آئیے سماجی بہبود کریں!

جاسمن

مدیر
کسی مستحق شخص کے واقعی مستحق ہونے کو جانچنا بھی بہت اہم ہے۔ ہم عام طور پہ ایسے اشخاص کے حلیہ اور باتوں وغیرہ سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہم دھوکا بھی کھا جاتے ہیں۔ جب رقم کسی اور کی طرف سے ہمارے پاس امانت ہو تو پھر ہمیں جانچ کا دائرہ تھوڑا بڑھانا چاہیے۔
سو وقت نکال کے دو گھروں کا دورہ کیا۔
1:بیوہ خاتون پانچ چھوٹے بچے۔ سب سے بڑا دس سال کا۔ پہلے ہمارے گروہ میں سے دو نے ان بچوں کو سکول میں داخل کرا دیا تھا اور وقتاً فوقتاً مدد بھی کرتے تھے۔ اب دیکھا گیا کہ گھر اپنا تھا۔ ضروری سامان موجود تھا۔ کسی کے گھر کام پہ جاتے ہوئے چھوٹے بچوں کو بند کر گئی تو بچی گرم دودھ سے خاصی جل گئی تھی۔ اب خاتون کام تو کرتی ہیں لیکن تھوڑا۔
نئے بنے باورچی خانہ کو کمرہ سمجھ کے کھولا تو پتہ چلا کہ ایک کمرہ جتنا نیا باورچی خانہ بنا ہوا ہے۔ خاصا ٹھیک ٹھاک قسم کا۔ جبکہ بیٹھ کر کام کرنے والا ایک چھوٹا باورچی خانہ پہلے سے موجود تھا۔
اندازہ لگایا کہ خاتون کو کسی نے زکوات کی مد میں خاصی رقم دی اور خاتون نے فضول خرچی کی۔
بہرحال اسے خواتین کے ایک گروہ کے ساتھ فیصل آباد بھیج کے کپڑا منگوانے اور کاروبار کرانے کا ارادہ کیا۔ لیکن یہ رقم لکھت پڑھت کے ساتھ دی جائے گی اور اس کا حساب لیا جائے گا تاکہ ذرا ڈر رہے اور خاتون رقم ضائع نہ کرے۔ ابھی چودہ ہزار سے کام کرانے کا ارادہ ہے۔
 

