آغازِ فارسی کلاس

شاکر صاحب میری پوسٹوں پر حضور کی بڑی گہری نظر ہوتی ہے لگتا ہے ہم سے کچھ زیادہ ہی محبت ہے۔۔۔۔۔بہرحال ہم کو آپ سے ڈر لگتا ہے کیونکہ آپ آتش بداماں ہیں اور ہم ہاویہ سے بچنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں ۔
جیسا کہ حضور نے فرمایا کہ
روحانی بابا واقعی دیر سے سمجھتے ہیں خواجہ نصیرالدین طوسی کی ایک رباعی آپ کی نذر کرتا ہوں:
حضور ہم کو کیا پتہ کہ یہ دیر کیا ہوتا ہے لیکن شیخ اقبال لاہوری کا شعر آپ کی آتشی طبیعت کی نظر ہے
جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبال
بلا کے دیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں
 

زیف سید

محفلین
جناب آسی صاحب: کتاب کا ربط عنایت فرمانے کا بہت بہت شکریہ۔ میں نے ابھی کتاب کے چند ابتدائی صفحے پڑھے ہیں، لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ آپ فرماتے ہیں (صفحہ نمبر 4 پر)

نثر کو لے لیجئے، جملے کی ساخت سے لے کر قواعد و انشاء تک فارسی کا اثر نمایاں ہے۔ ہماری گرامر اور گردان کی بنیاد فارسی پر ہے

میری فارسی “رفت گیا اور بود تھا“ پر محیط ہے، لیکن پھر بھی میرا خیال ہے کہ اردو پر فارسی کا اثر بڑی حد الفاظ مستعار لینے تک محدود ہے اور اردو گرامر اور فارسی گرامر بہت مختلف ہیں۔اردو اور فارسی کا اختلاط نو سو سال تک رہا لیکن اس عرصے میں اردو گرامر پر فارسی گرامر کا اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زبانیں دوسری زبانوں سے الفاظ تو مستعار لیتی ہیں لیکن گرامر کے اصول نہیں، ورنہ زبان کا ڈھانچا ہی زمین پر آ رہے گا۔

اگر اس بات کی وضاحت کر سکیں تو شاید میرا یہ الجھاؤ دور ہو سکے۔

پیشگی شکریہ

زیف
 
جناب زیف، میری گزارشات کو ایک نظر دیکھ لیجئے، آپ کا نکتہ سر آنکھوں پر۔
یہ مضمون یہاں پیش کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ کہیں مجھ سے کوئی کوتاہی ہو گئی ہے تو آپ جیسے اصحابِ علم نہ صرف اس کی نشان دہی کریں بلکہ مجھ سمیت ان طلباء کی راہنمائی بھی فرمائیں، جو شاید میرے کہے پر کسی نادرست کو درست سمجھ سکتے ہوں۔

سیکھنے سکھانے کا یہ عمل جاری رہنا چاہئے۔ آپ کی توجہ کے لئے ممنون ہوں۔
 

شاکرالقادری

لائبریرین
رباعی عنایت کرنے کا شکریہ۔ اگر برا نہ منائیں تو تیسرے مصرعے میں لفظ در کی جگہ من کر لیں، یعنی:

اکنوں کہ بہ چشمِ عقل من می نگرم

زیف
سید صاحب برانے منانے کی اس میں کیا بات ہے
وہاں پر ہے ہی "من" بس ایک دفعہ ٹائپنگ میں غلطی ہوگئی اور پھر دوبارہ بھی کاپی پیسٹ سے کام چلا کے تیسرے مصرع میں ترمیم تو کر دی لیکن اس غلطی کی طرف توجہ ہی نہ ہوئی
اسی طرح غلطی سے "طوسی کی" لکھنے کی بجائے "طوسیکی" لکھ دیا
نشاندہی کے لیے شکر گزار ہوں
 

شاکرالقادری

لائبریرین
زبانیں دوسری زبانوں سے الفاظ تو مستعار لیتی ہیں لیکن گرامر کے اصول نہیں، ورنہ زبان کا ڈھانچا ہی زمین پر آ رہے گا۔
شاید اردو کی حد تک یہ بات بطور کلیہ قاعدہ تسلیم نہیں کی جا سکتی کیونکہ اردو میں تذکیر و تانیث، جمع واحد اور دیگر مرکبات بناتے وقت اس بات کا اہتماما خیال رکھا جاتا ہے کہ جس زبان سے لفظ مستعار لیا گیا ہو اسی زبان کے قاعدہ کو استعمال کیا جائے
شجر کی جمع اشجار ہی بنائی جائے گی شجروں نہیں، مرکبات میں بھی اہتمام کے ساتھ ایک ہی زبان کے الفاظ کو جمع کیا جاتا ہے دو مختلف زبانوں کے الفاظ کے ساتھ مرکبات نہیں بنائے جا سکتے مثلا برنگِ سرخ کو اگر برنگِ لال کہیں یا فیل مست کو ہاتھیء مست کہہ دیں :)
 

زیف سید

محفلین
شاید اردو کی حد تک یہ بات بطور کلیہ قاعدہ تسلیم نہیں کی جا سکتی کیونکہ اردو میں تذکیر و تانیث، جمع واحد اور دیگر مرکبات بناتے وقت اس بات کا اہتماما خیال رکھا جاتا ہے کہ جس زبان سے لفظ مستعار لیا گیا ہو اسی زبان کے قاعدہ کو استعمال کیا جائے
شجر کی جمع اشجار ہی بنائی جائے گی شجروں نہیں،

