئے صاف آسمان پر چاند کی شعاعیں دور دور پھیل جاتی ہیں تو تمام دنیا مستی میں ڈوبی ہوئی پرُ شوق نگاہوں سے دلفریبی پر قربان ہونے لگتی ہے ، اس طرح جب تمھارے گلابی رخساروں کے عکس سے کائنات کا ذرہ ذرہ جگمگانے اور ہنسنے لگتا ہے تو قدر ت کی مخلوق ہی نہیں خود قدرت بھی تمھیں پیار سے دیکھنے لگتی ہے ؂
ہے نظر کاتب کی اپنے ہاتھ کی تحریر پر
خود مصوّر ہی لٹا جاتا ہے اس تصویر پر
راحیل:۔ تو کیا پیارے تم رشک کرتے ہو؟
مارکس:۔ رشک ! میں اس لباس پر رشک کرتا ہوں جو تمھارے خوبصورت جسم کو ہر وقت آغوش میں لیے رہتا ہے ، میں اس گلے کے ہار پر رشک کرتا ہوں جو اس دلفریب سینے کے ابھار کو ہر وقت بوسے دیا کرتا ہے ، میں ہوا کے جھونکے پرر شک کرتا ہوں جو ان ناگنوں کے پاس سے نڈر ہوکر نکلتا ہے۔ یہاں تک کہ میں تمھارے سایے سے رشک کرتا ہوں جو تمھارے قدموں کے ساتھ ساتھ لپٹا ہوا چلتا ہے ۔ ؂

بندھی ہے ٹکٹکی سب آزما تے ہیں نصیب اپنا


جسے میں دیکھتا ہوں اس کو پاتا ہوں رقیب اپنا


جو حسرت ہے تو یہ حسرت نہ کوئی ہو مقابل میں


تمھیں آنکھوں میں رکھ لوں اور ان آنکھوں کو اس دل میں

(دونوں کا گانا)

سمندِناز پر کھولے ہوئے وہ بال پھرتے ہیں


بچے کب طا ئرِ دل جب ہوا میں جال پھرتے ہیں

پھول سے گالوں پر ، ناگن سے بالوں پر ، میں ہوا فدا ، دل رُبا۔
راحیل:۔ مت واری چالوں کی ، گھونگر سے بالوں کی زنجیر میں ہوں اسیر ؂
اسیر پنجۂ عہدِ شباب کرکے مجھے
کہا ں گیا میرا بچپن خراب کرکے مجھے
کسی کے دردِ محبت نے عمر بھر کے لیے
خدا سے مانگ لیا، انتخاب کر کے مجھے
مارکس:۔ ا بروکٹاری ، سینے یہ ماری تیغِ دودھاری ۔ اے جان! پھول سے گالوں ...
(دونوں کا گاتے ہوئے جانا)
(منادی والے کا آنا)
منادی والا:۔اے باشندگانِ روم!تم کوتاج دار دینی کونسل کاحکم ڈھنڈورے کی بلند آواز کے ساتھ سنایا جاتا ہے کہ آج چونکہ رومی دیوتاؤں کا مقدس دن ہے اس لیے روم کے قانون کے مطابق ہر جگہ جشنِ عام ہو ۔ ہر صحبت میں ہنگامۂ بادہ وجام ہو ۔ تین شبانہ روز تک تعطیل ہی تعطیل ہو ۔ ہر کام میں التوا ، ہر دھندے میں ڈھیل ہو۔ جوشاہی کونسل کے خلاف عمل میں لائے گا وہ روم کے قانون کے مطابق زندہ آگ میں جلایا جائے گا۔
ایک شخص :۔ اجی میاں منادی والے!یہ تو کہوکہ تین دن تک تمام کارو باربند کرکے جشن منانے کا حکم صرف دیوتا کی پیاری قوم ، یعنی رومن لوگوں کے لیے ہے یا پارسی ، عیسائی ، یہودی ، سب کو تین دن کی مدت قابلِ احترام ہے ۔
منادی والا:۔ سب کے لیے ، جو لوگ رومی دیوتاؤں کو نہیں مانتے ان کے لیے بھی۔
وہی شخص:۔مگر جو لوگ تمھارے دیوتاؤں کو مانتے ہی نہیں وہ کیوں کر جشن منائیں گے۔
منادی والا:۔ نہ منائیں گے تو رومن قوم کے دشمن قرار دے کر زندہ آگ میں جلائے جائیں گے۔
(سب کا جانا ، رومن افسروں کا داخل ہونا، شور وغل کی آوازیں)
کینشش:۔ آج کے دن یہ شور وشرکیسا ؟ عین عبادت میں یہ ضرر کیسا؟
ایک سردار :۔ عالی جاہ ! یہ اسی لا یعنی عبرانی کا کارنامہ ہے ۔
کینشش:۔کیا ڈھنڈورے کی آواز اس کے مکان کے دروازوں اور کھڑکیوں سے ہوکر اس کے کان تک نہیں پہنچی؟کیا اس نے ہمارے شہنشاہ اور ہماری مذہبی کونسل کا حکم نہیں سنا؟
دوسرا سردار:۔ نہیں !حضور سنا ہوگا ، مگر یہ کمترین یہودی ہمارے رومن دیوتاؤں سے قلبی خصومت رکھتے ہیں ۔ اس لیے ہمارے کسی حکم کی پروا نہیں کرتے۔
کینشش:۔اَن دیکھے خدا پر بھروسہ رکھنے والے کا فر کی یہ حرکت !ہم سے اور ہمارے مذہبی حکم سے یہ نفرت ! جاؤ اور اسے ڈاڑھی سے پکڑ کر منہ پر تھوکتے ہوئے یہاں لے آؤ۔
(یہودی کو پکڑ کر لانا)
سردار (۱):۔ کرو سجدہ۔
یہودی:۔ کسے سجدہ ؟
سردار:۔ اس عا لی شان کو ۔
یہودی:۔ (عزرا) اس فانی انسان کو ؟ ہم سجدہ کرتے ہیں اپنے سبحان کو ؂

ٹکڑے مرے اڑجائیں گے یہ ڈر کر نہ جھکے گا


آگے کسی انسان کے یہ سر نہ جھکے گا

دوسرا سردار:۔ آگے بڑھ اور جھک ان قدموں کے آگے
عزرا:۔ جھکوں؟ کس کے آگے ؟ ان قدموں کے آگے جن قدموں نے اس سر سے بھی زیادہ سفید اور بوڑھے سروں کو ٹھوکریں ماری ہیں ، جنھوں نے اپنی جوانی کی ضربوں سے مظلوم قوم کے سینوں کی ہڈیاں توڑڈالی ہیں ۔ نہیں ،میں کبھی نہیں جھکوں گا۔ ؂

قیامتیں ہوں کہ آفتیں ہوں ، جہان جائے کہ جان جائے


مگر یہ ممکن نہیں ہے ہرگز کہ اس بندے کی آن جائے


اس کی چوکھٹ پہ ہوگا سجدہ، جدھر وہ ہوگا اُدھر جھکے گا


بجز خدا کے کسی کے آگے نہ دل جھکا ہے نہ سر جھکے گا

کینشش:۔ مفسد ! باغی ! ہماری رسموں اور مذہبی تیوہاروں کے ساتھ اعلانیہ نفرت کا اظہارکرنا اور پھر دنیا کے سامنے اپنی بے گناہی آشکار ا کرنا ۔ ذلیلو! اگر ہم جانتے تو تمھیں آزادی اور زندگی کبھی نہ بخشتے۔
عزرا:۔ اس ملک میں آزادی اور زندگی! یہ دونوں کہاں ہیں ؟ ہماری قوم کے لیے یہ دونوں چیزیں کسی قیمت پر نہیں مل سکتیں ۔ تم میں رحم ،انصاف اور ایمانداری کہاں ہے؟ ہماری زندگی کے لیے قدم قدم پر ذلت ہے ، ندامت ہے ، شرمندگی ہے ۔ ؂

شجرِ زیست کے چن چن کے ثمر توڑے ہیں


تم نے دل توڑے ہیں سب کے کہ جگر توڑے ہیں


ایسے ظالم ہو کہ تم نے کوئی دو چار نہیں


سینکڑوں لاکھوں ہی اللہ کے گھر توڑے ہیں

کینشش:۔
صاحبو ! سنیں تم نے باتیں خصومت کی
یہ سراسر توہین ہے رومن حکومت کی
عزرا:۔ اگر رحم نہ ہو تو حکوت کس کام کی؟ بے انصاف کی بہادری ہے بے نام کی، تم نے اگلے وقتوں میں ہماری قوم پر جو جو ظلم کیے ہیں وہ اس دل پر خون کے حرفوں سے لکھے ہوئے ہیں۔ ؂
ہمارے سر پہ ہزا روں ستم ہیں ڈھائے گئے
ہمارے جھونپڑے توڑے گئے جلائے گئے
تمھیں ہو جو کہ ہمیشہ ہمیں ستائے گئے
ہمیں ہیں جو کہ تمھارے ستم اٹھائے گئے
سردار:۔ یہ ہمارے دیوتاؤں کا سخت دشمن ہے ۔
عزرا:۔ نہ ہم کسی کے دشمن نہ بدخواہ۔ تم اپنی راہ لو اور ہم اپنی راہ ۔ ؂
ہر ایک اپنے مذہب کا دوربین خود ہے
عیسیٰ بدین خود ہے موسیٰ بدین خود ہے
سردار:۔ ہمارا خدا عیاں ہے ، مگر تمھارا خدا کہاں ہے ؟
عزرا:۔ ہمارا خد ا یہاں ہے ، وہاں ہے ، محیطِزمیں ہے ، مدارِ آسماں ہے ۔
سردار :۔ خدا اگر ظاہر نہیں ، بر ملا نہیں تو کچھ نہیں ۔
عزرا:۔ خدا ہی سے ہے خدائی ساری، خدا نہیں تو کچھ نہیں ۔
(راحیل کا آنا)
راحیل :۔ کیا ہوا اے نیک حاکمو! ہماری کیا خطا؟
کینشش:۔ خاموش ! اے سر زن ، سر انداز ! ابھی یہ آوازکیسی تھی؟
راحیل:۔ ہمارے کام کاج کی تھی اور آواز کیسی تھی؟
کینشش:۔ کیا آج کے دن کام کاج کے لیے امتناعِ عام نہ تھا۔
عزرا:۔ تمھارا امتناعِ عام خدا کا کلام نہ تھا۔
کینشش:۔ ہمارے یہاں بادہ وجام کا نیک انجام نہیں ۔
عزرا:۔ ؂
نہ شوقِ بادہ رکھتے ہیں ،نہ ذوقِ جامِ کرتے ہیں


