محمد احمد کی غزل

  1. محمداحمد

    غزل ۔ یہ جو شعروں میں جان پڑتی ہے ۔ محمد احمدؔ

    غزل یہ جو شعروں میں جان پڑتی ہے کوئی اُفتاد آن پڑتی ہے ڈانٹ پڑتی ہے دل کو اکثر ہی اور کبھی بے تکان پڑتی ہے آنا چاہتا ہے مجھ سے ملنے وہ راہ میں آن بان پڑتی ہے خود سے کیوں کر کھنچا کھنچا ہوں میں تھی کوئی بات، دھیان پڑتی ہے شور ایسا کہ کچھ نہ سُن پاؤں اک صدا یوں تو کان پڑتی ہے بد گُمانی،...
  2. محمداحمد

    غزل ۔ الگ تھلگ رہے کبھی، کبھی سبھی کے ہو گئے ۔ محمد احمدؔ

    غزل الگ تھلگ رہے کبھی، کبھی سبھی کے ہو گئے جنوں کا ہاتھ چُھٹ گیا تو بے حسی کے ہو گئے طلب کی آنچ کیا بجھی، بدن ہی راکھ ہو گیا ہوا کے ہاتھ کیا لگے، گلی گلی کے ہو گئے بہت دنوں بسی رہی تری مہک خیال میں بہت دنوں تلک ترے خیال ہی کے ہوگئے چراغِ شام بجھ گیا تو دل کے داغ جل اُٹھے پھر ایسی روشنی ہوئی...
  3. محمداحمد

    غزل ۔ مرے رات دن کبھی یوں بھی تھے، کئی خواب میرے دروں بھی تھے ۔ محمد احمدؔ

    غزل مرے رات دن کبھی یوں بھی تھے، کئی خواب میرے دروں بھی تھے یہ جو روز و شب ہیں قرار میں، یہی پہلے وقفِ جنوں بھی تھے مرا دل بھی تھا کبھی آئینہ، کسی جامِ جم سے بھی ماورا یہ جو گردِ غم سے ہے بجھ گیا، اسی آئینے میں فسوں بھی تھے یہ مقام یوں تو فغاں کا تھا، پہ ہنسے کہ طور جہاں کا تھا تھا بہت کڑا...
  4. محمداحمد

    غزل ۔ سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں ۔ محمد احمدؔ

    غزل سارے وعدے ، وعید ہو گئے ہیں آہ ! محرومِ دید ہو گئے ہیں زندگی کے کئی حسیں پہلو نذرِ ذہنِ جدید ہو گئے ہیں طعن و تشنیع کب سے ہیں معمول کچھ رویّے شدید ہو گئے ہیں مضمحل تھے ، مگر تجھے مل کر اور بھی کچھ مزید ہو گئے ہیں حُسن آراستہ، نہتّے ہم ہونا کیا تھا شہید ہوگئے ہیں ہم نے پڑھ لکھ...
  5. محمداحمد

    غزل ۔ زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے ۔ محمد احمد

    غزل زخم کا اندِمال ہوتے ہوئے میں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئے ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی جشنِ شامِ وصال ہوتے ہوئے دے گئی مستقل خلش دل کو آرزو پائمال ہوتے ہوئے لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں زندگانی وبال ہوتے ہوئے کس قدر اختلاف کرتا ہے وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے پئے الزام آ رُکیں مجھ پر ساری...
  6. محمداحمد

    غزل ۔ تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں ۔ محمد احمدؔ

    غزل تعلق رکھ لیا باقی، تیّقن توڑ آیا ہوں کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں تمھارے ساتھ جینے کی قسم کھانے سے کچھ پہلے میں کچھ وعدے، کئی قسمیں، کہیں پر توڑ آیا ہوں محبت کانچ کا زنداں تھی یوں سنگِ گراں کب تھی جہاں سر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سر پھوڑ آیا ہوں پلٹ کر آگیا لیکن، یوں لگتا ہے...
  7. محمداحمد

    غزل ۔ لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں ۔ محمد احمدؔ

    غزل لب لرزتے ہیں روانی بھی نہیں گو کہانی سی کہانی بھی نہیں چاندنی ٹھہری تھی اِس آنگن میں کل اب کوئی اس کی نشانی بھی نہیں رابطہ ہے پر زماں سے ماورا فاصلہ ہے اور مکانی بھی نہیں حالِ دل کہنا بھی چاہتا ہے یہ دل اور یہ خفّت اُٹھانی بھی نہیں غم ہے لیکن روح پر طاری نہیں شادمانی، شادمانی بھی نہیں...
  8. محمداحمد

