آئینہ خانہ ۔ ماں

ام اویس

محفلین
چاروں طرف آئینے تھے اور وہ ان کے درمیان بیٹھی حیرت سے ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی ہر آئینے میں مختلف مناظر کی جھلک تھی تجسس نے اسے مجبور کیا کہ وہ پوری توجہ سے ایک ایک منظر کو غور سے دیکھے اس نے اپنے انتہائی دائیں جانب کے آئینے کو دیکھا اور اسے محسوس ہوا وہ اس منظر میں داخل ہوگئی ہے ۔
بالکل ویران ، بنجر بے آب وگیا ایک پہاڑی سلسلہ تھا ۔ سیاسی مائل پہاڑ بہت بلند نہ تھے اور اپنے اندر ایک عجیب سی ہیبت و ویرانی چھپائے ہوئے تھے ۔ فضا میں وحشتناک خاموشی تھی کہیں کوئی معمولی سی بھی آواز نہ تھی جو کسی جاندار کی موجودگی کا احساس دلاتی خوف سے اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے اس نے غور سے دیکھا تو دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹی سی وادی کی پتھریلی زمین کے سنگریزوں پر ایک چھوٹا سا بچہ لیٹا ہاتھ پاؤں چلا رہا تھا رو رو کراس کا گلا بیٹھ گیا تھا اس سنسان دہشتناک ماحول میں ایک چھوٹا سا بچہ کہاں سے آیا سوال اس کے ذہن میں کسی سانپ کی طرح سرسرایا تب ہی اسے پاس کے پہاڑ سے دوڑ کر بچے کی طرف آتی ایک عورت دکھائی دی ۔ اس کی ہر حرکت سے بے قراری جھلک رہی تھی اس نے لپک کر بچے کو اپنی بانہوں میں بھر لیا ممتا کی محبت سے لبریز ڈبڈبائی آنکھوں سے اپنے جگر کے ٹکرے کو دیکھا جو بھوک اور پیاس سے نیم جان تھا اسے دوبارہ پتھریلی زمین پر لٹا دیا اور بے تابی سے دوسری سمت کے پہاڑ کی طرف دوڑی ۔ بھوک اور کمزوری سے خود اس کی ٹانگیں بھی کانپ رہی تھیں لیکن ممتا کی بے قراری اسے دوڑنے کی ہمت دے رہی تھی اس امید پر کہ شاید اس پہاڑ کے پار کوئی بستی ہو یا کوئی قافلہ گزرتا نظر آجائے یا شاید کسی مسافرنے وہاں کوئی خیمہ لگایا ہو جہاں سے بچے کے لیے دوگھونٹ دودھ یا پانی مل جائے اور بچے کی زندگی کی ڈور ٹوٹنے سے بچ جائے ۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچی دور دور تک نظر دوڑائی لیکن سیاہ اونچے نیچے پتھریلے ٹیلوں اور سنگلاخ پہاڑوں کے سوا نگاہ نے کسی انیس و ہمدرد کو نہ پایا ۔ بچے کی فکر میں پھر پلٹی اور دوڑتے ہوئے آکر چڑھتی سانسوں اور کانپتے ہاتھوں سے بچے کو گود میں بھر لیا ۔ بچے کے لبوں پر پیاس سے پپڑیاں جمی تھیں زبان منہ سے باہر لٹک رہی تھی ۔ کمزوری سے اس میں رونے کا دم بھی نہ رہا تھا ۔ ممتا کی ماری عورت دونوں پہاڑوں کے درمیان چھ چکر لگا چکی تھی لیکن امید کی ڈور ابھی نہیں ٹوٹی تھی لرزتی ٹانگوں کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی بچے کو احتیاط سے سنگلاخ زمین ہر لٹایا اور پھر پہاڑی کی طرف بھاگی تاکہ اوپر چڑھ کر کسی کو اپنی مدد کے لئے پکارے ۔ چوٹی پر پہنچ کر دیکھا تو چاروں طرف وہی مہیب سناٹا اور ویرانی تھی
