اسکین دستیاب آرائشِ محفل

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۴۱
پہلا قصہ
حسن بانو برزخ سوداگر کی بیٹی کے خراسان کے شہر سے نکالے جانے کا اور کسی جنگل سے زرو جواھر بے شمار اس کے ھاتھ آنے کا اور منیر شامی شہ زادے کے اُس پر عاشق ھونے کا اور حاتم کی مدد کرنے کا
سنا ھے کہ خراسان کے ملک میں ایک بادشاہ تھا کہ لاکھوں سوار پیادے اُس کی جلو میں ھمیشہ حاضر رھا کرتے تھے اور عدل و انصاف میں بھی ایسا تھا کہ باگھ بکری کو ایک ھی گھاٹ پانی پلاتا بلکہ اپنے بیٹے کا بھی پاس نہ کرتا۔
اُس کے وقت میں برزخ نام ایک سوداگر نہایت مال دار صاحب شکوہ تھا۔ اپنے گماشتوں کو ھر ایک ملک میں واسطے سوداگری کے مال و اسباب دے دے کر بھیجا کرتا اور آپ اسی ملک میں ساتھ دل جمعی کے رھتا۔ رسوخیت بادشاہ سے بھی اُس نے نہایت مرتبے بہم پہنچائی تھی اور بادشاہ کی بھی اس پر کمال مہربانی تھی۔
بعد ایک مدت کے قریب مرگ کے پہنچا، پیالہ اُ س کی زندگی کا بھرنے لگا۔ وہ سوائے حسن بانو کے کوئی بیٹا بیٹی وارث نہ رکھتا تھا؛ چنانچہ مال و اسباب اُس کا اسی لڑکی کو

صفحہ ۴۲
پہنچا اور اس وقت وہ بارہ برس کی تھی۔ آخر اس نے اسی کو اپنے گھر کا مالک کیا اور بادشاہ کے سپرد کر کے آپ ملک عدم کا رستہ پکڑا۔
بادشاہ نے بھی اُسے اپنی لڑکیوں کی طرح سے رکھا اور زروجواھر کا اس کے کچھ لالچ نہ کیا بلکہ وہ اسباب سب کا سب اسی کو بخشا۔
بعد چند روز کے جب وہ لڑکی شعور مند ہوئی ، تب اپنے ذہن کی رسائی سے اور نیک بختی کے باعث سے دائی کو بلا کر کہنے لگی کہ اے مادر مہربان!دنیا مثل حباب ھے، اُس کا مٹنا کچھ بڑی بات نہیں۔ اس قدر دولت دنیا لے کر میں تن تنہا کیا کروں گی؛ جس سے مصلحت نیک یہی ھے کہ اس کو خدا کی راہ میں لٹا دوں اور اپنے تئیں آلایش دنیوی سے پاک رکھوں اور شادی بیاہ بھی نہ کروں بلکہ یاد خدا ھی میں روز و شب مشغول رھوں ۔ اس واسطے تم سے پوچھتی ھوں کہ اس سے ۱کسی صورت سے چھٹکارا پاؤں؛ جو مناسب جانو سو کہو۔
دائی نے پہلے دونوں ھاتھوں سے بلائیں لیں اور کہا کہ اے جاں مادر! تو ان ساتوں سوالوں کا ایک اشتہار نامہ لکھ کر اپنے دروازے پر لگا دے اور یہ کہہ کہ جو کوئی میرے ساتوں سوال پورے کرے گا، میں اُس ھی کو قبول کروں گی؛ وے ساتوں سوال یہ ھیں:
پہلا سوال تو یہ ھے کہ ایک بار دیکھا ھے دوسری دفعہ کی ھوس ھے۔

۱۔ ’اس سے‘۔ نسخہء مکتوبہ (ص ۸) میں نہیں۔


صفحہ ۴۳
دو سرا سوال یہ ھے کہ نیکی کر اور پانی ۱ میں ڈال۔
تیسرا سوال یہ ھے کہ بدی کسی سے نہ کر ، اگر کرے گا تو وھی پاوے گا۔
چوتھا سوال یہ ھے کہ سچ کہنے والے کے ھمیشہ ھی راحت آگے۔
پانچواں سوال یہ ھے کہ ”کوہِ ندا “کی خبر لاوے۔
چھٹا سوال یہ ھے کہ وہ موتی جو مرغابی ۲کے انڈے برابر بالفعل موجود ھے، اُس کی جوڑی پیدا کرے۔
ساتواں سوال یہ ھے کہ” حمام بادگرد “کی خبر لاوے۔
حسن بانو نے اس دائی کی اس بات کو پسند کیا او ر خوش ھو کر ۳ اپنے جی میں کہا کہ وہ شخص ایسا کون سا ھے جو ان ساتو ں سوال کے جواب بہم پہنچائے گا۔ اسی گمان پر وہ اپنے تئیں آٹھوں وقت روزے نماز میں مشغول رکھتی تھی۔
اتفاقاً ایک دن اپنے کوٹھے پر بیٹھی ھوئی بازار کا تماشا دیکھ رھی تھی کہ اتنے میں ایک فقیر نہایت بزرگ صورت ، ظاھر درست، چالیس خادموں کو ساتھ لیے ھوئے اسی ۴ کی طرف گزرا اور پاؤں بھی زمین پر نہ رکھتا تھا؛ چنانچہ وھی اس کے ساتھی سنگاتی سونے روپے کی اینٹیں قدم کے تلے دھر دھر دیتے تھے، وہ ان پر پاؤں رکھتا ھوا چلا جاتا تھا۔

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص ۸) میں ”دریا “ھے۔
۲۔ مرغابی برابر۔ لیکن نسخہ ٔ مکتوبہ (ص ۸) میں ”مرغابی کے انڈے برابر “ھے۔
۳۔ ھو ھو کر۔ (نسخہ ٔ مکتوبہ ص ۸)
۴۔ اُس کی طرف سے گزرا۔ (نسخۂ مکتوبہ ص ۹)

صفحہ ۴۴
اس احوال سے جو حسن بانو نے اسے آتے دیکھا تو نہایت اپنا جی خوش کیا اور دائی سے کہا کہ اے اماں جان! یہ فقیر بڑا صاحب کمال معلوم ھوتا ھے جو اس شان و شوکت سے راہ چلتا ھے۔
اس نے کہا کہ اماں واری! یہ بادشاہ کا پیر ھے؛ ھر مہینے میں دو چار بار بادشاہ اس کے یہاں جاتا ھے اور یہ بھی کبھی کبھی اس کے پاس آتا ھے۔ اس کے برابر اب دنیا میں کوئی عمدہ درویش نہ ھو گا کیوں کہ یہ نہایت پرھیزگار ۱متقی ھے۔
حسن بانو نے اس سخن کو سن کر کہا کہ اگر تم پروانگی دو تو میں اس درویش کی مہمانی کروں ۔ گھڑی دو گھڑی کے واسطے اپنے گھر بلا کر تکلیف دوں اور اپنی آنکھیں اس کے قدموں پر ملوں۔
دائی نے کہاکہ جانی !یہ کیا ۲بات، تجھ کو مبارک ھو، اس کام کو کر بیٹھ ندھڑک۔ مثل مشہور ھے ”آنکھوں سکھ کلیجا ٹھنڈک۔“
غرض اُس نے کسی شخص کے ھاتھ اُس فقیر کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ اگر کسی روز بطور بزرگوں کے میرے گھر کو اپنے قدم مبارک سے روشن کرو اور تشریف فرما ھو تو یہ کم ترین دونوں جہاں کی دولت حاصل کرے اور اپنی مراد کو پہنچے۔
وہ گیا او ر احوال اس کی آرزو کا سنا کر کہنے لگا کہ بزرگوں کو لازم ھے کہ خوردوں پر مہربانی کریں۔ اس بات کو

۱۔ پرھیزگارو متقی۔ (نسخۂ مکتوبہ ص ۹)
۲۔ ’کیا‘ نسخۂ مکتوبہ (ص۹) میں نہیں ھے۔


صفحہ ۴۵

اُس نے قبول کیا اور کہا کہ البتہ میں آؤں گا کیوں کہ۱ سنت نبوی ھے۔ جو کوئی اُس سے پھرے سو جہنم میں پڑے؛ مگر آج کے دن مجھے ۲کچھ کام ھے، کل صبح کو آؤں گا۔
اس خبر کے سنتے ھی اس نے اقسام اقسام کے کھانے پکوائے اور کئی خوان میووں او ر مٹھائی کے تیار کیے اور کئی کشتیاں شاہ صاحب کی نذر کے واسطے ابریشمی ۳، زربافی زرو جواھر اور ۴ روپے اشرفیوں کی بھی درست کر رکھیں؛ اس اُمید پر کہ درویش زمانہ کل آویں گے تو میں ان کو ان کے آگے دھروں گی اور عجزو انکسار سے پاؤں پر گر پڑوں گی، کہ اتنے میں صبح ھوئی کہ وہ درویش اُنھیں چالیسوں فقیروں کے ساتھ اپنی عادت قدیم سے سونے روپے کی اینٹوں پر پاؤں رکھتا ھوا حسن بانو کے گھر تک آ پہنچا۔
ابیات
کہوں وصف اس کے میں اب تم سے کیا
وہ ظاھر میں انسان تھا مسخرا
جو باطن پہ اس کے کروں میں نظر
تو شیطان سے بھی ھے ابلیس تر
نہ بالے کا خطرہ نہ بوڑھے کا غم
وہ ھے قتل کرنے میں تیغ دو دم
اور حسن بانو نے دروازے سے لے کر نشست گاہ تک فرش زری باف پہلے ھی سے کروا رکھا تھا۔ وہ اس کو روندتا ھوا

۱۔ کہ یہ۔ (نسخۂ مکتوبہ ص۱۰) میں ھے۔
۲۔ کام ھے کچھ مجھے۔(نسخۂ مکتوبہ ص۱۰)
۳۔ ابریشمی و۔(نسخۂ مکتوبہ ص۱۰)
۴۔ و۔(نسخۂ مکتوبہ ص۱۰)
 
صفحہ نمبر 61
وہ یہ عرض کر ہی رہا تھا،اتنا میں ماہ روشا آیا اور مجرا قواعد بادشاہی سے کر کے ایک کرسی جوہر نگار پر بیٹھ گیا ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ اے فرزند ارجمند ! شب کیا تمہاری حویلی میں چور پڑے تھے ؟
اس نے کہا کہ جہاں پناہ کوتوال بر وقت پہنچا ، نہیں تو گھر لٹتا اور میں مارا جاتا ۔
یہ سنا جر بادشاہ نہیں کہا کہ ان چوروں کو ہمارے سامنے لاو ۔
وہیں وے اسی طرح ان کو باندھے ہوئے لے آئے ۔
بادشاہ ہنسا اور کہنے لگا کہ اے فرزند ! یہ تو ہمارے ارزق شاہ صاحب معلوم ہوتے ہیں ، ان کو اور نزدیک لاو۔
غرض وے اور نزدیک آئے اور بخوبی پہچانے گئے تو وہی شاہ صاحب تھے اور وہی ان کے چالیسوں مرید ۔ پھر کوتوال کو حکم کیا کہ تو ان کی گٹھڑیاں اور کمریں کھول،اسباب دکھلا ۔ اس نے ان کا جھاڑا لیا تو ہرایک کے پاس سے مال اور کمندیں اور پھانسیاں نکلیں ، بلکہ ارزاق کی کمر سے بھی طاوس مرصع اور کئی پھانسیاں ہاتھ آئیں۔ بادشاہ اس حال کو دیکھ کر معتجب ہوا اور غضب سے کہنے لگا کہ ابھی ان کو سولی دو کہ پھر کوئی ایسی دغا بازی نہ کرے ۔
وہاں زبان ہلانے کی دیر تھی ، جلاد نے ہر ایک کا کام تمام کر دیا ۔
حسن بانو نے جو دیکھا کہ دشمن اپنے ساتھوں سمیت مرا پڑا ، کرسی سے اٹھی اور ہاتھ باندھ کر عرض کرنے لگی
 
صفحہ نمبر 62

کہ جہاں پناہ ! یہ لونڈی خانہ زاد موروثی برزخ سوداگر کی بیٹی ہے ۔ حضرت نے اس فقیر بے حیاء کے واسطے اس لونڈی کو شہر بدر کیا تھا ، اس عاجزہ کی تقصیر نہ تھی ۔ چنانچہ میرے باپ کا تمام مال اسی کے گھر میں ہے ۔ اگر خداوند اس کو کھدوا دیں تو نکلے ہی نکلے اور جھوٹھ ( جھوٹ ) سچ اس باندی کا حضور پرنور میں ظاہر ہووے ۔
بادشاہ نے حسرت سے انگیاں کاٹیں اور فرمایا کہ ازراق کا گھر کھو دیں ۔ اور حسن بانو کی تحسین و آفرین بہت سی کی ۔
آخر کار جب اس مکان کو کھودا تو تمام مال برزخ سوداگر کا نکلا ۔ حسن بانو نے اس کو بادشاہ ہی کی نظر کیا اور عرض کی کہ خداوند ! یہ کم ترین امیدوار اس بات کی ہے کہ اگر آپ اس بے کس کے گھر قدم رنجہ فرماویں تو یہ باندی بہت کچھ رکھتی ہے ۔ سب کا سب حضور میں گزارنے اور اپنی حقیقت ظاہر کرے ۔
بادشاہ نے اس کی عرض قبول کر لی ۔
وہ حضور سے رخصت ہو کر اپنے ملک میں آئی اور تمام شہر کی آئینہ بندی کروا کے محل کو بھی فرش فروش سے آراستہ کیا ۔
بعد دو تین دن کے بادشاہ نے اس کے شہر کی طرف کوچ کیا ۔ جب نزدیک جا پہنچا ، وہ اپنی سپاہ سمیت استقبال کو ایک تکلف سے شہر کے باہر آئی اور قدم بوس ہو کر بخوبی اہتمام کرتی ہوئی محل میں لے گئی ۔ ایک مسند شاہانہ پر بیٹھلا کر دوسرا طاوس مرصع اور کئی خوان زر و جوہر کے آگے رکھے ۔
بادشاہ ان کو دیکھ کر نہایت خوش ہوا ۔ پھر اس نے
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
69 ۔ 73

صفحہ نمبر 69


شہہ زادے ، وزیر زادے آئے اور انہیں سوالوں میں گرفتار ہو ہو کر کتنے کافور ہو گئے اور بہتیرے مر مٹے ، ہر سوال اس کا ایک بھی پورا نہ کر سکا ۔

القصہ منیر شامی اس کی تصویر کو اپنی بغل میں دابے ہوئے جنگل جنگل مانند بگولے کے پھرتا تھا پر کہیں مطلب کا کھوج نہ پاتا تھا ۔


اتفاقاً پھرتے پھرتے ایک دن متصل یمن کے ایک جنگل میں جا نکلا اور کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر مانند ابر بہار کے زار و نزار رونے لگا ۔


حاتم بھی اسی روز یہیں شکار کھیلنے گیا تھا ۔ اتنے میں ایک آواز درد ناک اس کے کان میں پڑی ۔ اس نے اپںے لوگوں سے کہا کہ اس آواز کی خبر لاؤ ، دیکھو تو اس بیاباں میں ایسا ستم رسیدہ کون ہے جو اس قدر پھوٹ پھوٹ کر روتا ہے ۔


غرض کئی شخص گئے اور آ کر عرض کرنے لگے ” اے خداواند ! ایک شخص نوجوان ، خوب صورت ، بطور فقیروں کے فلانے درخت تلے بیٹھا روتا ہے ؛ نہ آنکھیں کھولتا ہے ، نہ کسی سے کچھ بولتا ہے ۔


حاتم اس بات کے سنتے ہی اس کی طرف تںہا آیا ۔ چپکا کھڑا رہ ، دور سے تماشا دیکھنے لگا ۔ وہ بے خبر رو رو آہیں بھرتا تھا ، اور اپںے جگر کے ٹکڑے کرتا تھا ۔ یہ حالت اس کی دیکھتے ہی بے تاب ہو گیا ؛ آنکھوں میں آنسو بھر لایا اور اپنے جی میں کہنے لگا ” یا الہی اس پر ایسا حادثہ کیا پڑا ہے جو احوال اس کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس کا ۔ نسخۂ مکتوبہ ( ص ٣٥ ) نہیں ہے




ص 70



ایسا ہو گیا ہے ۔ “ غرض اپنے گھوڑے سے اترا ، اس کے سرہانے جا کھڑا ہوا اور ترحم سے پوچھنے لگا ” اے جوان رعنا ! تجھ پر ایسی کیا مصیبت پڑی جو تیری یہ حالت ہے ؟ “


اس نے سر اٹھا کر جو دیکھا تو ایک شخص نوجوان ، مہر جبیں ، سر و قد ، با زلف مشکیں ، بادشاہوں کی سی پوشاک پہنے ہوئے احوال پوچھتا ہے ۔


جب اس نے اس الفت و شفقت کے ساتھ اسے دیکھا ، بے اختیار بول اٹھا ” اے بھائی ! کیا کہوں ، نہ طاقت تقریر کی ہے ، نہ قدرت تحریر کی ؛ سوائے اس کے ایسا کوئی نظر نہیں آتا جو میرا درد دل سنے اور اس کا علاج کرے ۔ “


حاتم نے کہا ” تو خاطر جمع رکھ اور مجھ سے کہہ کیوں کہ میں نے خدا کی راہ میں کمر باندھی ہے ، تیرے بھی کام کرنے میں قصور تا مقدور نہ کروں گا ۔ اگر دولت دنیا درکار ہے تو ابھی لے اور اگر کسی دشمن نے ستایا ہے تو اس کو میرے سامنے کر دے ؛ یا ماروں گا یا آپ ہی رہوں گا ۔ اگر معشوق کے ملنے کی آرزو رکھتا ہے تو وہ بے سعی نہیں مل سکتا ، اس کی تدبیر کروں گا ؛ خدا کے فضل سے اس کو بھی تجھ سے ملا دوں گا ۔

اگر سر کا طالب ہے تو یہ بھی حاضر ہے ۔“


منیر شامی نے جو اس ڈھب کی باتیں سنی ، آفرین و مرحبا کہہ کر دعائیں دیں ” اے جوان صاحب وفا ! تو سلامت رہے جو ہم غریبوں کو دلاسے دیتا ہے ۔ “


یہ کہہ کر وہ تصویر اپںی بغل سے نکالی اور اسے دکھلا کر پوچھا ” اب تو ہی بتلا کہ بن دیکھے اس کے کیوں کر



ص 71


جیوں اور اپنا حال کیوں نہ تباہ کروں “


حاتم نے جو وہ شکل دیکھی ، بھچک ' رہ گیا ۔ پھر کہنے لگا ” حق بہ طرف تیرے ہے پر اتنا بے تاب نہ ہو ، ٹک صبر کر ، خاطر جمع رکھ ، خدا سے دھیان لگا ، نا امید مت ہو ۔ میں بھی تیرے کام میں قصور نہ کروں گا ۔ جب تک تیرا یار تجھ سے نہیں ملاتا ٢ تب تک تیرا ساتھ نہیں چھوڑتا ۔ “