خدا کا نام جیتے ہیں اور اپنا کام کرتے ہیں

کینشش:۔
صاحبو ! سنیں آپ نے باتیں خصومت کی


یہ سراسر توہین ہے رومن حکومت کی

عزرا:۔ آگ پر جب تپتی ہوئی دیگچی چڑھائی جائے گی تو ضرور جوش کھائے گی ۔ ؂

دل میں شرارِ درد ہو ، لب پر فغاں نہ ہو


ممکن نہیں کہ آگ لگے اور دھواں نہ ہو

(یہودی کو سزا دینے کا حکم دیتا ہے )
کینشش:۔
یہ تو پہلی چھیڑ ہے روتا ہے کیا


آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

راحیل:۔ پیارے ابّا ! غم نہ کھاؤ ۔ اے رومن سردار ! میں تمھاری کنیز بنوں گی، خطِ غلامی لکھ دوں گی ، ہمارا گھر لو مگر ہماری جانیں بخش دو ، رحم کو کام میں لاؤ۔
کینشش:۔ جان کبھی نہ بچے گی اس بوڑھے نادان کی ، اب خیر نہیں اس بد زبان کی۔
راحیل:۔ جو پانی کا قطرہ انگلی کے سرے پر آرہاہے اور آپ ہی ٹپکا چاہتا ہے اُسے خاک میں ملا کر گنہ گار نہ بنو ، جہنم کے سزاوار نہ بنو۔
کینشش:۔ تیری التجا بیکار ہے ۔ یہ گنہ گار سزا کا سزاوار ہے ۔ لے جاؤ اور اسے کھولتے ہوئے تیل کے کڑھاؤ میں تل کر قعرِ عدم کو پہنچاؤ۔
عزرا:۔ بیٹا ! ظالم کی نگاہ میں رحم کی جھلک نہیں ہوتی۔ دیکھ لو سانپ کی نگاہ میں جھپک نہیں ہوتی۔
کینشش:۔ بس چپ کراؤ اس دیوانے کو اور لے جاؤ آگ میں ، جلانے اس کو ، جان سے مٹانے کو ۔
راحیل:۔ (رومن سردار سے ) اے رحم کے دشمنو ! اس قدر سخت دل نہ بن جاؤ ۔ للہ رحم کھاؤ۔ ؂
رحم کا ساماں کیا ہوتا نہیں خو نخوار میں
آگ بھی موجود ہے،پانی بھی ہے ، تلوار میں
چھوڑو نہ عفو ورحم کے سامان کا سامنا
اک دن تمھیں بھی کرنا ہے یزدا ں کا سامنا
راحیل:۔ (عزرا سے ) میں نے سنا ہے کہ رومن دیوتا بہت رحم دل ہوتے ہیں۔ پیارے ابّا اِدھر آؤ اور ان کے دیوتاؤں کے دروازے میں پناہ لے کر جان بچاؤ۔
عزرا:۔ نہیں ! زنہار نہیں ! کیا میں ان کے مندر میں خدا سے بے وفائی کرنے جاؤں۔ ان کے دیوتاؤں کی پناہ میں بھاگ کر جان بچاؤں۔ ؂
دنیائے چند روزہ کی خواہش فضول ہے
ایسے ذلیل جینے سے مرنا قبول ہے
کینشش:۔بس لے جاؤ ! لے جاؤ !
راحیل :۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
کینشش :۔ نہ ہوگا؟ اچھا نہ سہی ، لے جاؤ، دونوں کو سزا دو، اس یہودی کے ساتھ اس لڑکی کو بھی جلادو۔
عزرا:۔ ارے نہیں ، اس پر ستم نہ ڈھاؤ۔ اس دن کو بھی یاد کرو ، جب تمھیں پیس کر کھا نے والی بتیس دانتوں کی چکی بے وفا ہوکر تم سے جدا ہو جائے گی ، جب اس دروازے کے دربانوں پر بلائے نا گہانی آئے گی ، میں اب تک پتھر تھا ، اب پانی ہوں ، گدائے مہربانی ہوں ، مجھے مارو ، جلاؤ، مگر اس پر رحم کھاؤ۔
کینشش:۔ مجرم پر رحم کھانا قانون کے خلاف ہے ، ایسے سرکشوں کا مارا جانا بہترین انصاف ہے ۔
عزرا:۔ ایک معصوم کی جان کو پناہ نہیں ، اچھا کچھ پروا نہیں ۔ اندیشہ نہیں ، اچھا چلو اور مردانہ وار چلو۔ بھر لو، او ستم شعار و ! اس خونِ ناحق سے اپنا دامن بھر لو ، کوئلے کی دلاّلی سے اپنا ہاتھ منہ کالا کر لو ۔
کینشش :۔ لے جاؤ ، بس فوراً لے جاؤ۔
(مارکس کا آنا)
مارکس :۔ ٹھہر ، او بے درد رومن سردار ٹھہر !
راحیل :۔ پیارے منشیہ بھاگ جاؤ، بھاگ جاؤ ، ورنہ یہ جنونی تمھیں بھی یہودی سمجھ کر مار ڈالیں گے۔
مارکس:۔ پیاری ! بھروسہ کرو، یہ ہمارا کچھ نہیں کر سکتے ؂
ہوگی نہ اماں ہرگز شمشیر سے دم کی
دم بھر میں دکھائے گی یہ راہ عدم کی
تلوار نہیں پیکِ اجل کی یہ چھڑی ہے
دوزخ کی زبانوں سے بھی آگ اس کی بڑی ہے
کینشش:۔ کیوں ڈیر لگار ہے ہو ؟ لے جاؤ۔
مارکس :۔ معاف کر ، اے رومن سردار معاف کر۔
کینشش:۔ کسے؟
مارکس:۔ اسے۔
کینشش:۔ کس لیے؟
مارکس:۔ اس لیے کہ یہ تمھارے قدموں کے آگے گرا ہوا ہے اور گری ہوئی دیوار پر چڑھ کرکودنا مرد انگی نہیں ، اس لیے ہٹ جاؤ، اسے نہ ستاؤ۔
کینشش:۔ یہ حمایت کس لیے ؟ اس خود سر یہودی کے لیے ؟ ہمارے دین کے دشمن کے لیے ؟
مارکس:۔یہودی ہو یا عیسائی ، یورپ کا باشندہ ہو یاایشیائی ، بد ہو یا نیک ، مگر خدا کے رحم وکرم کی نظر سب پر ہے ایک۔
کینشش:۔ مجرم کا حمایتی بھی مجرم ہوتا ہے ۔ اسے بھی باندھ لو۔ دیر نہ لگاؤ۔
مارکس:۔ کم بختو ! مردارو !بھالے نیچے جھکالو ۔
کینشش:۔ کس کے حکم سے ؟
مارکس:۔ میرے حکم سے ۔
کینشش :۔ تو کون ہے ؟
مارکس:۔ ادھر دیکھو۔
کینشش:۔ کون؟ شہزادہ مارکس !
مارکس:۔ چپ رہ ، ذلیل ناکس۔

(سین ختم )
 

الف عین

لائبریرین
پہلا باب چوتھاسین
کامک
مکان
گھسیٹا:۔ ہت تیری اے، بی،سی،ڈی کی قسمت میں نمدا ہمارا نصیبا آج کل سکندر کی جوتی کے ساتھ مل گیا۔اب کسی سے کلام بھی نہیں کرتا ہوں اور سلام بھی لیتا ہوں تو سر کے اشارے سے۔ اب پوچھیے کیوں؟ اس لیے کہ میں پہلا جیسا گھسیٹا حجام نہیں رہا، ایک دم ڈاک منشی ہو گیا ہوں ۔ او:ٹائم ازاوور (O! time is over)
گانا
نائی سے ٹائی لگا کر بنا میں کیسا جنٹلمین۔ چھوڑی ہے دیسی لین، مجھ سے ڈرتے ہیں اب پوسٹ مین، واہ وا ! جس کو ہو ایک ماہ میں تھری تھاؤزنڈانکم، اسی ملکہ کو بناؤں اپنی میڈم ، تا کہ کہلاؤں میں جنٹلمین۔ ؂
پہلے کنجڑے چمار بھی کہتے تھے باربر
اب اچھے اچھے کہتے ہیں دی پوسٹ ماسٹر
دیکھو استرے کی صفائی ، کہاں تک ہے رسائی ، رومن سرداروں کی مہربانی، قدردانی سے پوسٹ ماسٹر کے عہدے پر ہوں جا ئنٹ۔نائی سے ٹائی لگا کر...
(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
پہلاباب پانچواں سین
ڈاک خانہ
گھسیٹا: اچھا اب پارسلوں کی قیمت جمانی چاہئے اور سرکاری رقم کی بِدھ ملانی چاہئے،۳،۳،۳،۶،۶،۶ اور چھ بارہ ، بارہ کا ایک آنہ ۔
(چپر اسی کا آنا)
چپراسی : با بو جی! دوگُڈ مین آیا ہے۔
گھسیٹا : ہیں ! گُڈ مین؟ کیا بکتا ہے الّو؟
چپراسی : ارے بابو جی ! آپ سے دوگڈ مین ملنا چاہتاہے۔
گھسیٹا : ارے کیا ! جنٹلمین ، جنٹلمین!
چپراسی : ارے ڈیم ! ان سے بولوکہ بابو جی اس وقت ولایت کی ڈاک دیکھتا ہے۔
چپراسی : ارے ، پروہ تو یہ کھڑے ہیں۔ وہ آگئے !
جنٹلمین: کیوں بابو صاحب ! ہم آسکتے ہیں؟
گھسیٹا: کبھی نہیں۔آپ کو کمرے کے اندر بغیر اجازت کے نہیں آنا چاہیے۔
دوسرا: مگر جس نے اجازت مانگی اسے تو آپ نے دھت بتائی ، کچھ پوچھنا ہو تو کس سے پوچھا جائے بھائی؟
گھسیٹا :ان کو میر ے آفس کا پتا بتاؤ، ہیڈ آفس کا دروازہ کھٹکھٹا ؤ، ہمارا سرنہ کھاؤ۔ دیوانہ!
پہلا:مگر یہ ڈاک خانہ ہے یا پاگل خانہ ! یہاں آدمی رہتے ہیں یا جانور ؟
گھسیٹا: جانور کا بچہ! خچر کے موافق ہم کیا تمھارے واسطے بیکار بیٹھا ہے۔بیس، بیس ، چھ چھبیس،چھبیس اور چھبیس باون، باون کے چار۔
دوسرا : اجی میں مارتا ہوں اتار کر ایک پیزار۔
پہلا :ٹھہروتو یار، اجی سر کار ہم گولڈ اسٹون اینڈ کو کے ایجنٹ ہیں، ہم نے کچھ غلہ بھیجا تھا اس کی رسید نہیں آئی۔
گھسیٹا: رسید نہیں آئی؟ تو کیا میں گولڈ اسٹون کا چچا ہوں جو یہیں سے رسید کاٹ دوں۔
پہلا: شاید کوئی چٹھی آئی ہو اس وقت کی ڈاک سے ۔
گھسیٹا: چٹھی آئے گا تو تمہارے گھر پر مل جائے گا ۔ تم کیا جانتا ہے؟ یوایڈیٹ۔
دوسرا: ہیں! ایڈیٹ ! ایڈیٹ ، تو اورتیراباپ، پبلک کا نو کرہوکر ایسی گستاخی؟ آخر کو ہے نا پاجی۔
گھسیٹا: ہیں! ہیں! پاجی! ایک ڈاک منشی پاجی! نکل جاؤ ، چلے جاؤ۔ایک سرکاری ملازم اور سرکاری کام، اگر میرا جیسا دوسرا ہوتا تو مداخلت بے جا کا دعویٰ کر دیتا ، دونوں پاجی کے بچوں کو ابھی ابھی جیل خانہ کرادیتا ۔ چالیس، بیالیس اور آٹھ پچاس ، پچاس کا صفر۔
پہلا: واہ صاحب واہ! بے شک اپنے بھائیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہیے، آیئے صاحب آیئے !
گھسیٹا: اکّیس چھ ستائیس اور تین تیس۔
دوسرا : افسوس قانون اجازت نہیں دیتا۔ اگر ہمارے بدلے کوئی دوسرا ہوتا تو لمبے بوٹ کی ٹھوکر مارتا اور بابو صاحب کاحلیہ بگاڑدیتا۔
گھسیٹا: ابے جا جا تجھ جیسے چھتیس پھرتے ہیں ،کمبخت جنٹلمین بنتے ہیں، لکچر بازیاں کرتے ہیں، ڈیم یو۔ تریپن، تریپن چھ انسٹھ ، اکسٹھ ۔باسٹھ۔
خریدار: ٹکٹ ٹکٹ بابو جی ٹکٹ!
گھسیٹا: چھیالیس ، سنیتالیس، انچاس ، پچاس۔
خریدار: ارے یہ کیابکواس، دوآنے کے ٹکٹ دیجیے ، پیسے پیسے والے۔
گھسیٹا: شٹ اپ یو فول! پہلے ہم اپنی میزان تو ملالیں۔ رکھ دے پیسے اور کھڑا رہ چپکا۔
خریدار:ارے واہ! یہ ڈاک منشی ہے یا ہڑکا کتّا۔کھڑاکیوں رہوں؟ کیا میں چاکر ہوں؟
گھسیٹا: اور کیا میں تیرے باوا کا نو کر ہوں؟
خریدار: ابے تو نہیں دے گا؟ اس میں نقصان ہے کس کا ؟
گھسیٹا: نقصان کا بچہ ! کیا دو آنے کے ٹکٹ نہ بکنے سے آجاتا ہے ٹکسال میں دھکا؟
خریدار: اچھا تو ہم آئندہ سے خط ہی نہ لکھیں گے۔ ڈاک کا سلسلہ ہی اڑادیں گے ۔ کم بخت کمیشن کے ڈر سے پھیر میں یہ اندھیر۔ ڈاک خانہ کے ٹکٹ بکنے لگے اور دینے والے ایسے الو کے پٹھے رہ گئے ۔
(جانا )
گھسیٹا:چلو یہ بھی ٹلا، کم بختوں نے میرا بھیجا کھالیا، تراسی تراسی اور چھ نواسی اور ایک نوے اور بارہ ایک سودو۔ ہاتھ لگے دو۔
(بڑھیاکا آنا)
بڑھیا: (آواز دے کر) ارے منشی جی: کیا دفتر میں ہیں؟ کیا یہی کمرہ ہے منشی جی کا؟
گھسیٹا: پھر آئی کو ئی بلا۔کم بختوں نے میرا حساب خراب کر دیا۔ آج تو تمام الّوؤں کا ڈربہ کھل گیا ۔ ابے کون ہے؟
بڑھیا: اجی منشی جی سلام۔
گھسیٹا: اوہویہ تو کسی بڑھیا کا ہے تام جھام۔ارے بڑھیا کیا بکتی ہے ؟جلدی بتا؟
بڑھیا: ہیں۔ بڑھیا کا لگا ! موئے تو نے بڑھیا کس کو کہا؟
گھسیٹا:ارے واہ نہ پیٹ میں تھاپ نہ منہ میں بھاپ اور ابھی تک ہے بڑھیا کو جوانی کاالاپ۔مگر تجھے کیا کام ہے نیک بخت؟
بڑھیا:ہیں! نیک بخت ؟ ایک نو جوان عورت کی تو ہین ۔ موئے ۔ نیک بخت ہوگی تیری ماں، تیری بہن، تیرے ہوتے سوتے ، لو اور سنو؟ مجھ کو نیک بخت کہتا ہے۔
گھسیٹا: ارے تو کیا کہوں؟ بی مغلانی،کم بخت یا بد بخت؟
بڑھیا: ارے جانی کیوں نہیں کہتا؟ جانی ، دل جانی۔
گھسیٹا: ارے واہ رے نانی، لو بڑھیا سٹھیاگئی ہے۔ باؤلی ہو گئی ہے۔ ارے یہاں پر تو ہے ڈاک خانہ ،نہ کہ تیرے بڑھاپے کے عاشقوں کادیوان خانہ۔ تو یہاں کیوں آئی ؟
بڑھیا: ارے آئی ہوں اپنے پوڈر کاپارسل لینے۔ اوئی مجھ نگوڑی کا تو آج کئی دن سے سنگھار ہی نہیں ہوا۔ میں حیران ہوں۔
گھسیٹا: واہ رے تیراسنگار، تجھ پر خدا کی مار، تن پر نہیں لتّا،پان کھاؤں البتہ ، چل نکل، پارسل آئے گا تو تیرے منہ پر مارا جائے گا۔
بڑھیا: موئے بد زبان! تجھے اپنی ایڑی چوٹی پر کروں قربان، زیادہ بکواس لگائے گا توجوان عورت سے چھیڑ خانی کا مزہ پائے گا۔ہتک عزت کی نالش کروں گی۔ٹانگ میں رسی باندھ کر گلی گلی کھینچتی پھروں گی ۔ ذلیل کروں گی۔
گھسیٹا: غضب ، غم، غصہ، آفت ، میں ڈاک منشی کیا ہوا کہ ایک عذاب میں پھنس گیا، کم بخت میرادماغ چاٹ گئے ، مجھے دیوانہ بنادیا۔
(گانا )
ڈاک منشی، میں کیا بنا،آفت زحمت میں پھنس گیا، کوئی کہتا ہے لاؤٹکٹ، کوئی ڈنڈا مارے پھٹ پھٹ ، بھیجا ہوا پلپلا میرا، آفت زحمت میں پھنس گیا ، اب جو کوئی آئے کرے مجھ سے ایک بات ،سربھی اس کاتوڑڈالوں، ماروں بھی لات، اسٹیم میرا بھی فل ہو گیا، ڈاک منشی میں کیابنا...
(سین ختم )
 