دکھ سے ایک لمبی سانس بھری تو ایک سوندھی سوندھی سی مہک محسوس ہوئی ۔ اس نے نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا کیا آسمان اس کی بے بسی پر رونے لگا ہے مگر سورج کی تیز شعاعوں سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں کہیں ابر کا کوئی سایہ نہ تھا یک دم بچے کے خیال نے جیسے دل کو جکڑ لیا بےقراری کے عالم میں بھاگتی ہوئی پہاڑی سے اتری اور جونہی نگاہ بچے پر پڑی تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ شدید حیرت نے اسے منجمد کردیا بچے کے پاؤں کے نیچے سے پانی نکل کر بہہ رہا تھا ۔ یہ یقینا اس کی بے قرار ممتا کا انعام تھا
پھر وہ منظر بدلنے لگا اب ان دو پہاڑیوں کے درمیان بے شمار لوگ سفید لبادوں میں دوڑ رہے تھے ہر طرف رنگ ونور کی بارش تھی ویرانی ، تنہائی اور وحشت کا نام ونشان نہ تھا خالق کائنات کو اس عظیم ماں کی بے قراری اس قدر بھائی کہ اپنے بندوں پر یہ بے قراری فرض کردی ۔
اس کی وحشت بھی تسکین کے دریا میں بدل گئی اور لبوں پر مسکراہٹ لیے وہ دوسرے آئینے کی طرف دیکھنے لگی ۔
عجیب منظر تھا جانوروں کے رہنے کا اک کھلا باڑا تھا آس پاس دیکھنے سے گاؤں تو نہیں بلکہ کسی شہر کے گھروں کا سا منظر دکھائی دے رہا تھا ۔ باڑے میں ایک طرف کچھ بکرے بندھے تھے شاید یہ قربانی کے جانور تھے دوسری طرف ایک گائے کھڑی تھی وہ گائے رو رہی تھی اس کے حلق سے نکلنے والی آوازیں بالکل بینوں سے متشابہ تھیں جن سے بے تحاشہ درد امنڈ رہا تھا اس کا دل بھر آیا اور آنکھیں اشکوں سے لبریز ہو گئیں اتنے میں باڑے کے اندر ایک بوڑھا شخص داخل ہوا جس نے صاف ستھری سفید قمیض کے نیچے چارخانوں والی دھوتی باندھ رکھی تھی رات کی تاریکی صبح کے جھٹپٹے میں بدل رہی تھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے باڑے میں ہلکی ہلکی خنکی پیدا کر رہے تھے بوڑھے شخص نے دابڑہ بھر کر چارہ سب جانوروں کےسامنے ڈالا اور گائے کی طرف آگیا گائے کی آواز کا سوز بڑھ چکا تھا اور اس کے بینوں میں شدت آگئی تھی یوں جیسے اس سے اپنے دکھ کی فریاد کر رہی ہو ۔ بوڑھے نے چارہ گائے کے سامنے ڈالا اور کہا بھوری کچھ کھا لے لیکن بھوری نے آنکھ اٹھا کر چارے کی طرف نہ دیکھا اس کے ڈکرانے کی آواز مزید بلند ہونے لگی ۔ دیکھ بھوری جس ذات کریمی نے تجھے بچہ دیا تھا اس نے لے لیا یہ تو اس کی امانت تھی تو صبر کر اور کچھ کھا لے بوڑھے نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئےنم آنکھوں سے کہا لیکن بھوری کو کوئی بات سمجھ نہ آرہی تھی اس کا رونا اسی طرح جاری تھا ۔ تھک ہار کر بوڑھا باڑے سے نکل آیا صحن پار کرکے سامنے برامدے میں بچھے تخت پر بیٹھ گیا جہاں اس کی بیوی قرآن مجید کھولے تلاوت کر رہی تھی ۔ اس نے قرآن مجید کو احترام سے بند کیا اور بوڑھے شخص سے پوچھا چھیمے کے ابا بھوری نے کچھ کھایا یا نہیں ۔ بوڑھے نے تھکی ہوئی آواز میں جواب دیا آج تین دن اور راتیں گزر گئیں ہیں ایک کھیل بھی اڑ کر بھوری کے منہ میں نہیں گئی پہلوٹھی کے بچے کی موت کے غم میں روتے اور بین کرتے اس کا گلا بیٹھ گیا ہے سارے محلے میں اس کے کرلانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں آس پاس کے لوگ اب شکایت کرنے لگے ہیں ۔ میں بھی اس کو سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں اس کی ممتا کو صبر ہی نہیں آتا ۔ چھیمے سے کہتا ہوں اس کو قصائی کے پاس چھوڑ آئے اس کے غم کا مداوہ کہیں نہیں ۔
ممتا کی بے بسی کا یہ منظر اس کے اشکوں کی شدت سے دھندلانے لگا یہ ماں کا کون سا روپ ہے کیسے جذبات ہیں جو ایک جانور کو بھی چین نہیں لینے دے رہے ۔ اس نے اپنی بھیگی آنکھیں اس منظر سے ہٹا لیں ۔
پاس ہی ایک اور آئینہ تھا جس سے پھوٹتے لہوجیسے سرخ رنگ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا اس آئینے میں بہت افراتفری اور بھاگ دوڑ تھی یوں لگتا تھا کسی نے قیامت کے لمحوں کو اس میں قید کر دیا ہو آسمان سے آگ برس رہی تھی خوبصورت بلند وبالا عالیشان عمارتیں پل بھر میں ملبے کا ڈھیر بن رہی تھیں کہیں ممتا کی ماری مائیں اپنے کمزور تن کے نیچے اپنے معصوم ننھے جگر گوشوں کو چھپا کر بچانے کی کوشش میں ان سے پہلے موت کو گلے لگا رہی تھیں تو کہیں اپنے سینے میں آہیں دبائے اپنے جسموں کو مستور کیے بے قراری سے الله اکبر کی صدائیں بلند کرتی بچوں کے ادھڑے ہوئے لاشے لے کربھاگ رہی تھیں ۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والے مسیحا خود اپنے خون میں ڈوب چکے تھے ۔ قیامت کا منظر تھا ۔ ماؤں کی آہوں سے آسمان کا کلیجہ چاک ہورہا تھا ۔ ہر طرف دھویں کی سیاہی تھی معصوم بچے اپنی ماؤں کی گود میں دم توڑ رہے تھے ۔ مائیں اپنے بچوں سے پہلے راہی عدم ہو رہی تھیں امت مسلمہ اپنوں کی بے اعتنائیوں اور غیروں کی سفاکیوں کا شکار تھی
اس کے آنسو ایک تواتر سے اس کی گود میں گرنے لگے بےبسی کے شدید احساس کے ساتھ اس نے بدقت اس منظر سے نگاہ ہٹائی تو ایک شفاف آئینہ اس کی نگاہوں کے سامنے آگیا
ایک عورت چارپائی پر پڑے جوان لاشے کے چاند چہرے کو لرزتے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھی آنکھوں میں جیسے اس کی پوری روح سما گئی تھی بے قراری سے اس کا سر منہ چوم رہی تھی اس کے لبوں میں اس کی تمام ترجان آگئی تھی اور اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ اپنی جان اس لاشے پر نثار کردے سبز ہلالی پرچم میں لپٹا وجود اور ماتھے پر بندھی کلمے کی پٹی اس کے عزم کو مزید پختہ کرتی تھی اس کی آنکھ کی چمک بتاتی تھی کہ اپنی ممتا کی تڑپ وار دوں گی پر اے آزادی تجھے نہ ہاروں گی ۔