غرض اس طرح تسلی دے ، ڈھارس بندھا کر یمن میں لے گیا ۔ وہاں حمام کروایا ، پوشاک بدلوائی ، ضیافتیں کھلائیں ، ناچ دکھائے ؛ دو چذر روز اس طور سے مشغول رکھا ، پھر ایک دن اسے اداس دیکھ کر کہا ” اے عاشق صادق ! میں تجھے ٹالتا نہیں ، اب تیرے مطلب کی تلاش کرتا ہوں اور کمر کوشش کی باندھتا ہوں ۔ “


شہ زادہ بولا ” میرے کام کا آغاز ، انجام نہیں رکھتا ۔ میں روادار نہیں کہ تو عیش و عشرت چھوڑے اپنے تئیں محنت و مشقت میں ڈالے ۔ “

حاتم بولا ” گو تو نہیں چاہتا نہ چاہ ، پر میں اپنے سخن کو ٣ نباہوں گا اور تجھے تیری محبوبہ سے اگر جیتا بچا تو ٤ ملاؤں گا ۔ غرض اپنے ارکان دولت کو جمع کر کے فرمایا کہ جس صورت سے مسافروں کو مکان ، بھوکوں کو کھانا ، ننگوں کو

………………………………


١۔ بھچک ۔ نسخۂ مکتوبہ ص ٣٧ ) ۔

٢۔ نسخۂ مطبوعۂ بمبئی (ص ٣٠) ”ملا “ اور نسخۂ مکتوبہ (ص ٣٧) میں ملاتا ہے ۔

٣۔ تا مقدور ۔ ( نسخۂ مکتوبہ ص ٣٨) ۔

٤۔ تو نسخۂ مکتوبہ( ص ٣٨ ) میں نہیں ہے ۔



ص 72



کپڑا ، مفلسوں کو خرچ جیسے ١ میرے سامنے ملتا ہے اسی طرح سے میرے آنے تک ملا جائے تاکہ یہ کوئی نہ کہے کہ حاتم اس شہر میں نہیں ، اب کون کسی کو دے ۔ اس امر میں تساہل و تغافل نہ کرنا بلکہ یہ کاروبار بہ خوبی جاری رکھنا ۔


اس طرح سے ان کو سمجھا بجھا دیا اور آپ منیر شامی کے ساتھ ٢ شاہ آباد کا رستہ پکڑا ٣


کتنے دنوں میں وہاں جا پہنچا ۔ حسن بانو کے لوگ جو مہمان داری پر مقرر تھے ، پیشوا آ کر اس کو مہمان سرا میں لے گئے ۔ قسم قسم کے کھانے لے جا کر رو برو رکھے ۔ اشرفی روپے بھی بہت سے حاضر کیے اور بہ منت التماس کیا کہ آپ بے تکلف کھانا نوش جان کیجیے اور زر سرخ و سفید جس قدر درکار ہو بے تامل لیجیے ۔


اس نے کہا ، ” اے بندگان خدا ! میں محتاج روٹی کا اور طالب زر و جواہر کا ہو کر نہیں آیا ہوں ۔ حق تعالیٰ نے مجھ کو بھی بہت سے روپے دیے ہیں اور بہت سے ملکوں کا سردار کیا ہے ۔ میری تو آرزو بہت بڑی ہے ۔


لوگوں نے اس بات کو سن کر حسن بانو سے کہا کہ حاتم نام ایک شخص تازہ وارد تمہارے سوالوں کے جواب دینے پر مستعد ہے لیکن منیر شامی بھی اس کے ساتھ ہے ۔ اس نے اس مذکور کو سن کر ان دونوں کو بلوا لیا ۔


جب وہ آئے ، تب چلون کی اوٹ ہو بیٹھی اور پوچھنے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


١. جیسے نسخۂ مکتوبہ (ص ٣٨ ) پر نہیں

٢. ہمراہ ۔ (نسخۂ مکتوبہ ص ٣٨ )

٣ ۔ پکڑا ” ” ”



ص 73


” تمہارا کیا احوال ہے ؟ “


حاتم نے کہا ” شکر ہے جیتے تو ہیں مگر اے مہر لقا ! اپنے مبتلا کو ذرا صورت دکھلا کہ اس کے دل کو اند کے تسکین ہو جائے اور کچھ زندگانی ' کا پھل پائے ۔ “


وہ بولی ” اے بندۂ خدا ! میں نا محرم کے سامنے کیوں کر ہوں اور کس طرح سے اپنا دیدار دکھاؤں ؟ ہاں مگر جو کوئی یہ ساتوں سوال پورے کرے گا ، وہی بعد عقد کے میرے گلشن عیش کا گل راحت چنے گا اور شراب وصال ٢ پیے گا ۔


تب حاتم نے کہا کہ وہ کون سے سوال ہیں ؟ تم اپنی زبان شیریں سے بیان کرو ۔ ساتھ اس کے یہ قول بھی دو کہ اگر ان سوالوں کو پورا کروں تو تمہارے تئیں جسے چاہوں بخش دوں ۔


اس نے اس بات کو مانا اور اقرار بخوبی کیا ۔ پھر ایک دسترخواں پاکیزہ بھجوا کر طرح بہ طرح کے کھانے کھلوا کر تھوڑے بہت روپے دیے اور رخصت کے وقت یہ کہا ” اے حاتم !

پہلا سوال تو یہ ہے کہ ایک بار دیکھا ہے ، دوسری دفعہ کی ہوس ہے ۔ اس کی خبر لا کہ وہ کون ہے اور کہاں ہے اور اس نے ایسا کیا دیکھا ہے کہ دوبارہ جس کے دیکھنے کی آرزو رکھتا ہے ؟

پہلے اس کو پورا کر ، پھر دوسرے کی فکر کیجیو ۔


حاتم نے اس بات کے سنتے ہی منیر شامی کو اس کے سپرد کیا اور کہا ” یہ میرا بھائی ہے ۔ جب تک میں یہاں نہ آؤں ، تب تک اس کو اپںی بندگی میں رکھنا اور خاطر داری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


١ ۔ سے ۔ ( نسخہ مکتوبہ ص ٣٩ )

٢ ۔ وصل ۔ ( نسخۂ مکتوبہ ص ٣٩ )
 

فہیم

لائبریرین
صفحہ 56 تا 60 (ریختہ)

و مہربانی کرتے ہیں۔ یہ سب زر و جواہر کی تعریف ہے، نہیں تو میں وہی برزخ سوداگر کی بیٹی ہوں کہ جس کو اپنے شہر سے نکلوادیا تھا اور مال و خزانہ لوٹ لیا تھا۔

اتنے میں بادشاہ اٹھا اور اس فقیر سے رخصت ہونے گا۔ ماہ رو شاہ نے ہاتھ باندھ کر عرض کی "اگر پیر و مرشد اس کم ترین کے گھر میں قدم رنجہ فرمائیں تو عین سرفرازی و بندہ پروری ہے اور یہ بات خصلت سے بزرگوں کی بعید نہیں۔"

اس انسان صورت، شیطان سیرت نے کہا کہ بابا البتہ میں آؤں گا۔

ماہ رو شاہ نے پھر بادشاہ سے عرض کی کہ میری حویلی شہر سے نہایت دور ہے ، شاہ صاحب کو تصدیع ہوگی۔ صلاح یہ ہے کہ یہاں ایک حویلی برزخ سوداگر کی قابل بادشاہوں کے بالفعل خالی پڑی ہے۔ اگر خداوند دو چار روز کے واسطے عنایت کریں تو یہ غلام ایسے ولی کی ضیافت قرار واقعی کرے اور دولت بے زوال سے بہرہ مند ہووے۔

بادشاہ نے کہا "اے فرزند ارجمند ! تو نے اس کی خبر کہاں سے پائی۔"

اس نے عرض کی کہ اکثر اس شہر کے رہنے والے اس کی تعریف کرتے ہیں اور نام اس کا بخوبی لیتے ہیں۔

بادشاہ نے کہا "اے ماہ رو شاہ ! وہ حویلی ہم نے تجھی کو بخشی۔"

اس بات کے سنتے ہی وہ آداب بجا لایا اور اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر اس حویلی میں داخل ہوا۔ پھر اس کو بے مرمت دیکھ کر بے اختیار در و دیوار سے لگ لگ رویا اور کہنے لگا کہ لوگوں اس حویلی کو مرمت کرکے جلد درست کرو۔ یہ کہہ کر اپنے شہر کو چلا گیا۔

بعد ایک مہینے کے ضیافتوں کا سر انجام تیار کرکے اس میں بھیجا اور کتنے خوان سونے روپے کے مرصع ہاسنوں سمیت اور بہت سا سر انجام زری ہاف و زرہفت و بوم طلا کا ایک اور طاؤس یاقوتی اور بہت سا جواہر بیش قیمتی اپنے ساتھ لایا، پھر اپنے نوکر چاکر اس حویلی میں چھوڑ کر بادشاہ کے پاس گیا۔ ہاتھ باندھ کر عرض کرنے لگا "جہاں پناہ ارادہ یوں ہے کہ چند روز برزخ سوداگر کی حویلی میں رہوں، سلام مجرے کو بھی روز حاضر ہوا کروں لیکن کل اپنے پیر و مرشد کی تواضع کرلوں۔"

بادشاہ نے فرمایا " بہت بہتر، یہ تیرا اختیار ہے بلکہ ہماری بادشاہت بھی اپنی ہی جان۔"

وہ اٹھ کر آداب بجا لایا اور عرض کرنے لگا کہ اس قدر بندہ پروری اور اتنی سرفرازی خداوند کی محض نوازش ہے۔ فدوی ہر صورت سے تابعدار بادشاہ عالم پناہ کا ہے۔

غرض بادشاہ سے رخصت ہوا اور اپنے باپ کے گھر آکر ضیافت کی تیاری کی۔ پھر ایک آدمی سے کہا کہ تو جا کر اس فقیر مکر ہائے کی خدمت میں اس عاجز کی طرف س بندگی عرض کر کہ کل اگر تشریف ارزانی فرماؤ تو گویا اس کم ترین کو بے داموں مول لو۔

غرض وہ گیا اور اس کے کہنے کے موجب عرض کی۔ اس نے اس بات کو قبول کیا۔

صبح کو اسی اپنی عادت سے فقیروں کو ساتھ لیے سونے روپے کی اینٹوں پر پاؤں رکھتا ہوا چلا۔ ماہ رو شاہ نے فرش فروش مکلف و مسند شاہانہ سے ایک مکان آگے ہی چمکا رکھ تھا، اس میں داخل ہوا۔

شاہ زادے نے اس کو مسند شاہانہ پر بٹھلایا، خوان و زر و جواہر مع طاؤس مرصع نذر گزارنے، فقیر نے قبول نہ کیے۔ تب اس نے تمام جواہر اپنے طاقوں میں چنوادیے اس لیے کے جس وقت نظر فقیر کی اس پر پڑے تو طمع اس کی زیادہ بڑھے۔ پھر کئی خوان میوے کے منگوائے اور ایک دستر خوان زر ہفت کا بچھوایا، جڑاؤ سنگ یشم (یشب) کے باسنوں میں طرح بہ طرح کے اور قسم قسم کے کھانے نکال کر چنے اور گنگا جمنی چلمچی آفتابے سے ہاتھ دھلا کر عرض کی کہ پیر و مرشد کچھ الش کردیں اور اس کم ترین کو سرفراز فرمائیں۔

اس بات کو سن کر اس کو تہ اندیشن نے ہاتھ بڑھایا اور اپنے انھیں چالیسوں فقیروں کے ساتھ کھانا کھانا شروع کیا۔ دو چار لقمے کھا کر کہا کہ بس زیادہ کرو۔ فقیروں کو پیٹ بھر کھانا اچھا نہیں کیوں کہ اگر بہت کھائیں گے تو عبادت الٰہی نہ کرسکیں گے۔

ماہ رو شاہ نے پھر عرض کی کہ پیر و مرشد! اس کمترین کی تسلی نہیں ہوئی، دو چار نوالے آپ اور بھی تناول کریں۔

اس نے کہا کہ اتنا کھانا تیری خاظر سے کھایا وگرنہ میں تمام رات و دن میں دو چار دانے کھاتا ہوں۔ آتھ پہر یاد خدا ہی میں مشغول رہتا ہوں کیوں کہ جو زیادہ کھاؤن تو عبادت کیا خاک کروں؟ دل میں کہتا کہ یہ اسباب سب کا سب اپنا ہی ہے، کہاں جاتا ہے۔

پھر ایک مرصع کار عطر دان پان دان آگے لا رکھا۔ اس نے عطر ملا؛ گھڑی دو گھڑی کے بعد رخصت ہو کر اپنے گھر آیا۔ ان چوروں سے کہنے لگا کہ یہ کھانا جب حلال ہوگا کہ ہم تم آج ہی کی رات چل کر تمام اسباب چرا کے اپنے گھر لے آویں۔

اسی گفتگو میں تھے کہ رات ہوگئی؛ تب اس نے چوروں کے کپڑے پہنے اور انہیں چالیسوں کو ساتھ لے کر آدھی رات کو اس کی حویلی کی طرف چلا۔

ماہ رو شاہ نےھ اپنے لوگوں کو پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ تم کچھ اسباب کہیں سے نہ سمیٹنا، جہاں کا تہاں پڑا رہنے دینا، پر مستعد بیٹھے رہنا۔اور ایک رقعہ شہر کے کوتوال کو لکھ بھیجا کہ آج کی رات ڈاکا پڑنے کی خبر ہے۔ تم تھوڑے سے لوگ لے کر جلد آؤ اور ایک کونے میں چھپے، گھات میں رہو۔ جس وقت اس حویلی سے شور و غل کی آواز بلند ہو، اسی گھڑی تم آن پہنچنا اور چوروں کو باندھ لینا۔

کوتوال اس خبر کو سنتے ہی سو دو سو پیادوں سے اس کی حویلی کے دائیں بائیں آکر بیٹھ رہا کہ اتنے میں وہ اجل گرفتہ ایک ڈھاڑے کا دھاڑا لے کر اس حویلی میں پیٹھا، اسباب غارت کرنے لگا۔

غرض ہر ایک نے ہر ایک طرح کے اسباب کا گٹھر باندھ کر اپنے اپنے سر پر رکھا۔ وہ درویش بھی اس طاؤس مرصع کو لے کر حویلی سے باہر نکلا۔ پیادے تو اسی تاک پر لگ رہے تے، اپنی اپنی جگہ سے کودے اور ان کو باندھنے لگے۔ ندان آن سبھوں کی مشکیاں چڑھا لیں اور گٹھریاں ان کے گلے میں دال دیں۔ عرض اس قدر شور و غل ہوا کہ کوتوال خود چلا آیا۔ انہوں نے عرض کی کہ اب آپ بھی ان سے خبردار رہیں، صبح کو حضور معلٰی میں لے چلیں۔ وہاں سے جو حکم ہوگا سو کیا جائے گا۔

حسن بانو ان دشمنوں کو گرفتار دیکھ کر نہایت خوش ہوئی اور اپنے نوکروں کو انعام دے کر ٹھنڈے جی سے پاؤن پھیلا کر سو رہی۔

اتنے میں صبح ہوئی۔ بادشاہ۔ بار آمد ہو کر تخت سلطنت پر جلوس فرمایا۔ وزیر، امیر، خان و نواب مجرا کرکے اپنے اپنے پائے پر کھڑے ہوئے۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ آج کی رات شہر میں کیا شور و غل تھا۔

اتنے میں کوتوال ان سبھوں کو باندھے ہوئے آن پہنچا اور آداب بادشاہی سے مجرا کر کے عرض کرنے لگا "جہاں پناہ! آج آدھی رات گئے برزخ سوداگر کی حویلی میں چور پڑے تھے۔ یہ نمک خوار اس احوال کے دریافت کرتے ہی وہاں جا پہنچا اور ان کو مع زر و جواہر باندھ کر حضور اعلیٰ میں لے آیا۔"

معلوم ایسا ہوتا ہے کہ شاید میں نے ان کو کہیں دیکھا ہے۔ ظاہرا صورت آشنا سے نظر پڑتے ہیں۔
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۸۳
اتنے میں وہ گیدڑ سامنے سے آ کر کہنے لگا کہ آپ خاطر جمع رکھیں۔ آج کے دن سے ان کا کھانا پینا ہمارے ذمے ہوا۔ ہم جہان میں جب تک جیتے رہیں گے، تب تک جہاں جائیں گے وہاں سے لا کر ان کو کھلاویں گے۔
یہ بات سن کر حاتم اُن سے رخصت ہوا، آگے بڑھا۔ اتنے میں مادہ نے اپنے نر سے کہا ”اے گیدڑ! یہ مروت سے دور ہے جو حاتم تنہا دشت ہویدا کو جاوے اور تو اس کا ساتھ نہ دے۔ “
اس سخن کے سنتے ہی وہ دوڑا او ر پکار پکار کر کہنے لگا ”اے حاتم ! میں بھی تیرے ساتھ دشت ہویدا کو چلوں گا۔ “
اس نے کہا” اے حیوان! میں ایک تیرے احسان سے گردن اُٹھا ہی نہیں سکتا، دوسرا بوجھ کیوں کر لوں اور اپنے واسطے تجھے وطن سے کس لیے آوارہ ۱کروں؟ برائے خدا ان باتوں سے باز آ۔ یہ مجھ سے ہرگز نہ ہو
سکے گا۔ اگر تو ساتھ ہی دینے پر مرتا ہے تو یہی احسان بہت ہے کہ مجھے راہ راست بتلا دے۔
اس نے کہا ” جو رستہ نزدیک کا ہے، اس میں آفتیں بہت سی ہیں اور دوسری راہ دوردراز ہے، پر اس میں اس قدر خطرہ نہیں؛ اس واسطے میں تیرے ساتھ چلنے کا ارادہ کرتا ہوں کہ ان کو بتا دوں ، آگے تیری خوشی۔“
اُس نے کہا کہ خداراہ نزدیک کی مشکلیں مجھ پر آسان کرے گا۔
تب گیدڑ نے کہا ” جو راہ کہ تیرے آگے آتی ہے، وہی نزدیک ہے۔ اگر سلامت رہے گا تو دشت ہویدا کو پہنچے گا۔ “