جاسمن

مدیر
دوسری خاتون جب بیوہ ہوئی تو ساس سسر نے دیور سے شادی کر دی۔ دو بچے پہلے شوہر سے اور دو ہی دوسرے سے۔ پھر دوسرا شوہر بھی وفات پا گیا۔ ساس سسر بوڑھے لیکن محنتی ہیں۔ ساس ابھی بھی سر پہ چھڑیاں رکھ کے جلانے کے لیے لاتی ہیں۔
ایک چھوٹا دیور ساتھ رہتا ہے بیوی بچوں سمیت۔ وہ کباڑ لا کر بیچتا ہے۔
بیوہ خاتون نے بڑے بارہ سالہ بیٹے کو کسی دکان پہ رکھوایا ہے جہاں سے وہ سو روپیہ روز لاتا ہے۔
ہم نے سب حالات دیکھ کے ان سے مختلف چھوٹے کام شروع کرنے کا مشورہ دیا اور یہ سن کر کہ اس طرح کے چھوٹے کام محلہ میں پہلے سے شروع ہیں، باہمی مشاورت سے طے پایا کہ بچے کو کسی جاننے والے درزی کے پاس رکھوائیں تاکہ جلدی کام سیکھ لے اور ماہانہ تین ہزار روپیہ اس خاتون کو دیتے رہیں جو وہ بچہ لے کے آتا ہے تاکہ یہ کمی محسوس نہ ہو۔
بچے کو نہ پڑھائیں اور کام پہ رکھوائیں۔
یہ بات بہت سوچی لیکن کوئی مزید بہتر تجویز ذہن میں نہیں آئی۔
محفلین کے پاس تجاویز ہوں تو بتائیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
کسی مستحق شخص کے واقعی مستحق ہونے کو جانچنا بھی بہت اہم ہے۔ ہم عام طور پہ ایسے اشخاص کے حلیہ اور باتوں وغیرہ سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہم دھوکا بھی کھا جاتے ہیں۔ جب رقم کسی اور کی طرف سے ہمارے پاس امانت ہو تو پھر ہمیں جانچ کا دائرہ تھوڑا بڑھانا چاہیے۔
سو وقت نکال کے دو گھروں کا دورہ کیا۔
1:بیوہ خاتون پانچ چھوٹے بچے۔ سب سے بڑا دس سال کا۔ پہلے ہمارے گروہ میں سے دو نے ان بچوں کو سکول میں داخل کرا دیا تھا اور وقتاً فوقتاً مدد بھی کرتے تھے۔ اب دیکھا گیا کہ گھر اپنا تھا۔ ضروری سامان موجود تھا۔ کسی کے گھر کام پہ جاتے ہوئے چھوٹے بچوں کو بند کر گئی تو بچی گرم دودھ سے خاصی جل گئی تھی۔ اب خاتون کام تو کرتی ہیں لیکن تھوڑا۔
نئے بنے باورچی خانہ کو کمرہ سمجھ کے کھولا تو پتہ چلا کہ ایک کمرہ جتنا نیا باورچی خانہ بنا ہوا ہے۔ خاصا ٹھیک ٹھاک قسم کا۔ جبکہ بیٹھ کر کام کرنے والا ایک چھوٹا باورچی خانہ پہلے سے موجود تھا۔
اندازہ لگایا کہ خاتون کو کسی نے زکوات کی مد میں خاصی رقم دی اور خاتون نے فضول خرچی کی۔
بہرحال اسے خواتین کے ایک گروہ کے ساتھ فیصل آباد بھیج کے کپڑا منگوانے اور کاروبار کرانے کا ارادہ کیا۔ لیکن یہ رقم لکھت پڑھت کے ساتھ دی جائے گی اور اس کا حساب لیا جائے گا تاکہ ذرا ڈر رہے اور خاتون رقم ضائع نہ کرے۔ ابھی چودہ ہزار سے کام کرانے کا ارادہ ہے۔
بہت عمدہ ۔لکھت پڑھت بہت ضروری ہے ۔کوئی جب ہم پر اعتماد کر رہا ہوتا ہے تو ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ۔کسی دوسرے کی بات تو الگ ہمارے بیٹے صاحب جب ہمیں یہ کام سونپ رہے ہوتے ہیں تو ہم چار مرتبہ جانچ پڑتال کر لیتے ہیں۔اُنکے یہ کہنے سے پہلے “ماں دیکھ لیجے صحیح آدمی کو پہنچے۔اپنے آکثر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پہلے کر دیتی ہوں ۔جاسمن بٹیا کچھ لوگوں کی پریشانی دیکھ کر آپ جانچ پڑتال بالکل بھول جاتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
امریکہ میں مقیم سہیلی نے ایک ایسی خاتون کے بارے میں بتایا کہ جس کی امی خاصی امیر تھیں لیکن انھوں نے جائیداد بیٹوں کے نام کر دی اور اب نہ انھیں کچھ ملتا ہے اور نہ ان کی بیٹی یعنی اس خاتون کو کہ جس کا شروع میں ذکر ہے۔ بیٹی کا شوہر سست اور ہڈحرام ہے۔ اس خاتون نے قرض لے کے اپنی بیٹی کی شادی کی۔ اسکے سسرال والے ٹھیک نہیں نکلے اور طلاق ہو گئی۔ ایک بچہ ہے۔
اب دوسری شادی طے کی ہے۔ اور حالات بہت خراب ہیں۔
اسے فون کر کے حالات پوچھے اور بتایا کہ جہیز کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ لیکن اس کے پاس شادی کے لیے تھوڑی سی رقم بھی نہیں تھی سو اسے کچھ پیسے بھجوائے۔
 