جناب قادری صاحب، یہ نکتہ اٹھانے کا بہت بہت شکریہ۔ میں اختلاف کی جسارت کروں گا۔میرا خیال ہے کہ شجر سے اشجار بناتے وقت اردو والے عربی گرامر کا اصول استعمال نہیں کرتے بلکہ واحد شجر کے ساتھ ساتھ جمع اشجار بھی سموچا عربی ہی سے نقل کر دیتے ہیں۔ اگر اصول نقل کیا ہوتا تو پھر اردو الفاظ کی جمع بناتے ہوئے بھی عربی (یا فارسی) اصول استعمال کیے جاتے اور پھر ہمیں بندر سے بنادر اور مندر سے منادر جیسے الفاظ دیکھنے کو ملتے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اردو والے شجر کی ’اردو‘ جمع اس لیے نہیں بناتے کہ یہ لفظ مذکر ہے اور اس کے آخر میں ر آتا ہے، نہ کہ یہ لفظ عربی کا ہے۔ ورنہ اردو کا اصول ہے کہ اگر لفظ مونث ہو ان یا ین لگا کر جمع بنا لیتے ہیں، اور اگر لفظ کے آخر میں الف یا ہائے ہوز آتے ہوں تو ے لگا کر جمع حاصل کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پر کتاب عربی ہے، لیکن اردو والے بول چال میں کتب نہیں کہیں گے، بلکہ اس کی جمع کتابیں کریں گے، وجہ یہ کہ لفظ مونث ہے۔اسی طرح دوشیزائیں، بجلیاں، دنیائیں، کشتیاں، ترکیبیں، نہریں، وغیرہ (واضح رہے کہ اس فہرست کے پہلے دو الفاظ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، محض اتفاق کی بات ہے :) حتیٰ کہ کاریں، ریلیں، ٹرینیں، ویب سائیٹیں، وغیرہ۔

نیز محکمے، نالے (فریادیں!)، تکیے، کلیے، نکتے، نشانے، فسانے، زمانے، وغیرہ۔
مرکبات میں بھی اہتمام کے ساتھ ایک ہی زبان کے الفاظ کو جمع کیا جاتا ہے دو مختلف زبانوں کے الفاظ کے ساتھ مرکبات نہیں بنائے جا سکتے مثلا برنگِ سرخ کو اگر برنگِ لال کہیں یا فیل مست کو ہاتھیء مست کہہ دیں :)

یہ بات بھی میری ناچیز رائے کی تائید کر رہی ہے۔ ہم نے ’برنگِ سرخ‘ یا ’فیلِ مست‘ پوری کی پوری تراکیب ہو بہو فارسی سے اٹھا لی ہے، اضافت کے ذریعے مرکب بنانے کا اصول نہیں۔ چناں چہ فارسی کے اثر کے نو سو سال باوجود آج بھی ’لبِ سڑک‘ یا ’لاڈلائے من‘ جیسے فقرے مضحکہ خیز لگتے ہیں۔

مزید عرض ہے کہ اردو میں بارہ پندرہ کے قریب ایسے الفاظ ہیں جو فارسی سے صیغہ امر ادھار لے کر اردو مصادر کی شکل میں ڈھال لیے گئے ہیں، جیسے بخشنا، فرمانا، خریدنا، وغیرہ۔ لیکن یہاں بھی اردو گرامر ہی کارفرما ہے، کیوں کہ ’نا‘ لگا کر فعل بنانا (کھانا، پینا، لکھنا، پڑھنا، وغیرہ) اردو صرف و نحو کا کلیہ ہے، فارسی کا نہیں۔

آپ کی توجہ کا بہت بہت شکریہ۔

زیف
 
بہت نوازش جناب، پہلے ایک چھوٹی سی وضاحت کہ یہ کتاب نہیں، بلکہ ایک مضمون ہے۔ زیف صاحب نے میرے جس جملے پر انگلی رکھی ہے، اُس کو حذف کر دیا جائے تو بھی مضمون کے تسلسل میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ میں زیف صاحب کی طرف سے مزید کا منتظر ہوں۔

دیگر مباحث جو اس حوالے سے چل نکلے ہیں اُن کا تعلق فارسی سے زیادہ اُردُو سے ہے۔
 

خواجہ56

محفلین
فارسی کو اردو زبان کی ماں کہا جاتا ہے تو پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بچہ اپنی ماں سے دور رہے۔ یہ میرے اندر کی خواہش ہے کہ میں فارسی سیکھوں۔
 

m.mushrraf

محفلین
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

میں اضافت سے متعلق ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں:

"از ساعت هفت صبح امروز"

کیا "صبح امروز" ہفت کے لئے مضاف الیہ ہے؟
اور کیا اعداد کے آخر میں، بوقت اضافت، "علامت مضاف" یعنی زیر وغیرہ آتی ہے؟
 
محترمی مشرف صاحب، تسلیمات
گزشتہ دو دن سے یہ فقیر آپ کے سوال پر اپنے متقدمین (سینئرز) کی توجہ کا منتظر رہا۔

"از ساعت هفت صبح امروز"
یہ مکمل جملہ (مرکب تام) تو ہے نہیں، ساعتِ ہفت (یہاں مجھے ہفت اور ہفتم کا اِشکال ہے) مرکب عددی ہے نا؟ آپ کی مراد غالباً ”سات بجے سے“ ہے۔ صبحِ امروز ترکیب اضافی ہے۔ ان دونوں ترکیبوں کو ملا کر مرکب مزید بنانے کی ضرورت اور جواز یا عدم جواز کا فیصلہ تو جملے (سیاق و سباق) پر منحصر ہے۔
 

m.mushrraf

محفلین
جزاكم الله خيرا

جمله مندرجہ ذیل ہے :
"رای گیری از ساعت هفت صبح امروز در حدود شش هزار مرکز رای دهی در سی و چهار ولایت صورت گرفت"

امید ہے کہ دوسرے سوال کا انتظار بھی ختم ہو جائے گا٫

اضافت سے متعلق چند باتیں اور بھی پوچھنی ہیں :

۱: جب مضاف کے آخر میں "ہ" ہو تو فک اضافت ہوتی ہے تو "جامہ خود" اور "خانہ پسر شما" میں "ہ" پہ وقف کریں گے کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
۲: کیا تمام ضمائر متصل سے پہلے آنا والے ہر مضاف کے آخر میں "زبر" آئے گا؟
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱: جب مضاف کے آخر میں "ہ" ہو تو فک اضافت ہوتی ہے تو "جامہ خود" اور "خانہ پسر شما" میں "ہ" پہ وقف کریں گے کیا یہ بات ٹھیک ہے؟
۲: کیا تمام ضمائر متصل سے پہلے آنا والے ہر مضاف کے آخر میں "زبر" آئے گا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فکِ اضافت میرے لئے نیا لفظ ہے۔ "جامہ خود" اور "خانہ پسر شما" جیسی تراکیب جب اردو میں وارد ہوں تو ایسی ہ پر ہمزہ مکسور لگاتے ہیں۔ "جامہءِ خود" اور "خانہءِ پسرِ شما" فارسی میں کوئی مثال مل گئی تو عرض کر دوں گا۔ محمد وارث صاحب سے پوچھ لیں گے۔