۱۔ آوارہ کس لیے۔ (نسخہ ٔ مکتوبہ ص۴۹)۔

صفحہ ۸۴
حاتم اس کو رخصت کر کے آگے چلا۔
بعد ایک مدت کے ایک چوراہا دکھلائی دیا۔ یہ وہاں کھڑا ہو کر سوچنے لگا کہ اب کدھر جاؤں؟ اور اُس جنگل میں خرس بادشاہت کرتا تھا، تمام ریچھ ہی ریچھ رہتے تھے۔ اتفاقاً سو دو سو ریچھ اُس روز ا ُس جگہ سیر کرنے آئے تھے۔ حاتم کو دیکھتے ہی نہایت خوش ہوئے اور پکڑ کر اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے۔ وہ دیکھ کر خوش ہوا اور کہنے لگا کہ تم ہمارے پاس بیٹھو اور اپنا احوال کہو کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو اور کیا نام رکھتے ہو؟ ہمیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید تم یمن کے بادشاہ حاتم ہو۔
اس بات کو سن کر اُس نے کہا کہ یہ تو تم سچ کہتے ہو۔ میں حاتم بن طے ہوں ، برائے خدا اس جنگل میں آ نکلا ہوں۔
اس نے کہا ” تمہارے آنے سے میں بہت راضی ہوا، جو تم یہاں تشریف لائے۔ اب اپنی بیٹی سے بیاہوں گا، کیوں کہ اس جنگل میں میری دامادی کے لائق کوئی نہ تھا مگر تم آئے ہو۔ “
اس بات کو سن کر اُس نے اپنا سر جھکا دیا اور سوچ میں گیا۔ بادشاہ نے کہا کہ تو جو جواب نہیں دیتا، شاید میں تیرے خسر ہونے کے لائق نہیں ہوں۔
تب اُس نے کہا کہ میں انسان اور تو حیوان، میری تیری موافقت کیوں کر ہو؟
وہ بولا ” اے حاتم ! شہوت کی لذت میں انسان اور حیوان سب ایک ہیں، تو کچھ اندیشہ نہ کر؛ اور میری لڑکی تجھی سی ہے۔
یہ کہہ کر اُس نے اپنے دو چار خرسوں سے کہا کہ تم

صفحہ ۸۵
لڑکی کو عروسی گہنے کپڑے سے سنوارو اور بنی بنا کر فلانے حجرے میں بٹھلاؤ۔
وے اُس لڑکی کو بنا بنو کر اُس حجرے میں لے گئے۔ پھر حاتم کو بھی وہاں لے آئے۔ اس نے جوں ہی اُس پری پیکر رشک قمر کو دیکھا، متعجب ہو کر مجلس میں پھر آیا اور کہنے لگا ” اے خرس! تو بادشاہ ہے اور میں فقیر۔ اگر اس شاہ زادی کو اپنی جورو کروں تو یہ نہایت ترک ادب ہے۔ “
اُس نے کہا کہ اس بات کو قبول کرو اور حیلہ و حجت چھوڑ دو کہ تم بھی شہر یمن کے شاہ زادے ہو۔ “
وہ متفکر ہوا اور جی میں کہنے لگا کہ ھے ظالم ، میں کس بلا میں پڑا۔ اب کیا کروں ؟ میں ایک کام کے واسطے اپنے شہر سے نکلا ہوں۔ اگر یہاں اپنا بیاہ کر کے رنگ رلیاں مناؤں گا تو وہاں منیر شامی میرا انتظار کھینچ کر مر جاوے گا۔ میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔
بادشاہ خرس نے جو پھر اُسے سر بہ زانو دیکھا، پوچھا اے جوان خوش رو! اگر اس بات کو قبول نہ کرے گا تو قیامت تک نہ چھوڑوں گا بلکہ اسی قید شدیدمیں مر جائے گا۔
اُس نے اس بات کا جواب نہ دیا اور سر اُٹھا کر نہ دیکھا؛ تب خرس نے غضب ناک ہو کر اپنی قوم سے کہا کہ اس کو فلانے غار میں ڈال دو او ر اس کے منہ پر ایک سل سنگ خارا کی رکھو اور خبردار رہو۔
اس کلام کے سنتے ہی کتنے ہی دوڑے اور حاتم کو اس اندھیرے گڑھے میں بند کرکے اُس کے منہ پر ایک بھاری سا پتھر رکھ دیا۔

صفحہ ۸۶
وہ اُس غار میں بھوکا پیاسا حیران تھا کہ سات دن کے بعد خرس کے بادشاہ نے پھر اُسے بلوا کر اپنے پاس بٹھلایا اور سمجھابجھا کر کہا کہ اے حاتم! میری لڑکی کو قبول کر۔
وہ پھر سر بہ زانو ہوا اور اس سخن کو خاطر میں نہ لایا۔ تب اُس نے ایک خوان میوے کا منگوا کر اس کے آگے رکھا۔ بھوکا تو تھا ہی، بے اختیار کھانے لگا۔ جب خوب سا اس کا پیٹ بھرا، اس نے کہا کہ اے جوان !اس پری پیکر کو اپنے نکاح میں لا اور حظ زندگانی کا اُٹھا۔
حاتم نے کہا ” یہ مجھ سے ہرگز نہ ہو سکے گا، انسان کو حیوان سے کیا نسبت۔“
اُس نے پھر اپنے ریچھوں سے کہا کہ اسے پھر اُسی غار میں ڈال دو۔ اُنھوں نے اُسی طرح کیا۔
وہ کئی دن تک بے آب و دانہ قید میں رہا۔ اتفاقا ً ایک شب خواب میں وہ نیم جان کیا دیکھتا ہے کہ ایک پیر مرد سرہانے کھڑا کہتا ہے کہ اے حاتم ! تو کیوں اپنی جان خواہ نہ خواہ اس اندھے کوئیں میں گنواتا ہے، اور نہیں جانتا کہ تو کس کام کے واسطے آیا ہے۔ جب تک اُس کی لڑکی قبول نہ کرے گا، تب تک تو اس قید سے نہ چھوٹے گا۔ اس بات کو سن کر اُس نے کہا ”اے بزرگ ! اگر میں اس لڑکی سے اپنا نکاح کروں گا تو وہ کب مجھے فرصت دے گی جو میں اپنے تئیں اس کام میں لگاؤں گا۔“
ا ُس نے کہا کہ اے حاتم ! تیر ا چھٹکارا اسی میں ہے ۔ بے خطرے کر گزر اور نہیں تو اسی قید میں مر جائے گا۔ تجھ کو لازم ہے کہ اس کی بیٹی کو راضی اور خوش کرے کہ

صفحہ ۸۷
وہی بہ خوبی تجھے رخصت دلوائے گی۔
یہ خواب دیکھتے ہی وہ چونک پڑا۔ اتنے میں پھر بادشاہ خرس نے اس کو اپنے پاس بلوایا اور کہا ” اے حاتم! تیرے حق میں بہتر یہی ہے کہ میری لڑکی قبول کر۔“
اُس نے اس شرط پر یہ بات بہ ناچاری مانی کہ جب میں اس کے ساتھ اپنا بیاہ کروں ، تب کوئی ریچھ میرے گھر میں نہ آوے۔
بادشاہ نےکہا ” اے حاتم ! کیا طاقت ہے کسی خرس کی جو وہاں کا دھیان کرے ، آنا تو درکنار۔“
حاصل کلام اُس نے اپنے ارکان دولت کو جمع کر کے مجلس شادی کی جمائی ؛ مسند شاہانہ بچھائی اور حاتم کو اس پر بٹھلا کر اپنے رسوم کے موافق اس لڑکی سے بیاہ دیا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں پکڑا کر آپ اپنے لوگوں سمیت حجرے سے باہر نکل آیا۔
حاتم نے اُسی مسند عروسی پر اُس کے ساتھ آرام فرمایا اور مزا بہت سا اُٹھایا۔ اسی صورت سے ہر روز اس رشک قمر کے ساتھ چین کرتا تھا اور میوے قسم قسم کے کھاتا تھا۔ غرض یہاں تک میوے کھائے کہ جی بھر گیا۔ آخر اُکتا کر ایک دن اپنے خسر کے پاس گیا اور کہنے لگا ”حضرت سلامت! میں میوے کھاتے کھاتے گھبرا گیا۔ اگر کچھ اناج کے قسم سے عنایت ہو تو جی بھر ے او ر طبیعت لگے۔“
اُس نے اُسی وقت اپنے ریچھوں کو بلوا کر کہا کہ تم ہر قسم کا غلہ اور شکر اور گھی وغیرہ اور باسن گاوؤں اور شہروں سے لے آؤ۔

صفحہ ۸۸

وے اس بات کے سنتے ہی دوڑے اور ہر ایک شہر سے طرح بہ طرح کے باسن خوش اسلوب اور قسم قسم کے اجناس انسان کی مرغوب، ایک پل میں لے آئے۔ حاتم نے انواع و اقسام کے کھانے پکوائے اور اپنی بی بی کے ساتھ بیٹھ کر کھائے بلکہ اسی طرح سے ہر روز کھاتا اور عیش و عشرت مناتا۔
جب تین مہینے گزر گئے، تب ایک دن اُس نے عین اختلاط میں اہلیہ سے کہا کہ جانی میں ایک کام کے واسطے اپنے شہر سے نکلا تھا، تیرے باپ نے زبردستی میرا بیاہ تیرے ساتھ کر دیا۔ اگر اپنی خوشی سے تو چند روز کے واسطے مجھے رخصت اپنے باپ سے دلوا دے تو یہ عین احسان و مہربانی ہے۔ جب میں اُس کام سے فرصت پاؤں گا اور جیتا بچوں گا تو پھر تجھ سے ملا قات کروں گا۔
وہ اس بات کے سنتے ہی اپنے باپ کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ بابا جان! وہ اس طرح کی بات کہتے ہیں۔
اُس نے کہا کہ بی بی!اگر تو اس بات میں راضی ہے تو وہ تیرا خاوند ہے اور تو اُس کی جورو، وہ جانے یا تو۔
وہ بولی کہ و ہ مرد نہایت راست گو معلوم ہوتا ہے۔ اپنے وعدے پر مقرر آوے گا، کچھ مضائقہ نہیں، پروانگی دو۔
اُس نے اس کو بلوا کر رخصت کیا اور بہت سے ریچھوں کو کہہ دیا کہ تم اس کو بخوبی اپنی سرحد سے باہر پہنچا دو۔ تب اس کی بیٹی نے ایک مہرہ حاتم کی پگڑی میں باندھ دیا کہ تیرے اکثر جگہ یہ کام آوے گا۔
غرض وہ ان دونوں سے رخصت ہو کر آگے چلا۔ بعد چند روز کے ایک ایسے ریگستان میں جا پڑا کہ جہاں نہ دانہ

صفحہ ۸۹
نظر آتا تھا نہ پانی، مگر شام کے وقت ایک مرد پیر برقع منہ پر ڈالے دو روٹیاں، ایک آب خورہ پانی کا دے جاتا۔ وہ اسے کھا پی لیتا اور رات دن منزلیں طے کیا کرتا کہ ایک دن سامنے سے ایک اژدھا مانند پہاڑ کے نظر آیا۔ یہ اس کو دیکھ کر گھبرایا لیکن چلنے سے باز نہ رہا۔
جوں ہی اس کے پاس پہنچا، وہیں اُس نے دم کھینچا۔ حاتم نے ہر چند اپنے تئیں سنبھالا پر نہ سنبھل سکا، صاف اُس کے منہ میں چلا گیا۔
جب کہ اپنے تئیں اس کے پیٹ میں دیکھا، تب سجدٔہ شکر بجا لایا اور یہ کہنا شروع کیا ” خوب ہوا جو یہ تن میرا آلودۂ گناہ ایک بندۂ خدا کے منہ میں پڑا، نہیں تو یہ جامۂ خاکی کسی کام کا نہ تھا۔ حق تو یہ ہے کہ جو کوئی اپنے تئیں راہ خد ا میں ڈالے اور اپنا گھر برباد کرے اور آپ اُس کی یاد میں مشغول رہے تو برباد نہیں ہوتا۔ مگر وہ اس کے امتحان کے واسطے کچھ کچھ رنج دیتا ہے۔ اگر وہ اس مصیبت سے بچا اور ثابت قدم رہا تو بحر مشقت سے گوہر راحت لے نکلا۔ اسی طرح سے اپنے دل کو تسلی دیتا تھا او ر حضرت ایوب کی مصیبتوں کو دھیان میں لاتا تھا کہ خدا کریم ۱کارساز ہے، میری مشکل بھی آسان کرے گا۔
غرض تین روز تک وہ اُس کے پیٹ میں پھر ا کیا اور ادھر اُدھر رستہ ڈھونڈا کیا۔ راہ تو کہیں نہ پائی مگر آپ ہی۲ اس گندگی سے لتھڑ پتھڑ گیا؛ پر سانپ کے زہر نے جو اُس کو اثر نہ

۱۔ خدائے کریم ۔ (نسخۂ مکتوبہ ص۵۶ )
۲۔ ھی ۔ (نسخۂ مکتوبہ ص۵۶ ) میں نہیں ہے۔

صفحہ ۹۰
کیا، اس کا یہ سبب تھا کہ چلتے ہوئے اس کی جورو نے پگڑی میں ایک مہرہ باندھ دیا تھا۔ اس کے یہ خواص تھے کہ جس کے پاس رہے، نہ وہ آگ میں جلے، نہ پانی میں ڈوبے، نہ زہر اُسے اثر کرے۔ اسی سبب سے وہ جیتا رہا اور اُس کے زہر نے کچھ اُس کو اثر نہ کیا۔
بعد تین روز کے وہ اژدھا گھبرایا اور اپنے جی میں کہنے لگا کہ یہ بلا میں نے کیا کھائی جو ہضم نہیں ہوتی اور پیٹ میں دوڑی دوڑی پھرتی ہے۔ غرض وہ اپنے پیٹ کے دکھنے سے بےقرار تھا اور حاتم اُس کے پیٹ میں چین نہ لیتا تھا بلکہ چاروں طرف دوڑتا پھرتا تھا اور اس کی انتڑیوں کو اپنے پاؤں سے روندتا تھا۔
آخر کار اُس نے معلوم کیا کہ یہ لقمہ تمام عمر کا کھایا پیا نکالے گا۔ اس بات کو جی میں ٹھہرا کر قے کی،حاتم باہر نکل پڑا اور اُس ریت پر کھڑا ہو کر کپڑے سکھلانے لگا۔ جب وہ خشک ہوئے تب وہاں سے روانہ ہوا۔
تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ایک تالاب نظر پڑا۔ یہ بے اختیار دوڑ کر اُس کے کنارے پر جا بیٹھا اور اپنے کپڑے دھونے لگا۔
اتنے میں ایک مچھلی پانی میں سے نکلی۔ نیچے کا آدھا دھڑ اُس کا مچھلی کا تھا اور سر سے ناف تلک آدمی کا۔ حاتم اس کی شکل دیکھ کر شکر بجا لایا اور صنعت خداوندی پر عش عش کرنے لگا۔
غرض ٹکٹکی باندھے ہوئے تھا کہ وہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر تالاب میں لے گئی اور اپنے مکان پر ایک ستھرے بچھونے پر
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۱۲۱

حاتم نے قسم کھا کر کہا کہ اے عزیز! اگر میں تیرا کام بخوبی نہ کروں او ر اس فریاد کو نہ پہنچوں تو طے کے نطفے سے پیدا نہ ہوا ہوں۔
غرض حاتم رات وہیں رہا اور دیکھا کہ وے سب عیش عشرت میں ہیں اور یہ فریاد وزاری میں ۔ جب صبح ہوئی شہید اپنے اپنے مکانوں میں گئے اور حاتم چین کی طر ف روانہ ہوا۔
بعد ایک مدت کے منزلیں طے کرتا اور آفتیں اُٹھاتا ایک مکان پر جا پہنچا۔
کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص کوئیں پر کھڑا پانی بھرتا ہے۔ اُس نے اپنے تئیں اس کے پاس پہنچایا اور چاہا کہ اس کے ہاتھ سے ڈول لے کر پانی پیے کہ اتنے میں ایک سانپ نے ہاتھی کو سونڈ کی مانند منہ نکالا اور اس شخص کی کمر پکڑ کوئیں میں کھینچ لیا۔
اس واردات کو دیکھ کر حاتم ہاتھ مل مل کر کہنے لگا کہ اے موذی! یہ کیا کیا تو نے جو اس غریب پردیسی کو لے گیا۔ وہاں اس کے بال بچے یہ اُمید رکھتے ہوں گے کہ بابا جان کچھ خرچ بھیجیں گے یا آپ ہی لیے آتے ہوں گے۔ تو نے یہاں اُس کو جان ہی سے کھویا۔ یہ سمجھ کر پھر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اے حاتم ! افسوس ہے کہ تو اس احوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس کی داد کو نہ پہنچے ۔ پس خدا کو کیا جواب دے گا اور نام تیرا دنیا میں کیا خاک رہےگا؟
یہ کہا اور کوئیں میں کود پڑا۔ تھوڑی دور چلا گیا۔

صفحہ ۱۲۲
جب زمین پر اُس کا پاؤں لگا۔ تب آنکھیں کھول کر دیکھا تو نہ وہ چاہ ہے اور نہ وہ پانی؛ ایک میدان وسیع، نہایت خوش قطع، درختوں سے ہرا بھرا، لہلہاتا نظر پڑا اور اُن درختوں سے ایک محل ستھرا سا چمکتا دکھلائی دیا۔ یہ اُس کی طرف چلا اور دل میں کہتا تھا کہ مسافر کو وہ کہاں لے گیا اور یہ محل کہاں سے پیدا ہوا؟
اسی سوچ میں اُس حویلی کے پاس جا پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایوان پاکیزہ اور بیٹھکیں آراستہ جا بجا تیار ہیں۔ ایک مکان میں بلور کا تخت بچھا ہے اور اُس کے نیچے ایک مرد دراز قد درخت کی مانند سوتا ہے۔ دیکھ کر ۱ اس کو وہاں گیا اور کہا کہ ٹک ایک آگے جا کر دیکھیے کہ یہ کون ہے۔
جب نزدیک پہنچا، تب اُس کے سرہانے کھڑا ہوا اور اپنے جی میں کہنے لگا کہ جب یہ اُٹھے گا، تب اس سے احوال پوچھوں گا۔
اتنے میں وہی سانپ مسافر کو باغ میں کسی جگہ چھوڑ کر حاتم کی طرف لپکا۔ حاتم مسافر کے باعث سے غصے میں بھرا ہوا تھا، دونوں ہاتھ سے پکڑ کر ایسا دبایا کہ وہ چلانے لگا۔ اس کے شور سے دیو چونک پڑا اور پکارا کہ اے عزیز! کیا کرتا ہے؟ یہ میرا پیک ہے چھوڑ دے۔
حاتم نے کہا کہ جب تک یہ مسافر کو نہ چھوڑے گا تب تک میں اسے نہ چھوڑوں گا۔
یہ بات سن کر دیو نے سانپ سے کہا کہ خبردار! یہ کوئی بڑا ہی زبردست معلوم ہوتا ہے۔ غالب ہے کہ یہی

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۹۴) میں صرف” دیکھ “ہے۔

صفحہ ۱۲۳

ہمارے طلسم کو توڑے اور تیرے منہ میں پیٹھے۔
حاتم یہ بات سنتے ہی سانپ کے پیٹ میں گھس گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک اندھیرا ۱ گھر ہے۔ اور سانپ کا کچھ نشان نہیں معلوم ہوتا کہ کہاں ہے۔ یہ حیران ہوا، ادھر ادھر پھر رہا تھا کہ اتنے میں ایک آواز اُس کے کان میں اس ڈھب کی پڑی کہ اے حاتم !جو چیز اس اندھیارے گھر میں تیرے ہاتھ لگے تو اُس کو بے کھٹکے خنجر سے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈال کہ اس طلسمات سے نکلے تو، نہیں تو تا بہ قیامت یہی تیرا گھر ہے۔
اس بات کے سنتے ہی وہ ہر ایک طر ف ہاتھ بڑھا کر ٹٹولنے لگا کہ اتنے میں ایک چیز گائے کے دل کی صورت اُس کے ہاتھ لگی؛ ووں ہی اُس نے خنجر تیز سے اس کو چیر پھاڑ ڈالا۔ فی الفور ایک چشمہ دریا سے زیادہ لہریں لیتا ہوا پیدا ہوا اور حاتم غوطے کھانے لگا۔ بعد دو تین غوطوں کے پاؤں اس کا زمین کی تہہ پر جا پہنچا اور اُس نے آنکھیں کھول کر جو دیکھا تو نہ وہ مکان ہے، نہ وہ سانپ ، نہ وہ پانی ہے نہ وہ باغ ، مگر ایک صحرائے وسیع نظر آتا ہے اور اس میں ہزاروں آدمی ہیں ؛ بعضے قریب مرگ کے پہنچے ہیں اور بعضے سوکھ کر کانٹا ہو گئے ہیں اور وہ مسافر بھی اُنھیں میں کھڑا ہے۔
حاتم اس کے پاس جا کر پوچھنے لگا کہ اے بھائی! تجھے یہاں کون لایا ہے؟
اُس نے کہا کہ مجھے ایک سانپ لا کر یہاں چھوڑ گیا ہے اور اب معلوم نہیں کیا ہو۔ اس لوگوں نے بھی کہا کہ ہم

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۹۵) میں ’اندھیارا‘ ہے اور نسخۂ مطبوعہ بمبئی (صفحہ ۷۰) میں ”اندھیرا۔“


صفحہ ۱۲۴
کو بھی وہی لایا ہے پر یہ تو فرمائیے کہ آپ کیوں کر تشریف لائے ہیں؟
تب حاتم نے اُس طلسم کا تمام ماجرا بہ خوبی ان کے سامنے بیان کیا اور کہا کہ تم اپنے اپنے گھر جاؤ، میں نے تمہارے دشمن کو مارا۔
وے کہنے لگے کہ ۱ بندہ پرور! ہم قیدیوں میں سے کتنے مارے بھوک اور پیاس کے مر گئے اور کتنے ہی قریب ہلاکت کے پہنچے ۔ حق تعالیٰ تم کو اس کی جزائے خیر دے کہ ہم تمہاری دست گیری سے اس موذی کے چنگل سے نکلے۔
یہ کہہ کر وے سب اپنے اپنے گھر ۲ گئے اور حاتم اُن سے رخصت ہو کر چین کی طرف روانہ ہوا۔
بعد چند روز کے ایک شہر عالی شان کے دروازے پر جا پہنچا اور قصد ۳ اند ر جانے کا کیا۔ دربانوں نے روکا کہ کہاں جاتا ہے، پہلے بادشاہ کے پاس چل اور اُس سے سوال ۴ و جواب کر، پھر جہاں چاہے ۵ وہاں جانا۔ حاتم نے اُن سے کہا کہ ۶ بھائیو!