جاسمن

مدیر
بہت عمدہ ۔لکھت پڑھت بہت ضروری ہے ۔کوئی جب ہم پر اعتماد کر رہا ہوتا ہے تو ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ۔کسی دوسرے کی بات تو الگ ہمارے بیٹے صاحب جب ہمیں یہ کام سونپ رہے ہوتے ہیں تو ہم چار مرتبہ جانچ پڑتال کر لیتے ہیں۔اُنکے یہ کہنے سے پہلے “ماں دیکھ لیجے صحیح آدمی کو پہنچے۔اپنے آکثر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پہلے کر دیتی ہوں ۔جاسمن بٹیا کچھ لوگوں کی پریشانی دیکھ کر آپ جانچ پڑتال دب بھول جاتے ہیں۔

بالکل ایسا ہے سیما جی! کچھ لوگوں کی پریشانی دیکھ کر جانچ پڑتال بھول جاتے ہیں۔
اللہ صحیح مستحقین تک مدد پہنچائے اور قبول فرمائے۔ آمین!
 
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
ہم نے کچھ عرصہ پہلے اپنے سماجی بہبود کے کاموں کا دائرہ تھوڑا سا بڑھایا اور وٹزایپ پہ گروپ بنا کر رشتے ڈھونڈنے میں لوگوں کی مدد شروع کی۔

بظاہر رشتے کروانے کا کام ہمارے معاشرے میں کچھ عجیب سمجھا جاتا ہے۔ سب لوگ چاہتے ضرور ہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو اور ان کے گھر میں شادی کے قابل لڑکے لڑکیوں کے لیے اچھے رشتے مل جائیں لیکن جو لوگ آگے بڑھ کے ان کی مدد کرنا چاہیں، انھیں عجیب نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ نیز شک و شبہ کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دین میں چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی بھی بہت اہمیت ہے۔ حتیٰ کہ راستے سے پتھر ہٹا دینا بھی نیکی ہے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کس نیکی کا اللہ کریم کتنا اجر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس نیکی کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہو، نیت کی اچھائی نیز کسی اور وجہ سے بھی اس کا وزن بڑھ جائے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے نیکیوں کے اکاؤنٹ کو بھرتے چلے جائیں۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ پاک ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کسی حاجت کو پورا کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر قدم پر ستّر نیکیاں عطا فرماتا ہے۔
ہمارے ذہنوں میں منفی رجحانات بڑھ گٸے ہیں۔ کوٸی اچھا کام کرے گا تو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ایسا کرنے میں ان کا کیا فاٸدہ ہے۔ ہم لوگوں کے ذہن منفی سوچتے ہیں۔ اس کے بجاٸے وہ دوسروں کے کاموں کو سراہیں، خود اسی طرز پر کام کریں لیکن نہیں۔۔۔۔
 

جاسمن

مدیر
ایک اور شہر جانا ہوا تو وقت نکال کر دو گھروں کا دورہ کیا۔ بن ماں باپ کے پانچ بچے پھپھو کے پاس رہتے ہیں۔ بقول پھپھو ان کے لیے مکان بنا رہی ہوں۔ مکان بنتے بھی دیکھا۔ بچوں سے ملاقات بھی کی۔
نتیجہ: وہ مکان بچوں کے لیے نہیں بن رہا بلکہ پھپھو بچوں کا نام استعمال کر رہی ہے۔
ساتویں میں پڑھنے والا بچہ کئی سالوں سے گلے میں باہر کی طرف ایک پھنسی/زخم ہے لیکن بس دم وغیرہ کروایا جاتا ہے۔ بقول بچے کے وہ بہت تکلیف میں ہے۔ اندازہ لگایا کہ راشن یا پیسے بچوں کے استعمال میں زیادہ نہیں آتے۔ نئے بغیر سلے کپڑے بھی۔
فیصلہ کیا کہ
1:بچوں کو کپڑے سی کے دیے جائیں گے۔
2:ان کے مستقبل کے لیے کچھ رقم جمع کی جائے گی۔
3:ان میں سے چھوٹے بچےہمارے مدرسہ میں ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں تو ہم اب صرف تعلیمی مدد کریں گے۔
4:مریض بچے کو کسی اچھے سرجن کو دکھائیں گے ان شاءاللہ۔
 