کتابش، کتابشان، کتابت، کتابتان، کتابم، کتابمان ۔۔۔ کسی اُستاد سے پُوچھنا پڑے گا، بظاہر ایسا لگتا نہیں۔ کتابشان میں شان سے مراد ایشان ہے، سو مجھے یہاں کتابِشان (ایشان کی ی کی رعایت سے) کہنا اچھا لگتا ہے۔ واللہ اعلم
 

یونس عارف

محفلین
"از ساعت هفت صبح امروز" : آج کی صبح سات بجے سے
از هفتِ صبح: صبح کے سات بجے سے

جب مضاف کے آخر میں "ہ" ہو تو فک اضافت ہوتی ہے تو "جامہ خود" اور "خانہ پسر شما" میں "ہ" پہ آپ اردو کے “یے“ ادائیگی میں لاتے ہیں۔ “یے“ جیسے:لائیے،جائیے و غیرہ میں ہوتا ہے

اپنی فارسی کی ادائیگی میں کچھ بہتری لانے اور فارسی سیکھنے کے لیے یہ لنک مفید ہے


http://urdutv.irib.ir/index.php?option=com_k2&view=itemlist&task=category&id=68:اردو-سے-فارسی
 
”یای“ اور ”ہائے ہوز“ کے فوراً بعد ”ہمزہ مکسور“ - مثالیں (حافظ شیرازی کی رباعیات سے)

بَنِگر چمن جمال فرخندہءِ گُل
گہ گریہءِ ابر بین و گہ خندہءِ گُل
سرو ارچہ بآزادیءِ خود می نازد
از راستی کہ داشت شد بندہءِ گُل

من بندہءِ آن کسم کہ شوقی دارد
بر گردنِ خود زِ عشق طوقی دارد

تو بدری و خورشید ترا بندہ شدہ است
تا بندہءِ تو شدہ است تابندہ شدہ است

آوازِ پرِ مرغِ طرب می شنوم
یا نفخہءِ گلزارِ ادب می شنوم

مردمی ز کنندہءِ در خیبر پرس
اسرارِ کرم زِ خواجہءِ قنبر پرس
گر تشنہءِ فیضِ رحمتی ای حافظ
سر چشمہءِ آں زِ ساقیءِ کوثر پرس
 

m.mushrraf

محفلین
ِآپ دونوں حضرات کا شکریہ٫

میں سمجھ رہا تھا کہ فک اضافت کے بعد "ہ" کو "ہ" پڑہیں گے لیکن معلوم ہوا کہ اس کا تلفظ اردو کی بڑی یے کی طرح ہو گاِ۔

"ہ" کو بڑی یے کی طرح پڑھنا ہائے مختفی کے ساتھ خاص ہے یا پھر مطلقا اس طرح پڑھی جائے گی؟

یہاں ایک بات مزید کہ جب اضافت "شان" کی طرف ہو تو کیا مضاف کے آخر میں زبر آئے گا جیسا کہ "ت" اور "م" وغیرہ کا حال ہے؟

ایک مرتبہ پھر بھائی "محمد یعقوب آسی" اور بھائی "یونس عارف" کا شکریہ۔

امید ہے کہ یہ گہما گہمی جاری رہے گی۔
 
محمد یعقوب آسیؔ
زبانِ یارِ مَن
اسباقِ فارسی کے تسلسل میں
نو آموز قارئین مذکورہ مضمون کا مطالعہ پہلے کرلیں تو مناسب ہو گا