۱۔ نسخۂ مطبوعہ بمبئی (صفحہ۷۱ ) میں کہ ”بندہ پرور“ ہے، نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) میں نہیں۔
۲۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) میں ”چلے گئے“ اور۱۔ نسخۂ مطبوعہ بمبئی میں ”گئے“ اور لفظ”اور“ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) میں نہیں ہے۔
۳۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) میں عبارت اس طرح ہے: ”اور اندر جانے کا قصد کیا“۔
۴۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) میں ”جواب سوال“ ہے۔
۵۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) ’چاہے‘ اورنسخۂ مطبوعہ بمبئی(صفحہ ۷۲) ’چاہتا‘ ہے۔
۶۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) میں ترتیب عبارت مطبوعہ نسخے سے مختلف ہے ملاحظہ ہو: ”کہا بھائیو تمہارے شہر کا یہ کیا چلن ہے، مسافرو ں کو تو ہر شخص۔۔۔۔۔۔۔۔“

صفحہ ۱۲۵
تمہارے شہر کا یہ کیا چلن ہے۔ مسافروں کو تو ہر ایک شخص آرام دیتا ہے اور تم لوگ کیسے ہو جو دکھ ۱ دیتے ہو؟
دربانوں نے کہا کہ اے مسافر! اس شہر کے چلنے سے رہ ۲ گئی ہے، اس لیے کہ یہاں کے بادشاہ کی ایک لڑکی ہے کہ اس کے روبرو مسافر کو لے جاتے ہیں اور وہ اُس سے تین سوال کرتی ہے۔ وہ جواب نہیں دے سکتا، آخر صبح کے وقت اُسے سولی دیتے ہیں ؛ اسی واسطے اس شہر کا نام ’بے درد نگر‘ رکھا ہے کیوں کہ یہاں کوئی مسافر جیتا نہیں بچتا۔
آخر حاتم اُن لوگوں کے ساتھ ہو کر بہ لاچاری ۳ بادشاہ کے پاس گیا اور جی میں یہی کہتا تھا کہ دیکھیے وہ کیا پوچھتا ہے۔ جب یہ ۴ اس کے سامنے گیا، تب اُس نے اس سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے اور کیا نام رکھتا ہے؟
اُس نے کہا کہ میں بنی آدم ہوں اور ارادہ چین کے جانے کا رکھتا ہوں ۔ میرے نام سے تمہیں کیا کام ہے؟ اور کہا کہ اے بادشاہ ! سوائے تیرے ۵ کوئی مسافروں کو دکھ ۶نہیں دیتا

۱۔ نسخۂ مطبوعہ بمبئی (صفحہ۷۲) ”دکھ۔“ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۶) ”ایذا“۔
۲۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۷) میں عبارت اس طور پرہے: ”اس شہر کی راہ چلنے سے۔“
۳۔ نسخۂ مطبوعہ بمبئی (صفحہ۷۲) ”بہ لاچاری۔“ اور نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۷) ”بہ ناچاری“ ہے۔
۴۔ نسخۂ مطبوعہ بمبئی میں”یہ“ ہے۔نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۷)میں نہیں ہے۔
۵۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۷) ”تیرے سوا“ ۔
۶۔ نسخہ ٔ مکتوبہ (صفحہ ۹۷) ”مسافر کو ایذا“ ۔
 
صفحہ نمبر 131
یہاں لے آئے تھے۔
اس بات کو سنتے ہی اپنی دائی اور خواصوں کو پکارا اور کہا " کیا سبب ہے کہ یہ مسافر آج جیتا بچا ؟ "
دائی نے کہا خدا کریم ہے ۔ اس نے اس کو اپنی حفاظت میں رکھا۔ بارے تم اپنا احوال کہو کہ اب کیسی ہو ۔
اس نے کہا کہ آج ہمیں اپنا بدن ہلکا معلوم ہوتا ہے ، نہیں تو ہمیشہ بھاری ہی رہتا تھا ۔
پھر دائی حاتم سے پوچھنے لگی کہ اے جوان ! تو نہیں یہاں کیا دیکھا اور تیرا جی کیوں کر بچا ؟
حاتم نے کہا کہ میں تمہیں ہر گز اس بات سے آگاہ نہ کروں گا ، پر اس کے باپ سے کہوں گا ۔
اتنے میں نور کا تڑکا ہوا اور صبح کا تارا چمکا بادشاہ

صفحہ نمبر 132

آیا اور حاتم سے پوچھنے لگا کہ اے مسافر ! تو کیوں کر جیتا بچا ؟
حاتم نے کہا کہ جب پہر رات گئی ، تب آپ کی لڑکی دیوانی ہوئی اور کلمے واہی تبائی بکنے لگی اور منہ سے کف نکلتی ہوئی میری طرف دوڑی اور کہنے لگی ۔
" اے نامحرم ! تو نے اپنا مقدر کہاں سے پیدا کیا جوبے دھڑک میری حویلی میں آیا ؟ خیر اب آیا ہے تو ہمارے سوالوں کا جواب دے ۔ آخر کار اس نے تین سوال مجھے سے کیے۔ میں نے خدا کے فضل و کرم سے ان تینوں سوالوں کے جواب بہ خوبی دے ۔ اس بات کے سنتے ہی وہ تھر تھرائی اور کرسی سے گر پڑی ، بےہوش ہو گئی ۔ پھر ایک سانپ اس کے پہلو سے نکل کر مجھ پہ لپکا ۔میں نے اس کو مار کر اسی انگنائی میں گاڑ دیا ، باور نہ ہو تو دیکھ لو ۔ پھر وہ لڑی ہوش میں آئی اور حجاب کرنے لگی۔
بادشاہ نے پوچھا کہ اے جوان مرد ! یہ کیا اسرار تھا ۔
حاتم بولا کہ ایک جن اس لڑکی پر عاشق تھا کہ سانپ بن کر ہر ایک مسافر کو مار ڈالتا تھا۔بارے خدا کے فضل
 

صابرہ امین

لائبریرین
ص 63



ساتوں کنوئیں زر سرخ سے بھرے ہوئے دکھا دئیے اور ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ اہل کاروں کو حکم ہو جو اس مال و اسباب کو چھکڑوں پر لدوا کر خزانہ بادشاہی میں داخل کریں ۔ بادشاہ نے وزیروں سے کہا کہ تم ابھی اس مال کو خزانہ عامرہ میں یہاں سے اٹھوا کر بھجوا دو .

وه متصدیوں سمیت کنویں پر گئے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ زر سرخ سے مالا مال ہیں - جوں چاہا کہ اس کو نکال کر لاویں ، وہیں وه زر سانپ بچھو کی صورت ہو گیا !

وہ اس واردات سے ڈر کر بادشاہ کے پاس گئے اور اس احوال کو ظاهر کیا۔ بادشاه حیران ہوا اور حسن بانو کے چہرے کا رنگ زرد ہو گیا ۔ تب حضرت نے فرمایا کہ اے فرزند ! کچھ انديشہ مت کر۔ یہ مال و اسباب حق تعالی نے تیری ہی قسمت میں لکھا ، تو مختار ہے؛ دوسرا اس کونہ لے سکے گا ۔

وہ تسلی آمیز باتون سے خوش ہوئی اور آداب بجا لا کر عرض کرنے لگی کہ اگر حكم ہو تو یہ لونڈی اس دولت بے قیاس کو راہ خدا میں تصرف کرے۔

بادشاہ نے پروائگی دی اور اُس سے رخصت ہو کر دولت خانے تشریف لے گئے ؛ تھوڑے لوگ سپاہ کے اس کی حفاظت کے واسطے وہاں چھوڑے۔

اُس نے اُسی روز سے ایک مسافر خانہ عالی شان بنوایا ۔ ہر ایک مسافر کو کھانا ، کپڑا، نقد جنس دیتی اور رخصت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
- نسخہ بمبئ ۱۸۴۵ء میں ' بنوا کر' اور نسخہء مكتوبہ (ص ۳۰) میں 'بنوا' ہے

ص64



کرتی ۔ چنانچہ جو کوئی کہیں کا ارادہ کر کے اس کے شہر میں آتا تھا، یہ اس کو موافق اس کی قدر کے خرچ دے کر رخصت کر دیتی تھی۔

کتنے دنوں میں مسافروں نے یہ چلن اور وصف اُس کا ملک ملک، گاؤں گاؤں مشہور کیا کہ ایک نئے شہر میں ایسی ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے اور سخاوت اور مروت اس قدر رکھتی ہے کہ ہر ایک خدا کے بندے کا سر اپنے بار احسان سے جھکا
دیتی ہے اور اپنی شیریں سخنی سے ہر ایک بشر کو غلام کر لیتی ہے ۔ حق تو یہ ہے که نہ ایسی سنی ہے ، نہ دیکھی - اور نوکر بھی اُس کے امانت دار اور دیانت دار ہیں کہ ہر ایک محتاج غریب کو روپے اور اشرفیوں سے نہال کر دیتے ہیں - نام اس کا اس زمانے میں سخاوت اور رحم کے باعث چاند اور سورج سے بھی زیاده روشن ہے ۔
یہ خبر رفتہ رفتہ شہر خارزم میں پہنچی - وہاں کا بادشاہ بھی لشکر عظیم اور ملک وسیع رکھتا تھا ۔ ایک بیٹا اُس کا منیر شامی نام چودہ پندره برس کا نہایت حسین و خوب صورت تھا ۔ اتفاقاً آواز، حسن بانو کی سخاوت اور خوب صورتی کا اُس لڑکے نے سنا ۔ سنتے ہی عاشق ہو گیا اور ایک مصور کو بلوا کر کہا کہ میں اس قدرروپے تجھے دينا ہوں - تو شاه آباد میں جا اور حسن بانو کی تصویر جس طرح بنے اُس ڈھب سے کھینچ لا۔

وہ کئی مہینے کا وعدہ کرکے اُس سے رخصت ہوا اور قریب شاه آباد کے جا پہنچا ۔ کتنے ایک نو کر حسن بانو کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱- 'اور' - (نسخہء مكتوبہ ص ۳۰)
۲- 'روشن '- نسخہ مكتوبہ (۳۱) میں ہے۔


ص65


اسی کام کے واسطے مقرر تھے کہ وے ہر ایک مسافر کو اپنے اپنے مکان پر لے جاتے اور اچھے اچھے کھانے کھلاتے ۔ جب اُس کو رخصت کرنے لگتے، تب اس کے پاس لے آتے تھے ۔ وہ اُس کا احوال پوچھتی تھی اور خرچ موافق اس کے حال کے دے کر رخصت کرتی۔ اسی صورت سے وہ لوگ اس کو بھی حسن بانو کے پاس لے گئے ۔
تب اس نے ایک پردہ ڈال کر اس کو اپنے پاس بلوایا اور کچھ احوال پوچھا ۔ اس نے عرض کی کہ میں اُمید وار اس بات کا ہوں کہ یہ باقی عمر اپنی آپ کے سایہء دولت میں بسر کروں۔
اُس نے کہا کہ تو کیا کام جاتا ہے اور کیا ہنر رکھتا ہے ؟

وہ بولا کہ میں مصوری کا کام ایسا جانتا ہوں ، جس کی تصور چاہوں ، پس پرده کهینچوں -
اس بات کو سن کر اُس نے نوکر رکها. بعد تهوڑے دنوں کے جی میں یہ خیال گزرا کہ اپنی تصویر کھنچوائیے اور اس کو دیکھیے ، اُس کا جھوٹ سچ معلوم ہو جائے گا۔ ایک دن اُس کو بلوایا اور کہا "اے مصور ! میری تصویر بے دیکھے کینهچ -
اُس نے کہا کہ آپ کوٹھے پر چڑھیں اور ایک لگن پانی سے بھروا کر زیر دیوار رکھوا دیں - میں پانی میں سے ذرا عکس دیکھ لوں تو تمھاری تصویر ہوبہو کهینچوں -

اس نے فرمایا ”ایک طشت پانی سے بھر کر جلد دیوار کے تلے رکھ دو ۔“
نوکروں نے وہي کیا. تب وہ اُوپر گئی اور پرچھائیں اُس


ص 66



کی اُس میں پڑی - مصور نے ایک نظر پانی میں اس کی شبیہہ دیکھ لى اور اپنے گھر آ کر دو تصویریں کھینچیں - جو تصویر کہ تصویر تھی سو تو اُس نے اپنے پاس رکھی اور ایسی ویسی حسن بانو کو حوالے کی۔ اُس نے اس کو بھی پسند کر کے لے لیا اور انعام دے کر رخصت کیا۔
مصور تھوڑے دنوں میں منیر شامی کے پاس جا پہنچا اور وہ تصویر اُس کو دکھلا کر اُمید وار انعام کا ہوا۔

وہ اُس کو دیکھتے ہی غش ہو گیا ۔ جب ہوش میں آیا تب آہيں سرد دل پُر درد سے کھینچنے لگا۔ ندان یہ بات جی میں ٹھہرائی کہ بہتریہی ہے اب نکل چلیے ، گو مرضی ماں باپ کی نہیں۔

آخر کار آدھی رات کو فقیروں کا سا احوال بنا کر اپنے گھر سے تنہا نکلا اور شاہ آباد کی طرف راہی ہوا۔

بعد ایک مدت کے آفتیں کھینچتا اور مصیبتیں اٹهاتا اُس شہر میں جا پہنچا ، پر کچھ نہ كھايا - خبرداروں نے یہ خبر حسن بانو کو پہنچائی کہ ایک مسافر اس شہر میں ایسا آیا ہے کہ وه نہ کچھ کھاتا ہے اور نہ کسی سے کچھ بات کرتا ہے ۔ حسن بانو نے اُس کو اپنے پاس بلوا لیا اور کہا ”اے مسافر شہر غريب ! تو نے کھانا پینا کیوں چھوڑا اور اس قدر زر نقد کیوں نہ ليا ؟ اگر لے لیتا وه پیسا کہیں نہ کہیں تیرے کام ہی آ رہتا - بهلا کچھ تو ہم سے لے ۔“
اُس نے کہا کہ زر و جواہر کا محتاج ہو کر کچھ نہیں آیا ہوں - میں بھی بہت سی دولت و ہمت رکھتا ہوں بلکہ

۱۔ حشمت ۔ (نسخہء مكتوبہ ص ۳۳)


ص67


شہزاده شہر خارزم کا ہوں -
اُس نے کہا اگر” اگر تو شہ زادہ ہے تو فقيروں جیسا حال کیوں بنایا ہے؟“
بولا کہ میں تیری تصویر کو دیکھ کر دیوانہ ہوا ، اپنی شہ زادگی کو خاک میں ملاکر شہر سے نکلا ، خاک چھانتا یہاں تک آ پہنچا ۔ فقط آرزوئے وصال رکهتا ہوں . جو بات تھی سو کہی ، آگے مرضی تیری ، جو چاہے سو کر۔
اس بات کے سنتے ہی اس نے تامل سے سر نیچے کر لیا ۔ بعد ایک دم کے کہا ” اے جوان ! اس خیال کو اپنے دل سے دور کر کیوی کہ اگر خاک ہو کر ہوا کے ساتھ تو اُڑتا پهر گا تو بھی میرے ایک رونگٹے تک نہ پہنچے گا ، منہ دیکھیے کا تو کیا ذکر ہے . مگر وہ شخص جو میری یہ ساتوں شرطیں پوری کرے ۔
تب شہ زاده بولا کہ میں تیرے دروازے پر اپنی جان دوں گا۔

وہ مسکرائی اور بولی که جان دینا آسان ہے پر دیکھنا میرا مشکل۔
تب اُس نے کہا " تم کو اپنی جان عزیز کی قسم ہے! وے سوال کون سے ہیں؟ مجھ سے کہو -“
تب حسن بانو بولی”پہلا سوال تو یہ ہے کہ ایک بار میں نے دیکھا اور دوسری دفعہ كی ہوس ہے ؟ اس کا جواب دے ۔“
اُس نے کہا کہ وہ کہاں ہے اور کب سے یہ سخن کہتا ہے۔


ص 68



یہ بات سن کروه ہنسی اور کہنے لگی کہ کیا خوب! اگر میں جانتی تو تجھ سے کیوں پوچھتی ۔
شہ زاده اس بات کو سن کر اپنے گریبان میں سر ڈال کر رہ گیا اور جی میں کہنے لگا ”اب کیا کروں ، بن دیکھے ہوئے
مکان کی طرف کیوں کر جاؤں ۔“ تب حسن بانو بولی ” اے عزیز! اگر یہی اندیشہ ہے تو میرے دیکھنے کے خیال کو دل سے اٹھا دے اور جہاں چاہے وہان چلا جا ۔“