جاسمن

مدیر
دوسرے گھر گئے۔ بیوہ خاتون چار چھوٹے بچوں کے ساتھ ہیں۔ بڑا بچہ نویں میں ہے۔
کسی خاتون نے ایک ایسے بابے سے انھیں اپنا پلاٹ دلایا تھا کہ جس کا آگے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ بیوہ خاتون نے اسی پہ کچا پکا کمرہ بنا لیا۔ دو اطراف سے درختوں، جھاڑیوں سے گھرا اور کسی جگہ پرانے کپڑے لگا کے پردہ کیا ہوا ہے۔
جس خاتون نے یہ نیکی کی تھی۔ اس کا بڑا بیٹا بیوہ خاتون اور نویں میں پڑھنے والے بچے کو اس لالچ میں نوکر بنایا ہوا ہے کہ وہ اس پلاٹ کو ان کے نام کرا دے گا۔
فیصلہ ہوا کہ اصل حقائق کا پتہ چلایا جائے اور میٹرک کے بعد بچے کو کسی مناسب کام سیکھنے پہ لگایا جائے۔
ابھی بھی ہم نے اس بچے کو فارغ اوقات میں ڈرائیونگ سکھائی ہے اور مزید کام بھی سکھانے کا ارادہ تھا لیکن وہ بندہ جس کی ماں نے پلاٹ دلوایا, آڑے آ جاتا ہے اور بس اپنے کام کرواتا رہتا ہے۔
اس خاندان کے لیے بھی پیسے جمع کر رہے ہیں۔ ایک کمیٹی ڈال رکھی ہے۔ کچھ لمبی تو ہے لیکن ان دو خاندانوں کے لیے تقریباً ایک لاکھ جمع ہو جائیں گے ان شاءاللہ۔
یہ بیوہ خاتون اپنی صحت کی وجہ سے اس قابل نہیں کہ کوئی کام کر سکیں۔
 

جاسمن

مدیر
کسی مستحق شخص کے واقعی مستحق ہونے کو جانچنا بھی بہت اہم ہے۔ ہم عام طور پہ ایسے اشخاص کے حلیہ اور باتوں وغیرہ سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہم دھوکا بھی کھا جاتے ہیں۔ جب رقم کسی اور کی طرف سے ہمارے پاس امانت ہو تو پھر ہمیں جانچ کا دائرہ تھوڑا بڑھانا چاہیے۔
سو وقت نکال کے دو گھروں کا دورہ کیا۔
1:بیوہ خاتون پانچ چھوٹے بچے۔ سب سے بڑا دس سال کا۔ پہلے ہمارے گروہ میں سے دو نے ان بچوں کو سکول میں داخل کرا دیا تھا اور وقتاً فوقتاً مدد بھی کرتے تھے۔ اب دیکھا گیا کہ گھر اپنا تھا۔ ضروری سامان موجود تھا۔ کسی کے گھر کام پہ جاتے ہوئے چھوٹے بچوں کو بند کر گئی تو بچی گرم دودھ سے خاصی جل گئی تھی۔ اب خاتون کام تو کرتی ہیں لیکن تھوڑا۔
نئے بنے باورچی خانہ کو کمرہ سمجھ کے کھولا تو پتہ چلا کہ ایک کمرہ جتنا نیا باورچی خانہ بنا ہوا ہے۔ خاصا ٹھیک ٹھاک قسم کا۔ جبکہ بیٹھ کر کام کرنے والا ایک چھوٹا باورچی خانہ پہلے سے موجود تھا۔
اندازہ لگایا کہ خاتون کو کسی نے زکوات کی مد میں خاصی رقم دی اور خاتون نے فضول خرچی کی۔
بہرحال اسے خواتین کے ایک گروہ کے ساتھ فیصل آباد بھیج کے کپڑا منگوانے اور کاروبار کرانے کا ارادہ کیا۔ لیکن یہ رقم لکھت پڑھت کے ساتھ دی جائے گی اور اس کا حساب لیا جائے گا تاکہ ذرا ڈر رہے اور خاتون رقم ضائع نہ کرے۔ ابھی چودہ ہزار سے کام کرانے کا ارادہ ہے۔