جب ہم کسی زبان کے قواعد کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم موجود الفاظ سے جملے بنانے کے ساتھ ساتھ ان سے نئے الفاظ بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے نئے الفاظ کو ہم دو بڑے گروہوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا گروہ مشتقات کا ہے اور دوسرا مرکبات کا۔ مشتقات ایسے الفاظ ہیں جو کسی دوسرے لفظ سے مشتق ہوں۔ جیسے مصدر سے اس کا مضارع، افعال اور افعال کے تمام صیغے، واحد سے جمع وغیرہ حاصل کرنا۔مرکبات کی دو صورتیں ہیں ایک تو معنوی سطح پر ہے جن کو ہم مرکب تام یا مرکب ناقص کے طور پر زیرِمطالعہ لا چکے ہیں اور دوسری لفظی سطح پرہے۔ اس سطح پر بننے والے نئے الفاظ سے نئے معانی بھی حاصل ہو سکتے ہیں تاہم زیادہ توجہ الفاظ کی ساخت اور صوتیت پر دی جاتی ہے، جسے سادہ الفاظ میں املاء اور ادائیگی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔
مناسب ہے کہ فارسی کے مروج حروف ہجا اور اُن کی صوتیت کو پہلے سمجھ لیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہم حسبِ ضرورت اردو اور دیگر فارسی الخط زبانوں کے علاوہ رومن خط والی زبانوں سے بھی کریں گے تاکہ تفہیم میں آسانی ہو سکے ۔ صوتیت کے اعتبار سے حروف کی دو صورتیں ہیں۔حروفِ علت اور حروفِ ناطق۔ حروفِ علت تین ہیں: الف، واؤ، اور یائے۔ ایک واوِ معدولہ ہے، ایک یائے غیرمتلؤ ہے۔ باقی سب حروف ناطق ہیں۔ یاد رہے کہ فارسی میں حروف مرکب اور حروف مدغم کا کوئی تصور نہیں۔ یائے کو ی یا ے دونوں صورتوں میں لکھا جاتا ہے اور یائے معروف پڑھا جاتا ہے تا آنکہ اعراب اسے لین نہ ثابت کریں۔ایسا ہی معاملہ واؤ کا ہے تا آنکہ وہ لین یا معدولہ ثابت نہ ہو جائے۔ کچھ اشارات جدول : الف کے تحت مندرج ہیں۔
جدول : الف فارسی حروفِ ہجا اور ان کی صوتیت
حرف ہجا اردو ترتیب میں ::::: ::::: اردو متقابل (بلحاظ صوت) ::::: ::::: انگریزی میں قریب ترین متقابل (بلحاظ صوت) ::::: ::::: اضافیات
۱ ::::: ::::: ا ::::: ::::: vowel a e I o u ::::: ::::: شذرات ملاحظہ ہوں
ب ::::: ::::: ب ::::: ::::: B ::::: :::::
پ ::::: ::::: پ ::::: ::::: P ::::: ::::: اسے بائے عجمی بھی کہتے ہیں
ت ::::: ::::: ت ::::: ::::: T ::::: ::::: ٹ کو تائے عجمی کہتے ہیں
ث ::::: ::::: ث ::::: ::::: s, th ::::: ::::: یہ عربی سے آیا ہے
ج ::::: ::::: ج ::::: ::::: j, g ::::: :::::
چ ::::: ::::: چ ::::: ::::: Ch ::::: ::::: اسے جیم عجمی بھی کہتے ہیں
ح ::::: ::::: ح ::::: ::::: h, hh ::::: ::::: اسے حائے حطی بھی کہتے ہیں
خ ::::: ::::: خ ::::: ::::: kh, k ::::: :::::
د ::::: ::::: د ::::: ::::: d, th ::::: ::::: ڈکو دال عجمی کہا جاتا ہے
ذ ::::: ::::: ذ ::::: ::::: z, s, ts, tz ::::: ::::: ڑ کو رائے عجمی کہا جاتا ہے
ر ::::: ::::: ر ::::: ::::: R ::::: :::::
ز ::::: ::::: ز ::::: ::::: as against zaal ::::: :::::
ژ ::::: ::::: ژ ::::: ::::: zh, su, si ::::: :::::
س ::::: ::::: س ::::: ::::: S ::::: :::::
ش ::::: ::::: ش ::::: ::::: sh, ch, tio ::::: :::::
ص ::::: ::::: ص ::::: ::::: S ::::: :::::
ض ::::: ::::: ض ::::: ::::: dh, z, dz ::::: :::::
ط ::::: ::::: ط ::::: ::::: T ::::: :::::
ظ ::::: ::::: ظ ::::: ::::: Z ::::: :::::
ع ::::: ::::: ع ::::: ::::: e, vowel ::::: :::::
غ ::::: ::::: غ ::::: ::::: Gh ::::: :::::
ف ::::: ::::: ف ::::: ::::: f, ph, gh, v ::::: :::::
ق ::::: ::::: ق ::::: ::::: q, k, qu ::::: ::::: اسے قاف قرشت بھی کہتے ہیں
ک ::::: ::::: ک ::::: ::::: K ::::: ::::: اسے کاف کلمن بھی کہتے ہیں
گ ::::: ::::: گ ::::: ::::: g, gu ::::: ::::: اسے کاف عجمی کہتے ہیں
ل ::::: ::::: ل ::::: ::::: L ::::: :::::
م ::::: ::::: م ::::: ::::: M ::::: :::::
ن ::::: ::::: ن ::::: ::::: N ::::: ::::: آواز: ن اور ں کے بین بین
و ::::: ::::: و ::::: ::::: v, w, vowel o ::::: :::::
وِ ::::: ::::: واوِ معدولہ ::::: ::::: ::::: ::::: یہ فارسی سے خاص ہے
ہ ، ھ ::::: ::::: ہ ::::: ::::: h, hh ::::: ::::: اسے ہائے ہوز بھی کہتے ہیں
ء ::::: ::::: ء ::::: ::::: vowel a, e, i ::::: :::::
ی، ے ::::: ::::: ی، ے ::::: ::::: y, vowel ee i ::::: :::::
آ ::::: ::::: آ ::::: ::::: vowel aa ah ::::: ::::: اسے الف ممدودہ کہتے ہیں
شذرات
الف:متحرک ہونے کی صورت میں یہ ناطق ہوتا ہے اور صوتیت (اس پر واقع ہونے والی حرکت کے مطابق) انگریزی کےinitial vowel مصداق ہوتی ہے۔ ساکن ہو تویہ حرف علت ہوتا ہے اور اس سے پہلا حرف مفتوح سمجھا جاتا ہے۔ فارسی لہجے کے مطابق الف علت کی حرکت واو علت کی طرف مائل ہوتی ہے۔
واو: واوِ علت سے پہلا حرف مضموم سمجھا جاتا ہے۔ فارسی لہجے کے مطابق واوِعلت کی حرکت اردو کے واوِمجہول اور عربی کے واوِمعروف کے بین بین ہوتی ہے۔ واوِ علت کا ماقبل مفتوح ہو تو یہ واوِ لین بن جاتا ہے۔
یائے: یائے علت کو اس کی شکل (ی یا ے) سے قطع نظر یائے معروف پڑھا جاتا ہے، اور اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اس صورت میں یہ یائے لین بن جاتا ہے۔