پھر اُس نے کہا ” اے سراپا ناز! میرے حق میں تیرے شہر کا رہنا اچھا ہے اور یہیں کے کوچوں کا مرنا مبارک ہے ۔
یہ سن کر اُس نے کہا ”ہم ایسے یاوه گو کو اپنے شہر میں رہنے نہیں دیتے۔ اگر آپ سے جاتا ہے تو جا نہیں تو بے حرمت ہو کر نکلے گا ۔
شہ زاده اس گفتگو سے مایوس ہوا اور ایک برس کا اُس
نے وعدہ کر، چلنے کا قصد کیا ۔
تب سوداگر بچی نے جانا کہ یہ اینا نقد دل یہاں کهو چکا ہے ۔ تھوڑے بہت روپے خرچ راه دئیے اور نام پوچھا ۔ اُس نے کہا "منير شامی -“
ندان روتا پیٹتا سر بہ صحرا ہوا. کسی جنگل میں جا کرکبهو ہنس دیتا ، کسی پہاڑ سے سر ٹکرا کر کبھو رو دیتا پر قدم برہائے ہی جاتا تها۔
اور بھی اُس فتنہ انگیز کے یہاں اسی صورت سے کتنے ہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ 'اور' نسخہء مكتوبہ ( ص ۳۴) میں نہیں ہے۔
۲۔ یا وه گؤں - (نسخہء مكتوبہ ص ۳۵) -
 

مومن فرحین

لائبریرین
74
کیا کرنا ۔
یه کہہ کر حاتم وهاں سے رخصت هوا اور منير شامی کو مهمان سرا میں چھوڑ کر کسی طرف کو چلا گیا ۔


75
پہلا سوال'

حاتم کے جانے کا اور پہلی شرط بجا لانے کا

القصه حاتم جب تھوڑی دور گیا، تب اپنے جی میں کہنے لگا که اب میں کیا کروں اور کس سے کہوں ؟ بے دیکھے بهالے کدھر جاؤں اور اس عقدے کی گرہ کیوں کر کھولوں ! مگر برائے خدا یه مشکل اپنے پر لی ھے ، وھی آسان کرے گا۔ مجھ سے تو کچھ نہیں ہو سکتا یه کهه کر توکل به خدا آگے بڑها -
اتنے میں کیا دیکھتا هے که ایک بھیڑیا قریب ھے که ایک هرني کو پکڑے اور پھاڑ چیر کر کھا جاوے ۔ اس بے کسی میں جو اس نے اس هرنی کو دیکھا ، جلد جا کر ایک آواز سہم ناک سے پکار کر کها که اے نا بکار ! کیا کرتا هے خبردار ! یه غریب بچے والی ہے ، دودھ اس کی چھاتیوں سے بها جاتا ہے ۔
وہ اس بات کو سن کر ڈرا اور کھڑا هو کر کہنے لگا
" شاید تو حاتم ہے جو ایسے وقت میں اس کے آڑے آیا -"
وہ بولا تو کیوں کر جانا ۔
اس نے کہا میں نے تیری همت و شفقت سے پہچانا ليكن



76

تمام ملک میں یه بات مشہور ھے که تو هر ایک مخلوق کے حق میں احسان کرتا ھے پر یه سبب معلوم نہیں هوتا که تونے میرا شکار میرے منہ سے کیوں چھڑایا ؟
تب حاتم نے کها که تو کیا چاهتا هے ؟
وہ بولا ”میری خوراک گوشت ہے ، جو پاؤں تو
کھاؤں "
حاتم نے كها بہتر جهاں کا گوشت چاهے، وهاں کا میرے بدن سے کاٹ کر کھا اور اپنا پیٹ بھر کر چلا جا ۔
اس نے کہا " سرین کا گوشت بے هڈی هوتا ھے ۔ اگر وہ دو تو خوب سا چکهوں اور دعائیں دوں گا۔ "
تب حاتم نے اسی گھڑی خنجر کمر سے کھینچ لیا اور ایک لوتھڑے کا لوتھڑا اپنے چوتڑ سے کاٹ کر اس کے آگے ڈال دیا ۔ وہ گوشت اس نے کھایا اور سیر ہو کر کہا" اے حاتم ! ایسی کیا مصیبت پڑی جو تونے یمن سے شہر کو چھوڑا اور اس قدر تکلیفیں اٹھا کر اس جنگل خوں خوار میں آ پڑا ؟"
حاتم نے جواب دیا کہ منیر شامی حسن بانو پر
عاشق هوا هے اور وہ سات سوال رکھتی ہے ۔ جو کوئی ان کو پورا کرے گا، اسی کو قبول کرے گی ۔ میں نے عندالله اس کام پر کمر باندھی ہے. چنانچه پہلا سوال اس کا یه هے که ایک شخص کہتا ھے که ایک بار دیکھا ہے اور دوسری دفعه کے دیکھنے کی ہوس هے . هر چند یہ نهیں جانتا کہ وہ مكان کہاں ہے اور وہ کون ہے؟ اور ایسا کیا دیکھا ہے اس نے که
جس کے دیکھنے کی دوباره آرزو رکھتا ھے ؟ پر خدا کی طرف



77


لو لگائے ، سر به صحرا چلا جاتا هوں ۔ کہیں تو کچھ کھوج اس کا ملے گا۔
اس بات کو سن کر بھیڑیے نے کہا" اے جوان ! میں
اس مکان کو جانتا هوں . اکثر بزرگوں کی زبانی اس کا پتا پایا ہے . نام اس کا ’’دشت هویدا "۔ کہتے هیں وهاں جو جاتا هے وہ تمام دن پھرتا ہے اور یہی آواز سنتا ہے ۔"
حاتم نے کہا که وه دشت کہاں هے ؟
بھیڑیا بولا "یهاں سے تھوڑی دور جا کر دو رستے ملیں گے ۔ تو بائیں هاتھ کی راہ کو چھوڑ کر دا هنے رستے پر هو لينا ؛ يقين هے که وهیں پهنچے گا اور اپنا مدعا حاصل کرے گا؛ که هرنی اس کو دعائیں دیتی ھوئی چلی اور وہ بھیڑیا بھی اس سے رخصت هوا، پر وہ دونوں اس کی جواں مردی اور سخاوت پر عش عش کرتے تھے ۔
حاتم دو چار هی قدم بڑھا هوگا که درد کے باعث سے
پاؤں لڑ کھڑانے ۔ ناچار ایک درخت کے نیچے گر کے تڑپنے لگا ۔ وہاں ایک گیڈر کی مانده تھی اور وہ اپنی ماده سمیت خوراک کی تلاش کے واسطے گیا تھا ۔ بعد دو گھڑی کے جو چر چگ آیا اور حاتم کو اپنی جگہ پر تڑپتے پایا ، تب ماده نے کہا که یه آدمی زاد کہاں سے آیا ہے ؟ اب اس کو چھوڑ دینا چاهیے کیوں که غير جنس سے موافقت کر“ اور صحبت کب بنے ؟ مثل مشهور ہے آدمی نسبت " گیدڑ نے کہا اے ماده ! شاید یہ ۔۔۔
جو نسخہ ریختہ لائبریری سے لیا گیا ہے اس میں چند سطریں موجود نہیں ہے




78

اور دشت هويداء کی خبر کو جاتا ہے۔ اب چوتڑ کے درد سے اس درخت کے نیچے گر پڑا ہے اور تڑپ کر جی دیتا ہے ۔
وہ بولی که " تو نے کیوں کر دریافت کیا ؟"
اس نے کہا کہ میں نے اپنے بزرگوں کی زبانی سنا هے که فلانی تاریخ و فلانے روز اس جگه حاتم کا گزر هوگا اور اس درخت کے تلے اذیتیں کھینچے گا سو وہ تاریخ یہی ھے اور وہ دن بھی یہی ھے ۔
اس نے کہا کہ اس کا احوال سچ کہا۔ وہ بولا که
یه يمن كا شہ زاده ھے اور بڑا سخی ۔ آج فلانے جنگل میں ایک هرنی بچے والی چرتی تھی اور ایک بھیڑیا اس پر لپکا۔ اس نے اپنے چوتڑ کا گوشت دے کر اس بھیڑیے سے وہ ہرنی چھڑا دی اور اپنے اوپر یه مصیبت لی ۔
اس نے کہا کہ انسانوں میں کب ایسے صاحب مروت هوتے هیں اور کب کسی کی بے کسی پر وہ رحم کھاتے هیں ۔
اس نے جواب دیا که براے خدا یه کیا کهتی هے ۔
انسان هر ایک مخلوق پر بزرگی رکھتا ہے ۔ اشرف المخلوقات کہلاتا ھے ؛ خصوصا حاتم نهایت اهل همت و صاحب مروت و خدا پرست ھے ۔ سخاوت بھی اس قدر رکھتا ھے که دے کر غیر کی جان بچا دی ۔ اس نے جو اتنی خوبیاں ایک شخص میں دیکھی تو کہا که یه ایسے زخم سے کیوں کر اتنی دور
کے دیکھنے
اور کہا که اگر پری رو کے سر کا بھیجا اس کے زخم اچها هو جائے، پر یہ بہت مشکل هے ؟

جو نسخہ ریختہ لائبریری سے لیا گیا ہے اس میں چند سطریں موجود نہیں ہے
 
صفحہ نمبر 133

یہ بلائے عظیم تمہارے سر سے ٹلی۔
بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اے شخص ! یہ لڑکی میں نے تجھی کو دی اور یہ ہمارا قول تھا ۔ لازم ہے کہ تو بھی قبول کرے ۔
حاتم نے کہا کہ ایک شرط ہے کہ میں جہاں چاہوں وہاں اس کو لے جاوں ، کوئی میرا مزحم نہ ہو ۔
اس نے کہا کہ " بہت اچھا ، تو اس بات میں مختار ہے جدھر چاہے تدھر لے جا ۔"
اسی گھڑی اس کے باپ نے اپنے گھرانے کی رسوم کے موافق اس نکاح اس کے ساتھ بندھوا کر اس کا ہاتھ حاتم کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔
حاتم نے تین مہینے تک ہر ایک رات اس کے ساتھ اس جگہ عیش و عشرت میں گزاری ۔
جب اس عورت کو پیٹ رہا ، تب حاتم نے اس سے کہا کہ اب تو مجھے رخصت دے ، اور ایک بات میری سن کہ میں یمن کا رہنے والا ہوں اور یہ نطفہ طے کے نطفے سے ہے ۔
اگر لڑکا ہووے اور یمن کے جانے کا شوق کرے تو تُو اس کو یمن کے اس پتہ پر پہنچا دینا اور لڑکی ہووے تو کسی مرد نیک سیرت و فرشتہ خصلت سے منسوب کر دینا ۔ اگر میں جیتا

صفحہ نمبر 134

رہوں گا تو ایک بار تیرے پاس مقرر آوں گا اور بہ خوبی خبر لوں گا ۔
اس ہی ڈھب کی دو چار باتیں کر کے وہ اس سے رخصت ہوا ۔
بعد تھوڑے دن میں شہر چین میں جا پہنچا اور وہاں کے رہنے والوں سے پوچھنے لگا کہ اس شہر میں سوداگروں کا محلہ کہاں ہے ۔ غرض پوچھتے پوچھتے وہاں جا پہنچا اور کہنے لگا کہ اس محلے میں یوسف سوداگر کی حویلی کون سی ہے اور اس کی آل اولاد میں سے کوئی ہے ؟
لوگ دوڑے اور اس کے بیٹوں کو خبر کی کہ ایک مسافر کہیں سے آیا ہے اور تم کو بلاتا ہے ۔
وے اس بات کو سن کر دوڑے ہوئے حاتم کے پاس آئے ۔
اس نے کہا کہ اے لڑکو ! مجھے تمہارے باپ نےبھیجا ہے اور پیغام دیا ہے ۔
اس سخن کے سنتے ہی سب لوگ ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے مسافر ! معلوم ہوا کہ تو دیوانہ ہے جو ایسی واہیات بکتا ہے ۔ اس کو تو ایک مدت ہوئی کہ وہ مر گیا اور ہم اس بات پر مرتے ہیں کہ اس نے تیرے ہاتھ یہ پیغام کیوں کر بھیجا ۔
حاتم نے کہا کہ اے یارو ! میں نے جانتا کہ شہر چین میں یوسف سوداگر کی حویلی سوداگروں کے محلے میں ہے ۔
اور سوا اس کے اس نے ایک پتہ اور بھی دیا ہے ۔اگر تم سنو تو
 

الف نظامی

لائبریرین
116
پس انہوں نے ہزاراں من لکڑی جمع کر کے آگ بھڑکائی۔ جب اس کی لو آسمان تک پہنچی ، اس کو اُٹھا کر اس آگ میں ڈال دیا۔ حاتم تین روز تک اسی آگ میں رہا۔
وے چلے گئے۔ بعد اس کے جو نکلا تو ایک تار بھی اس کے جامے کا نہ جلا تھا۔ وہاں سے ایک طرف کو راہی ہوا۔
تھوڑی دور گیا ہوگا کہ پری زاد ہر طرف سے دوڑے اور پوچھنے لگے "اے جوان! تیری ہی صورت کا ایک شخص دو چار دن کا ذکر ہے کہ آیا تھا۔ اُس کو تو ہم نے آگ میں ڈال کر خاک سیاہ کر دیا۔ اب جو تو آیا ہے ، کیا وہی ہے یا دوسرا اور پیدا ہوا؟ سچ کہہ"
حاتم نے کہا "اے احمقو! جو آتش کدے میں پڑے سو کیوں کر جیتا بچے ؟ "
پھر اُس کو اُنہوں نے ایک بھاری پتھر کے تلے تین روز تک داب رکھا۔ چوتھے روز اس کو اس سے نکال کر اس زور سے ٹانگ پھرا پھرا کر پھینکا کہ وہ ، وھاں سے اٹھارہ کوس پر دریائے شور بہتا تھا ، اُس میں جا پڑا اور ایک گھڑیال اس کو نگل گیا۔ وہ اُس صدمے سے عالم بے ھوشی میں تھا ، کچھ نہ سمجھا کہ میں کہاں تھا اور کہاں آیا۔
جب ھوش ھوا ، تب اپنے تئیں گھڑیال کے پیٹ میں دیکھ کر گھبرایا اور اس کے دل و جگر کو دوڑ دوڑ کر پاوں سے کچلنے لگا۔ وہ اس کے ھضم نہ ہونے کے باعث عاجز ہو کر خشکی
---------
1- نسخہ مکتوبہ (ص 122) "تو جو ۔"
2- نسخہ مکتوبہ ( ص 123) میں "پاوں سے" نہیں ۔

117
میں گیا اور قے کرنے لگا۔ حاتم اس کے منہ سے نکل پڑا۔
بعد اس کے بھوکا پیاسا کسی طرف کو چلا۔ جب طاقت طاق ہوگئی ، چل کر ریتل میں گر پڑا اور ہر ایک سمت کو تکنے لگا۔
اتنے میں ایک غول پری زادوں کا اٹھکھلیاں کرتا ہوا آ پہنچا اور ہر ایک اُسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگا کہ یہ آدم زاد کون ہے اور یہاں کیوں کر آیا ہے؟ تحقیقات کیا چاہیے ۔
ایک - آ کر حاتم سے کہا "اے آدمی 1 زاد ! تجھ کو کون لایا 2 جلد بتلا ؟"
حاتم نے کہا "مجھ کو خدائے کریم الرحیم لایا ہے کہ جس نے مجھے اور تجھے پیدا کیا ، اور دوسرا دن ہے کہ مجھ کو گھڑیال کے پیٹ سے جیتا باہر نکالا۔ اگر تم کو خدا نے توفیق دی ہو تو کچھ کھانے پینے کی خبر لو ۔"
انہوں نے کہا کہ تجھ کو ہم دانا پانی کیوں کر دیں ۔ حکم ہمارے بادشاہ کا یہ ہے کہ جس آدمی کو یہاں پاو ، وہیں ٹھکانے لگاو ۔ اگر تجھ کو نہ ماریں اور کھانے پینے کو دیں تو غضب سلطانی میں گرفتار ھوویں ۔
اتنے میں ایک نے اُنھیں 3 میں سے کہا کہ اے یارو ! خدا سے ڈرو ۔ کہاں بادشاہ اور کہاں یہ گدا ۔ کچھ آپ سے یہ نہیں آیا۔ واللہ اعلم گھڑیال کہاں سے اس کو لایا ہے 4 ۔
---------------------------------------------------------
1- نسخہ مکتوبہ (ص 123) " آدم زاد ۔"
2- نسخہ مکتوبہ (ص 123) "لایا ھے ۔"
3- نسخہ مکتوبہ (ص 124) " اُن ۔"
4- نسخہ مکتوبہ (ص 124) " ھو ۔ "

118
چند روز اس کی حیات کے باقی تھے جو اس کے پیٹ سے نکلا ، اور قوم انسان کی ہم سب سے اشرف کہلاتی ہے ، لازم ہے کہ اُس کو گھر لے جاویں اور پرورش کریں ۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر اس کو ہم رکھیں اور کھانا دیں ، مبادا بادشاہ پریوں کا سنے اور ہماری گردن مارے تو مفت میں جان جاتی رہے۔
حاتم نے کہا "اے عزیزو ! اگر میرے مارے جانے سے تمہارا بھلا ہو تو مت چوکو ، مار ہی ڈالو ۔ "
اس جرات کو دیکھ کر وے پھر آپس میں مشورت 1 کر کے کہنے لگے "اے یارو ! یہاں سے سات روز کی راہ پر ہمارا بادشاہ رہتا ہے ۔ ایسا کون ہے جو اس کا احوال بادشاہ سے عرض کرے گا ؟ "
اس بات کو سوچ کر وے سب کے سب متفق ہوئے اور حاتم کو اپنے گھر لے گئے ۔ میوے اور کھانے قسم قسم کے اُس کے آگے رکھے ۔ حاتم نے سیر ہو کر کھایا اور پانی پیا اور خوشی سے بیٹھا۔ پری زاد بھی اس کے گرد آ بیٹھے اور قیل و قال کرنے لگے اور اُس کے حسن پر فریفتہ ہو گئے۔
بعد کتنے دنوں کے ایک روز حاتم نے اکتا کر کہا کہ اے یارو ! اب مجھ کو رخصت کرو کہ جس کام کے واسطے آیا ہوں ، اس کی سعی کروں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کیا کام ہے اور تجھے یہاں کون لایا ہے ؟
حاتم نے کہا " مجھ کو فروقاش بادشاہ کے دیو ماہ پری بادشاہ
------------------
نسخہ مکتوبہ (ص 124) "مشورہ کرنے لگے ، اے یارو"

