قیوم نظر

  1. فرخ منظور

    عشقِ گریزاں ۔ قیوم نظر

    عشقِ گریزاں سرد ہو چکی محفل اور تو نے پروانے خواہشوں سے بیگانے جان سے گزرنے کا کھیل ہی نہیں کھیلا بجھ گیا ترا بھی دل سرد ہو چکی محفل آدمی کو جینا ہے ہم کنارِ غم ہو کر لطفِ زندگی کھو کر آج اور کل برسوں بے بسی کے بل برسوں زہرِ زیست پینا ہے آدمی کو جینا ہے عمر پر نہ جا اس کی یہ طویل مجبوری اپنی...
  2. کاشفی

    سالِ گزراں - (قیوم نظر - 1940ء)

    سالِ گزراں (قیوم نظر - 1940ء) آخری رات آگئی آخر ہر طرف یاس چھا گئی آخر زندگی مجھ کو کھا گئی آخر کس قدر شاق یہ جُدائی ہے عمرِ رفتہ تری دہائی ہے ہوچکیں ختم ساری تدبیریں کٹ گئیں زندگی کی زنجیریں مٹ رہی ہیں جو میری تصویریں پھر مجھے ان کو دیکھ لینے دو آخری بار داد دینے دو روح پرور بسنت کی زردی...
  3. فرحت کیانی

    نظم۔ چڑیا گھر۔ قیوم نظر

    چِڑیا گھر دیکھا کلام: قیوم نظر مور چمکتے پَر والے پنجرے شیر ببر والے اور موٹا بندر دیکھا ہم نے چِڑیا گھر دیکھا دیکھا بارہ سنگا بھی پاڑھا اور چکارا بھی چیتا بھی بڑھ کر دیکھاَ ہم نے چِڑیا گھر دیکھا رنگ برنگی بطخوں کی دیکھی آنکھ مچولی بھی پاس ہی اک لُدھر دیکھا ہم نے چِڑیا گھر...
  4. فرحت کیانی

    نظم۔ چِڑیاں۔ قیوم نظر

    چِڑیاں اِک اِک کر کے آتی ہیں پُھر کر کے اُڑ جاتی ہیں خود ہی پھر آ جاتی ہیں یوں ہی آتی جاتی ہیں کتنی اچھی ہیں چِڑیاں مجھ کو پیاری ہیں چِڑیاں آپس میں جب لڑتی ہیں چونچ سے دُم کو پکڑتی ہیں کتنا شور مچاتی ہیں پَل میں چُپ ہو جاتی ہیں کتنی اچھی ہیں چِڑیاں مجھ کو پیاری ہیں چِڑیاں...
  5. فرحت کیانی

    پاکستانی بچے۔ قیوم نظر

    پاکستانی بچے ہر دم محنت کرنے والے محنت کا دم بھرنے والے ہم ہیں بچے پاکستانی کام کریں سب مل جُل کر ہم آپ سنواریں اپنا گھر ہم ہم ہیں بچے پاکستانی سچی بات پہ ہم اَڑ جائیں حق کی خاطر ہم لَڑ جائیں ہم ہیں بچے پاکستانی ہم کو محبت اپنے دیس سے اپنے وطن سے اپنی زمیں سے ہم ہیں...
  6. کاشفی

    حُسنِ نظر - قیوم نظر

    حُسنِ نظر (قیوم نظر- 1932) مُحبت میں تیری ہے جینا ہی پینا نہ کچھ فکرِ ساغر نہ کچھ ذکرِ مینا خزاں ہوگئی ہے بہارِ تمنا عجب گُل کھلائے بہار آفرینا نگاہیں زمانے کی اِس پر جمی ہیں کِسے دیکھ بیٹھی میری چشمِ بینا کسی سے ہیں وابستہ میری اُمیدیں یہی میرا مرنا یہی میرا جینا نگاہِ کرم تو نے یہ...
  7. فرحت کیانی

    شہرِ آشوب۔ قیوم نظر

    شہرِ آشوب (ا) لب شرر بار چشم اشک فشاں زندگی مثلِ جُوئے دردِ رواں منزلیں گم ہیں وادیاں حیراں دل کا اجڑا نگر بساؤں کیسے کم سواری کو شوق امامت کا کوئی گوشہ نہیں ندامت کا فتنہ اٹھا ہے کس قیامت کا اُتر آئی زمیں پر کاہکشاں در و دیوار پر سوار ہے شہر سنگ و آہن سے گُل عذار ہے شہر شوکتِ...
Top