ہ اور ھ: فارسی میں چونکہ مرکب حروف بھ، پھ وغیرہ نہیں ہوتے اس لئے یہ دونوں صورتیں ہائے ہوز کی ہوتی ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ ہائے مجزوم سے پہلا حرف کو مکسور ہوتا ہے،ماسوائے نَہ (نہیں)، بَہ (ساتھ) کے یا جہاں اسکے ماقبل پر بالفعل فتحہ یا ضمہ واردہو۔ اردو میں قاعدۂ کسرہ کی سختی سے پابندی نہیں جاتی اور اکثر مقامات پر اس کے ماقبل کو مفتوح سمجھ لیا جاتا ہے۔
واوِ معدولہ: یہ فارسی کے ساتھ خاص ہے۔اسے واو سے ممتاز کرنے کے لئے اس کے نیچے علامت کسرہ سے ملتی جلتی علامت لگا دی جاتی ہے۔ واوِ معدولہ صرف خ کے بعد آتا ہے اور وہ بھی ہر جگہ ضروری نہیں ۔ عمومیت کے لئے جان لیں کہ جہاں خو (خ و) کے فوراً بعد ا، د، ر، ش، ے میں سے کوئی حرف واقع ہو تو ایسی واو پر واوِ معدولہ کا احتمال ہوتا ہے بشرطیکہ اس طرح بننے والا لفظ فارسی الاصل ہو۔ مثلاً: خواب، خوار، خواہش، خود، خودی، خورشید،خوردہ، خوش، خوشا، خویش، وغیرہ میں واو معدولہ ہے جب کہ خوف،خوب،خون، وغیرہ میں واوِ علت ہے۔اور خواص، اخوان،خواتین، وغیرہ میں یہ واوناطق ہے۔
*
یہاں تک کی بحث میں حرف اور لفظ کی بہت تکرار ہوئی ہے۔ تکرار مزید نے بچنے کے لئے مناسب ہے کہ حرف، لفظ اور کلمہ کی توضیح ہو جائے۔ حرف سے عام طور پر حرف ہجاء مراد لیا جاتا ہے ،حرفوں کے ملنے سے الفاظ بنتے ہیں۔ کلمہ وہ لفظ یا حرف ہے جس کا کوئی مفہوم بنتا ہو،اس کا متضاد مہمل کہلاتا ہے۔ فارسی میں ایک حرف پر مشتمل کلمات بھی ملتے ہیں۔ علم صرف میں ف، ع، ل کو حرف کی بجائے کلمہ کہا جاتا ہے۔ اسم فعل اور حرف مل کر جملہ یا مرکب تام بناتے ہیں۔ اس حوالے سے حرف ضروری نہیں کہ اکیلا حرفِ ہجا ہو، یہ دراصل کلمات ہوتے ہیں جنہیں اصطلاحاً حرف کہا جاتا ہے اور حرفِ عطف، حرفِ جر، حرفِ اضافت وغیرہ اسی ذیل میں آتے ہیں۔
کلمات کی صوتیت اور اعراب کے تعین کے لئے ان کے اصل کا معلوم ہونا از بس ضروری ہے۔ مصدر کو لے لیں۔ مصدر اسمِ معرفہ کی وہ صورت ہے جس کے معانی میں کسی کام کا واقع ہونا (زمانے کے تعین کے بغیر) پایا جائے۔ اردو میں اس کا متقابل فعل تام اور انگریزی میں infinitive verb کہلاتا ہے۔ عمومی گفتگو میں فعل تام کو مصدر بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ فارسی کا مصدر ایک یا ایک سے زائد کلمات پر مشتمل ہو سکتا ہے،تاہم کلیہ یہ ہے مصدر کا قافیہ ہمیشہ تَن یا دَن ہو گا۔کوئی تیسریْ صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ قافیہ سے پہلے واقع ہونے والے حروف اور ان کی حرکات متعین ہیں اور اِس میں ہمیں اہل زبان کا تتبع کرنا ہو گا۔ اسی طور پر مضارع کے الفاظ بھی متعین ہیں، تاہم وہاں شرط یہ ہے کہ مضارع کا آخری حرف بہر صورت دال مجزوم ہوتا ہے اور اس سے ماقبل پر ہمیشہ زبر (فتحہ) واقع ہوتا ہے۔ مصدر کا نون ہٹا کر آخری حرف کو ساکن کرنے سے فعل ماضی حاصل ہوتا ہے۔ اردو میں فعل تام کی علامت یہ ہے کہ اس کے آخر میں ہمیشہ نا آتا ہے۔ اسی طرح انگریزی کا infinitive verb ہمیشہ to سے شروع ہوتا ہے اور to کے بعد verb کی پہلی فارم آتی ہے۔ یہاں بھی ہمیں اہلِ زبان کا تتبع کرنا ہوتا ہے۔ مصدر سے حاصل ہو نے والے مشتقات کا ذکر آگے آئے گا۔
جملہ مصادر، اُن کے مضارع اور اعراب کا احاطہ اس مضمون میں قطعاً ممکن نہیں۔ جدول : ب میں نمونے کے چند مصادر پر مختصر بحث کی جا رہی ہے۔
جدول : ب نمونے کے مصادر، مضارع اور تلفظ
مصدر ::::: ::::: تلفظ ::::: ::::: اردو مصدر ::::: ::::: infinitive verb ::::: ::::: مضارع ::::: ::::: تلفظ ::::: ::::: فعل ماضی
آمدن ::::: ::::: آ مَ دَن ::::: ::::: آنا ::::: ::::: to come ::::: ::::: آید ::::: ::::: آ یَد ::::: ::::: آمد
گفتن ::::: ::::: گُف تَن ::::: ::::: کہنا ::::: ::::: to say ::::: ::::: گوید ::::: ::::: گو یَد ::::: ::::: گُفت
شستن ::::: ::::: شُس تَن ::::: ::::: دھونا ::::: ::::: to wash ::::: ::::: شوید ::::: ::::: شو یَد ::::: ::::: شُسْت
نمودن ::::: ::::: نَمُو دَن ::::: ::::: دکھانا ::::: ::::: to show ::::: ::::: نماید ::::: ::::: نُ ما یَد ::::: ::::: نمود
رُستن ::::: ::::: رُس تَن ::::: ::::: اُگنا ::::: ::::: to grow ::::: ::::: روید ::::: ::::: رُو یَد ::::: ::::: رُست
کردن ::::: ::::: کَر دَن ::::: ::::: کرنا ::::: ::::: to do ::::: ::::: کند ::::: ::::: کُ نَد ::::: ::::: کرد
گرفتن ::::: ::::: گَ رِف تَن ::::: ::::: پکڑنا ::::: ::::: to catch ::::: ::::: گیرد ::::: ::::: گی رَد ::::: ::::: گرفت
شنیدن ::::: ::::: شُ نی دَن ::::: ::::: سُننا ::::: ::::: to hear ::::: ::::: شنود ::::: ::::: شُن وَد ::::: ::::: شنید
آوردن ::::: ::::: آ وُر دَن ::::: ::::: لانا ::::: ::::: to bring ::::: ::::: آرد ::::: ::::: آ رَد ::::: ::::: آوُرد
دیدن ::::: ::::: دی دَن ::::: ::::: دیکھنا ::::: ::::: to see ::::: ::::: بیند ::::: ::::: بی نَد ::::: ::::: دید
دویدن ::::: ::::: دَ وِی دَن ::::: ::::: دوڑنا ::::: ::::: to run ::::: ::::: دود ::::: ::::: دَ وَد ::::: ::::: دَوِید
نوشتن ::::: ::::: نَ وِش تَن ::::: ::::: لکھنا ::::: ::::: to write ::::: ::::: نویسد ::::: ::::: نَ وِی سَد ::::: ::::: نَوِشت