119
کی سرحد میں لائے تھے۔ تمہارے بھائیوں نے تین مرتبہ مجھ کو آگ میں ڈالا ، خدائے کریم نے بچا لیا ۔ پھر انہوں نے دریا میں ڈال دیا ، وہاں ایک گھڑیال نگل گیا ۔ جب وہ ہضم نہ کر سکا ، تب اُس نے بھی کنارے پر آ کر اُگل دیا ؛ اتنے میں تم سے ملاقات ہوئی ، تم اپنی مہربانی سے گھر لے آئے اور میری تم نے غور و پرداخت کی ۔"
یہ سن کر انہوں نے کہا "اے جوان خوش رو ! ایسا کون سا کام ہے کہ جس کے واسطے تو نے ایسی مصیبتیں اٹھائیں اور جفائیں سہیں ؟ "
حاتم نے کہا کہ میں ماہ پری بادشاہ سے کچھ کام رکھتا ہوں
انہوں نے کہا "اے نادان ! تو ہمارے سامنے ماہ پری بادشاہ کا نام نہ لے کیوں کہ اس کے ہم نوکر ہیں۔ اس نے اپنی حد بھر اسی صورت سے شہر بہ شہر چوکیاں بٹھلائی ہیں اور یہ فرمایا ہے کہ میرے ملک میں کوئی آدم زاد یا دیو زاد آنے نہ پاوے ۔ اگر ماہ پری شاہ سنے گا کہ آدام زاد یہاں آیا ہے تو ہم کو جیتا نہ چھوڑے گا اور تجھ کو مار ڈالے گا ۔ "
بیت
قدغن ہے کہ اس گھر میں کوئی آنے نہ پاوے
گر بے خبر آ جائے تو پھر جانے نہ پاوے
حاتم نے کہا "اے یارو ! اگر میری حیات باقی ہے تو کوئی نہیں مار سکتا اور جو تم اپنے واسطے ڈرتے ہو تو مجھے باندھ کر اس کے پاس لے چلو ، خدا جو چاہے گا سو کرے گا۔ "
اُنہوں نے کہا "ہم سے یہ بھی نہیں ہو سکتا کیوں کہ
120
جس کی پرورش کی ہے اُس کو مارنے کے واسطے کیوں کر دیں ؟
حاتم نے کہا "میرے مارے جانے پر تم کوئی سوچ نہ کرو کیوں کہ مجھ کو ماہ پری شاہ کے پاس جانا ہے ، خواہ وہ مارے ، خواہ چھوڑے"
اس بات کو سن کر وے حیران ہوئے اور آپس میں مشورت کر کے کہنے لگے "اب یہ بہتر ہے کہ اس کو یہیں رکھیے اور اس احوال کی ایک عرضی بادشاہ کو کریے ، حضور اعلیٰ سے جو ارشاد ہو ، سو کیجیے۔"
اس بات پر وہ ہر ایک راضی ہوا ؛ تب ایک پری زاد کو عرضی دے کر رخصت کیا اور اس میں یہ مضمون لکھا کہ جہاں پناہ ! ایک آدمی دریائے قلزم کے کنارے سے ہاتھ آیا ہے ، سو اس کو بہ طور نظر بندوں کے اپنے گھر ہی میں رکھا ہے۔ اگر حکم ہو تو حضور اعلیٰ میں بھجوا دیں ۔
غرض وہ وہاں سے عرضی لے کر چلا اور ایک ہی ہفتے میں در دولت میں جا پہنچا :
غرض بیگیوں ۔ خبر پہنچائی کہ خداوند ! ایک پری زاد دریائے قلزم کے چوکی داروں میں سے آیا ہے ۔ وہاں کے حاکم کی عرضی بھی ہاتھ میں رکھتا ہے ۔ حکم ہوا کہ اس کو حضور میں حاضر کرو ۔
وے اُس کو لے آئے ۔ وہ آداب بجا لایا اور عرضی حضور میں گزرانی ۔
ماہ پری شاہ نے پڑھ کر فرمایا کہ اُسے جلد حضور میں بہ احتیاط تمام حاضر کرو ۔
 
آخری تدوین:
صفصہ نمبر 135

وہ بھی کہوں ؟
انھوں نے کہا " بہت بہتر "۔
حاتم نے کہا کہ فلانے حجرے میں جو خاص اس کے سونے کی جگہ تھی ، اس کے پاس فلانے درخت کے نیچے بہت سا مال و جوہر گڑا ہے لکین اسے کوئی نہیں جانتا ۔ اس جگہ کو کھودو اور جس قدر زر و جوہر اس جگہ سے نکلے اس کے چار حصے کرو ۔ ایک حصہ تم لو اور تین حصے خداکی راہ میں خرچ کرو ۔ یہ کہہ کر اس نے جو واقعہ ماجرہ دیکھا تھا ، سو از ابتدا تا انتہا ان کے سامنے بہ خوبی ظاہر کیا کہ میں اس سبب سے فلانے جنگل میں گیا تھا ، وہاں یہ تماشہ دیکھا ، نہیں تو مجھے کیا کام تھا جو ادھر جاتا اور ادھر قاصد بن کر آتا ۔
تب تو انھوں نے کہا کہ یہ حرکت بادشاہ کے خبر کیے بغیر کیوں کر کریں ؟ آخر کار وہ اس کو بادشاہ کے پاس لے گئے ۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ اے شخص ! کیا دیکھا ہے تو نے ، سچ کہہ ؟
اس نے کہا کہ " جہاں پناہ میں نے یوسف سوداگر اس طرح دیکھا ہے اور یہ پیغام اس نے میرے ہاتھ بھیجا ہے ۔
اس بات کو سن کر وہ بھی ہنسا اور کہنے لگا کہ کیا کوئی تیرے شہر میں قصد لینے کو حجام نہیں ملا جو تو یہاں
 
آخری تدوین:

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۱۳۶
آیا؟ تو تو اچھا خاصا دیوانہ ہے۔ جا اپنی قصد لے کیوں کہ اُسے مرے سو برس ہوئے، پھر تجھ سے ملاقات کیوں کر کی۱ ۔ اے بے وقوف! کہیں مردے بھی کسی سے ملاقات کرتے ہیں جو اُس نے تجھ سے کی او ر یہ حقیقت کہلا بھیجی؟ ارے ہے کوئی جو اس دیوانے کو شہر بدر کر دے۔
حاتم نے عرض کی ” اے بادشاہ عادل زمان و اے ۲ دست گیر درماندگان! یہ اسرار الٰہی ہے، جاننے والے ہی اس کو دریافت کرتے ہیں۔ کیا تم اتنا نہیں جانتے کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ او ر یوسف ایک مرد بخیل تھا، وہ اس خست کے سبب سے ۳ ایک رنج و مصیبت میں گرفتار ہے۔ اس بات کو میری مانو کہ وہ غریب عذاب سے چھوٹے، ثواب میں داخل ہووے۔ سوائے اس کے اگر میں دیوانہ ہوں تو اس حجرے کے خزانے کی کیوں کر خبر رکھتا ہوں؟
بادشاہ اس سخن کو سن کر متعجب ہوا اور حاتم کو ساتھ لے کر یوسف سوداگر کی حویلی میں آیا۔ پھر اُس حجرے کو کھدوایا، بے شمار مال نکلا۔ تب بادشاہ نے اس کے چار حصے کر کے ایک اس کے لڑکوں کے حوالے کیا اور تین حصے حاتم کو دے کر کہا کہ اے عزیز! تو مرد با دیانت اور اور شخص باامانت ہے۔ اس خزانے کو اپنے ہی ہاتھ سے راہ مولا میں خرچ کر۔
حاتم نے تھوڑے ہی دنوں میں اس خزانے کو خرچ ڈالا۔

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۶) ”ہوئی “ہے۔
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۶) ”والے “کی جگہ ”والی“
۳۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۶) میں ”سے “نہیں۔

صفحہ ۱۳۷
بھوکوں کو کھانا ۱ کھلایا، ننگوں کو کپڑا پہنایا، محتاجوں کو اتنے روپے دیے کہ وے مالا مال ہو گئے۔
پھر بادشاہ سے رخصت ہو کر شہر عادل آباد میں آیا، اپنے قبیلے سے ملا اور لڑکا جو پیدا ہوا تھا ، اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا، سالم نام رکھا۔
بعد کئی دن کے رخصت ہو کر پھر جنگل کی راہ لی۔ کئی دن کے عرصے میں شہیدوں کے قبرستان میں پہنچا۔ تین روز وہاں رہا۔
شب جمعہ کو وے شہید سب کے سب بہ دستور اپنی اپنی قبر سے نکلے اور فرش مکلف بچھا کر بیٹھے۔ وقت معین پر اُسی طرح سے ان کے آگے کھانے چنے گئے، پھر اُن کے پیچھے اُس سوداگر کے بھی آگے ویسا ہی کھانا رکھا گیا۔ بعد اس کے حاتم نے ۲ ملاقات کی اور اس سوداگر سے احوال پوچھا۔ وہ کہنے لگا کہ اے جوان مرد! مرحبا جزاک اللہ فی الدارین خیراً۔ اس تیری ہمت کا ثمر دے حق تعالیٰ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک جوان مرد راست گو تو ہی نظر آیا ۳ اور تیرے ہی باعث یہ مرتبہ مجھ کو ملا جو اس بلا سے نکلا اور اُن کے سامنے فریاد کرنے سے باز رہا۔ کھانا پانی بھی ان کے برابر مجھے پہنچتا ہے لیکن مسندیں اور پوشاکیں ان کی مکلف ہیں کیوں کہ اُنھوں نے اپنے ہاتھ سے جیتے جی خیرات کی ۴ ہے اور میں نے بعد مرنے

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۷) میں ”کھانے کھلائے، ننگوں کو کپڑے پہنائے۔“
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۷) میں ”اُن سے“ مزید ہے۔
۳۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۷) میں” پڑا اور تیرے باعث“
۴۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۸) میں ”تھی“

صفحہ ۱۳۸
کے پریشانی کھینچ کر، تب بھی خدا کے فضل و کرم سے بہت آسودہ ہوں، خدا تجھ کو جزائے خیر دے۔
صبح کو حاتم وہاں سے رخصت ہوا اور ایک جنگل میں جا پہنچا۔ وہاں ایک عورت پیر سال ۱ فقیروں کی طرح سے بیٹھی ہوئی بھیک مانگتی تھی۔ حاتم نے اپنے ہاتھ سے الماس کی انگوٹھی اُتار کر اس کے حوالے کی اور آپ منزل مقصود کی راہ لی۔ اتنے میں اُس بڑھیا نے پکا ر پکار کر کہا کہ بیوا یکے دکے پنچھی پردیسی کا راہ باٹ میں خدا حافظ ہے۔
اس آواز کے ۲ سنتے ہی سات جوان مسلح، سپریں تلواریں لگائے جنگل کے دائیں بائیں سے نکل آئے اور حاتم سے ملاقات کر کے ساتھ ہو لیے؛ چنانچہ و ے ساتوں چور اس چڑیل کے بیٹے تھے۔ اُس نے جڑاؤ انگوٹھی کو دیکھ کر یہ خبر ان کو دی تھی کہ۳ سونے کی چڑیا جاتی ہے۔ غرض وہ اس کے ساتھ ہو لیے او ر ادھر اُدھر کی گپ شپ ہانکتے چلے اور کہنے لگے کہ اے جوان مرد! ہم چاہتے ہیں کہ تیرے طفیل سے کسی شہر میں پہنچیں او ر وہاں کے بادشاہ کی نوکری کریں۔
حاتم نے کہا” بہت اچھا چلے چلو، کھانے پینے کا کچھ اندیشہ نہ کرو۔“
جب حاتم اُن کے دام میں آیا، تب اُنھوں نے اُس کے پیچھے سے ایک ۴ کمند اس کے گلے میں ڈال دی اور ہاتھ باندھ

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۸) ”پیر زال“
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۸) ”کو“
۳۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۸) ” یہ“
۴۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۰۹) میں ”ایک“نہیں۔

صفحہ ۱۳۹
کر دو تین خنجر مارے، پھر کوئیں میں گرا دیا اور جو مال و متاع تھا لے لیا مگر وہی ایک پگڑی کہ جس میں وہ مہرہ بندھا تھا، وہی لپٹی لپٹائی ۱ رہ گئی۔
وہ کئی روز تک کوئیں میں زخمی بے ہوش پڑا رہا۔ بعد دو تین روز کے جب ہوش میں آیا، تب اُس مہرے کو اپنی پگڑی سے کھولا اور ایک کونے میں زمین خشک پر بیٹھ کر کسی پتھر کے ٹکڑ ے پر اپنے تھوک سے اُس کو رگڑ کے اُن زخموں پر لگایا ۲، گھاؤ اُسی گھڑی بھر آئے اور درد جاتا رہا۔ پھر اُس نے اپنے جی میں کہا کہ افسوس اُن نامردوں نے دغا کی۔ اگر مجھ سے خدا کی راہ میں یوں مانگتے تو ۳ قسم ہے کہ بہ خوشی سب کا سب اُن کے حوالے کر دیتا اور اگر اب بھی ملیں تو اتنا کچھ دوں کہ وہ تمام عمر محفوظ رہیں بلکہ جب تک جئیں کبھی محتاج نہ ہوویں۔
یہ اسی سوچ میں تھا کہ آنکھیں ۴ لگ گئیں ۔ خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص کھڑا بہ آواز ۵ بلند یہ کہتا ہے” اے حاتم !غم نہ کھا کیوں کہ خدا کریم ۶ و رحیم ہے۔ اس نے جو تجھے یہاں پہنچایا ہے تو یہ بھی اُس کی حکمت سے خالی نہیں۔ تو نہیں جانتا یہاں ایک گنج عظیم گڑا ہے۔ حق تعالیٰ نے یہ مال تیرے ہی واسطے چھپا رکھا ہے۔ اب اُٹھ اور لے۔“

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۱۰۹) ”اُس کے سر پر رہ گئی“۔
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۱۰۹) ”لگا دیا“۔
۳۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۱۰۹) ” تو میں“۔
۴۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۱۰۹) ”آنکھ لگ گئی“۔
۵۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۱۰۹) ”یہ بہ آواز بلند کہتا ہے“۔
۶۔ نسخۂ مکتوبہ (صفحہ ۱۰۹) ”کریم الرحیم “۔

صفحہ ۱۴۰
اس سے اُس نے کہا ” اے بزرگ! میں تن تنہا کیوں کر لوں اور کہاں لے جاؤں؟“
وہ بولا کہ کل دو شخص اس مکان پر آئیں گے اور تجھے اس اندھے کوئیں سے نکالیں گے۔ چاہیے کہ تو اُن کو متفق کر کے اس مال کو نکالے۔
حاتم خوش ہوا اور درگاہ الہٰی میں سر جھکا کر سجدۂ شکر بجالایا۔
اتنے میں پو پھٹی اور نور کا تڑکا ہوا۔ بعد ایک دم کے دو شخص اُس کوئیں پر آئے اور پکار کر کہنے لگے ” اے حاتم! اگر جیتا ہے تو جواب دے۔“
اُس نے کہا کہ اب تک تو خدا کے فضل و کرم سے جیتا ہوں۔
تب اُنہوں نے اپنے ہاتھ بڑھا کر کوئیں میں ڈالے اور کہا کہ تو ہمارے ہاتھ پکڑ کر چڑھ آ۔
حاتم اُن کی دست گیری سے نکلا اور ان سے ملاقات کر کے کہنے لگا کہ یہاں ایک گنج عظیم گڑا ہے۔ اگر تم نکالو تو ہاتھ آوے۔
اُنہوں نے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو، ہم ابھی آتے ہیں۔
یہ کہہ کر ایک اندر بیٹھا، دوسرا اُوپر کھڑا رہا۔ وہ مال نکال نکال کر باہر پھینکتا تھا اور یہ انبار کرتا جاتا تھا۔ غرض ایک دم میں وہ سب کا سب نکال کر اُنہوں نے حاتم کے حوالے کیا اور آپ رخصت ہو کر کسی طرف کا رستہ لیا۔
حاتم اُس مال کے تودے کو دیکھ دیکھ کر جی میں
 

سیما علی

لائبریرین
*
ریختہ ص -126*
بلکہ ہر ایک اپنے حوصلے کے موافق م مهمانی کرتا ہے اس واسطے بھلا کہلانے اور نام آس کا نیکی کے تمام عالم مین مانند آفتاب کے روشن رھے ۔
اس کلام کو سن کو بادشاه رو دیا اور کها که کیا کروں ، یهاں ایک بلا نازل هوئی ہے،پہلے اس کا نام عدل آباد تھا،اب اس کم بخت لڑکی کے ظلم سے بے درد نگر مشهور ہے ، ایک مدت سے یهان مسافر مارے
جا تےهيں ، خون انکا میری
کردن پر ہے۔
حاتم ے کها که پھر تو اس کو مار کیوں نهين ڈالتا ؟
لڑ بالر مار
وه بولا که آج تک کسی بنے بھی اپنے لڑکے بالے مارے ہیں
جو میں اس لژکی کو ماروں ؟
اس سخن کو سن کر حاتم آب دیده هوا ادر کهنے لگا
کہ تو لاچار ہے ، تیرا کچھ اس نهہیں ؛ خدا کریم ، اس اس بوجھ کو تیری گردن سے دور کرے گا-
پھر و وں هي حاتم کو محل میں لے گئے اور لڑکی کو آراسته. کر کے اس کے پاس بٹھلا دیا حاتم نے آس دیکھتے هي
اتنے
——————————————————-
- نسخه مكتوبه )صفحه ۹۷) آفتاب کی ما نند-
نسخه مطبوعه )صفحہ ۹۷)نے رو دیا‘ اور
نسخه مکتویہ میں رو دیا‘ ے .
نسخه مکتوبه )صفحه ۹( »کیون که ایک مدت . نسخه مكتوبه )ص ۹۸( کیون نهين مار ڈالتا .“
نسخہ مکتوبه )ص ۹۸( اني اولاد کو مارا .
نسخہ مكتوبه )ص ۹۷)
تیرا کچھ بس نہین

*ریختہ ص ۔127*

دل میں کها که اس پری زاد کے برابر اس جهان مين کوئی خوب صورت اور حسين نهیں ۔اس کا بھی پردہ حجاب اُٹھ گیا اور حاتم کی تعظیم کی بلکه اس که حسن خدا داد پر عاشق هو گیئ اور ایک تخت مرصع پر بیٹھلا کر' کر آپ ایک کرسی زرین پر بیٹھی اور دائی کو بلوا کر کہنے لگی که اے مادر مهربان ! آج میں اس مسافر پر عاشق هوئی هوں اور یہ بزرگ زاده معلوم هوتا . حیف که صبح کو یہ بھی سولی دیا جاے گا ۔
دائی نے کہا
که اے جان مادر !ا نصيب ۵ تیرے نهایت بد معلوم
هو تے ہیں، کیا کہیں - اوربہت غريب غربا امير و عمدہ ۶ تیر ے ہاتھ سے مارے پڑے ۷خون اُن کا تیری گردن پر رہے گا اور قسمت تيری۸ هر چند ایسی نیک نہیں ، لیكن اغلب ہے کہ ۹ کام تیرا اس کےهاتھ ے نكلے
اتنے مین حاتم نے کها که بھلا میں بھی سنوں کہ کون سا کام ہے که جس ک واسطے اتنے مسافر مارے گیے ہیں-
اتنے مي دائى نے کہا “اے جوانِ خوش رو!