الف عین

لائبریرین
پہلا باب چھٹاسین
عبادت گاہ

(یہودیوں کا گانا)
اے خداوند قدوس وبرتر
اپنے بندوں پہ بھی اک نظر
ہیں بھکاری ترے در پہ آئے
تیری چوکھٹ پہ سر کو جھکائے
عاصی پُر معاصی ہیں ہم ، تیری رحمت کے امیدوار
غرقِ عصیاں پریشان ہیں ، تیری رحمت لگائے گی پار
عزرا:۔ بھائیو ! اسے سرپر چڑھاؤ اور ادب واحترام سے کھاؤ۔
مارکس:۔ (سائڈ میں*) میں رومن ہوکر یہودیوں کی نذر نیاز کھاؤں ؟ نہیں ، میں ہرگز نہیں کھاؤں گا ۔
راحیل:۔ ہیں ! سب نے کھایا مگر منشیہ نے لب تک نہ لگایا!اس نے پھیک دیا ! یہ کیا اسرار ہے ۔ ؂
کیا مخالف کو دیا کیا صاحبِ کیں کو د یا ؟
ہائے ہم نے اپنا دل کیا دشمنِ دیں کو دیا


*گفتگو کا یہ حصہ مکالمہ نہیں کردار اپنے آپ سے مخاطب ہے۔ ڈراماکی اصطلاح میں اسے ASIDEیا علیحدہ کہتے ہیں ،یعنی کردار ایک طرف ہٹ کر کوئی ایسی بات کہتا ہے جو تماشائی تو سنتے ہیں ، لیکن اسٹیج کے دوسرے کردار نہیں سنتے۔)
عزرا:۔بھائیو ! اپنی جلا وطنی کا قریب اب زمانہ ہے ، حکمِ حاکم سے اسی مہینے ہمیں پیارا وطن چھوڑ جانا ہے ۔ اس لیے ؂
رہنا اس انجمن میں بہم اتفاق سے
سر کے نہ زینہار قدم اتفاق سے
آئے گا ہم کوٹھگنے جو اس بزمِ پاک میں
اس کو خدا کا قہر ملادے گا خاک میں
مارکس:۔ (سائڈ میں )اگر یہ مجھے اس وقت پہچان جائے تو اس دلِ دیوانہ کی بدولت میری جان جائے ۔
(اندر سے آواز کا آنا)
آواز :۔ آہا بجھادو ، سب قند یلیں بجھادو ، رسم کے آثار چھپادو ۔
عزرا:۔ کون ہے یہ نرالے وقت کا آنے والا ؟
جونا:۔ (اندر سے) شاہی آدمی ضروری کام پر۔ کھولو دروازہ شاہ ٹائٹس کے نام پر۔
عزرا:۔ شاہی آدمی ؟ سب کے سب چور دروازے سے نکل جاؤ ؟ جلد اپنی جان بچاؤ ۔
(سب کا جانا)
مارکس:۔ کیا میں بھی جاؤں؟
عزرا:۔ نہیں تم ایسے نازک وقت میں نہ جانا، کوئی آفت آجائے تو مجھے بچانا۔
راحیل:۔ علیٰحدہ) یہ خلل بھی فائدے سے خالی نہیں ۔ آج میں نیاز کی روٹی کا بھید اس سے لیے بغیر زنہار چھوڑدینے والی نہیں (ظاہرا) منشیہ مل کر جانا ۔ خبردار پتا نہ بتانا۔
(راحیل کا جانا)
مارکس:۔کیسی کڑی نگاہیں ! کہیں تاڑ تو نہیں گئی ؂
شاہ سے چور ستم گرنے بنایا مجھ کو
کس مصیبت میں مرے دل نے پھنسایا مجھ کو
قصد کرتا ہوں جو اس جا سے کہیں جانے کا
دل یہ کہتا ہے تو جا میں نہیں جانے کا
(گانا )
عجب جان الجھن میں میری پڑی ہے

کہ زلفوں کی دل پر پڑی ہتھکڑی ہے
اجل ہی کے ہاتھوں سے نکلے گی آخر

جو تیری نگہ میرے دل میں گڑی ہے
نظر ملتے ہی زلفِ پیچاں میں الجھا

مرے پاؤں میں کیسی بیڑی پڑی ہے
نہ رہنے کی ہمت نہ جانے کا یارا

میرے سر پہ کیسی یہ آفت پڑی ہے
مری قبر ٹھوکر سے ہموار کر کے

کہا کیسی رستے میں ڈھیری پڑی ہے
عزرا:۔ آہا، شہزادی باشان وشوکت۔
مارکس:۔(سائڈ میں )ہیں! کون ؟ ڈیسیا۔ میری منگیتر ؂

اب ایسے میں کہاں بھاگوں ، کدھر چپکا چلا جاؤں


زمین پھٹ جائے گر اے آسماں تامیں سماجاؤں

عزرا:۔ اے نشانِ والا شاہی ،کیا ہے فرمانِ شاہی؟
ڈیسیا:۔ خاص کار ہے ۔ کون یہ گلِ بے خار ہے ؟
عزرا:۔ غلام کے کارخانہ کا کاریگر ۔ آزمودہ کار ہے ۔
ڈیسیا:۔ جونا دیکھ تو اس کی صورت پیارے مارکس سے ملتی ہے ۔
مارکس:۔ (سائڈ میں) افسوس یہ مجھے پہچان جائے تو اس دلِ دیوانہ کی بدولت میری جان جائے ۔
ڈیسیا:۔ تمھارے پاس نو لکھا ہار ہے ؟
عزرا:۔ جی جناب تیار ہے ۔
ڈیسیا:۔لاؤ ، میں دیکھوں تو سہی کہ وہ ہار میرے عیسیٰ نفس مارکس کی صراحی دارگردن کا سزا وار ہے ۔
مارکس:۔(سائڈ میں) ہائے کاش اسے خبر ہوتی کہ بو الہوس ما رکس کے گلے کا ہار کسی دوسرے ہی کی زلفوں کا تار ہے ۔
عزرا :۔ تو ہار لاؤں؟
ڈیسیا:۔ ہاں، لاؤ جلدی لاؤ۔
مارکس:۔ میں جاؤں ؟
عزرا:۔ نہیں تم یہیں رہو ۔
مارکس:۔ (سائڈمیں)

ہائے کیسے پھنس گئے کس پیچ کے پالے پڑے


کھل گئی قلعی اگر تو جان کے لالے پڑے

ڈیسیا:۔ جونا ! میں اس جوان یہودی سے بھی ایک کام بنواؤں گی یعنی پیارے مارکس کا ایک مونوگرام بنواؤں گی۔ ذرا ادھر تو آنا بھائی ۔
مارکس:۔ (سائڈ میں) اب کم بختی آئی۔
جونا:۔ چلے آؤ ۔ چلے آؤ،شہزادی بلاتی ہے ۔
ڈیسیا:۔ تمھیں نقاشی آتی ہے ؟ (مارکس کا اشارے سے انکار) او باغ کے بوتے ، کچھ منھ سے بھی پھوٹے ؂

یہ نگاہیں شرمگیں ، یہ آنکھ شرمائی ہوئی


ہے تو شکلِ یار یہ لیکن ہے مرجھائی ہوئی

راحیل:۔
ہے نظر حسرت زدہ اور آنکھ للچائی ہوئی


کیا مرے دل دار کی یہ بھی تمنائی ہوئی

عزرا:۔
یہ بھی گھبرایا ہوا اور وہ بھی گھبرائی ہوئی


دونوں پر یکساں تحیّر کی گھٹا چھائی ہوئی

حضور یہ رہا وہ ہار۔
ڈیسیا:۔ بے شک یہ ہار پُر بہار ہے ، اسے کل دربار میں لانا ، منہ مانگے دام لے جانا ۔ کل یہ ہار اپنے نو بہار کو پہناؤں گی اور اس کے گلے کا ہار بن جاؤں گی ۔ ؂
دل توڑکے دل اس کا مسخرّ بناؤں گی
یہ گھر بگاڑ ڈالوں گی وہ گھر بناؤں گی
مارکس :۔ (سائڈ میں)

اس طرح کی با وفا سے بے وفائی تو نے کی


اے دلِ ناداں کیسی کج ادائی تونے کی

ڈیسیا:۔ عزرا،اس ہار پر میرا اور میرے مارکس کا نام اس کاریگر سے کھدوانا
(جانا)
مارکس:۔
شکر ہے آج بچی جان بڑی مشکل سے


میری مشکل ہوئی آسان بڑی مشکل سے

راحیل:۔ منشیہ ، تمھارا پیار خاکستر ہے ۔
مارکس:۔ راحیل، میرا پیار کالنقش فی الحجر ہے ۔
راحیل:۔ کیا یہ کوئی طلمساتی گُل کھِلا ہوا ہے ؟
مارکس:۔ پیاری یہ دل تم سے ملا ہوا ہے ۔
راحیل:۔ پھر تم رومنوں سے کیوں ملتے ہو ؟
مارکس:۔ کیا رومنوں سے مجھے کوئی لگاؤ ہے ؟
راحیل:۔ بلکہ ان پر تمھارا دباؤ ہے ۔ ؂

ماہ جو تھا اب وہ ہے شبنم ہمارے سامنے


اب ترے میٹھے سخن ہیں سَم ہمارے سامنے

مارکس:۔
پُرخطاہی گر سمجھتی ہو تو دو ہم کو سزا


لو کھڑے ہیں ہاتھ باندھے ہم تمھارے سامنے

راحیل :۔
آہا کھڑے ہیں کیا یہ بچارے بنے ہوئے


گویا ہیں ہر طرح سے ہمارے بنے ہوئے

مارکس:۔
ہے کون اس جگہ پہ مری جاں تمھیں تو ہو


اس گھر میں اور کون ہے مہماں تمھیں تو ہو

راحیل:۔
یہ باتیں جاکے تم کسی نادان سے کہو


کیا دین ہے تمھارا ؟ تم ایمان سے کہو

مارکس:۔
کہوں گا سب کہوں گا ، مو بمو تم کو جتادوں گا


تم آنا باغ میں کل رات کو میں سب بتادوں گا

(گانا )
سیر کر کے مرا گل رو جو چمن سے نکلا
مرحبا ، آفریں ہر گل کے دہن سے نکلا
ڈوب کر آدمی دریا سے ہزاروں نکلے
غرق ہو کر نہ کوئی چاہِ ذقن سے نکلا
جادو بھرے نیناں یہ جاناں سنبھال ۔ قتل کر دیں گے ، دیکھیں گے جدھر کو ، پیاری بے گناہوں کو کرو نہ حلال۔
راحیل :۔ خنجرِ ابرو سے دلبرنے دیے وہ چر کے، ہوئے دو ٹکڑے ہیں دل وجگر کے۔ آن بان تیری دل دار ، بار بار دلِ زار کو کرتی ہے پامال۔

(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
پہلا باب ساتواں سین
کامک
(چمپا کا گانا)
اٹھتی جوانی پہ جوبنا بھیو نثار۔ نیناں رسیلے متوارے پیارے مورے ، ابرو کٹاری، دودھاری کٹار، بالی عمریا، ترچھی نجریا،البیلے الگرجی*لاکھوں نثار، ناگن لہرائی انکھیاں کمار، سندر ہے، سوگھڑ ہے، سنگھار۔
چمپا: ۔میں کون ؟ چمپا اکیلی۔ باغِ ہاں میں مثل چمیلی ،آہ مرد کی آواز سے دل پر تیر لگتاہے، ہاتھ پاؤں میں تھکن، بدن میں سنسنی چھا جاتی ہے، ہائے کیا کروں؟
(پھول من کا آنا)
پھول من:کیوں کیوں میری جان! کیوں گھبراتی ہے؟ اجی دیکھو تو جانِ من!
چمپا:۔کون ؟ میرا پیارا پھول من؟ آؤ پیار ے۔ میں اس وقت تمھیں کو یاد کررہی تھی۔
پھول من:۔ مجھ کو نہیں، میری پیاری تو توفریاد کررہی تھی۔
چمپا:۔ ہائے پیارے،وہی اجڑا میرا خاوند گھسیٹا ، اس کا تھا رونا۔
پھول من:۔ اجی اس کے لیے بساؤ قبر کا کونا۔
چمپا:۔ہے !ہے! وہ موامرے بھی۔
پھول من:۔ پر اس کے مرنے کا کوئی فکر کرے بھی۔