خندیدن ::::: ::::: خَن دی دَن ::::: ::::: ہنسنا ::::: ::::: to laugh ::::: ::::: خندد ::::: ::::: خَن دَد ::::: ::::: خندید
ساختن ::::: ::::: سا خْ تَن ::::: ::::: بنانا ::::: ::::: to mak ::::: ::::: سازد ::::: ::::: سا زَد ::::: ::::: ساخْت
برخاستن ::::: ::::: بَر خا سْ تَن ::::: ::::: اُٹھنا ::::: ::::: to stand u ::::: ::::: برخیزد ::::: ::::: بَر خے زَد ::::: ::::: برخاسْت
شناختن ::::: ::::: شَ نا خْ تَن ::::: ::::: پہچاننا ::::: ::::: to recognize ::::: ::::: شناسد ::::: ::::: شَ نا سَد ::::: ::::: شناخْت
انگیختن ::::: ::::: اَن گے خْ ت ::::: ::::: ابھارنا ::::: ::::: to arouse ::::: ::::: انگیزد ::::: ::::: اَن گے زَد ::::: ::::: اَنگیخْت
گریستن ::::: ::::: گَ ری سْ تَن ::::: ::::: رونا ::::: ::::: to weep ::::: ::::: گرید ::::: ::::: گِر یَد ::::: ::::: گریسْت
داشتن ::::: ::::: دا شْ تَن ::::: ::::: رکھنا ::::: ::::: to keep ::::: ::::: دارد ::::: ::::: دا رَد ::::: ::::: داشْت
خواندن ::::: ::::: خا نْ دَن ::::: ::::: پڑھنا ::::: ::::: to read ::::: ::::: خواند ::::: ::::: خا نَد ::::: ::::: خوانْد
بردن ::::: ::::: بُر دَن ::::: ::::: لے جانا ::::: ::::: to take ::::: ::::: برد ::::: ::::: بَ رَد ::::: ::::: بُرْد
بودن ::::: ::::: بُو دَن ::::: ::::: ہونا ::::: ::::: to be ::::: ::::: بود ::::: ::::: بَ وَد ::::: ::::: بوُ د
شذرات:
۱۔ اس فہرست میں درج آخری تین مصادر (خواندن،بردن، بودن) کے مضارع اور فعل ماضی اعراب نہ لگے ہونے کی صورت میں یکساں نظر آتے ہیں۔ عام طور پر اعراب لگائے نہیں جاتے اور قواعد سے نابلد قاری مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔بالفاظِ دیگر: تقریباً جملہ مشتقات کے اعراب اور تلفظ کا فیصلہ قواعد کرتے ہیں، اور ان اعراب میں تبدیلی بھی کسی نہ کسی قاعدے کے تحت ہوتی ہے۔ مختلف لہجوں اور اسالیب کی وجہ سے التباس البتہ پیدا ہو جاتا ہے، جس کا بہترین حل مطالعہ ہے۔ قاعدے کی تفہیم کے لئے ہم ان تینوں مصادر کے مذکورہ مشتقات کا تجزیہ کرتے ہیں: (۱) خواندن کاآخری ن ہٹا دیں، اُس سے پہلا حرف ازخودساکن ہو جائے گا ، اس طرح فعل ماضی خوانْد حاصل ہوتا ہے۔ جس کا تلفظ خانْد ہے ( خ کے بعد واوِمعدولہ ہے)۔ مضارع متعین ہے جس کے کلمہ ماقبل د (اس مضارع میں ن) پر قاعدے کے مطابق زبر آتا ہے اور علامتِ مضارع ( د) پر جزم۔ لہٰذا یہاں مضارع کا متن خوانَدْ ہے۔ (۲) بُردَن کا ن ہٹانے سے بُرد باقی بچا جو فعل ماضی ہے ، مضارع بَرَدْمذکورہ بالا شرائط پر پورا اترتا ہے۔ (۳) اسی قیاس اور قاعدے کے مطابق مصدر بُودَن کا فعل ماضی بُوْد اور مضارع بَوَدْ حاصل ہوتا ہے۔
۲۔ کچھ مصادر (ساختن برخاستن شناختن انگیختن گریستن داشتن) میں قافیہ تَن سے فوراً پہلے واقع ہونے والا حرف (جو عام طور پر خ، س، ش ہوتا ہے) ساکن مگر غیر مجزوم ہے۔مصدر اور فعل ماضی کے تلفظ کے کالموں میں ہم نے ایسے حروف پر ایک چھوٹا سا دائرہ بنا دیا ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کلمات کی قرأت میں اس خ، س، ش کو ہم نہ تو اس کے ماقبل سے ملا سکتے ہیں اور نہ مابعد سے۔ یہاں مصدر اور فعل ماضی کا تلفظ بالترتیب یوں ہو گا: سا خ تَن اور ساخ ت، بَر خا س تَن اوربَر خا س ت، شَ نا خ تَن اور شَ نا خ ت، اَن گے خ تَن اور اَن گے خ ت، گَ رِی س تَن اور گَ رِی س ت، دا ش تَن اور دا ش ت۔ بے شمار مصادر ایسے مزید ہیں مثلاً: فروختن (بیچنا) فروخت، اندوختن (سمیٹنا) اندوخت، سوختن (جلانا) سوخت وغیرہ۔ ایسے کلمات کی ادائیگی توجہ طلب ہوا کرتی ہے۔ان کو ساخَت، برخاسَت، شناخَت، انگیخَت، گریسَت، داشَت، فروخَت، اندوخَت، سوخَت پڑھنا غلط ہے۔
۳۔ مصادر آمدن،گفتن،شستن،نمودن،رُستن کے مضارع (آید، گوید، شوید، نماید، روید) میں علامت مضارع سے پہلے ی آتا ہے جسے بسا اوقات ہمزہ مکسور سے بدل دیتے ہیں (آئد،گوئد، شوئد، نمائد، روئد) اور اسے درست سمجھا جاتا ہے۔
*
مضارع سے علامتِ مضارع (د) ہٹا دیں تو فعل امر کا صیغہ واحد حاضر حاصل ہوتا ہے، اور یہی کلمہ اسم فاعل کا معنیٰ بھی دیتا ہے۔ بسا اوقات فعل امر سے پہلے بَ کا اضافہ کرتے ہیں، یوں وہ اسمِ فاعل سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ اہلِ زبان مضارع پر بَ داخل کرکے مضارع تاکیدی بناتے ہیں۔ جدول : ج میں مطالعہ مزید اور یائے غیر متلو کا قاعدہ پیش کیا جا رہا ہے۔
جدول : ج یائے غیر متلو
درجِ ذیل مصادر اور ان کے مشتقات کا بغور مطالعہ کیجئے:
مصدر ::::: ::::: مضارع ::::: ::::: اسمِ فاعل ::::: ::::: فعل امر (صیغہ واحد حاضر) ::::: ::::: مضارع تاکیدی
نوشتن (لکھنا) ::::: ::::: نویسد (لکھے) ::::: ::::: نویس (لکھنے والا) ::::: ::::: نویس، بنویس (لِکھ) ::::: ::::: بنویسد (لکھے)
نوشیدن (پینا) ::::: ::::: نوشد (پئے) ::::: ::::: نوش (پینے والا) ::::: ::::: نوش، بنوش (پی) ::::: ::::: بنوشد (پیوے)
رفتن (جانا) ::::: ::::: رَوَد (جائے) ::::: ::::: رَو (جانے والا) ::::: ::::: رَو، برَو (جا) ::::: ::::: بَرَوَدْ ( جاوے)
آموختن (سِکھانا) ::::: ::::: آموزد (سِکھائے) ::::: ::::: آموز (سِکھانے والا) ::::: ::::: آموز ، بیاموز (سِکھا) ::::: ::::: بیاموزد (سِکھاوے)