جب رات هوتی ، تب به لژکی جنم جلی دیوانی هو جاتی اور باتیں
——————————————————————
!
ا - نسخه مكتوبه )ص ۹۸( بیٹھا کر .
نسخہ مکتوبه )ص-۹۸( میں ایک نہیں .
نسخه مکتوبه )ص ۹۸( میں هو مبتلا نهہیں -
نسخہ مکتوبه )ص ۹۸ میں ہو مبتلا نہیں
نسخه مکتوبه )ص ۹۸( تبرے نصيب“
- نسخہ مکتوبه )ص ۹۸( اُمرا بجائےے عمده
“نسخہ مکتوبه )من ۹۸( گئےاُن کا خون اکر )
نسخہ مکتوبہ ص۹۹(تیری قسمت
نسخہ مکتوبہ ص۹۹(تیرا کام
*صفحہ-128 ریختہ*

لا یعنیی بکتی ہے اور سوال کرتی ہے جو مسافر اس کا جواب کے نہیں دے سکتا ، اس کو یہ آپ هي مار ڈلواتی ہے یا سولی دلواتی ہے. اس وقت میں اس کے پاس نهين هوتی ۔ غرض اس کی یہی اوقات اور علادت ہے .
حاتم نے اپنے جی مین کها که دیکھیےاب مجھے بهان موت لاثي هے يا حيات .

اتنے میں دائی باورچی خا نے میں گئی اور کھانا لا کر کہنے لگی

که اے مسافر اجل گرفته ! کچھ اس میں سے کها ۔ اس میں سے کھا،اس نے کها کہ کھانا مین جب کھاؤں گا که اس کا م کو انجام کو پہنچاؤں گا۔ اب به کھانا مجھ پر حرام بلکه یہ دنیا جی کا دینا ے، کھانا کھانانہیں اور به بات عقل مندون
اور جوان مردوں سے دور ہے .
دائي نے کها که اے جوان ! معلوم هوا که اس کا * انجام تجھ سے هو، کیوں که تو حق تمک سمجهتا ہے-
اتنے مین رات هو گني اور هر ایک د دا ، دائي ، ماما چھو جھو،لونڈی ، غلام ، نوکر ، چاکر محل سی باهر کئے اور دروازے کو به خوبي تمام بند کر دیا . بعد پهر رات کے وه
لڑکی
—————————————————

۔ نسخہ مکتوب )ص ۹ ۹( جب مسافر اس کا جواب نهیں دسکتا
. نسخه مکتوبه )ص ( ۹۹یہی عادت
۹۹نسغه مکتوبه )ص 1۹( موت یہاں
نسخه مکتوبہ )ص ۹ ۹(
نسخہ مکتوبہ۹۹)جی نه دیا
نسخہ مکتوبہ
ص-۱۰۰میں چاکر نہیں
نسخہ مکتوبہ ص۔۱۰۰)میں حمام نہیں
128
**ریختہ ص 129

دیوانوں کی طرح کودے لکی اور سخن بیهوده زبان **بر لائی -پھر حاتم کی طرف متوجه هونی اور کہنے لكی که اے جوان !تجھ کواپنی جان کا خطره نه تھا جو نا محرم هو کز یهان تلک چلا آيا -. خير اگر آیا تو اب هارے سوالوں ک جواب دے؟حاتم نے كها كیا سوال رکهھتی ہے ؟ “کہہ«
اس نے کہا “پہلاسوال یہ ہے ميرا که وه قطره كون سا
ہے جو جان دار پیدا هوتاہے”
حاتم نے بلا تامل جواب دیا که وه قطره دريائے اسرار انسانی ، یعنی ٰنطفه که جان دار پيدا هوتا ہے - پهر حاتم اس نے کها که دوسرا سوال کبه ؟
اس نے کها وہ
وه کون سا میوه کے جو دب ميو وں سے زیادہ
میٹھاہےط ؟
خاتم نے کها که وه فرزند ہے که سب میوؤں شیرین تر ہے
پھر اس ن تیسرا سوال پوچھا ؟
پولی که وه کیا چیز جو هر کسی کو دکھائی دیتی ہے؟
حاتم نے اس بات کو سنتے ہی کہا که اے بي بیُ وہ
-
نسخه مکتوبه )ص ۱۰۰( تامل کے بعد
نسخہ مکتوبه )ص
۱۰۰
یعنی که“
نسخہ مکتوبه )ص ۰ ۱۰( اب
نسخہ مکتوبه )ص . .۱(میں صرف شیرین ہے
نسخہ مکتوبہ (ص ۱۰۰)کھاتی ہے
نسخہ مکتوبہ (ص۱۰۰)کہا وہ موت ہے
129
ریختہ -ص130

موت ہے
که کسی کوچھوڑتی نہیں -

اس سخن کو سن کر اُس لڑکی نے آنکھیں نیچے کر
لیں اور كانپنے لگی ۔۱ آخر کرسی سے خاک پر گر پڑی اور بے ہوش ہو گیئ
کہ ۲اتنے میں کالا سانپ نہایت
ہیبت ناک
وهیں ۳نظر آیا اور پھن پھنا کر حاتم
کی طرف
لپکا -وہ جی مین کهنے لگا که اگر اس کو
مارتا هون تو یہ مجھ کو زنده نہیں چھوڑتا- ندان سوچ سوچ
۴کر
وہ مہرہ جو ریچھ کی بیٹی نے
خاک پر گر پڑی اور که اتنر میں ایک كالا سانه نمایت
آخر کرسی سے
سوچ سوچ کروه مہرہ جو ریچه کی بيني نے دیا
تھا
ہاتھ
سے پگڑی سےکھول کر اپنے منہ رکھ لیا اور اسُ سانپ کو ہاتھ سے پکڑ ایک ھانڈی میں بند
کر۶
پھر خنجر کمر سے نکال کرانگنائی میں قدِ آدم گڑھا کھودتے گاڑ دیا اور آپ
تخت پہ جا بیٹھا۔
پچھلےپهھہر رات کو لژكی هوش مين آنی اور اپنے منه پر نقاب لے کر کهنے لگی که اے نا محرم!
تو کون ہے اور اس تخت پر کسی واسطے بیٹھا ہے ؟
حاتم نے کہا” ’اے نادان! تو اتنے عرصے
مجھ کو بھول گئی؟ ميں وهی هون که کل تیرے باپ ک لوگ مجھے هاتھوں
ہاتھ
نسخہ مگتوبه )ص . ۱۰( آخر کار
نسخه مكتوبه )ص . .۱( که نہیں.
نسخه مکتوبه )ص ۱۰۱( وهان
کرنسخہ مکتوبه )ص 1.1(
جلد سوچ کر
نسخہ مكتوبه )ص ۰( پکڑ کرکر
130
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۱۴۶

وہ جوان حاتم کو اپنے ساتھ لےکر گھر آیا، ڈیوڑھی میں بیٹھلا کر آپ اند ر گیا۔ لونڈیاں باندیاں پاؤں پر گر پڑیاں ۱ اور بی بی اُس حبشی سے لپٹی ہوئی ۲سوتی تھی ۔ اس احوال ۳کو دیکھ کر اُس نے تلوار نیام سے لی اور اُس غلام کی گردن کاٹ ڈالی۔ پھر وہ میخ بی بی کے ۴سر میں ٹھونکی وہ وہیں کتیا ہو گئی۔
تب وہ اُسے رسی سے باندھ کر باہر نکل۵ آیا اور حاتم کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیا اور ایک مسند عالی پر بٹھلا کر اُس کتیا کو دکھلا دیا اور کہا کہ یہ وہی عورت مکارہ ہے جس نے مجھے آدمی سے کتا کیا تھا اور یہ وہی حبشی غلام نمک حرام ہے جو اس کے سگوں میں داخل ہوا تھا۔
اس واردات کو دیکھ کر حاتم متعجب ہوا اور کہنے لگا ” اے عزیز !تو نے اُس کو کیوں مار ڈالا؟“
وہ بولا ”یہی اس کی سزا تھی جو اُس کے آگے آئی۔ اس دہشت سے اب کوئی ایسا کام نہ کرے گا بلکہ اس خبر کو سن کر کرتا ہوا بھی باز رہےگا۔ یہ حرکت میں نے واسطے عبرت کے کی ہے۔“
یہ بات کہہ کر اس نے اس کو اپنے صحن خانے میں گاڑ دیا اور ہر ایک لونڈی غلام کو انعام دے کر سرفراز کیا اور تمام رات حاتم کو مہمان رکھ کر خوب سی ضیافتیں کھلائیں

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۱۶) ”گر پڑیں “اور نسخہ ٔ مطبوعہ بمبئی (ص۸۶) ”گر پڑیاں۔“
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۱۶) میں”ھوئی“ نہیں۔
۳۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۱۶) میں”احوال“ نہیں ہے۔
۴۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۱۶) میں”بی بی کے ماری۔“
۵۔ نسخۂ مکتوبہ (ص۱۱۷) میں”نکل“ نہیں۔

صفحہ ۱۴۷

اور تا صبح اپنے تئیں عیش و عشرت میں مشغول رکھا۔
جب روز روشن ہوا، تب حاتم اُس سے رخصت ہو کر کارواں سرائے میں آیا او ر اس سوداگر بچے سے ملاقات کر کے پوچھنے لگا کہ کیا کرتے ہو؟ کہو خوش تو ہو؟
اُس نے کہا ”بندہ پرور! آپ کے جان و مال کو دعا کرتا ہوں ۔ اب ایک مدت سے وہ آواز نہیں آتی ۔ اس واسطے حارث کی لڑکی اُمیدوار ہے تیرے آنے کی ۔“
حاتم نے کہا کہ کچھ اندیشہ نہیں، خدا کے فضل و کرم سے میں اس کی خبر لے آیا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ حارث کے دروازے پر گیا، خبر داروں نے جا کر یہ خبر پہنچائی۔ وہ دالان کے دروں پر پردے ڈالوا کر اند ر ہو بیٹھی اور لوگوں سے کہنے لگی کہ اُس کو بلوا لو۔ وے بلا لائے۔
جب حاتم قریب پردے کے آیا، تب ۱ اُس نے ۲ ایک کرسی پر بٹھلا کر سوال کا احوال پوچھا۔ حاتم نے ابتدا سے لے کر تا انتہا جو جو دیکھا تھا اور جو جو سنا تھا ، بہ خوبی بیان کیا۔
اُس نے کہا ” اے جوان راست گو! یہ سچ کہتا ہے تو کہ اب وہ آواز نہیں آتی ۔ اب جلد جا او ر شاہ مہرہ ماہ پری کا لا۔“
وونہیں حاتم اُس سے رخصت ہو کر اُس سوداگر کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو خاطر جمع رکھ، اب میں شاہ مہرہ ماہ پری کا لینے جاتا ہوں ۔ یہ اگر تیسر ا سوال اس کا پورا

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص ۱۱۸) میں ”تب“ نہیں ہے۔
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (ص ۱۱۸) میں ”اس کو ایک کرسی“ہے۔
صفحہ ۱۴۸

کرتا ہوں تو پھر تیری معشوقہ سے تجھے ملا دیتا ہوں۔
اتنی بات کہہ کر وہ اُس سے رخصت ہوا اور سر بہ صحر ا ہوا ۔ بعد چند روز کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر فکر کرنے لگا، اب بہتر یہی ہےکہ دیووں کے بادشاہ سے ملیے اور اُسی سے ماہ پری کا مکان پوچھیے، وہ مقرر وہاں کا پتا د ےگا۔
یہ بات دل میں ٹھہر اکر اُسی غار میں اترا کہ جس میں پہلے گیا تھا۔
بعد تھوڑے دنوں کے پھر وہی جنگل خوش اسلوب نظر پڑا ۔ وہ اُس کو طے کر کے اُس گاؤں میں پہنچا جس میں پہلے گیا تھا۔ وہاں کے لوگ ہر ایک طرف سے نکل آئے اور حاتم کو پہچان کر بستی میں لے گئے۔ مسند پر بہ عزت تمام بٹھلایا اور مہمانی کی ۔
حاصل یہ ہے کہ ہر ایک شخص اپنے گاؤں میں لے جا کر مہمانی کرتا تھا اور دوسرے گاؤں میں پہنچا دیتا تھا۔
آخر فروقاش بادشاہ کے محل مبارک تک پہنچا۔ اُس نے استقبال کیا اور ایک مسند عالی پر بہ توقیر تمام بٹھلایا اور بہت سی شادی کی ، مجلس عیش کی جمائی؛ پھر پوچھا کہ اب آپ کے آنے کا موجب کیا ہے؟
حاتم نے کہا کہ ماہ پری شاہ کے ہاتھ میں شاہ مہرہ ہے، اب یہ فدوی اُس کے لینے کو آیا ہے۔
اس نے کہا ”اے جوان !وہ مہرہ اُس کے ہاتھ سے لینے کی کس کو طاقت ہے۔ دیووں کی مجال تو نہیں کہ وہاں جاویں اور سلامت پھر آویں ، تو بے چارہ غریب کس شمار و قطار میں ۔“
حاتم نے کہا” کچھ اندیشہ نہیں، جس نے مجھ کو یہاں تک

صفحہ ۱۴۹
پہنچایا ہے، وہی وہاں پہنچاوے گا، پر میں ۱ تم سے ایک شخص بہ طور رہبری ۲ کے چاہتا ہوں ، اس واسطے کہ کہیں راہ نہ بھول جاؤں۔
فروقاش نے کہا ”اے شخص! اس بات سے باز آ، اچھا نہیں جو تو کرتا ہے۔“
وہ بولا کہ یہ مجھ سے کب ہو سکتا ہے کیوں کہ عہد شکنی میرا کام نہیں ۔
اس جواب کو سن کر فروقاش دم بخود رہ گیا اور کچھ نہ بولا۔
حاتم تین روز تک وہیں رہا۔ چوتھے دن کہنے لگا کہ اب میں رہ ۳ نہیں سکتا، کہیں ایسا نہ ہو جو عاشق نیم جان میرا انتظار کھینچ کر مر جاوے اور اُس کا خون میری گردن پر پڑے ۔ قطع نظر اس کے اگر میں یہاں عیش و عشرت میں رہوں تو خدا کو کیا جواب دوں ۔
تب فروقاش نے کئی دیو حاتم کے ساتھ کر دئیے کہ تم اس کو ماہ پری بادشاہ کی سرحد میں پہنچا دو اور اُس کے آنے تک وہیں بیٹھے رہو۔
حاتم ان کو اپنے ساتھ لےکر وہاں سے روانہ ہوا اور ایک مہینے کے عرصے میں ماہ پری بادشاہ کی سرحد میں جا پہنچا۔ اُنہوں نے عرض کی کہ اس پہاڑ سے اس کا عمل شروع ہے۔ اب ہماری طاقت نہیں جو آگے قدم بڑھاویں ، کیوں کہ جو اس کی

۱۔نسخۂ مکتوبہ (ص ۱۲۰) ”میں“ نہیں ہے۔
۲۔ نسخۂ مکتوبہ (ص ۱۲۰) ”رھبر“ہے۔
۳۔ نسخۂ مکتوبہ (ص ۱۲۰) ”نہیں رہ سکتا۔“

صفحہ ۱۵۰
قلم رو میں جاتا ہے وہ اس کو جیتا نہیں چھوڑتا۔
غرض وہ وہیں رہے اور حاتم اُن سے رخصت ہو کر اس کے عمل میں داخل ہوا۔
بعد چند روز کے ایک پہاڑ آسمان سے باتیں کرتا ہوا دکھائی دیا اور درخت بھی اُس پر اچھے اچھے میوے دار پھلے پھولے بے شمار نظر آئے۔
وہ اُس کی طرف چلا۔ جب قریب گیا، تب ہر ایک طرف سے پری زادوں نے آ کر گھیر لیا اور کہا کہ یہ آدمی ہے، اس کو جیتا نہ چھوڑا چاہیے کیوں کہ یہ ۱ پہاڑ پر چڑھنے کا ارادہ کرتا ہے۔
اتنے میں اور بھی پری زاد پہاڑ سے اُترے۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے گئے اور طوق و زنجیر کر کے پوچھنے لگے کہ تو کون ہے اور یہاں کس لیے آیا ہے؟ اور وہ کون ہے جو تجھے یہاں لایا ہے؟ سچ بتلا۔
حاتم نے کہا ”مجھ کو یہاں خدا لایا ہے اور میں شہر سورت سے آیا ہوں ۔ “اس بات کے سنتے ہی انہوں نے کہا ”معلوم ہوا تو ماہ پری شاہ کا شاہ مہرہ لینے آیا ہے، کیوں سچ ہے یا نہیں؟“
تب وہ اپنے جی میں سوچنے لگا کہ اگر سچ کہتا ہوں تو یہ جیتا نہ چھوڑیں گے او ر اگر چھپاتا ہوں تو جھوٹا ٹھہرتا ہوں ، جس سے بہتر یہ ہےکہ چپکا ہو رہوں ۔ یہ سمجھ کر گونگا بن دیا۔ جواب کچھ نہ دیا۔
تب پری زادوں نے آپس میں مشورت کی کہ اس کو آگ میں ڈالا چاہیے۔

۱۔ نسخۂ مکتوبہ (ص ۱۲۱) میں ”یہ “نہیں۔
 

محمد عمر

لائبریرین
51

اس نے کہا کہ تو ایک لکڑی سے قدرے کھود اور قدرت خدا دیکھ کہ وہ اس مشکل کو کیوں کر آسان کرتا ہے۔

اس بات کے سنتے ہی حسن بانو چونک اٹھی اور اپنی دائی سے یہ حقیقت کہنے لگی۔

آخر کار اس نے اور اُس کی دائی نے جو اُس درخت کی جڑ اپنے اپنے زور کے موافق ہلائی اور قدرے ایک لکڑی سے کھودی تو سات کنویں اشرفیوں سے بھرے اور سو صندوق ہر طرح کے جواہر سے معمور معہ اُس موتی کے جو مرغابی کے انڈے بر ابر تھا، دکھلائی دیے۔

حسن بانو اس دولت خدا داد سے نہایت خوش ہوئی اور سجدہ شکر کا ادا کر کے اپنی دائی سے کہنے لگی کہ اے اماں جان! تم اسی گھڑی شہر کی طرف جاؤ اور ہمارے کنبے کے لوگوں کو لے آؤ اور کچھ تھوڑی بہت چیزیں کھانے پینے کے قسم سے بھی۔

اس نے کہا کہ جانی! میں تنہا چھوڑ کر تجھے کیوں کر جاؤں اور ان کو لاؤں؟ اگر کوئی اور ہوتا تو مضايقہ نہ تھا۔ مجھ کو یہ ڈر ہے کہ کہیں کچھ اور آفت نہ پڑے۔

اسی بات چیت میں تھیں کہ اتنے میں حسن بانو کا کوکا فقیری بھیس بنائے ھوئے اسی جگہ آ نکلا اور بے اختیار اس کے پاؤں پر گر کے سر و چشم چومنے لگا۔