خاتون کو پھر سے فالج ہو گیا ہے سو ہم نے بھی اپنے فیصلہ سے رجوع کر لیا۔ اب کچھ کپڑے، بچوں کی کتابیں وغیرہ اور ہر ماہ پانچ ہزار سے راشن اور ادویات کا فیصلہ ہوا اور اس ماہ کی قسط دے دی گئی۔
 

جاسمن

مدیر
وہ طالبہ کہ جس کی امی کینسر سے وفات پا گئیں، اسے ماشاءاللہ داخلہ مل گیا ہے۔ بہت محنت ہوئی۔ بڑے چکر لگے اور فون پہ معاملات ہوئے۔ لیکن بالآخر ہو گیا۔ نیز اس کے لیے ایک وظیفہ بھی الحمدللہ منظور کرایا ہے۔
پہلے سمسٹر کی فیس مبلغ چالیس ہزار روپے بھر دی ہے اور اسے بتایا ہے کہ یہ ادھار ہے جیسے ہی وظیفہ آیا وہ اتار دے گی۔
البتہ چھوٹے موٹے خرچے جیسے کہ بیگ، کاپیاں کتابیں وغیرہ یہ کر رہے ہیں۔
اس بچی کے داخلہ پہ بہت زیادہ خوش ہیں۔ لگتا ہے جیسے یہ داخلہ اسے نہیں، ہمیں ملا ہے۔
اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین!
اب اس کے لالچی رشتہ دار اس کے آلے دوالے ہو رہے ہیں، اس لیے اسے بہت کچھ سمجھایا ہے۔
 

جاسمن

مدیر
ایک طالب علم جو ایک امام مسجد (مرحوم) کا بیٹا ہے۔ اس نے ایف ایس سی کی ہے۔ وٹرنری ڈاکٹر بننے کے شوق میں اپلائی کیا لیکن میرٹ نہیں بن سکا۔ اسے بہت مشورہ دیا کہ کسی اور ڈگری کے لیے داخلہ لے لے۔۔۔ مختلف میدانوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں لیکن اس نے گیمز کی سیٹ پہ بھی اپلائی کیا تھا سو انتظار کرتا رہا اور ان پہ سفارشیں چلیں۔
اب اس نے کہا کہ میرا کہیں بھی داخلہ کرا دیں۔ اب یہاں تو داخلے بند ہو چکے۔ کافی تلاش کے بعد دو یونیورسٹیز ملیں۔ پرسوں کا پورا اور کل کا آدھا دن اس کے لیے اپلائی کرنے میں گذرا۔ ایک یونیورسٹی میں اسے داخلہ ملنے کے سو فیصد توقع ہے جبکہ دوسری میں DVM کے لیے اپلائی کیا ہے اور اس میں پتہ نہیں کیا بنے گا۔ بینک ڈرافٹ بنوانا، فوٹو کاپی، آن لائن اپلائی۔۔۔۔ بہت بہت کچھ۔
اللہ اسے کسی ایسے میدان میں داخلہ دے جو اس کے لیے دونوں جہانوں کے اعتبار سے بہترین ہو۔ اللہ آسانیاں اور اچھے مقدر کرے۔ آمین!
اس کے لیے سب خرچہ مل جل کے ہو گا۔ البتہ وظیفہ کے لیے بھی داخلہ کے بعد اپلائی کریں گے ان شاءاللہ۔
 