الغرض :
چمپا:۔ میرا بس ہو توموئے کو زندہ دفن کر دوں۔
پھول من:۔ اور مجھے مل جائے تو بم کے گولے سے ختم کر دوں۔
چمپا:۔ پرکہیں مطلب نہ ہو جائے فوت،کہیں بچ نہ جائے وہ لعنتی۔
پھول من:۔ارے یہ تو ہے فیشن ایبل موت، جہنم تک تو پیچھا نہیں چھوڑتی
چمپا:۔ ہائے کمبخت نہ مرتا ہے نہ طلاق دے کر میرا پیچھا چھوڑتا ہے۔ ارے موا مروں کا تھیلا ، قدم شریف کا ڈیوٹ۔مُوا دُم کٹاپھاندی سانی کھاتے کھاتے اکتا گیا ہے، اس لیے اب پلاؤ پر ہاتھ مارنے چلا ہے۔
پھول من:۔ یعنی، یعنی؟
چمپا:۔ یعنی دقیانوسی ویرانے کا الّو اب جنٹلمین بنا ہے، کسی میم سے شادی رچانے پر تنا ہے ؂
دیا سلائی جو بیچتے تھے یا کہ سرکنڈا
ہوئے ہیں صاحبِ لشکر بنا کے اک جھنڈا
ہوائے باغِ جہاں سے ہو کیوں نہ دل ٹھنڈا
کہ مرغ ٹینی کا بچہ کٹکتے ہی انڈا
حضورِ بلبلِ بستاں کرے نو استجی
پھول من:۔اجی تو اس میں تمھارا کیا جاتا ہے،تم کڑک مرغی کی طرح ٹیٹیاکرادھر آجاؤ،اوریاروں کے پروں میں گٹھ جاؤ۔
چمپا:۔ اور کیا؟ یہی تو ہونا ہے آخر۔
(دونوں کا گانا)
چمپا:۔ چھبیلا سندردارومن پیارا۔موٹر بنادے پیارو، ہاں ہاں
پھول من:۔ ہاں، لاڈوپیاری تو ہے فیشن ایبل بوٹ۔
چمپا:۔ بالے جو بنا پہ ہوں بیوٹی فل، ہاں ہاں۔
پھول من:۔
کیا چاند سی تصویر ہے دل چھیننے والی
بد مست کیے دیتی ہے یہ آنکھوں کی لالی
اللہ رے نزاکت ،یہ نزاکت نہیں خالی
جس طرح لچکتی ہے کوئی پھولوں کی ڈالی
چمپا:۔بانکا سپہیا،ڈاروں گلے بہیاں ، چھبیلا مورے من بھایورے۔
پھول من:۔ بوسہ دے دسے جو بنوا کا دانی ، ماں
(گھسیٹا اور مسیتا کا آنا)
گھسیٹا:۔تیرا نام مسیتا اور میرانام گھسیٹا اب بتا۔
مسیتا:۔ ہائے ہائے اس نے نام سے نام بھی ملادیا پر خو ب ہے یاد آیا۔ ابے اوالّو اس نے مجھ سے شادی کا اقرار کیا ہے ۔مگر بندے خاں تو اس کے ساتھ چھوٹے بڑے نا چ بھی ناچا ہے۔
گھسیٹا:۔ اررررچھوٹا بڑا ناچ ! یہ ناچ واچ تو میں اس کے ساتھ کبھی نہیں ناچا۔ اسے کبھی آنکھوں سے بھی نہین دیکھا اور بے دیکھے اس کا عاشق ہو گیا، ارے پر دیکھ وہ کون آرہا ہے ؟
پھول من:۔ اِدھر سے چلیے بیگم صا حبہ اِدھرسے۔
روز:۔ مگر وہ ممبا والی گاڑی کب جاوے گی۔
پھول من:۔ کل تک ابھی کوئی گاڑی نہیں آوے گی۔
روز:۔افسوس تو کل صبح تک مجھے یہیں ٹھہرنا پڑے گا۔ اچھا میرے لیے کوئی کمرہ؟
پھول من:۔ آیئے ،آیئے ،اِدھر آیئے۔ یہ چھ نمبر کا کمرہ خالی ہے۔
روز:۔ کیا مصیبت ، کیا پریشانی ! اِدھر بیچ میں پڑے رہنے سے اتنی گرانی ! ہاں میں اپنے نام کا خط تو دریافت کرنا بھول گئی، کم بخت،میر ی ڈاک بھی تو نہیں آئے گی۔
مسٹروڈ:۔ چور،اچکے ، بدمعاش ۔
روز:۔ ارے شاید اور مسافر بھی آرہے ہیں ۔ اوہ ہو یہ تو مسٹر وڈ ہیں، بدمزا ج مسٹروڈاور میری سہیلی ایلس بھی، چلو اب تو خوب گزرے گی۔
مسٹروڈ:۔ تھکا دیا۔ سارے رستے بھونکتے بھونکتے دماغ اڑگیا، جاؤ جاؤ اندر جاؤ۔
مس روز:۔ مسٹر وڈ ، مسٹروڈ ، پھر وہی غصہ ،پھر وہی گھبراہٹ،
مسٹروڈ: کیا کہوں بیگم صاحبہ! اس نامراد سفر نے تو ہلاک کر دیا۔ سارا اسباب خاک کر دیا،ذرا میں اسے دیکھ آؤں تو حاضر ہوتا ہوں۔
ایلس:۔ ارے ارے روزی، میری روزی ،تم یہاں کہاں؟ ہم تو سمجھتے تھے کہ تم موسم بہار کے مزے لوٹ رہی ہوگی۔
روز:۔ خاک! وہاں بھی موئے بد نظروں نے چین نہ لینے دیا، جسے دیکھوعاشق، جسے دیکھوشیدائی، اس شہر کے لوگ مال دار بیوہ پر اس طرح گرتے ہیں جیسے اناج پر ٹڈیاں ، گڑ پرمکھیاں اور مردار پر موئی اوپروالیاں،اوئی تو بہ توبہ مجھے تو نفرت ہو گئی۔
ایلس:۔ ہاں ہاں روزی بہن، آج کل تم عاشقوں میں ایسی گھری ہو جیسے پروانوں کے جھرمٹ میں فانوس۔
روز:۔ وہ بالکل غیر مانوس ، پروانے غریب تو جا ن سے گزرجاتے ہیں، جل جل کر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ، مگر آج کل کے عاشق توپوچھنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔
ایلس:۔ مگر روزی بہن، یہ تمھارا خاوند کب کب...
روز:۔ چُپ چُپ! میں پھر کہوں گی سب۔ یہ ایک راز ہے راز۔
ایلس:۔ ہیں راز!بھلا راز ، مجھ سے بھی راز ! دیکھ تو میں کیسی خیر لیتی ہوں۔
(مسٹر وڈ کا آنا)
مسٹر وڈ :۔ مہربان بیگمو! یہ تو میں جانتا ہوں کہ اس وقت آپ کچھ ضروری باتوں میں مشغول ہیں مگر میرے لیے یہ بالکل فضول ہیں۔ مجھ کواس سفر کی کوفت نے بالکل اٹیرن کر دیا ہے،اب بندہ ایک منٹ بھی صبر نہیں کر سکتا۔ کیوں مس روز، آپ بھی ٹیبل پر شریک ہوں گی؟
ایلس:۔ ضرور، ضرور
مسٹروڈ:۔ اچھا تو ضرور۔ ارے کوئی ہے یا سب مرگئے؟
پھول من:۔ حاضر حضور۔
مسٹروڈ:۔ حاضر کا بچہ! جلدی جا تین آدمیوں کاکھانا ٹیبل پر لگا۔
پھول من:۔ ابھی ابھی لگایا، چلیے، اس کمرے میں تشریف لے چلیے۔
مسٹروڈ:۔ مگر سن ، بالکل گرم کھانا چاہیے ،جیسا ہومگر آگ کا پکا ہوا نہ ہو، نہیں تو میں تیرا بھیجا پلپلا کر دوں گا۔
پھول من:۔ ارے باپ رے۔
مسٹروڈ :۔ بالکل بد انتظامی،بالکل بے ایمانی، ٹیبل پر نمک دانی تک نہیں، بدمعاش ہوٹل والے مسافروں کوکیسا دق کرتے ہیں۔ او بوائے ، بوائے کہاں مرگیا؟ بوائے ۔
ایلس:۔ آتا ہوگا، آجائے گا ذرا صبر بھی کیا کرو۔
مسٹر وڈ :۔ ٹھہروجی، تم چپ رہو، میں بلاؤں گا اور زور سے بلاؤں گا۔ان بدمعاشوں کو تہذیب کا سبق پڑھاؤں گا ، ارے چلو کوئی ہے۔
گھسیٹا:۔ باپ رے یہ تو وحشی غل مچار ہا ہے۔
مسیتا:۔اررررمجھے تو بہشت کا مزا آرہا ہے ، مل گیا میری محنت کا بدل مل گیا۔
گھسیٹا:۔ کہاں کہاں؟ابے کیا مل گیا؟
مسیتا:۔ ابے وہ میری آنکھوں سے دیکھ ذرا۔
گھسیٹا:۔ ابے وہ کون ؟
مسیتا:۔ وہی میری پیاری بیوہ۔
گھسیٹا:۔ ہیں کیا بیوہ؟ وہی ہماری بیوہ۔
مسیتا:۔ ہاں ہاں وہی وہی، قسم ہے اڑان چیلے کی ، میں بھلا اس عورت کوبھول سکتاہوں جس کے ساتھ برسوں چھوٹے بڑے ناچ بھی ناچا ہوں، مگر یارگھسیٹا!
گھسیٹا:۔ ہاں بھائی مسیتا۔
مسیتا:۔ میر ی طرف دیکھتے ہی اس نے منہ پھیر لیا، شاید پہچانا نہیں، اچھا ذرا میں اسے جتاتا ہوں۔
گھسیٹا:۔ تو مجھے بھی جتانا چاہیے۔
مسیتا:۔ ابے تو پیچھے ہٹ،اُلّو تیرا حق کیا ہے؟
گھسیٹا:۔ ابے واہ تو نے کون سا ڈپلوما حاصل کیا ہے۔
مسیتا:۔ابے گدھے کی دم تو تو اسے جانتا بھی نہیں،کبھی دیکھا ہے؟
گھسیٹا:۔ ابے دیکھا نہیں تو کیا ہوا ۔ اب تو وہ جتنی تیر ی ہے اتنی میری ہے۔
مسٹروڈ :۔ او ہو بیگم! یہ کون الّو ہوں گے بھلا؟
ایلس:۔ (سائڈ میں) ہے ہے برا ہوا (زور سے ) جی میں انھیں کیا جانوں بھلا؟
مسٹروڈ:(سائڈ میں )ضرور کوئی بھید ہے، یہ عورت چھپتی کیوں ہے۔(زور سے) ابے کیوں اُلّوؤ! تم کیوں ادھر بڑھے چلے آرہے ہو، کس کو بلاتے ہو؟
مسیتا:۔ ام ام، جناب آپ کو دیکھتے ہیں۔
گھسیٹا:۔ جناب دیکھتے ہیں آپ؟ ام ام ام۔
مسٹر وڈ:۔ ابے بکرا بکری کے موافق مم مم کرتے ہو۔
مسیتا:۔ ہائے ہائے کمر پر چوٹ کھائی۔
گھسیٹا:۔ باپ رے پھر وہی شامت آئی پھر وہی ٹکر ، ٹکر نمبر پانچ۔
مسیتا:۔ ہائے ہائے مفت کی جو تاکاری ، مفت کی ٹکڑا ٹکڑی، ابے تو آدمی ہے یا عین غین؟
گھسیٹا:۔ خبردار! ابے ہم ہیں ایک فسٹ کلاس جنٹلمین۔
مسیتا:۔ ابے یہ منہ اورگرم مسالا، ابے تو توہے گھاس بیچنے والا ۔اچھا اگر تو جنٹلمین ہے تو مجھ سے ڈویل* ہے لڑ
(گھسیٹا کا گانا)
لگے گھونسا او مسیتا ، ماروں تجھ کو ایسا پھٹ جائے بھیجا ، ابے جاجا بچہ،کھا جاؤں کا کچا ، پھٹ جائے گا بھیجا۔
(مسیتا کا گانا)
آج اس طرح سے تجھ کو میں ٹھنڈا کروں شادی بیوہ سے کر، تجھ کو مُر نڈ ا کر و ں ، بھر کے بجلی سے تیری خاک کو ٹھنڈا کروں، ایسا بائل کروں، ابلا ہوا انڈاکروں۔

(سین ختم )


DUEL * ۔ دو آدمیوں کی فیصلہ کن لڑائی ۔
 

الف عین

لائبریرین
پہلا باب آٹھواں سین
باغیچہ
(مارکس کا گاتے ہوئے آنا)
ضرورت کیا انھیں تیغ وتبر کی

ادا کافی ہے اِک ترچھی نظر کی
وہ کیا جانیں کسے کہتے ہیں الفت

خبر کیا ہے انھیں دردِ جگر کی
تجھے معلوم ہے کچھ او ستم گر

شبِ غم کس طرح ہم نے بسر کی
چلے جاتے ہو مڑ کر دیکھ جاؤ

قسم ہے آپ کو ترچھی نظر کی
لگا کر دل کسی سے ہائے ہم نے

مصیبت مول لے لی عمر بھر کی
راحیل :۔ پیارے منشیہ قسم کھاؤ اور صاف صاف بتاؤ کہ تمھارا خیال بد ہے یا نیک ہے ، کیا تمھارا دل اور زبان ایک ہے ۔
تم نظر آتے ہو اکثر مجھ کو گھبرائے ہوئے
فکر کے بادل ہیں تم پر اس قدر چھائے ہوئے
مارکس :۔ پیاری !میں نے بھی تمھیں اسی لیے یہاں آنے کی تکلیف دی ہے کہ تمھاری آنکھوں پر میں نے جو طلسمی پردہ ڈا ل رکھا ہے اسے اتار کر صاف اور کھلے لفظوں میں اپنی حقیقت آشکار کر دوں ۔

مرے ہونٹوں پہ شہد اور زہرِ قاتل تھا چھپا دل میں


بنو لہ روئی میں ہو جس طرح یوں تھی دغا دل میں


حقیقت کو نہ ظاہر آج تک ہونے دیا میں نے


مری جاں معاف کرنا تم کہ ہے تم کو ٹھگا میں نے

راحیل:۔ او خدا کیا تم نے مجھے ٹھگا، دھوکا دیا ،بُتّاد یا ، مجھے دامِ محبت میں پھنسایا؟
مارکس:۔ ہاں پیاری!حقیقت یہ ہے کہ میں ابھی تک عشق کے اسٹیج پر یہودی کا لباس پہن کر ایک دھوکے باز عاشق کا پارٹ ادا کررہا تھا ورنہ ۔ ؂
میرا گماں الگ ہے میرا یقیں الگ
ہے تیرا دیں الگ اور میرا دیں الگ
راحیل:۔تو کیا تم ہمارے ہم مذہب نہیں ہو؟
مارکس:۔ نہیں ، میں تمھارے دشمنوں کی ڈالی ہوئی بنیاد ہوں ، رومن خون اور رومن باپ کی اولاد ہوں۔
راحیل:۔ تم یہودی نہیں ہو؟
مارکس:۔نہیں۔
راحیل:۔ پھر تمھیں یہودی بننے کو کس نے کہا؟
مارکس:۔ تمھاری دل فریب صورت نے ۔ اس موہنی مورت نے۔
راحیل:۔ تمھیں ایک یہودی لڑکی سے محبت کرنے کی جرأت کس نے دلائی؟
مارکس :۔ تمھاری محبت نے ۔
راحیل:۔ اُف نور میں نار، شربت میں کفِ مار ، زہریلا سانپ اور گلے کا ہار۔ ؂
کیوں الجھتا اپنا دامن گرنہ پھنستی بھول میں
مجھ کو کیا معلوم تھا کانٹا چھپا ہے پھول میں
میری بربادی کا آخر کچھ سبب بتلا مجھے
کیا خطا تھی میری تونے کیوں دیا دھوکا مجھے
مارکس:۔ دھوکا نہیں پیاری راحیل ! دھوکا تو اس وقت تھا جب میں تمھارے خوبصورت ہونے سے انکار کرتا یا تمھیں چھوڑ کر کسی اور کو پیار کرتا یا تمھارے صاف صاف پوچھنے پر بھی اپنی حقیقت سے نہ خبر دار کرتا ۔ ؂