اُس نے اس کو گلے سے لگا لیا اور رو رو کر دلاسا دیا کہ تو خاطر جمع رکھ، حق تعالٰی نے اس قدر زر و جواہر بے شمار دیا ہے کہ جس کا حساب ہو نہیں سکتا۔ تو اس وقت کچھ تھوڑا بہت خرچ راہ لے اور شہر میں جا کر جتنے ہمارے اقربا

52

ہیں، سب کو میرے احوال سے آگاہ کر کے لے آ اور راج مزدور و معمار بھی اچھے اچھے بلا لا کہ وے ایک عمارت عالی شان تیار کریں، کیوں کہ میں ایک شہر بہت بڑا بساؤں اور اس کا نام "شاہ آباد" رکھوں، پر یہ احوال تو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔

یہ بات سن کر اس نے کچھ تھوڑے بہت روپے لیے، شہر میں آیا اور اس کے اقربا جو جا بجا بحال تباہ بھیک مانگتے پھرتے تھے، ان سبھوں کو بخوبی جمع کر کے اس کے پاس لے گیا۔

وہ سب کے سب حسن بانو کو دیکھ کر خوش ہوئے اور ایک خیمہ بہت بڑا کھڑا کر کے آپس میں رہنے لگے۔

بعد اس کاروبار کے جب اُس نے فرصت پائی، تب وہ پھر شہر میں آیا اور سب کے سردار معیار سے ملاقات کر کے کہنے لگا کہ تم تھوڑے کاریگروں کو اپنے ساتھ لے کر فلاں جنگل میں چلو، مجھے کچھ تم سے کام ہے۔

اُس نے یہ بات قبول کر کے اپنے عملے سمیت ہم راہی اُس کی اختیار کی۔

وہ اُن کو اپنے ساتھ لیے ہوئے حسن بانو کے پاس آیا۔ اُس نے بہت سی تسلی اور انعام دے کر جس کام کے واسطے بلوایا تھا، اس میں لگا دیا۔

بعد چھ مہینے کے جب ایک حویلی ستھری سی بنوا چکی تب معماروں سے کہنے لگی کہ اب تم اس کے گرد شہر عالی شان کا ڈول ڈالو اور اسے آباد کرو۔

اُنھوں نے عرض کی کہ بادشاہ کی بے مرضی اتنا بڑا شہر يہاں بسانا اچھا نہیں۔ اس بات کو سنتے ہی حسن بانو لباس مردانہ


53


سج سجا، ایک عربی گھوڑے پر سوار ہو، تھوڑے(۱) پیادوں کو آگے رکھ، ایک خوان جواہر اور ایک مور یاقوت کا اپنے ساتھ لے شہر کی طرف روانہ ہوئی۔

یہ خبر بادشاہ کو پہنچی کہ ایک سوداگر بچہ نہایت عمدہ حضور کی قدم بوسی کی آرزو رکھتا ہے اور در دولت تک آ پہنچا ہے۔

بادشاد نے فرمایا کہ اس کو نہایت عزت و حرمت سے حضور میں حاضر کرو۔

لوگ اس کو ہاتھول ہاتھ، ساتھ امتیاز کے حضور میں لے آئے۔ وہ مجرا گاہ میں کھڑی ہو کر آداب و قواعد بادشاہی سے تسلیمات و کورنشات بجا لائی اور خوان نذر کے زیر تخت رکھ کے امیدوار مہربانی کی ہوئی۔

بادشاہ اُس کو دیکھ کر خوش ہوا اور شفقت سے احوال یوں پوچھنے لگا کہ تم کس شہر کے رہنے والے ہو اور کس کام کو یہاں آئے ہو، تمھارا نام کیا ہے؟

وہ ہاتھ باندھ کر عرض کرنے لگی کہ میں فلانے سوداگر کا بیٹا ہوں۔ قبلہ گاہی گردش فلکی سے فلانے شہر کے قریب جہاز پر مر گئے ہیں۔ آرزو جبیں سائی کی اس آستانے پر کمال مرتبے رکھتا تھا، آج طالع کی مدد سے حاصل ہوئی جو يہاں تک پہنچا۔ اب اُمیدوار اس بات کا ہوں کہ باقی عمر اپنی دامن دولت کے سائے میں بسر کیے جاؤں، کیوں کہ مشرف ہونا اس در دولت سے سعادت دارین ہے اور نعمت کونین۔ اور درخواست اس بات کی رکھتا ہوں، اگر حكم ہو تو فلانے جنگل
---
ا۔ تھوڑے سے (نسخہ مكتوبہ ص ۱۹)


54


میں چند روز رہوں اور ایک شہر آباد کر کے نام اس کا شاہ آباد رکھوں۔

بادشاہ اس سخن سے نہایت خوش ہوا اور خلعت فاخرہ دے کر کہنے لگا کہ اے جوان صالح! تیرے ماں باپ نہیں ہیں۔ تو آج سے ان کی جگہ مجھ کو سمجھ، فرزندی میں میری داخل ہو، جو چاہے سو کر، جہاں چاہے وہاں رہ، کچھ اندیشہ خاطر میں نہ لا، جو چاھے سو لے جا۔

حسن بانو آداب بجا لا کر عرض کرنے لگی کہ اے خداوند! اگر اس غلام کو شہ زادوں میں شمار کیا ہے تو کسی عمدہ(۱) خطاب سے سرفراز فرمائیے تا حرمت و عزت زیادہ بڑھے کہ بہرام نام میرا لائق نہیں۔

جہاں پناہ نے اس سخن کو پسند کیا اور اس کا نام 'ماہ رو شاہ' رکھا۔ پھر فرمایا کے اے فرزند ارجمند! وہ جنگل يہاں سے بہت دور ھے۔ جی چاہتا ہے کہ ایک شہر اپنے نام سے تو شہر کے قریب آباد کرے، اس میں بخوبی رہے۔

اُس نے پھر عرض کی کہ جہاں پناہ! وہ صحرا نہایت دلچسپ دے۔ سوائے اس کے نزدیک دارالسلطنت کے دوسرا شہر آباد کرنا ترک ادب ہے۔ اُمیدوار فضل و کرم کا ہوں کہ معماروں کو حضور سے ارشاد ہو جو وے جلد اس جنگل میں شہر بساویں۔

بادشاہ نے ان کو حکم کیا بلکہ فرمايا کہ ہر ایک کارکن جاوے اور اس شہر کے آباد کرنے میں مشغول ہووے۔

وہ بھی ایک مہینے میں دو تین بار حضور میں مجرے کے
---
۱۔ عہدہ۔ (نسخہ مكتوبہ ص ۲۰)


55

لیے آیا جایا کرتی تھی اور ہر روز راج مزدوروں کو انعام دے دے کر تقید کرتی تھی کہ جلدی کرو، معطل نہ رہو۔ وے رات دن اس کے بنانے میں لگے رہتے تھے۔

بعد دو برس کے ایک شہر عظیم آباد کیا۔ نام اُس کا شاہ آباد رکھا۔ کاریگروں کو بہت سا انعام و خلعت دے کر رخصت کیا۔ پھر تو حسن بانو اکثر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگی۔

ایک دن بادشاہ کے مجرے کو وہ آئی اور حضرت اُس وقت اُس درویش بزرگ صورت، شیطان سیرت کے یہاں جایا چاہتے تھے۔ حسن بانو کو دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اے فرزند! آج جی چاہتا ہے کہ ہم تم دونوں اس بزرگ وار، نیک کردار کی خدمت میں حاضر ھوویں، سعادت دارین حاصل کریں، کیوں کہ ایسے غوث زمانہ کی زیارت کرنی صورت نجات کی ھے، بسم اللہ کیجیے۔

حسن بانو نے عرض کی کہ خداوند! ایک تو ایسے بزرگ کی قدم بوسی سے دونوں جہان کی خوبی حاصل ہوتی ہے، دوسرے جہان پناہ کے ہمراہ رکاب چلنا؛ اس بات کے سوا میرے حق کیا بہتر ھے جو انکار کروں اور اس دولت عظمٰی سے ہاتھ اُٹھاؤں۔ پر جی میں کہتی تھی کہ ایسے شیطان مجسم کی صورت دیکھنا روا نہیں لیکن کیا کروں تابعدار بادشاہ ہوں، اس کے ساتھ چلنا ضروری ہے، گو کہ گھر اس کا میرے واسطے خانہ گور ہے۔

حاصل کلام بادشاہ کے ساتھ ہو کر اس فقیر کے گھر گئی اور بادشاہ اس کی تعریف اس شیطان کے آگے کرنے لگا۔ یہ ماہ رو شاہ کے نام سے مشہور تھی؛ اپنا سر جھکا کر تعریفیں سنتی تھی اور چپکے چپکے کہتی تھی کہ اس قدر جو مجھ پر سرفرازی
 

قرۃالعین اعوان

لائبریرین
صفحہ 111۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صفحہ 115



ص نمبر 111


ڈھانپ دیا ، بعد ایک دم کے کہا کہ اس کو کھول کر دیکھو ۔ جوں کھولا تمام قاب کیڑوں سے بھری ہوئی تھی ۔ بادشاہ اس ماجرے کو دیکھ کر حیران ہوا اور کہنے لگا کہ یہ کیا باعث ہے ؟
حاتم نے کہا کہ یہ سب ان دیوؤں کی نظر کا سبب ہے ۔
آپ کو لازم ہے کہ نعمت خانے میں کھانا اکیلے نوش جان کیا کریں تا یے اس کو نہ دیکھیں ۔


اس نے اسی ڈھب سے جو اس روز کھایا ، آرام سے رہا ، پیٹ درد نہ ہوا ۔ بعد دو تین روز کے بالکل اچھا ہو گیا ۔
تب حاتم کو گلے لگا کر کہنے لگا کہ اے شخص ! مجھ سے کیا چاہتا ہے مانگ ؟


اس نے کہا کہ میں انسان ہوں اور بہت سے میرے بھائی تیرے یہاں قید ہیں ۔ ان کو چھوڑ دے تو عین بندہ پروری اور احسان ہے ۔
اس بات کو سنتے ہی فروقاش بادشاہ نے ان سبھوں کو بلوایا اور خلعت فاخرہ سے سرفراز کر کے کچھ کچھ خرچ راہ دے کر رخصت کیا ۔ پھر آپ حاتم سے کہنے لگا کہ اب ایک عرض اور رکھتا ہوں میں ، اگر اس بات کو قبول کرے تیں' ۔ حاتم نے کہا کہ فرماؤ ، میں جان سے حاضر ہوں ۔

فروقاش بادشاہ نے کہا کہ میری لڑکی ایک مدت سے بیمار ہے ۔ اگر اس کو دیکھو اور کچھ تدبیر کرو تو میں نہایت احسان مند ہوں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

١ نسخہ مطبوعہ بمبئی میں ’ تیں ‘ اور نسخہ مکتوبہ ( ص ٨٠ ) میں ” تئیں “ ہے ۔


صفحہ نمبر 112


اس بات کو سنتے ہی حاتم اٹھ کھڑا ہوا ۔ بادشاہ اس کو اپنے محل میں لے گیا ۔

حاتم نے اس لڑکی کو دیکھا کہ نہایت دبلی ہو رہی ہے اور رنگ زرد ہو گیا ہے ۔ کہا کہ تھوڑا شربت بنا لاؤ ۔
جوں ہی وے لائے ، ووں ہی اس مہرے کو اس میں گھس کر اسے پلا دیا ۔ بعد ایک ساعت کے دست آنے لگے ؛ تمام دن تو یون ہی گزرا ، شام کے وقت کئی مرتبہ قے کی اور غش ہو گئی ۔

فروقاش ڈرا اور کہنے لگا اے عزیز ! یہ کیا حالت ہے ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مر جائے ؟
حاتم نے کہا کہ اندیشہ مت کر ، خدا اچھا کرے گا ۔
تمام رات اسی طرح سے گزری ۔ صبح ہوتے ہی اس کو بھوک لگی ۔
خاصہ یاد کر کے کچھ نوش جان فرمایا ۔

غرض پندرہ روز کے عرصے میں آزار بالکل جاتا رہا ۔ چہرہ چمکنے لگا ۔ حاتم نے بادشاہ سے کہا کہ اب تمہاری بیٹی نے شفا پائی ، مجھ کو رخصت کرو کہ میں اپنے کام کے واسطے جاؤں ۔


بادشاہ نے بہت سے روپے ، اشرفیاں اور بہت سے جواہر کے خوان مگوا کر اس کے آگے رکھے اور کہا ” اگرچہ یہ تیرے لائق نہیں ہیں پر ہماری خوشی یہی ہے کہ کچھ لے ۔ “
حاتم نے کہا کہ میں تن تنہا ان کو کیوں کر اٹھاؤں اور کہاں لے جاؤں۔
اس نے اپنے دیوؤں کو بلا کر کہا کہ یہ سب زر و جواہر تم اپنے سروں پر رکھ کر اس کے ساتھ لے جاؤ ۔
حاتم اس سے رخصت ہوا ۔ بعد ایک مہینے کے دیوؤں نے

صفحہ نمبر 113


تمام اسباب سمیت اس کو غار پر پہنچا دیا اور آپ چلے گئے ۔
تس پر بھی کتنے جاسوس ( کہ حارس کی بیٹی نے غار کے دروازے پر تعینات کیے تھے ) ڈر کر بھاگے ۔ جب حاتم نے پکار کر کہا کہ مت بھاگو ! میں وہی ہوں جو غار کی خبر لینے گیا تھا ! خدا کے فضل سے جیتا پھر آیا ہوں ۔


بارے وے اس کی آواز پہچان کر پھرے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حاتم ہی ہے ۔ ندان حاتم اس مال و اسباب کو اٹھوا کر کاروان سرائے میں لے آیا اور اسی سوداگر کو بخش دیا ، وہ اس کے پاؤں پر گر پڑا ۔ اس نے اس کو گلے لگا لیا ۔

پھر یہ احوال خبرداروں نے جا کر اس لڑکی سے کہا ۔

اس نے حاتم کو بلوا بھیجا اور غار کا ماجرا پوچھا ۔ حاتم نے مو بہ مو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا اور کہا کہ ایک شرط میں تیری بجا لایا ، اب دوسری کہہ ؟

اس نے کہا کہ جمعے کے رات کو ایک آواز آتی ہے کہ ” وہ کام نہ کیا میں نے جو آج کی رات میرے کام آتا ۔ “
اس کو سن کر حاتم وہاں سے روانہ ہوا اور سر بہ صحرا چلا۔


بعد چند روز کے وہ آواز اس کے کان میں پڑی ۔ تب اس کے کھوج میں رات دن پھرنے لگا کہ ناگاہ ایک گاؤں نظر آیا ۔
لوگ وہاں کے گریہ و زاری کر رہے تھے ۔ یہ آگے بڑھا اور اس خلقت سے پوچھنے لگا کہ تم سب کے سب کس واسطے روتے ہو اور کیوں جانیں کھوتے ہو ۔
کسی نے کہا کہ ساتویں تاریخ ، پنج شنبے کے دن ایک بلائے عظیم آتی ہے اور ایک آدمی کھا جاتی ہے ۔


صفحہ نمبر 114


اگر اس وقت کسی کو نہ پاوے تو پھر تمام شہر ١ کو اجاڑ دے ؛ چناچہ اس مرتبے رئیس کے لڑکے کی باری ہے ، اس واسطے یہ سب آہ و زاری کرتے ہیں ۔ “


اس سخن کو سن کر حاتم رئیس کے پاس گیا اور اسے دلاسا دیا کہ تو خاطر جمع رکھ ، تیرے بیٹے کی خاطر میں جاؤں گا ۔ وہ اس جرأت پر حاتم کی آفرین کرکے بولا ” اے جواں مرد !
چار روز اس بلا کے آنے میں باقی ہیں ۔
حاتم نے کہا کہ اس کی صورت کیسی ہے ؟ اگر کسی نے دیکھی ہے مجھے بتلا دے ۔
رئیس نے اس کی صورت زمین پر کھینچ کر دکھلا دی ۔

حاتم نے کہا کہ اس کا نام حلوقہ ہے ۔ یہ کسی کی ضرب سے نہ ماری جائے گی اور نہ کسی کی چوٹ کھائے گی ۔
ہاں اگر میرا کہنا قبول کرو تو میں تمہارے سر سے ٹالوں اور جس صورت سے بنے ماروں ۔


اس بات کو سن کر وہ خوش ہوا اور کہنے لگا کہ کیا ارشاد کرتے ہو ؟ کرو
اس نے کہا کہ تیرے شہر میں کوئی ٢ شیشہ گر بھی ہے ؟
اس نے کہا کہ جتنے چاہیں اتنے موجود ہیں ۔
پھر حاتم اور رئیس شیشہ گروں کی دکان پر گئے اور کہنے لگے کہ آج کے دن سمیت چار روز کے عرصے میں ایک آئینہ دو سو گز کا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

١. نسخہ مطبوعہ بمبئی میں ’ کو ‘ نہیں ‘ نسخۂ مکتوبہ ( صفحہ ٨٣)
میں ہے ۔

٢. نسخۂ مکتوبہ ( صفحہ ٨٣) میں یہ عبارت ہے : ” کچھ شیشہ گر بھی ہیں ۔ “



صفحہ نمبر 115

لمبا اور سو گز چوڑا تیار کردو کہ یہ بلا ٹلے ، نہیں تو تمام گاؤں کو کھا جائے گی ۔


غرض رئیس نے اسی گھڑی اتنے بڑے آئینے کے بنانے کا اسباب منگوا دیا ۔ انہوں نے تین روز کے عرصے میں ویسا ہی آئینہ بنا دیا ، پھر حاتم کو خبر پہنچائی ۔ اس نے کہا کہ تم سب کے سب کیا چھوٹے کیا بڑے اس بستی کے جمع ہو کر ہاتھوں ہاتھ اس آئینے کو وہاں لے جا کر کھڑا کر دو کہ جہاں وہ بلا آتی ہے ۔

انہوں نے اس کے کہنے کے بہ موجب کیا ۔


حاتم نے پھر ان سے کہا کہ اب ایک چادر سفید کوئی لا دے کہ جس سے اس کی پوشش ہو ۔
وے اسی گھڑی چادر بھی لے آئےاور اس آئینے کو ڈھانپ دیا ۔ حاتم نے پھر ان کو کہا کہ اے یارو !
اب تم اپنے اپنے گھر کا راستہ پکڑواور خاطر جمع سے بیٹھ رہو ۔ اگر کسی کا جی تماشہ دیکھنے کو چاہتا ہو ، وہ میرے ساتھ رہے ۔ کسی نے جواب نہ دیا مگر اس رئیس کے لڑکے نے کہا کہ میں تمہارے پاس رہوں گا ۔


تب اس کے باپ نے کہا کہ اے جان پدر ! ایسا قہر مت کر کیوں کہ میں نے تیرے واسطے اتنے روپے خرچ کیے اور تو ہی اس کے آگے جاتا ہے۔


وہ بولا کہ بابا جان ! تم نے تو مجھ کو اس کا نوالا آگے ہی مقرر کیا تھا ، اب کیا ہے جو یہ ارشاد کرتے ہو ؟ میری۔رضا مندی اسی میں ہے کہ میں اس جوان کے ساتھ جاؤں کہ یہ بے چارہ مجھے اس موذی کے جنگل سے چھڑاتا ہے ۔ یہ عجب
 
آخری تدوین:
Top