سیما علی

لائبریرین
وہ طالبہ کہ جس کی امی کینسر سے وفات پا گئیں، اسے ماشاءاللہ داخلہ مل گیا ہے۔ بہت محنت ہوئی۔ بڑے چکر لگے اور فون پہ معاملات ہوئے۔ لیکن بالآخر ہو گیا۔ نیز اس کے لیے ایک وظیفہ بھی الحمدللہ منظور کرایا ہے۔
پہلے سمسٹر کی فیس مبلغ چالیس ہزار روپے بھر دی ہے اور اسے بتایا ہے کہ یہ ادھار ہے جیسے ہی وظیفہ آیا وہ اتار دے گی۔
البتہ چھوٹے موٹے خرچے جیسے کہ بیگ، کاپیاں کتابیں وغیرہ یہ کر رہے ہیں۔
اس بچی کے داخلہ پہ بہت زیادہ خوش ہیں۔ لگتا ہے جیسے یہ داخلہ اسے نہیں، ہمیں ملا ہے۔
اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین!
اب اس کے لالچی رشتہ دار اس کے آلے دوالے ہو رہے ہیں، اس لیے اسے بہت کچھ سمجھایا ہے۔
اللّہ اجرِ عظیم عطا فرمائے ۔بالکل یہی کیفیت ہوتی ہے لگتا ہے لگتا ہے یہ ہمیں ملا ہے مالک بہت آسانیاں فرمائے بچی کے لئیے اور آسانیاں مہیا کرنے والی کے حق میں۔آمین الہی آمین:in-love::in-love:
 
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
ماہ اگست کی بات ہے کہ ہمارے ایک جاننے والے دوست کا رکشہ چوری ہوا۔ اس نے رکشہ لاک کرکے مسجد کے پاس کھڑا کیا اور نماز جمعہ پڑھنے مسجد میں داخل ہوا۔ نماز پڑھ کر جب باہر نکلا اور دیکھا تو رکشہ غاٸب تھا۔ ادھر اُدھر تلاش کیا لیکن کوٸی اتا پتا نہ چلا۔
رات کو مجھے کال کی اور سارا واقعہ آواز سے ٹپکتی پریشانی کی حالت میں سنایا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کینٹ تھانہ میں ایف آٸی آر درج کرواٸی ہے۔ ہمارے تسلی کے الفاظ اس کی پریشانی ختم نہ کرسکے لیکن اس کے سوا کوٸی چارہ نہ تھا۔
اب میں کٸی روز مسلسل اس سے پولیس کی پروگریس لیتا رہا لیکن پروگریس صفر۔۔۔۔ جب بھی اس سے بات ہوتی اس کی پریشانی دن بدن بڑھ رہی تھی کیوں کہ رکشہ اس گھر کا واحد کفیل تھا۔ کورونا کی وبا کیوجہ سے عوام پہلے ہی بدحالی کا شکار اور اوپر سے مہنگاٸی اور بڑھتی چوری کی وارداتوں نے عوام کا جینا حرام۔۔۔ تقریباً تین ہفتے نکل گٸے، بقر عید کے لٸے کچھ دن رہ گٸے تھے۔ میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا کہ آج رکشے والے دوست کے گھر جانا ہے۔ وہ فوراً تیار ہوگیا۔ راستے میں دوست نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آٹا، چینی وغیرہ خرید لوں کیوں کہ کافی دنوں سے وہ مزدوری کے لٸے نہیں گیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ ابھی نہیں، وہاں پہنچ کر حالات کا جاٸزہ لیں گے اور میرے خیال میں اس کو اس وقت سب سے بڑی ضرورت رکشے کی ہے۔ وہاں پہنچ کر رکشے والے دوست نےہمارے منع کرنے کے باوجود ٹھنڈے پانی(کولڈ ڈرنکس) کا انتظام کیا۔ میں نے پوچھا کہ نٸے رکشے کے کچھ انتظام ہے تو اس کا جواب نفی میں تھا۔ میں نے پوچھا کہ کوٸی پلان ذہن میں ہے، اس کا جواب نہ میں تھا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور کہا کہ کورونا کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہیں اور اس موقع پر ہم کسی سے ادھار کی درخواست بھی کریں گے تو ایک لاکھ بیس ہزار کی رقم ہمیں نہیں مل سکے گی۔ میں نے ایک تجویز پیش کی کیوں نہ ہم اپنے دوستوں کو کال کریں اور ان سے کہیں کہ جتنی مدد اور جیسے وہ کرسکتے ہیں ہماری نیا رکشہ خریدنے کے لٸے کریں۔ وہاں سب اس بات پر متفق ہوٸے۔ جو دوست میرے ساتھ گیا تھا اس نے اس نیک کام میں پہل کی اور دس ہزار بطورصدقہ دیے۔ اس کے بعد دیگر دوستوں کو کالیں کیں اور ہمیں دو ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک روپے خیرات، صدقات اور زکوة کی مد میں ملے۔
ادھ گھنٹے کی محنت سے ہمارے پاس لگ بھگ پچاسی ہزار جمع ہوگٸے تھے اور دوست کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ خوشی ہمیں بھی تھی لیکن سب سے بڑی خوشی اس گھرانے کی لامتناہی دعاٸیں تھیں۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ہم نے دوست کے لٸے بقر عید کے بعد مزید تھوڑی سی محنت کے بعد زیرو میٹر رکشہ خرید لیا۔
 