یہودی ہوں کہ رومن ہوں ،میں نوری ہوں کہ ناری ہوں


کوئی ہوں ، کچھ بھی ہوں ، پر تیری صورت کا پجاری ہوں

راحیل:۔ مگر اب تم اس صورت کی طرف دیکھنے کا کوئی حق نہیں رکھتے ۔ مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔
مارکس :۔ کیوں؟
راحیل:۔ کیوں کہ اس چہرے کو دیکھنے کے لیے وہی آنکھ چاہیے جو بت پرست اورکفرکی چمک دمک سے نفور ہو۔جس میں یہودی مذہب اور یہودی یقین کا نور ہو ۔
مارکس :۔ تو کیا تم رومن ہونے کی وجہ سے اپنا دل مجھ سے پھیر لینا چاہتی ہو ؟
راحیل:۔ کاش یہ ممکن ہوتا ! ظالم ! نہیں اب تجھ سے اپنا دل واپس نہیں لے سکتی جس طرح پروانہ شمع پر جلنے کے لیے ، پتنگ جس طرف کی ہوا ہو اس طرف اڑنے کے لیے، پانی نشیب کی طرف بڑھنے کے لیے ، مجبور و ناچار ہے اسی طرح میرا دل بھی تیری محبت میں بے اختیار ہے ۔
مارکس:۔ تو کیا میں امید رکھوں کہ یہ ہاتھ ہمیشہ کے لیے میرے ہاتھ میں دے دو گی؟
راحیل:۔نہیں۔
مارکس:۔ کیوں آخر کس وجہ سے انکار ہے، کس لیے جی بے زار ہے؟
راحیل:۔ دل پر میرا قبضہ ہے لیکن ہاتھ پر میرے باپ کا اختیار ہے ۔
مارکس:۔ مگر تمھارا باپ تو متعصب یہودی ہے ، کیوں کر اپنی لڑکی کا ہاتھ ایک رومن کے ہاتھ میں دینے کو تیار ہوگا ۔ ایسی محبت اور ایسی شادی کا کیسے روادار ہوگا؟
راحیل:۔ پھر میں کیا کر سکتی ہوں؟
مارکس:۔ پیاری راحیل تم چاہو تو سب کچھ ہو سکتا ہے ۔ میری جان کے لیے اپنے باپ کو چھوڑ کر میرے ساتھ نکل چلو ، ہم دوسرے شہر میں پہنچ کر نکاح پڑھالیں گے اور واپس آجائیں گے ۔ ؂
مریضِ درد کی اس طرح عید ہو جائے
تمام عمر کو راحت نصیب ہو جائے
راحیل:۔ (سائڈ میں) اُوخدا یہ تو اپنے ساتھ بھاگنے کو کہتا ہے ۔
مارکس:۔ پیاری راحیل ، کہو کس سوچ میں پڑگئیں ؟ ؂
تمھیں ہو رازِ دل اپنا ، تمھیں ہو بس خوشی اپنی
تمھاری ایک ہاں پر منحصر ہے زندگی اپنی
امیدیں جی اٹھیں وہ لفظ منہ سے میری جاں کہہ دو
میں صدقے پیارے ہونٹوں کے ،لبِ نازک سے ہاں کہہ دو
راحیل:۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ؂
اس زندگی پہ داغ لگایا نہ جائے گا
مجھ سے پدر کا نام ہنسایا نہ جائے گا
مارکس:۔ اگر تمھارا انکار ہے تو میرا اس دنیا میں جینا بیکار ہے ۔
خوشی میری ، مری راحت فقط تیری نہیں تک تھی
سمجھ لینا کہ میری زندگی بھی بس یہیں تک تھی
سوائے موت کوئی غم کا چارہ کار نہیں
عبث یہ گلشنِ ہستی ہے جب بہار نہیں
راحیل:۔ ٹھہر و ٹھہرو ، پیارے ٹھہرو، مجھے سوچنے دو ۔
مارکس:۔ بس ، ہاں یا نہیں ، ایک لفظ۔
راحیل:۔ تھوڑی دیر غور کرنے کے لیے ، تھوڑی دیر ۔
مارکس:۔ ایک منٹ نہیں ۔
راحیل:۔ منشیہ! منشیہ!
مارکس:۔ بس پیاری راحیل کہو کہ مجھے منظور ہے ۔
راحیل :۔ لے چل خوبصورت جادو گر لے چل۔ راحیل اس دل سے مجبور ہے ۔ ؂

تیری ہوں ترے ساتھ ہوں دیتی ہوں زباں میں


اب سائے کے مانند جہاں تو ہے ، وہاں میں

مارکس:۔ اب باپ کو خبر ہونے سے پہلے یہاں سے نکل چلو ؂
جیسے یہ جسم وروح اس طرح ساتھ دو
لو آؤ ، اب چلو ، میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو
(عزرا کا آنا)
عزرا:۔خبردار! ٹھہرو! کہاں جاتے ہو ؟ کہاں بھاگ کر منہ چھپانا چاہتے ہو ؟ ؂
نکل جانے کی یہ حسرت بڑی مشکل سے نکلے گی
کلیجہ توڑ دے گی بد دعا جو منہ سے نکلے گی
تمھاری آرزو دنیا سے خالی ہاتھ جائے گی
جہاں جاؤگے میری بد دعا بھی ساتھ جائے گی
راحیل :۔ رحم ، رحم ، اچھے ا بّا ، ہم گنہگاروں پر رحم!
عزرا:۔ رحم ! تجھ جیسی نافرمان ، نا ہنجار پر ، رحم ! اس جیسے بدکردار پر ! کیوں اس دن کے لیے میں نے تجھے آنکھوں میں رکھ کر پالا تھا ۔ اس برے نتیجے کے لیے اپنی جا ن کی طرح سنبھالاتھا ،کیوں؟ اُو رومن قوم کے ذلیل کتےّ! جس نے محبت سے تیری پیٹھ کو تھپتھپایا ، جس نے شریف اور وفادار سمجھ کر تجھے اپنی گود میں بٹھایا ، اس محسن پر موقع پاکر حملہ کرنے کو آمادہ ہوا ۔ جس نے تجھے راحت دی اور عزت دی اس کے آرام کو دن رات مٹانے کا ارادہ ہوا ۔ ؂
قہر خدا سے گڑ نہ گیا تو زمین میں
کیا بے وفائی جرم نہ تھی تیرے دین میں
وہ بات کی ، نہ تھی جو گمان ویقین میں
اک سانپ گویا پالا تھا اس آستین میں
کیا جانتا تھا میں کہ اک آفت ہے قہر ہے
آبِ بقا میں سمجھا تھا جس کو وہ زہر ہے
مارکس:۔ بزرگ عزرا !بے شک میں نے قصور کیا اور ضرور کیا ۔ مگر یہ میری دانستہ خطا نہ تھی بلکہ اس صورت اور اس دل نے مجھے مجبور کیا ؂
بڑھو آگے ، چھری لو اور سینہ چاک کر ڈالو
خطا اس دل کی ہے اس دل کو پھونکو خاک کر ڈالو
راحیل:۔نہیں ، پیارے ابّا نہیں ۔ ؂
اس کی نہ کچھ خطا ہے نہ دل کا قصور ہے
میں اس کو چاہتی ہوں یہ میرا قصور ہے
اِس زندگی کی یو نہیں کسی طرح شام ہو
پھیرو چھری گلے پہ کہ قصہ تمام ہو
عزرا:۔ بدبخت لڑکی ! غیر قوم اور غیر مذہب کی چاہ چھری ہوتی ہے ۔
راحیل:۔ سچ ہے ۔ لیکن دل کی لگی بُری ہوتی ہے ، اس سے انسان مجبور ہوتا ہے ، جو کام نہیں کرتا وہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ؂
جو کہ شیروں کو بھی ٹھوکر سے گرا دیتے ہیں
وہ بھی بے درد محبت کو دعا دیتے ہیں
زور چلتا ہی نہیں عشق کے دربار میں کچھ
یہ وہ چوکھٹ ہے کہ سب سر کو جھکا دیتے ہیں
عزرا:۔ افسوس ، میں نے کیا سوچ رکھا تھا اوریہاں کیا روبکار ہے۔ سچ ہے جس طرح دریا کے سامنے ایک تنکا بے بس ہے اسی طرح تقدیر کے آگے تدبیر نا چار ہے ۔ ؂
مجھ کو ہے خیال اور، انھیں مدِّ نظر اور
ارمان طبیعت میں اِدھر اور اُدھر اور
راحیل:۔ پیار ے ا بّا ، بے شک ہم دونوں محبت کرنے کے مجرم ہیں ، مگر اب تک ہمار ا جرم گناہوں سے پاک صاف ہے اس لیے ہم سے نفرت کرنا انصاف کے خلاف ہے ۔
مارکس:۔
ہے پاک گناہوں سے ہماری یہ خطا بھی


غارت ہوں اگر ہم کو بدی نے ہو چھوا بھی


ہم چشمۂ الفت میں ہیں مانند کنول کے


جو پانی کے اندر ہے پانی سے جدا بھی

عزرا:۔ اچھا تم محبت کرنے کے سوائے اور ہر طرح بے قصور ہو ؟ چاند کی طرح اس زمین کی برائیوں سے دور ہو ؟
مارکس :۔ ہاں بزرگ عزرا ایسا ہی ہے ۔ ؂
پرواز کی طاقت تھی مگر پر نہیں نکلے
اخلاق کے قانون سے باہر نہیں نکلے
یہ قلب وجگر پاک ہیں ، یہ دیدۂ تر پاک
اللہ ہے شاہد کہ ہے دل پاک ، نظر پاک
عزرا:۔ منشیہ ! راحیل میں کون سی خوبی نظر آئی جو تم اس کے قدر دان ہو ؟
مارکس:۔ صورت ! اور صورت سے زیادہ اس کی سیرت ۔
عزرا:۔ تو کیا تم اس کو چاہو گے؟
مارکس:۔ اپنی جان کی طرح۔
عزرا:۔ اس کو عزیز رکھو گے ؟
مارکس:۔ اپنی عزت اور شان کی طرح۔
عزرا:۔ اس کی حفاظت کرو گے؟
مارکس:۔ اپنے دین وایمان کی طرح۔
عزرا:۔ اچھا تو میں اپنے پچھلے الفاظ واپس لیتا ہوں اور خوشی سے اس کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں دیتا ہوں ۔ بڑھو او ر دو زانو ہو ۔
مارکس:۔ کیا آپ مجھ سے کوئی مزید اقرار کرانا چاہتے ہیں ؟
عزرا:۔ ہاں، ایک رومن کی بغیر مذہب بدلے ایک یہودی سے کبھی شادی نہیں ہو سکتی اس لیے میں پہلے تمھیں اپنے دین کا کلمہ پڑھاکر اپنے مذہب میں لاؤں گا ۔ پھر اپنی شریعت کے مطابق اس کے ساتھ تمھارا نکاح پڑھاؤں گا۔ تمھیں منظور ہے ؟
مارکس:۔ تو کیا محبت کرنے کا جرمانہ مجھے مذہب سے ادا کرنا ہوگا؟
عزرا:۔ ہاں اگر تم اس ہاتھ کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کی قیمت فقط تمھارا دین ہے ۔
راحیل :۔ پیارے مارکس ؂

سوچ میں کیوں پڑگئے آخر ہو کوئی بات بھی


ہاں کہو مل جائیں تاکہ دل کی صورت ہات بھی


مارکس:۔
کس کو چاہوں ، کس کو چھوڑوں ، کس غضب میں جان ہے


اک طرف یہ حور ہے اور اک طرف ایمان ہے

عزرا:۔ جواب دو کیا خیال ہے ؟
مارکس:۔ میں راحیل کو چھوڑ سکتا ہوں مگر مذہب چھوڑنا محال ہے ۔
عزرا :۔ تو پھر نہیں؟
مارکس:۔ کبھی نہیں ۔
عزرا:۔ تو انکار؟
مارکس :۔ ناچار۔
عزرا :۔ دوری ؟
مارکس:۔ مجبوری ؂
ساری دنیا سے زیادہ یہ شکر لب مجھ کو
اور اس سے بھی زیادہ مرا مذہب مجھ کو
ایسی شے سہل سے انسان نہیں دے سکتا
جان دے سکتا ہے ایمان نہیں دے سکتا
عزرا:۔ تب کیا رومن کتّے ، تو ہمارے گھر میں گناہوں کی بدبو پھیلا کر ، فسق وفجور کا جال بچھاکر ایک بھولی بھالی دوشیزہ کو حرام کاری کے راستے پر لگانے آیا تھا۔ ؂
رسائی پیدا کی میرے گھر میں عزیز، ہمدرد ویار بن کر
مگر یہ ٹھا نے ہوا تھا دل میں کہ باغ اجاڑے بہاربن کر
دغا اور اس سے دغا ،بھروسا کیا تھا جس نے مدام تجھ پر
زمیں سے نفرت ، فلک سے لعنت پڑے گی ہر صبح و شام تجھ پر
راحیل:۔ پیارے ؂
میرے پیارے کیا ہوا یہ اور تمھیں کیا ہو گیا
با وفا دل آج کیوں بے درد ایسا ہو گیا
جان کی، دل کی لگی کی، قدر اب بھی جان لو
یہ نہ کہنے کو میں رہ جاؤں کہ دھوکا ہو گیا
مارکس:۔ راحیل ! میرے چاروں طرف تاریکی چھاگئی ، میں جاتا ہوں۔
عزرا:۔مگر یہ سن کر جاؤ کہ جس واحد بر تر خدا کو گواہ کرکے تم نے اس بھولی لڑکی کو دھوکا دیا ہے ، جس قہار کے پُر جلال نام کی قسمیں کھا کھا کر تم نے اُسے ٹھگا ہے وہ وحدت اور جلال والا خدا بغیر سزا دیے تمھیں کبھی اس دنیا میں نہ چھوڑے گا ۔ جس بے دردی سے اس غریب کا دل توڑا ہے اسی طرح وہ تمھارے غرور کو توڑے گا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اس کا قہر عاجل تم پر نازل ہو ۔ جاؤ جہنم واصل ہو ؂