سبز ہلالی پرچم پر نثار ہوتی اس کی آنسو بھری نگاہ نے جونہی رُخ بدلا اسے وہ آئینہ نظر آیا جس نے اس کے قلب کو چیر کر رکھ دیا ۔
اس کی نظر اس ماں پر جا پڑی جس نے دن بھر جنگل سے لکڑیاں چُن کرانہیں بیچا ۔ ان لکڑیوں کے کانٹوں سے اس کی انگلیاں فگار تھیں لیکن ممتا کی سرشاری میں اسے ان کے درد کا کوئی احساس نہ تھا رات بھر سوئی دھاگے میں اپنی نظر کی ایک ایک کرن پرو کر کشیدہ کاری کے بیل بوٹے بناتی رہی اور اسے بیچ کر پیسہ پیسہ جمع کیا ۔ اپنے تن اور من کی ہر ضرورت کا گلا گھونٹ کر اپنے بچے کے لیے سفید براق لباس خریدا اس کے جگر گوشے کو دوجہاں میں کامیابی کی سند ملنے والی تھی اس کا دل خوشی کے احساس سے چھلک رہا تھا اس کی برسوں کی خواہش تکمیل کی منزل پانے والی تھی اس نے بڑی محنت ، محبت اور احتیاط سے اپنے لال کا سفید جوڑا سیا تھا ہر ٹانکا لگاتے اس کے دل نے اپنے بچے کے لیے دنیا میں کامیابی وکامرانی کے خواب دیکھے اور لباس کے ہر ٹکرے کو جوڑتے اس کی آنکھ نے میدان حشر میں الله کے وعدے کو پورا ہوتے دیکھنے کے تصورکیا تھا ۔ اپنے اور اپنے مرحوم شوہر کے سر پر چمکتا تاج دیکھا ۔ آج اس نے اپنے الله سے اور اپنے سرتاج سے کیے وعدے کو پورا کر دیا ۔ جتنی ہمت تھی اس سے بڑھکر اپنے بیٹے کی تعلیم میں محنت پر لگا دی دل شکر کے بے پایاں احساس سے لبریز تھا ۔ ہاتھ میں سند تھامے چمکتے چہرے اور شرمیلی لرزتی پلکوں والی تصویردکھائی دے رہی تھی جس میں اس کے بیٹے کے ساتھ کتنی ہی ماؤں کے مستقبل کی روشن امیدیں قطار میں اپنی اسناد کو تھامے بیٹھے تھے دوسرے ہی لمحے اس آئینے کا منظر بدل گیا اسی سفید جوڑے میں اس کے جگر کا ٹکرا لہولہان پڑا تھا ان کے ستاروں جیسے خواب آسمان سے برستی آگ کی بارش میں راکھ ہو گئے اس جیسی کتنی ہی ماؤں کے دل آہوں اورفریاد کے نالوں سے بھر گئے ۔ اس آئینے کے پیچھے کتنے ہی آئینے چھپے تھے جن پر وقت کی گرد کی ہلکی ہلکی تہیں جمنے لگی تھیں ان میں سکول کے معصوم بچوں کی ماؤں کے آنسو اور ان کی آنکھوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار تھا مدرسے کے معصوم طالب علموں کی ماؤں کے صبر اور نماز سے مدد طلب کرتے دعاؤں کے الفاظ تھے
دل درد سے پھٹ رہا تھا کہ نگاہ ایک اور آئینے پرجا پڑی جو بالکل اس کے سامنے تھا اور نیا نکور چمک رہا تھا یوں جیسے ابھی وجود میں آیا ہو اس پر ذرا سی گرد نہ تھی اس کی نظریں بے اختیار اس میں دکھائی دیتے منظر پر جم گئیں ۔