ان کے مقابلے میں درج ذیل فہرست ملاحظہ کیجئے اور فرق دیکھئے:
مصدر ::::: ::::: مضارع ::::: ::::: اسمِ فاعل ::::: ::::: فعل امر (صیغہ واحد حاضر) ::::: ::::: مضارع تاکیدی
آمدن (آنا) ::::: ::::: آید ::::: ::::: آ (آنے والا) ::::: ::::: آ، بیا (آ) ::::: ::::: بیاید (آوے)
آسُودن (آرام دینا) ::::: ::::: آساید ::::: ::::: آسا (آرام دینے والا) ::::: ::::: آسا،بیاسا (آرام دے) ::::: ::::: بیاساید (آرام دیوے)
گفتن (کہنا) ::::: ::::: گوید ::::: ::::: گو (کہنے والا) ::::: ::::: گو، بگو (کہہ) ::::: ::::: بگوید (کہے)
شُستن (دھونا) ::::: ::::: شوید ::::: ::::: شُو (دھونے والا) ::::: ::::: شُو، بشو ( دھو) ::::: ::::: بشوید (دھووے)
نمودن (دکھانا) ::::: ::::: نماید ::::: ::::: نما (دکھانے والا) ::::: ::::: نما، بنما(دکھا) ::::: ::::: بنماید ( دکھاوے)
رُستن (اُگنا) ::::: ::::: رُوید ::::: ::::: رُو (اُگنے والا) ::::: ::::: رُو، بَرُو (اُگ) ::::: ::::: بَرُوْیَد (اُگے)
شذرات:
۱۔ آموز، آموزد، آ، اور آمد پر جب بَ تاکیدی داخل ہوا تو یہاں ی کیونکر پیدا ہو گیا؟ ہوا یوں ہے کہ: الف ممدودہ (آ) جسے عرف عام میں الف مدّہ کہا جاتا ہے، عربی میں ہمزہ اور الف کا مجموعہ ہے۔ جب کہ فارسی اور اردو میں یہ دو(۲) الف کا مجموعہ مان لیا گیا ہے، صوتی اصل اس کی وہی ہے ۔ اس سے قبل بَ شامل ہونے سے لفظ کے اتنے حصے کا تلفظ بآ ہوتا جو خاصا مشکل ہے۔ اہلِ زبان نے ہمزہ کی جگہی کی آواز رکھ کر اسے آسان کر لیا، اور املاء میں بھی ہمزہ کی جگہ ی نے لے لی۔ اسے یائے غیر متلو پر محمول نہ کیا جائے، اس کا قاعدہ آگے آتا ہے۔ متعدد الفاظ ایسے بھی موجود ہیں (عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں) جہاں ایک متحرک حرف کے فوراً بعد ہمزہ (یا اس کا قائم مقام الف) متحرک آتے ہیں، مثلاً: مآل (نتیجہ)، کاآنی یا کآنی(ایک ایرانی قبیلہ)، کَآن (کہ آن)، کَاِین (کہ این)، وغیرہ۔ کآن، کاین کو کان اور کِین بھی لکھتے اور بولتے ہیں جبکہ معنیٰ یہی رہتا ہے۔
۲۔ اس جدول کی دوسری فہرست میں شامل مضارع یہ ہیں: آید، آساید، گوید، شوید، نماید، رُوید۔قاعدے کے مطابق فعل امر یا اسم فاعل بنانے کے لئے علامت مضارع (د) کو ہٹایا جائے تو بقیہ الفاظ کی املا بالترتیب آی، آسای، گوی، شُوی، نمای، رُوی بچتی ہے جس میں شامل ی اپنے ماقبل سے جڑی ہوئی نہیں ہے۔ اہل زبان ایسی ی کو ادا نہیں کرتے اور بسا اوقات لکھتے بھی نہیں۔ اس کو یائے غیر متلؤ کہتے ہیں (غیر متلؤ : جس کی تلاوت یا ادائیگی نہ کی جائے)۔ان کلمات میں ی کی جگہ ہمزہ مکسور بھی آ سکتا ہے اوراِن کی املاء آئد، آسائد،گوئد، شُوئد، نمائد، رُوئد ہو جاتی ہے۔ فارسی کا ایک عام قاعدہ یہ بھی ہے کہ کسی کلمہ کا آخری حرف الف علت یا واوعلت ہو تو وہاں یائے غیرمتلو کا ہونا تسلیم کر لیا جاتا ہے۔اس سے نہ معانی میں فرق پڑتا ہے اور نہ قواعدمیں۔ کیونکہ یائے غیر متلو اپنی اصل میں قائم رہتی ہے اور جب کہیں ایسے کلمے کو متحرک کرنا مقصود ہو(جمع، مرکب اضافی،مرکب توصیفی وغیرہ بنانے کے لئے) تو حرکت اس یائے غیرمتلو پر واقع ہوتی ہے اور اِسے متلو بنادیتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر ایسی یائے متلو پر کسرہ واقع ہو تو اسے ئے سے بدل دیتے ہیں۔ مرکب عطفی کی صورت میں بالعموم یہ غیر متلو رہتی ہے۔ مثال کے طور پر:
کلمہ ::::: ::::: مرکب،جمع وغیرہ ::::: ::::: کلمہ ::::: ::::: مرکب،جمع وغیرہ
خدا ::::: ::::: خدایان، خدائے بزرگ، خدا و اِنسان ::::: ::::: گو ::::: ::::: قصہ گویان، قصہ گوئے معروف،یاوہ گوئی
آسا ::::: ::::: دل آسایان، دل آسائے کودکان ::::: ::::: رُو ::::: ::::: خوب رُویان،رُوئے سخن
ادا ::::: ::::: ادائے ناز،خوش ادایانِ دشت، کج ادائی ::::: ::::: نوا ::::: ::::: خوش نوایانِ چمن، نوائے سروش
بو ::::: ::::: بوئے گل، خوشبویات ::::: ::::: سرا ::::: ::::: نغمہ سرایان، نوا سرائے صحرا، نوحہ سرائی
خدائے بزرگ،قصہ گوئے معروف، دل آسائے کودکان، روئے سخن، ادائے ناز، نوائے سروش، بوئے گل، نوا سرائے صحرا، کا حقیقی تلفظ خدایِ بزرگ،قصہ گوےِ معروف، دل آساےِ کودکان، روےِ سخن، اداےِ ناز، نواےِ سروش، بوےِ گل، نوا سراےِ صحرا تھاجسے آسانی کے لئے مذکورہ بالا املاء اور تلفظ دے دیا گیا۔
*
اردو اور فارسی کے تلفظ میں ایک نمایاں فرق کسی کلمہ کے آخر میں آنے والی ہائے ہوزکے معاملہ میں واقع ہوا ہے۔ بچہ، شگوفہ، آبلہ، سلسلہ، واقعہ، اور ایسے کلمات کو ادا کرتے ہوئے، ہم بلاتفریق حرف ما قبل ہائے ہوز کو مفتوح پڑھتے ہیں، یعنی: بچَّہ، آبلَہ، سلسلَہ، شگوفَہ، واقعَہ، و علیٰ ہٰذاالقیاس۔ اہلِ زبان کے ہاں ایسا نہیں، وہ حرف ماقبل ہائے ہوز کو مکسور پڑھتے ہیں یعنی: بچِّہ، آبلِہ، شگوفِہ۔ یاد رہے کہ واقعہ اور سلسلہ عربی الاصل کلمات ہیں۔ ان کے علاوہ بھی کچھ مستثنیات بھی ہیں، جیسے:نہَ (نہیں)، نہُ (نو، nine)، دَہ (دس، ten ) وغیرہ۔ جن کلمات میں ی ماقبل ہائے ہوز واقع ہو وہاں اسے مفتوح اور مکسور دونوں طرح بولنے اور لکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یاے کو،جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، ی اور ے دونوں طرح لکھتے ہیں اور یائے مجہول کی ادائیگی بھی کم و پیش یائے معروف کی طرح کرتے ہیں۔ واوِ مجہول کی ادائیگی قریب قریب واوِ معروف کی طرح کی جاتی ہے۔ مرکب کلمات پر اسباقِ فارسی میں بحث ہو چکی ہے۔
املاء، اعراب اور قرأت کی بہت زیادہ مثالیں دینے کی بجائے ہم نے اس مضمون میں کلمات کی تشکیل و تشقیق کو اہمیت دی ہے اور ایسے قواعد بیان کر دئے ہیں، جو اعراب کے تعین میں نمایاں اثر رکھتے ہیں۔حاصلِ بحث یہ ہے کہ اعراب اور قرأت کا انحصار بنیادی طور پر تو قواعد پر ہے۔ علاقائی اور مقامی لہجوں اور کسی کلمے کے ایک زبان سے دوسری زبان میں داخل ہونے کے عمل میں کسی نہ کسی سطح پر فرق واقع ہو سکتا ہے اور اس کی چنداں اہمیت نہیں۔