خدا ہی اب اس کا لے گا بدلہ جو دکھ دیا تو نے دل جلے کو


اسی کے ہاتھوں میں سونپتا ہوں میں اپنے تیرے معاملے کو


(ڈراپ سین)
 

الف عین

لائبریرین
دوسرا با ب پہلاسین
باغیچہ
ڈیسیا:۔ پیارے مارکس انسان کی فطرت ہی بھول ہے ، جو کچھ ہوا سو ہوا، اب گزشتہ باتوں کا زبان پر لانا فضول ہے ؂
شکر ہے اس کا کہ جینے کا سہارا ہو گیا
غیر کا جو ہو چکا تھا پھر ہمارا ہو گیا
مارکس:۔ تو تم میری بے پروائی کا گناہ معاف کرتی ہو؟
ڈیسیا:۔ میری جان مارکس ، میں تمھاری کنیز ہوں اور کنیز پر آقا کو ہر طرح کا اختیار ہوتا ہے ؂
قبضہ ہے دل پہ جان پہ عقل وتمیز پر
آقا کو اختیار ہے اپنی کنیز پر
جانان نیناں لاگے ہیں۔ کھٹن ملور ہے موہن ہم سنگ ۔ جاناں ۔ ۔ ۔ جیا میں بَسَت توری رے پیاری صو رتیا ، دکھ میں جان پڑی ہے ، آن مانو رے جان ہمری بات ، جاناں نیناں ... سگری رین موری گزری تڑپ تڑپ ، نیاری توری شان ، پیاری پیاری توری آن مانوجی مانو جی دل جاناں ، دل جاناں نیناں ...
مارکس:۔ (سائڈ میں) اوفریبی، اُو دغا باز رومن! تو کس قدر ذلیل ہے کتنا جھوٹا ہے ، تیرے ہونٹ جھوٹے لفظوں سے ڈیسیا کے ساتھ محبت کا اقرار کررہے ہیں اور تیرا دل وجگر دونوں ابھی تک راحیل کو پیار کر رہے ہیں۔ ؂

بس اب بھی باز آ وہ کام کیوں بے دین کرتا ہے


کہ جس پر خود ترا دل تجھ کو سو نفرین کرتا ہے

(راحیل آتی ہے)
مارکس :۔( سائڈ میں) کیوں، راحیل یہاں کس لیے آئی ہے؟
راحیل :۔ منشیہ ٹھہرو ؂
جاتے کہاں ہو مجھ کو ٹھکانے لگا کے جاؤ
مارا ہے جس کو اس کا جنازہ اٹھاکے جاؤ
مارکس:۔ راحیل ! تم یہاں کہاں؟
راحیل:۔ اپنے صیاد کے پاس ۔ قتل کرکے بھول جانے والے جلاّد کے پاس ۔
وہ ولولے وہ جوش وہ سب پیار کیا ہوا
او بے وفا بتا ترا اقرار کیا ہوا
مارکس:۔ راحیل ہم دونوں محبت کے نشے میں سرشار ہوکر امیدوں سے بھرا ہوا ایک دلچسپ خواب دیکھ رہے تھے ، اب اس خواب کی باتوں پر اعتبار کرکے ہوا پر مستقبل کا قلعہ بنانا بے کار ہے کیونکہ تقدیر کے آگے تدبیر ناچار ہے ؂
دخل کب تدبیر کو تقدیرِانسانی میں ہے
پیش آتی ہے وہی جو کچھ کہ پیشانی میں ہے
راحیل :۔ اگر یہی کرنا تھا، آگے بڑھ کر دھوکا ہی دینا تھا توایک بھولی بھالی سیدھی سادی لڑکی کو جو اپنے باپ سے محبت کرنے کے سوا اور کسی کی محبت سے واقف ہی نہ تھی ، ایک معصوم بچے کی طرح جوان ہو کر بھی ان زہریلی باتوں سے خبردار نہ تھی، اس کے سامنے دوزانو بیٹھ کر ، آنسو بہاکر ، گڑ گڑا کر کیوں محبت کا یقین دلایا؟ کیوں اس کی زندگی کے آبِ حیات میں جھوٹی محبت کے اظہار سے زہر ملایا ؟ ؂
تمھیں ہو پھونک ڈالا ساتھ دل کے جان وتن جس نے
بگاڑا ہے یہ گھر جس نے ، اُجاڑا یہ چمن جس نے
تم اپنا ظلم آکر اس دلِ رنجور سے دیکھو
ہمارا گھر جلے اور تم تماشا دور سے دیکھو
مارکس:۔ راحیل، جب تک ستار کے تار آپس میں ملے رہتے ہیں تب ہی تک اس سے دل بہلانے والا سریلا نغمہ پیدا ہوتا ہے مگر تمھارے باپ کی ضد نے ٹھوکر مارکر اس محبت کے ساز کا تار تارالگ الگ کر دیا ، اب اس ٹوٹے ہوئے ساز سے دوبارہ محبت کا زمزمہ پیدا ہونا محال ہے ۔ پہلے میرا کچھ اور خیال تھا اب کچھ اور خیال ہے ۔ ؂
اب نہ وہ بات رہی اور نہ وہ جوش مجھے
تم بھی اب کر دو مری طرح فراموش مجھے
راحیل:۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا ، جس طرح ایک خدا پرست کی طبیعت دو خداؤں کے سامنے اطاعت کا اظہار نہیں کر سکتی اس طرح ایک شریف اور پاکباز لڑکی ایک کو چھوڑکر دوسرے کو پیار نہیں کر سکتی ؂
عمر بھر کو تجھ پہ صدقے جان میری ہو چکی
تو نہ ہو میرا مگر میں دل سے تیری ہوچکی
مارکس:۔ (سائڈ میں) اب مجھے راز کے چہرے سے ضرور پردہ ہٹانا ہوگا ۔ (زور سے) راحیل ! تم اب تک مجھے کیا سمجھتی رہی ہو ؟
راحیل:۔ ایک شریف یہودی۔
مارکس:۔ اور اب کیا سمجھتی ہو ؟
راحیل:۔ ایک وفادار رومن۔
مارکس:۔ مگر میں نہ وہ تھا اور نہ یہ ہوں۔
راحیل:۔ پھر؟
مارکس:۔ پھر ؟ میں سلطنت روم کا ولی عہد اور ہونے والا شہر یار ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنی ہم مذہب اور ہم قوم کے ساتھ شادی کرنے کے لیے لا چار ہوں۔
راحیل:۔ تم ولی عہد ؟ ہونے والے بادشاہ ہو ؟
مارکس:۔ ہاں ،اب اس قصے کو طول دینا سرا سر نادانی ہے کیوں کہ میری شادی ہونے والی ہے اور کل کا دن مقدر کے فیصلے کی طرح اٹل ہے ۔
راحیل:۔ تو مقدر کا یہ فیصلہ ہے کہ یہ شادی ہرگز نہ ہو ۔
مارکس:۔ ضرور ہوگی۔
راحیل:۔کبھی نہ ہوگی۔
مارکس:۔ کل ہی ہو جائے گی امید برآئے گی۔
راحیل:۔ قیامت تک نہ ہوگی۔
مارکس:۔ میں جو کہتا ہوں ۔
راحیل:۔ میں بھی جو کہتی ہوں۔
مارکس:۔ اس شادی کو کون روک سکتا ہے ؟
راحیل:۔ میں ، میں ! عزرا یہودی کی لڑکی راحیل۔
مارکس:۔ تو !تو ؟
راحیل:۔ ہاں ، ہاں ، میں ، میں ! اور میرے ساتھ روم کار واج ، روم کا قانون ، روم کا بادشاہ۔ میں ان سب کو مجبور کر دوں گی کہ دغاباز کی امیدوں کو خاک میں ملادیا جائے، اس بد انجام شادی کے گھر وندے کو پیر کی ٹھوکروں سے ڈھادیا جائے ۔ ؂
بے آس میں رہی تو رہے نا مراد تو
نا شاد مجھ کو کر کے رہے گا نہ شاد تو
اس بے کس وغریب کو دکھ دے کے بے وفا
پھل پائے گا نہ دہر میں رکھ خوب یاد تو
مارکس:۔ یہ ناممکن ہے ۔
راحیل:۔ اگر یہ نا ممکن ہوا تو میں سمجھوں گی کہ ظالموں اور نوجوانوں کے لیے میدان صاف ہے ۔ روم میں نہ کوئی قانون ہے نہ انصاف ہے ۔ ؂
باطن میں بزدلے ہیں بظاہر دلیر ہیں
یہ دُور سے ڈرانے کو مٹی کے شیر ہیں
مارکس:۔ چپ!
راحیل:۔ آہ !
(گانا)
یہ کن بے وفاؤں کے پالے پڑے ہیں
کہ فرقت میں جینے کے لالے پڑے ہیں
یہ ظالم نگاہوں کی بے داد دیکھو
کہ چتون کے سینے پہ بھالے پڑے ہیں
دل لگانا تھا دل لگی دل کی
اب رلانے لگی ، ہنسی دل کی
شمع رو دیکھ حالِ پروانہ
برُی ہوتی ہے یہ لگی دل کی
محبت نے کچھ آگ ایسی لگائی
کہ جل جل کے سینے میں چھالے پڑے ہیں
یہ کن بے وفاؤں کے پالے پڑے ہیں