جاسمن

مدیر
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
ماہ اگست کی بات ہے کہ ہمارے ایک جاننے والے دوست کا رکشہ چوری ہوا۔ اس نے رکشہ لاک کرکے مسجد کے پاس کھڑا کیا اور نماز جمعہ پڑھنے مسجد میں داخل ہوا۔ نماز پڑھ کر جب باہر نکلا اور دیکھا تو رکشہ غاٸب تھا۔ ادھر اُدھر تلاش کیا لیکن کوٸی اتا پتا نہ چلا۔
رات کو مجھے کال کی اور سارا واقعہ آواز سے ٹپکتی پریشانی کی حالت میں سنایا۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ کینٹ تھانہ میں ایف آٸی آر درج کرواٸی ہے۔ ہمارے تسلی کے الفاظ اس کی پریشانی ختم نہ کرسکے لیکن اس کے سوا کوٸی چارہ نہ تھا۔
اب میں کٸی روز مسلسل اس سے پولیس کی پروگریس لیتا رہا لیکن پروگریس صفر۔۔۔۔ جب بھی اس سے بات ہوتی اس کی پریشانی دن بدن بڑھ رہی تھی کیوں کہ رکشہ اس گھر کا واحد کفیل تھا۔ کورونا کی وبا کیوجہ سے عوام پہلے ہی بدحالی کا شکار اور اوپر سے مہنگاٸی اور بڑھتی چوری کی وارداتوں نے عوام کا جینا حرام۔۔۔ تقریباً تین ہفتے نکل گٸے، بقر عید کے لٸے کچھ دن رہ گٸے تھے۔ میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا کہ آج رکشے والے دوست کے گھر جانا ہے۔ وہ فوراً تیار ہوگیا۔ راستے میں دوست نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آٹا، چینی وغیرہ خرید لوں کیوں کہ کافی دنوں سے وہ مزدوری کے لٸے نہیں گیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ ابھی نہیں، وہاں پہنچ کر حالات کا جاٸزہ لیں گے اور میرے خیال میں اس کو اس وقت سب سے بڑی ضرورت رکشے کی ہے۔ وہاں پہنچ کر رکشے والے دوست نےہمارے منع کرنے کے باوجود ٹھنڈے پانی(کولڈ ڈرنکس) کا انتظام کیا۔ میں نے پوچھا کہ نٸے رکشے کے کچھ انتظام ہے تو اس کا جواب نفی میں تھا۔ میں نے پوچھا کہ کوٸی پلان ذہن میں ہے، اس کا جواب نہ میں تھا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور کہا کہ کورونا کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہیں اور اس موقع پر ہم کسی سے ادھار کی درخواست بھی کریں گے تو ایک لاکھ بیس ہزار کی رقم ہمیں نہیں مل سکے گی۔ میں نے ایک تجویز پیش کی کیوں نہ ہم اپنے دوستوں کو کال کریں اور ان سے کہیں کہ جتنی مدد اور جیسے وہ کرسکتے ہیں ہماری نیا رکشہ خریدنے کے لٸے کریں۔ وہاں سب اس بات پر متفق ہوٸے۔ جو دوست میرے ساتھ گیا تھا اس نے اس نیک کام میں پہل کی اور دس ہزار بطورصدقہ دیے۔ اس کے بعد دیگر دوستوں کو کالیں کیں اور ہمیں دو ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک روپے خیرات، صدقات اور زکوة کی مد میں ملے۔
ادھ گھنٹے کی محنت سے ہمارے پاس لگ بھگ پچاسی ہزار جمع ہوگٸے تھے اور دوست کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ خوشی ہمیں بھی تھی لیکن سب سے بڑی خوشی اس گھرانے کی لامتناہی دعاٸیں تھیں۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ہم نے دوست کے لٸے بقر عید کے بعد مزید تھوڑی سی محنت کے بعد زیرو میٹر رکشہ خرید لیا۔