ہفتہ ۲۴؍ دسمبر ۲۰۰۶ء
 

زیف سید

محفلین
جناب آسی صاحب:

آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اس قدر عرق ریزی سے یہ اسباق تحریر کر کے محفل پر عنایت کیے۔ مجھے یقین ہے کہ میری طرح فارسی سیکھنے کے خواہش مند دوسرے احباب بھی ان سے بھرپور استفادہ کریں گے۔

ایک تجویز: اگر ممکن ہو تو اسباق تھوڑے تھوڑے کر کے دیے جائیں۔ اس سے ایک طرف تو پیش کردہ مواد کو ذہن نشین کرنے میں آسانی ہو گی، اور دوسرے اگر کسی کے ذہن میں کچھ سوال ہوں، یا مزید وضاحت درکار ہو تو ان کے جوابات دینے میں بھی سہولت ہو گی۔مثال کے طور پر اگر واوِ معدولہ، مرکبات اور دوسرے مسائل کے بارے میں نکات الگ سے پیش کیے جاتے تو شاید طلبا کو انہیں ’ہضم‘ کرنے میں زیادہ آسانی ہوتی۔ اس سلسلے میں دوسرے احباب بھی اپنی آرا سے آگاہ کر سکتے ہیں۔

دونوں صورتوں میں آپ کی محنت اور اہلیانِ محفل پر عالمانہ عنایت لائقِ صد تحسین ہیں۔

زیف
 
شکریہ سید صاحب
اپنی جھولی میں جو کچھ تھا، یہاں ڈھیری کر دیا ہے۔ ثقیل، قابض، ہاضم، منہضم، جیسا بھی ہے، رد و قبول کا اختیار سب کو حاصل ہے۔
تاہم اگر میں کسی سوال کا تسلی بخش جواب دینے کے قابل ہوا تو عرض کر دوں گا۔ بصورتِ دیگر بلکہ بصورتِ اول بھی آپ سے استفادہ کر لوں گا۔

ایک ضروری درخواست:۔
میری ان گزارشات میں کوئی بھی بات محلِ نظر دیکھیں تو اس کی نشان دہی ضرور کر دیں، تا کہ میں بھی اپنے تئیں درست کر سکوں۔ شکریہ

فقط ۔۔۔ محمد یعقوب آسی
 
Top