(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
دوسرا باب دوسراسین
کامک
مکان
(چمپا کا گانا)
سویرے سویرے ساون بدریا ، سونی رے سجریا موری، ایسے گئے پیروا گھر سے۔ چین نہیں اُن بن مو ہے آوے۔ جیا مورا اُن بن گھبراوے۔کاگاپیاکی خبریالاوے۔
رتیاں موری بیتی جاویں،سیّاں بنا میں تو بھئی ہوں باوریا، رتیاں کٹت گن گن تارے،آگ برہاکی دیہ جلاوے ، نین سے خون برسے ، سویرے...
ہائے اللہ ، یہ جوانی جاڑوں کی چاندنی کی طرح گزری جاتی ہے، آہ یہ اٹھتے جوبن کمسن بیوہ کے ابھار کی طرح خاک میں ملے جاتے ہیں ۔سینے میں تکان، دل میں دردہاتھ پاؤں میں سنسنی آتی ہے، اُف مری جان نکلی جاتی ہے۔
(پھول من کا آنا)
پھول من:۔ کیوں پیاری، کیا بڑبڑارہی ہو بھوکی شیرنی کی طرح گڑگڑا رہی ہو، کیا کیا کلام منہ سے نکل رہا ہے،پیشانی پہ بل پڑرہا ہے۔
چمپا:۔ اجی وہی رونا موئے خاوند کا ۔اب تم کیا چاہتے ہو؟
پھول من:۔ میں چاہتا ہوں کہ چمپا میر ی عورت بن جائے، باغ امید کا میرا گلِ اُلفت بن جائے ؂
پھر یہ ہے خوف کہ نائی کے ٹھنے گردل میں
اور پھراسترا مقراضِ کدورت بن جائے
کاٹ چھانٹ اس کی کرے بال برابر نہ کمی
تم الگ ہو رہو اور میری حجامت بن جائے
چمپا:۔ ارے دیکھو ، دیکھو سامنے کون آرہا ہے؟
پھول من:۔ ہیں وہ توجگادری بندراچھلتا کودتا آرہا ہے۔ بیٹا پھول من اب خیر نہیں، خوب مرمت ہو جائے گی ، بغیر اوزار کے حجامت ہو جائے گی۔
چمپا:۔ ارے ٹھہر ٹھہر کیوں گھبراتا ہے(روئی کی بوری میں پھول من کو بند کرنا)
گھسیٹا:۔ اومائی گاڈ! یہ راستے میں کیا کچھوا پڑا ہے، ہمارا گیٹ ٹوٹ گیا، اٹھاؤ اس کو جلدی اٹھاؤ۔
چمپا:۔ میاں ہماری پڑوسن جمالو کے میاں نے کہا ہے کہ جب بابو صاحب آئیں تو ان سے کہنا ذراممبا پارسل کر دیں۔
گھسیٹا:۔ پارسل پرائیوٹ ہاؤس میں ہوتا ہے، پرائیوٹ ہاؤس میں۔ میں کیا اس کے باوا کا نوکر ہوں؟
چمپا:۔ میا ں کیا ہوا ذرا اٹھا کر لے جاؤ۔
گھسیٹا:۔ میں کوئی قلی ہوں۔
چمپا:۔ میا ں انھوں نے چار پیسے بھی تمھارے سگریٹ کو دیے ہیں اور کہا ہے کہ بابو صاحب سے کہہ دینا کہ اسے پارسل کر دو۔
گھسیٹا:۔ ہم پوسٹ ماسٹر ہیں یا قلی؟ لے جاؤ ، ہٹاؤ، ہم نہیں لے جائے گا ، تم لے جاؤ۔
چمپا:۔ اچھا تو میں لے جاتی ہوں اور اپنے پیارے کو بچاتی ہوں، میاں تم بولتے کیوں نہیں ؟
(گانا)
پیارے میرے جوبن کی دیکھوبہار
کاہے غیروں سے رکھتے ہو پیار
گھسیٹا:۔ تیری صورت سے ہوں بیزار۔
نہیں پیار ،مجھے نفرت ہے اودیسی انار۔
چمپا:۔ کا ہے روٹھے ہو شام ، نہیں دل کو آرام ، کروں کیوں نہ کہرام ،تیری فرقت میں یار۔
گھسیٹا:۔ ملے وسکی کا جام، تب ہو دل کو آرام ۔ ملے روزی گلفام ، بنوں بیوہ کایار ۔
چمپا:۔ میاں،اچھے میاں،منہ سے بولو۔
گھسیٹا:۔ نہیں بولتے تیرے باپ کاکچھ دینا آتا ہے؟
چمپا:۔ میاں کیوں جھوٹ بولتے ہو؟ میرے باپ نے تو تمھیں کھلا کھلا کرگدھے کی طرح پھلا دیا ہے۔
گھسیٹا:۔ اور اس کتیا کو میرے پیچھے لگا دیا ہے۔
چمپا:۔ ذرا اپنی کھال میں رہو حجام۔
گھسیٹا:۔ میں حجّام؟ میں حجّام ؟ صاحب بہادر حجّام؟ چل چل وہ کوئی اور ہوگا۔
چمپا:۔ موئے بے شرم، تیرے پھوٹے کرم، میں تیری گھروالی ہوں، تو تو چڑکٹامعلوم ہوتا ہے۔
گھسیٹا:۔ ارے میں چڑکٹا؟ یہ فرسٹ کلاس سوٹ اور چڑکٹا ۔یہ فیشن ایبل کالر، یہ لونڈر بھرارومال، یہ ولایتی ٹائی اورپھر نائی کا نائی۔ چل چل نکل بھی۔
چمپا:۔ ارے یہ تو بالکل پاگل ہو گیا ہے، اسے نئی روشنی کا بخار چڑھ گیا ہے۔چل چل موئے ہوش میں آ۔کھارے کنویں کا پانی پی ۔باپ نہ جانے اے، بی،سی۔بیٹے ایل ،ایل ،بی۔
گھسیٹا:۔ ہیں یہ گستاخی! ایک جنٹلمین کی ایسی انسلٹ ؂
کہتی ہم سے کیا تو پدڑی کہتی ہم سے کیا تو ری
تو کیا جانے لہنگے والی آبرو جو ہے گِٹ پِٹ کی
رعب جمائے دام گھٹائے گھٹری مٹھری سب کی کھول
سوٹ پہن ،نکٹائی لگا،فل بوٹ اڑا انگریزی بول
چمپا:۔ ارے ارے۔ یہ تو کالر کرتی پہن کر ماش کے آٹے کی طرح اکڑا جاتا ہے۔ اپنے چیتھڑوں میں نہیں سماتا ہے۔ او بوڑھے بندر، بھلا یہ بھلی چنگی ڈاڑھی کو کیا کیا ؂
ڈاڑھی منڈائی اس قدر ، مونچھیں بڑھائیں اس قدر
ہے ناک میں مرغی کاپر،آدھا اِدھر آدھا اُدھر
گھسیٹا:۔چل چل دیوانی ، تو کیا جانے شیونگ کی کہانی ، کیا تو نے نہیں سنا ؂
اگر خواہی کہ ماند حسن اول
گھٹوَّل کن، گھٹوَّل کن،گھٹوَّل
چمپا:۔ واہ رے تیرے گھٹوَّل ،ابھی سر پر پڑے چپوَّل ، تو سیدھابریلی کا راستہ معلوم ہو جائے ، ہیں یہ کیا؟ تو اسی رومال سے جو تا صاف کرتا ہے، اسی سے منہ پوچھتا ہے!
گھسیٹا:۔ کچھ فکر نہیں ، جنٹلمین کا منہ اور جوتا ایک موافق ہوتا ہے۔
چمپا:۔ تیرا کھو جڑا جائے، یہ ہیے کی کیوں پھوٹ گئیں، بھلا یہ کولھوکا بیل بننے کی کیا ضرورت تھی؟
گھسیٹا:۔ ہشت احمق ،یہ عینک ہے عینک ، اس سے جنٹلمین دوربین بن جاتا ہے۔
چمپا:۔دوربین بن جاتا ہے، یا آسمانی اندھا کہلاتا ہے؟
گھسیٹا:۔ یوڈیم ، اب تم گول مال مانگتا ہے، تم یوں نہیں جائے گا تو ہم انگریزی قاعدے سے بھگائے گا ، نہیں مانگتا۔صاحب تم دونوں کو نہیں مانگتا۔
چمپا:۔ ارے ارے تیرا ستیاناس ۔
(گھسیٹا کاآنا)

کرحکمت فطرت، بنا میں کیسا جنٹلمین ، پوسٹ آفس کا ہوں افسر، سارے ڈرتے ہیں پوسٹ مین، رتبہ اعلیٰ پاکر موٹر پر کروں نئی پھین سے سیر، آہاہا ہاہاہا،اوہوہو ہو ہو ہو۔لُک ہِیَر، لُک ہِیَر ، بوٹ سوٹ کالر ٹائی ، کیا ہے پوزیشن اعلیٰ ،وائی انکل وائی ،کرحکمت فطرت ہوں، بنا میں کیسا جنٹلمین۔

(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
دوسرا باب تیسراسین
در بار
(سہیلیوں کا گانا)
جام بھرکے ،نہ ڈر کے، سُود لبر کے ہاں ، لوجی صاحب لو پیار لو جی، جھوٹی بتیاں نہ بناؤ ۔ نہ شرماؤ۔ پیاری ذرا کڑکے ، جام بھر کے ، نت پیا پیا کرت ری ۔ ساجنا سلونا من بھاوے ۔
رنگ رنگیلے چھیل چھبیلے ، من بھائے ، جیرا لبھائے ، جانی گلے لگ جاؤ۔ شبھ گھڑی ، شبھ ہاتھ ، واہ واہ واہ، ہاں ! یہ چر کے بجھیں گے جگر کے جام بھر کے ...
نمبر(۱) :۔
لچک ہے شاخوں میں، جنبش ہوا سے پھولوں میں


بہار جھول رہی ہے خوشی کے جھولوں میں


نمبر(۲):۔
ہوائے عیش نے پھیلادی نکہتِ شادی


اُڑا ہے مشکِ ختن خاک کے بگولوں میں

چوب دار:۔ عالی مرتبت شہزادی ، عزرا یہودی درِ دولت پر آیا ہے اور وہ بیش قیمت ہار جس کی تیاری کا حضور عالیہ نے حکم دیا تھا ساتھ لایا ہے ۔
ڈیسیا:۔ حاضر کرو۔
بروٹس:۔ دیوتا خیر کرے۔ یہ نحوست کی نشانی ، مصیبت کا پیش خیمہ اس ہنسی خوشی کے جلسے میں کہاں سے نازل ہوا ۔
پہلادرباری:۔ بزرگ باپ، آپ نے نفرت کا اظہار کیوں کیا ؟ کیا وہ کوئی چور یا خونی ہے ؟
بروٹس:۔ اس شادی کے جلسے میں ایک یہودی کا ہار لانا بدشگونی ہے ۔
پہلا:۔ مگر اس کے یہاں آنے سے ہمارا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
بروٹس:۔ راتوں کو ایک بھونکنے والا کتّا کیا نقصان پہنچاتاہے جو محلے سے ڈھیلے مارکر بھگا دیا جاتا ہے ۔ مکان کی چھت پر غم زدہ اور کریہہ آواز سے بولنے والا الّو کیا تکلیف دیتا ہے جو فوراً بانس اور ڈھیلوں سے اڑا دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ دونوں اپنی اپنی موجودگی سے نحوست پھیلاتے ہیں اسی طرح یہ منحوس یہودی بھی جہاں جاتے ہیں کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور لاتے ہیں ۔
ڈیسیا:۔ عزرا !خوش آمدید !غالباً تم ہار میر ی مرضی کے موافق ہی تیار کرکے لائے ہوگے۔
عزرا:۔خادم نے کوشش تو اسی بات کی کی ہے ۔ یقین ہے کہ حضور عالیہ دیکھ کر بہت پسند فرمائیں گی اور خوشنودیٔ مزاج کا سرٹیفکٹ عطا فرمائیں گی۔
ڈیسیا:۔ بہت اچھا ، بہت خوبصورت !یہ دلکش ہار جب میرے عیسیٰ نفس مارکس کی صراحی دار گردن کا ہار ہوگا تو بڑا پُر بہار ہوگا۔
بروٹس:۔ عزیز شہزادی ، چونکہ یہ ہار ایک یہودی کے ہاتھ کا بنا ہوا ہے اس لیے اسے پہلے مندر میں بھیج کر دعائیں دم کرکے پاک بنایا جائے ۔ اس کے بعد شہزادہ مارکس کے گلے میں پہنایا جائے ۔
عزرا:۔ عالی مرتبت دینی سردار ، جس طرح رومن قوم بادشاہ کی فرمانبردار ہے اسی طرح یہودی قوم بھی اس کی دعا گزا رہے ، جس طرح وہ شاہی احکام کی حرمت کرتے ہیں ہم بھی کرتے ہیں ، جس طرح وہ شاہی دشمنوں کو اپنا دشمن جانتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان کو حقیر جانتے ہیں ، جب بادشاہ کا اپنی رعیت کے ہر چھوٹے بڑے پر یکساں ہاتھ ہے تو محض مذہبی تعصب کی بنا پر اس کی ایک شریف رعایا کو سرِدربار ذلیل کرنا کتنی شرم کی بات ہے۔
بروٹس:۔ ذلیل کو ذلیل کہنا میری نظر میں کوئی برُائی نہیں ۔ کیا تم یہودیوں نے اپنی سود خواری، اپنی کینہ پروری ، اپنی بے رحمی سے ہم رومیوں کے سر پر طرح طرح کی مصیبت ڈھائی نہیں ہے ؟ ان کے حصے میں کون سی برائی ہے جوآئی نہیں ہے ؟
عزرا:۔ لیکن اگر واقعی ہم ایسے ہیں تو ہمیں ایسا بے رحم بنانے والے بھی تم اور تمھاری قوم ہے۔ جب تم ہمارے پاک مذہب کی حقارت کروگے اور ہمارے منہ پر تھوکو گے ، ہمیں ایک کتّا سمجھ کر ٹھکراؤگے تو پھر ہمارے دل میں بھی انتقام کا سویا ہوا جذبہ بیدار نہ ہوگا؟جب غریب جانور بھی اپنے ستانے والے پر پلٹ کر حملہ کرتا ہے تو دل اور کلیجہ رکھنے والا انسان کیوں کر بدلہ لینے کو تیار نہ ہوگا؟
بروٹس:۔ جھوٹے ! اگر ہم واقعی ایسے ہی ہوتے تو تم لوگ ہماری سلطنت میں رہنے ہی نہ پاتے ۔ چیل اور کوّوں کی غذا ہو جاتے ۔
عزرا:۔ کیوں نہیں!یہ آفتاب جو ہمیں روشنی پہنچاتا ہے ۔ یہ دریا جو ہمیں پانی پلاتا ہے ، یہ زمین جو ہمارے لیے غذا اُگاتی ہے ۔ غرض قدرت کی ہر ایک قوت جو ہماری خدمت بجالاتی ہے ،یہ سب تمھاری ہی مہربانی ہے ، تمھاری ہی وجہ سے ہماری زندگانی ہے ، کیا ہمارے خدا تم ہی ہو ؟
بروٹس:۔ اچھا تو بتاسکتا ہے کہ تیری قوم کے ساتھ ہم نے کون سا برُا سلوک کیا ہے، کون سا عذاب دیا ہے ؟
عزرا:۔ یہ مجھ سے نہیں ، اپنے بے درد دل سے پوچھو! اپنے خون بھرے ہاتھوں سے پوچھو !اپنی چھریوں اور خنجروں سے پوچھو!کیا ہزاروں یہودیوں کو محض اس قصور پر کہ وہ یہودی مذہب کے خدا کو پوجتے ہیں ، سخت سے سخت عذاب کے ساتھ قتل نہیں کرا یا،ہزاروں بچوں کو یتیم اور ہزاروں عورتوں کو بیوہ نہیں بنایا؟ ہماری قوم کے مظلوم بیکسوں سے اپنا قید خانہ نہیں بسایا؟ اگر یہی اچھا سلوک ہے ، یہی اچھا کام ہے تو مجھے بتاؤ کہ نا انصافی اور ظلم کس چیز کا نام ہے ۔ ؂
تم ستم کرتے رہے اور ہم ستم دیکھا کیے
خانماں برباد ہو کر رنج وغم دیکھا کیے
سر ہوئے تیغِ عدوات سے قلم دیکھا کیے
تم نے کیں لاکھوں جفائیں اور ہم دیکھا کیے
بغض کا ہم پر مگر الٹا اثر ہوتا گیا
چھانٹنے سے نخلِ مذہب بارور ہوتا گیا
ڈیسیا:۔ ناعاقبت اندیش یہودی خاموش رہ !کیا زندگی سے نا امید ہے ؟ بزرگ باپ، ایک فرسودہ حو اس بوڑھے کو اپنا مخاطب بنانا آپ کی شان سے بعید ہے ۔
شاہ ٹائنس:۔میں ڈیسیا کی رائے کو پسند کر کے آپ کو اس احمقانہ جرأت سے چشم پوشی کرنے اور اس یہودی کو خاموش رہنے کا حکم دیتا ہوں۔ خیر سنیے اور برکت دے کر میرے عزیز بچوں کا ہاتھ ملائیے ۔
بروٹس:۔
خوش اور ایک دوسرے پر مہرباں رہو


دنیا میں بامراد رہو ، شادماں رہو

راحیل:۔ ٹھہرو ، ٹھہرو! جب تک بادشاہِ عادل کے حضور میں ایک مظلوم باوفا کی عرضی پیش ہوکر دغا بازی کے مقدمے کا فیصلہ نہ ہولے اس وقت تک ٹھہرو۔
شاہ ٹائنس:۔ یہ کون؟
مارکس:۔
باعثِ تکلیف راحت میں گراں جانی ہوئی


سن رہا ہوں صاف اک آواز پہچانی ہوئی

عزرا:۔ راحیل! تو یہاں کیوں آئی؟
راحیل:۔ انصاف پانے۔
عزرا:۔ کیا تجھے یقین ہے کہ ایک رومن شہزادی کے خلاف ایک مظلوم یہودی کی لڑکی کی فریاد سنی جائے گی؟
راحیل:۔ اگر اس دربار کا یہ دعویٰ ہے کہ یہاں امیر اور غریب دونوں کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا ہے تو اسے اِس دعوے کی شرم رکھنے کے لیے میری فریاد ضرور سننی پڑے گی۔
بادشاہ:۔ اے اجنبی لڑکی ، صاف لفظوں میں حال بیان کر۔ اگر تو مظلوم ہے تو تیر ا حریف چاہے شاہی نسل کا ہی آدمی کیوں نہ ہو ، انصاف ضرور تیری طرف داری کرے گا۔ بول تو کس کی ستائی ہے اور کس کے خلاف فریاد لائی ہے ؟
راحیل:۔ مجھے ستانے والا ، دین ودنیا سے مٹانے والا ؂

جفا پیشہ ، وفا دشمن، ستم گر ، کون ہے ؟ یہ ہے !