    غزل : جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے ۔ محمد احمدؔ

    غزل جانے کیا ہو گیا ہے کچھ دن سے وحشتِ دل سوا ہے کچھ دن سے لاکھ جشنِ طرب مناتے ہیں روح نوحہ سرا ہے کچھ دن سے ہے دعاؤں سے بھی گُریزاں دل ربط ٹوٹا ہوا ہے کچھ دن سے روح، تتلی ہو جیسے صحرا میں اور آندھی بپا ہے کچھ دن سے میں اُسے دیکھ تک نہیں سکتا وہ مجھے تک رہا ہے کچھ دن سے میں تو ایسا...
  9. محمداحمد

    غزل ۔ جز رشتۂ خلوص، یہ رشتہ کچھ اور تھا ۔ محمد احمد

    غزل جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا تم میرے اور کچھ، میں تمھارا کچھ اور تھا جو خواب تم نے مجھ کو سنایا، تھا اور کچھ تعبیر کہہ رہی ہے کہ سپنا کچھ اور تھا ہمراہیوں کو جشن منانے سےتھی غرض منزل ہنوز دور تھی، رستہ کچھ اور تھا اُمید و بیم، عِشرت و عُسرت کے درمیاں اک کشمکش کچھ اور تھی، کچھ تھا،...
  10. محمداحمد

    غزل ۔ کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا ۔ محمد احمد

    غزل کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا ملی منزل کسے کارِ وفا میں مگریہ راستہ کتنا...
  11. محمداحمد

    غزل ۔ تشنگی بھی سراب ہے شاید ۔ محمد احمدؔ

    غزل یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید تشنگی بھی سراب ہے شاید کچھ کسی کو نظر نہیں آتا روشنی بے حساب ہے شاید میں سزا ہوں تری خطاؤں کی تو مرا انتخاب ہے شاید یہ جسے ہم سکون کہتے ہیں باعثِ اضطراب ہے شاید اُس کا لہجہ گلاب جیسا ہے طنز خارِ گلاب ہے شاید ہر نئی بار اک نیا پن ہے وہ غزل کی...
  12. محمداحمد

    غزل ۔ اور کیا زندگی رہ گئی ۔ محمد احمدؔ

    غزل اور کیا زندگی رہ گئی اک مسلسل کمی رہ گئی وقت پھر درمیاں آگیا بات پھر ان کہی رہ گئی پاس جنگل کوئی جل گیا راکھ ہر سو جمی رہ گئی زر کا ایندھن بنی فکرِ نو شاعری ادھ مری رہ گئی میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا ہر نفس تشنگی رہ گئی تم نہ آئے مری زندگی راہ تکتی ہوئی رہ گئی پاسِ دریا دلی رکھ لیا...
  13. محمداحمد

    سمندر کتنا گہرا ہے، کنارے سوچتے ہوں گے

    غزل سمندر کتنا گہرا ہے، کنارے سوچتے ہوں گے زمیں سے آسماں تک استعارے سوچتے ہوں گے محبت سوچتی ہوگی کہ ہم دونوں جدا کیوں ہیں مقدر درمیاں میں ہے ستارے سوچتے ہوں گے ستاروں کے تخیّل میں تو فُرقت دوریاں ہوں گی مگر برعکس دریا کے کنارے سوچتے ہوں گے مِری کج فہمیاں منزل سے دوری کا سبب ٹھہریں...
  14. محمداحمد

    صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام

    غزل حاضرِ خدمت ہے۔ صحرا صحرا دوپہریں ہیں، بادل بادل شام دل نگری کی رات اداسی، چنچل چنچل شام ڈالی ڈالی پھول ہیں رقصاں، دریا دریا موج تتلی تتلی نقش ہیں رنگیں، کومل کومل شام رنگِ جنوں دل دیوانے پر دید کے پیاسے نین تیری گلی، تیری دہلیزیں، پاگل پاگل شام نین ہیں کس کے، یاد ہے کس کی، کس...
  15. محمداحمد

    میں اسیرِ کاکلِ عشق ہوں، مجھے کیا ملے گا نجات میں - غزل پیشِ خدمت ہے

    غزل کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں، کوئی ہات بھی نہیں ہات میں ہیں اداسیاں مری منتظر سبھی راستوں میں جِہات میں ہے خبر مجھے کہ یہ تم نہیں، کسی اجنبی کو بھی کیا پڑی سبھی آشنا بھی ہیں روبرو، تو یہ کون ہے مری گھات میں یہ اداسیوں کا جو رنگ ہے، کوئی ہو نہ ہو مرے سنگ ہے مرے شعر میں، مری بات میں،...
  16. محمداحمد

    سنگ ہوا کے کھیل رچانا بھول گئے

    عزیزانِ محفل آداب آپ کی محفل میں نیا ہوں اور اپنی ایک غزل آپ کی خدمت میں پیش کررہا ھوں، امید ہے پسند آئے گی، آپ کی آرا کا انتظار رہے گا، شکریہ مخلص، محمداحمد
Top