ماشاءاللہ۔
آپ نے بجائے راشن کے ان کے لیے روزی کا بندوبست کیا، یہ بہت عقلمندانہ فیصلہ تھا۔
اللہ قبول و منظور فرمائے اور ایسے اچھے کاموں کی توفیق اور آسانی دیتا رہے۔ آمین!
 

جاسمن

مدیر
اگست سے آج تک کے کام
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
اللہ کی توفیق اور لطف و کرم سے ہم نے مندرجہ ذیل کام کیے۔ (مختصر مختصر)
1:غریب مریض کی ادویات:1000
2:غریب لوگوں میں ایک بکری کا گوشت تقسیم:8200
3:بکری کا گوشت دوسرے علاقہ کے غریبوں کے لیے:8000
4:مدرسہ کے قاری صاحب:5000
5:غریب خاتون کی گونگی بہری بیٹی:5000
6:پانچ یتیم بچے:5000
7:چار یتیم بچے بیوہ ماں: 5000
8:مستحق طالب علم:5000
9:ایک طالب علم کو کاروبار کے لیے ادھار:50,000
10:غریب خاتون کی ادویات:9000
11:غریب عورت کی مدد :5000
12:غریب بے سہارا عورت کو راشن:3000
13:غریب بے سہارا عورت کو راشن:3000
14:غریب بیوہ اماں کی دوائی:1000
15:مدرسہ کے قاری:5000
16: مستحقین کی مدد:8000
17:غریب خاتون کی دوائیں:9000
18:غریب خاندان بیمار ماں باپ بیٹا:5000
19:طالبہ کو کرایہ وظیفہ کا انٹرویو:4000
20:طالبہ کا کرایہ وغیرہ:500
21:غریب طالبہ کا شناختی کارڈ اور ڈومیسائل بنوانے کے لیے۔:2000
22:غریب مریض کی دوا:1000
23:غریب طالبہ کے لیے اپلائی کیا:2000
24:پانچ یتیم و مسکین بچے:5000
25:بیوہ ماں اور چار بچے:5000
26:سکالرشپ اپلائی کیا غریب طالبہ کے لیے:500
27:بہت قرضدار ضرورت مند خاتون:15000
28:پانچ یتیم بچوں کی بیمار فالج زدہ ماں:14000
29:قاری صاحب:5000
30:قاری صاحب کو موٹر سائیکل لے کے دی:22000
31:کرایہ غریب طالبہ:500
32:غریب طالب علم:3380
33:غریب خاتون:500
34:غریب عیسائی بندے کی بیٹی کی شادی:20000
35:غریب شخص:1000
36:رکشہ والا غریب:500
37:یتیم بچہ کتابیں، یونیفارم وغیرہ:10400
38:یتیم بچہ فیس:12500
39:غریب بچے کی ٹیوشن فیسیں:8000
40:غریب طالبہ کو بیگ، گاؤن:3,040
41:یتیم بچے کا داخلہ کرایا:4500
الحمدللہ رب العالمین۔
 
Top