آج کا شعر - 4

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

محمداحمد

لائبریرین
کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے

کدھر گئے وہ رستے جن میں منزل پوشیدہ تھی
کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے

کہاں گئے وہ لوگ جنہیں ظلمت منظور نہیں تھی
دیا جلانے کی کوشش میں‌خود جل جانے والے

عزم بہزاد
 

محمداحمد

لائبریرین
نہیں اب تو اہلِ جنوں میں بھی، وہ جو شوق شہر میں عام تھا
وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو، سرِ کوئے یار بھی اب نہیں

جون ایلیا
 

راجہ صاحب

محفلین
مری وارفتگی کی زر میں تم تو آ چکے کب کے
مری مانو ” تعارف” کو ”محبت” نام دے ڈالو

نہ تڑپاؤ سلگتی سوچتی معصوم یادوں کو
قریب آؤ، انہیں بھی اک سنہری شام دے ڈالو


نسیم اختر
 

محمداحمد

لائبریرین
جو بات شرطِ وصال ٹہھری، وہی ہے اب وجہِ بدگمانی
ادھر ہے اس بات پر خموشی، ادھر ہے پہلی سے بے زبانی

کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا
فسردگی لکھ رہی تھی دل پر، شکستگی کی نئی کہانی

عزم بہزاد
 

راجہ صاحب

محفلین
مجھے سہل ہو گیں منزلیں ،وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
تیرا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

مجروح سلطاں پوری
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top