شکایت جس کی کرتا ہے مقدر کون ہے ؟ یہ ہے !

ڈیسیا:۔ کون ! شہزادہ مارکس؟
بادشاہ:۔ ولی عہدِسلطنت؟
راحیل:۔ ہاں ، یہی ، یہی !

اس کے دم سے خزاں باغ کی بہار ہوئی


یہی ہے جس سے مری زندگانی خوار ہوئی

بادشاہ:۔ مارکس!سنتا ہے ؟ اس الزام کا تیرے پاس کیا جواب ہے؟
مارکس:۔ ؂
ستائی گئی تھی برا کہہ رہی ہے
جو یہ کہہ رہی ہے بجا کہہ رہی ہے
راحیل:۔بچیے! بچیے ! شہزادی صاحبہ !اس خوبصورت سانپ سے بچیے ۔ ؂

بے رحم ہے یہ، رحم سرِ مو نہیں رکھتا


یہ روح میں درد ، آنکھ میں آنسو نہیں رکھتا


آزاد ہے جذبات پہ قابو نہیں رکھتا


وہ پھول ہے یہ پھول ، جو خوشبو نہیں رکھتا

ڈیسیا:۔ بس بس ، خاموش!میں ایسا کوئی لفظ ، جس سے میرے منگیتر کی توہین ہو ، سن نہیں سکتی۔
راحیل:۔ شہزادی ؂

سراسر مکر زسرتا پا وفا نا آشنا ہے یہ


مری آنکھوں سے دیکھو تم ، تو ہو روشن کہ کیا ہے یہ


کنواری رہنا بہتر جا نیے ، اس سے عقد ہونے سے


وفا کی ہے عبث امید ، مٹی کے کھلونے سے

بروٹس:۔عالی جاہ !اگر آپ میری عرض سماعت فرمائیں تو میں یہ کہوں گا کہ عورتوں کے بیان پر کبھی یقین نہ کرنا چاہیے ،یہ عورتیں شیطان کے مکتب سے تعلیم پاکر نکلی ہیں اس لیے ان سے ہر وقت ڈرنا چاہیے۔ ؂
جفا سے ربط کریں اور وفا سے عار کریں
جگر پہ ضرب لگائیں تو دل پہ وار کریں
جو شرمناک عمل ہوں ہزار بار کریں
یہ بے گناہ کو دم میں گناہگار کریں
ہزاروں فکر کے پہلو نکلتے بات سے ہیں
جہاں میں جتنے ہیں فتنے سب ان کی ذات سے ہیں
عزرا:۔ سر یر آرائے عدالت!سلطنت کا ایک معزز رکن ہو کر انصاف کے راستے میں روڑا اٹکائے !دباؤ ڈال کر شاہی انصاف اور شاہی رائے کو ایک مظلوم فریادی کے خلاف بنائے !کیا یہ ان جیسے مقدس آدمی کو سزوار ہے ؟ کیا بادشاہِ حق پسند کا انصاف مظلوموں کا سرپرست ہونے کے بدلے ظالموں کا طرف دار ہے ؟
بادشاہ:۔ نہیں یہودی!کبھی نہیں !جس طرح آفتاب کی روشنی امیروں کے محل اور غریب کے جھونپڑے میں فرق نہیں کرتی اسی طرح میں بھی انصاف کے وقت ادنیٰ اور اعلیٰ سب کو یکساں جانتا ہوں ۔ اپنی ذمہ داری اور اپنا فرض پہچانتا ہوں۔
عزرا:۔ بس تو پھر جھگڑا صاف ، آج کے دن آپ کے لیے صرف یہی ایک کام ہے اور وہ ان کا انصاف ہے۔
بادشاہ:۔ میں انصاف کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت صرف کر دوں گا۔
راحیل:۔ خدا آپ کو مظلوموں کی حمایت کے لیے قیامت تک زندہ رکھے! فرمائیے!اگر آپ کی رعایا میں سے کوئی شخص کسی عورت سے شادی کا وعدہ کرکے اس کی محبت کا شکار کرے اور اس کے کنوارے ہونٹوں کواور گالوں کو ناپاک بنانے کے بعد اسے چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے پیار کرے تو اس کے لیے حضور والا قانون کیا سزا تجویز کرتا ہے ؟
بادشاہ:۔ موت !بغیر رحم کے موت !
عزرا:۔ تو بس ہوچکا ، فیصلہ ہوچکا ۔ آپ شاہی نام کی عزت ہیں ، تختِ سلطنت کے اہل ہیں۔ قلم اٹھائیے اور ولی عہد سلطنت کے قتل کا حکم صادر فرمائیے ۔
بادشاہ:۔ مگر پہلے مجھے اس کا گناہ تو معلوم ہونا چاہیے۔
راحیل:۔ یہ آپ کی عزت اور شہرت کو برباد کرنے والا ، اس ملک کی غریب لڑکیوں کے سر پر تباہی لارہا ہے ۔ اس نے پہلے مجھ سے شادی کا وعدہ کرکے مجھے دھوکا دیا اور اب شہزادی ڈیسیا کو بھی فریب کے پھندے میں پھنسا رہا ہے۔ ؂

مجھ کو نہ کیا جب ، تو اسے شاد کرے گا!


اس کو بھی مری طرح یہ برباد کرے گا!

بادشاہ:۔ مارکس !اٹھ کھڑا ہو ، جواب دے ، ورنہ بدترین قسم کی سزائے موت تیرے لیے تیار ہے ۔
مارکس :۔ بے شک غلام آپ کا خطا وار ہے اور دست بستہ حضور والا سے رحم کا امیدوار ہے ۔
بادشاہ :۔ رحم یہ کر سکتی ہے ، میں کچھ نہیں کر سکتا ۔
بروٹس :۔ جہاں پناہ!
بادشاہ:۔ بس کچھ نہیں !
بروٹس:۔ یہ نہ ہونا چاہیے۔
بادشاہ:۔ یہ ضرور ہوگا۔
بروٹس:۔ میری عرض یہ ہے کہ قانون گمراہوں کے واسطے ہے نہ کہ خیرخواہوں کے واسطے ۔
بادشاہ:۔ اگر بادشاہ گمراہ ہے تو وہ بھی قانون کی رسی میں جکڑا جائے گا۔ اگر شہزادہ چور ہے تو اس جرم میں ضرور پکڑا جائے گا۔
بروٹس:۔میں پھر عرض کرتا ہوں کہ عام رعیت سے ایک شہزادہ زیادہ قابل توقیر ہے۔جس ہتھیار سے غلام پر ضرب لگائی جائے اسی ہتھیار سے آقا کو قتل کرنا مرتبہ اور شان کی تحقیر ہے ۔
بادشاہ:۔ مگر انصاف کی تلوار آقا اور غلام دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے ۔ ؂
یہاں تمیز نہ آقا میں اور نہ بندے میں
کہ صاف دونوں کی گردن ہے ایک پھندے میں
بروٹس:۔ عشق کا جوش ایک قسم کا جنون ہوتا ہے۔
راحیل:۔ اس خوشامد بازی سے انصاف کا خون ہوتا ہے ۔
بروٹس:۔ ارے چپ چپ ! تو ایک بھک منگے کنگال کی ذلیل چھوکری اور چراغِ سلطنت بجھانے کا ارادہ !ایک مفلس بے ننگ ونام لڑکی ، اور خاندانِ شاہی کو مٹانے کا ارادہ !
راحیل:۔ تو پھر یہ کیوں نہیں کہتے کہ امیروں کے سرتاجِ زر کے لیے ہیں اور غریبوں کے سر امیروں کے ٹھوکر کے لیے ہیں۔
بروٹس:۔ بے شک!
عزرا:۔ واہ رہے مذہب اور واہ رے مذہبی پیشوا ۔ ؂

تمھارا غم ہے غم ، مفلس کا صدمہ اک کہانی ہے


تمھارا عیش ہے عیش اور ہمارا عیش فانی ہے


یہاں بچپن بڑھاپا ، واں بڑھاپا بھی جوانی ہے


تمھارا خون ہے خون اور ہمارا خون پانی ہے


یہ زر ، یہ نخوتیں کیا لے کے اپنے ساتھ جائے گا


یہیں رہ جائے گا سب ،یاں سے خالی ہاتھ جائے گا

راحیل:۔ عادل سلطان !اب مجھے انصاف ملنے میں کیا دیر ہے ؟ اگر آپ نے ابھی تک نہ سنا ہوتو میں اس سے بھی زیادہ بلند آواز سے انصاف انصاف پکارسکتی ہوں۔
بادشاہ:۔ آہ کیا کروں کیا نہ کروں ۔ ؂

گھڑی شادی کی جوشاد آئی تھی ناشا د جاتی ہے


اِدھر انصاف جاتا ہے اُدھر اولاد جاتی ہے


اندھیرے میں پڑا تھا کیا خبر تھی مجھ کو اِس دن کی


جوانی اس کی اور محنت مری برباد جاتی ہے

عزرا:۔ عادل سلطان !کیا بیٹے کی محبت اور انصاف میں جنگ ہورہی ہے؟
بادشاہ:۔ ہاں مگر فتح انصاف ہی کو ملے گی۔
راحیل:۔ پھر تو انصاف ملنا چاہیے۔
بادشاہ:۔ ضرور ملے گا۔
راحیل:۔ جناب والا سے ؟
بادشاہ :۔ ہاں مجھ سے !
راحیل:۔ تو کہاں؟
بادشاہ:۔ یہاں!
راحیل :۔ کس وقت؟
بادشاہ:۔ اسی وقت !بڑھو اے شاہی حکم کے پر ستارو !اس نا خلف کو بیڑیاں ہتھکڑیاں پہناؤ ا ور مقدمہ کا فیصلہ ہونے کے لیے کل اسے مذہبی عدالت میں لے جاؤ ۔
سب :۔ خاقانِ عالم !
بادشاہ:۔ خاموش!
(سین ختم)
 

الف عین

لائبریرین
دوسرا باب چوتھا سین
کامک
باغیچہ
پھول من:۔ کہتے ہیں کہ جس طرح ہاتھی ،بھینس اور موٹا آدمی بغیر پانی کے جی نہیں سکتا،اس ہوٹل کا بیرا پھول من بغیر بیوی کے رہ نہیں سکتا ؂
کسی حجام کی بیوی کو اڑایاتو کیا
ہم تو اچھے بھلے شلغم کوجُڑِیلا کر دیں
کوئی آئے تو اڑنگے میں ذرا یاروں کے
بانسری کی طرح گاجرکو سُرِیلا کر دیں
چمپا:۔ اجی !اجی یہ کیا کہا؟
پھول من:۔ او ہوبندگی ،بندگابلکہ تا بہ زندگا۔
چمپا:۔ہیں کیا کہا؟ میں تم سے نہیں بولوں گی۔
پھول من:۔ ہیں، کیوں نہیں بولوگی؟ تمھیں بولنا پڑے گا۔
چمپا:۔نہیں نہیں، تمھیں مجھ سے کچھ محبت نہیں۔
پھول من:۔ ہیں محبت نہیں؟ پیاری محبت تو ایسی ہے کہ اگر تو مرجائے تو میں تیری قبر کی خاک تک جوتیوں سے اڑادوں۔
چمپا:۔ ہیں؟ جوتیوں سے !
پھول من:۔ ہاں ہاں،یعنی اتنے ہیرے پھیرے کروں کہ مجنوں کا بچہ بھی میری گرداوری کا قائل ہو جائے ، استادفرہاد سر پھوڑ کرمرجائے۔
چمپا:۔ جاؤ ، میں سمجھ گئی۔
پھول من:۔ارے ناکند بچھیری کی طرح کب تک کودے گی ، کبھی تھان پر بھی بندھے گی؟
چمپا:۔ چلو، اٹھو، میرا ایسی باتوں سے جی جلتا ہے۔
پھول من:۔ جی جلتا ہے تو چلو برف، سوڈاواٹر پیو یا لیمن جوس۔
چمپا:۔ چلو چلو، تمام زمانے کے مکھی چوس، ملاقات تو میسر نہیں،جب دیکھو غیرحاضر ، جب دیکھوموئے نوکری پر۔
پھول من:۔ اوہ یہ بات؟ مگر پیاری تم نے اپنے آنے کا ٹیلی گرام کیوں نہ دیا؟
چمپا:۔ اونہہ پھر وہی مذاق؟ خداکرے مٹ جائے یہ مذاق ، تو بہ میرے اللہ ۔
پھول من:۔مٹ جائے کیسے ؟ دام نہیں خرچ کیا؟
(گانا)
چمپا:۔ گلے لاگ چھیل سیّاں من بھایو، جاؤں واری!
پھول من:۔ ذرا نیناں سے نیناں ملا تو موری جان!
چمپا:۔ نہ ستاؤ سیّاں ، نہ جراؤسیّاں، جاؤں داری (جانا)

(سین ختم)
 
Top