رمضان کا چاند دکھائی دے رہا تھا آج پہلے روزے کی سحری تھی ۔ پاک وطن کے مکینوں کی پرسکون سحری و افطاری کے لیے کتنے جوان اپنے گھروں اور پیاروں سے دور سرحدوں کی حفاظت کے لیے دن رات کا فرق بھلائے دشمن کے سامنے ڈٹے کھڑے تھے اس بہادر ماں کا جوان بیٹا سرحد کی حفاظت کرتے رمضان کی پہلی سحری کو ہی خون رنگ وردی میں اپنی آخری منزل کو چل پڑا تھا آئینے پر لال سرخ خون کے دھبے پھیلتے جارہے تھے ماں صبر وضبط کی تصویر بنی سبز ہلالی پرچم پر بیٹے کو نثار کرکے سرخرو ہوچکی تھی لا الہ کے لیے بنے پاک وطن پر اپنی ہزار ممتائیں قربان کرنے کا عزم اس کی نگاہوں سے چھلک رہا تھا لیکن دل اس سوچ سے ڈوبتا جا رہا تھا کہ اب قسمت میں کوئی ایسی سحری نہیں جس میں بیٹے کو پراٹھا اور لسی بنا کر دے سکوں گی نہ کوئی ایسی افطاری ہے جس میں بیٹا اصرار کرکے دودھ کا گلاس پلائے گا ۔
آئینے کے اس منظر نے اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا درد کی لہر نے اس کی رگ رگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اسے کچھ ایسے آئینوں کا بھی خیال آیا جو الزام بازی اور دھوکہ وفریب کی گرد میں لپیٹ کر کہیں پیچھے چھپا دئیے گئے تھے ذاتی مفادات اور خواہش اقتدار کے بھوکوں نے ان آئینوں پر اپنی مکاریوں کے جال اور دشمن کے دھوکے کے فریب کا پردہ ڈال رکھا تھا ان غداروں نے زخم کا علاج کرنے کی بجائے اس کو اس قدر بڑھا دیا تھا کہ بازو کو تن سے جدا کرنا پڑا ۔ وہ زخم کہ جس کی تکلیف اور شدت آج بھی روح میں شگاف ڈال دیتی تھی ۔
مائیں اپنے جسم کے حصے ، اپنے جگر کے ٹکرے اس سبز پرچم کی حرمت و حفاظت پروارنے کو آج بھی اپنا فخر سمجھتی ہیں کیوںکہ سبز ہلالی پرچم کلمة الله کی بقا کے لیے وجود مں آیا اور ایسے آئینے کا عکس بننے سے ڈرتی ہیں جہاں گمنام ، گمشدہ اور نامعلوم لوگ ان کے دل کے ٹکرے نکال لے جائیں ۔
اس نے لمبی ٹھنڈی آہ بھری اور تاریخ کے ان آئینوں کی دھندلاہٹوں کے دور ہوجانے کی دعا کرتی اس آئینہ خانہ سے باہر آگئی تاکہ الله کے حضور اپنا سرجھکا کر فریاد کرے کہ اے مالک میرے وطن کی ماؤں کے مقدر مں وہ آئینے کردے جن میں ان کے جگر گوشوں کے چہرے قیامت تک مہتاب کی طرح تابندہ و روشن نظر آتے رہیں اور ان کے کلیجوں کی ٹھنڈک بنے رہیں جب بھی کوئی ماں تاریخ کے آئینوں میں جھانکے تو اسے پرسکون ماؤں کے وہ عکس دکھائی دیں جو سبز ہلالی پرچم کے سائے میں اپنے رب کے حضور سکون سے اپنے ماتھے ٹیکے ہوئے ہوں ۔ ماؤں کے دل بچوں کو سکول اور مدرسے بھیجتے ہوئے لرزتے نہ رہیں ۔ ماؤں کے بچے گھر سے باہر جائیں توہر وقت کا دھڑکا ان کی سوچوں کوبے چین نہ کرتا رہے کہ نہ جانے واپس لوٹیں گے یا نہیں ۔
 
Top