التباس

  1. محمد یعقوب آسی

    تعارف منیر انور (لیاقت پور) ۔ ایک صاحبِ طرز شاعر

    میرے عزیز دوست جناب منیر انور کا تعلق لیاقت پور سے ہے۔ اردو اور پنجابی میں شعر کہتے ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’روپ کا کندن‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ انتساب وہ کہتی تھی ’’پاپا آپ تھک گئے ہوں گے میں آپ کو کہانی سناتی ہوں!‘‘ ’’روپ کا کندن‘‘ اسی محبت، اسی معصومیت، اسی چہکار، سمن منیر کے نام...
  2. فلک شیر

    خطان دی اُڈیک..........سرجیت پاٹر

    اِس نگری تِرا جی نہیں لگدا اِک چڑھدی اِک لہندی اے تینوں روز اُڈیک خطاں دی سِکھر دُوپہرے رہندی اے اِک خط آوے دُھپ دا لکھیا مہندی رنگے پنے تے تیرے ویڑھے بُوٹا بن کے اُگ آواں جے منھے تے اَک خط آوے ماں جائی دا بانجھ دیوگن رُتے وی ویراپت شرینہہ دے بجھ گئے میرے بُوہے اُتے وی اَک خط آوے جس وچ ہووے تیرے...
  3. فلک شیر

    ایک عام کشمیری نوجوان کی کہانی کا دردناک انجام : افتخار گیلانی از دہلی

  4. فلک شیر

    وہ بھی کیا دن تھے کہ لوگوں سے جدا رہتے تھے ہم.........ادریس بابر

    وہ بھی کیا دن تھے کہ لوگوں سے جدا رہتے تھے ہم شام ہوتے ہی الگ دنیا میں جا رہتے تھے ہم دھوپ سہتے تھے مگن رہتے تھے اپنی موج میں دوسروں کے سائے سے بچ کر ذرا رہتے تھے ہم زخم تازہ تھا، نگر بھی بے سبب آباد تھا ایک تجھ کو چھوڑ کر سب سے خفا رہتے تھے ہم اُس گلی تک چھوڑ آتے تھے ہر اک رہ گیر کو جی ہی...
  5. فلک شیر

    کراچی

    کراچی....جسے عروس البلاد بھی کہتے ہیں........مدّت سے لہو لہو ہے......ان دیکھے حملہ آور.....بوری بند لاشیں....مستقل خوف....اور ہمہ دم بر سر پیکار مقامی اور عالمی غنڈے...........کرچی کرچی اِس شہر پہ ایک نثری نظم: کراچی یہ کیا معمّہ ہے کہ بساط بچھی ہے مہرے موجود ہیں چالیں چلی جارہی ہیں مگر شاطر...
  6. فلک شیر

    دریا کے اُس پار کیا ہے؟؟.....فلک شیر

    مقدس آپا نے وصی شاہ کی ایک نثری نظم ، محبت کی حقیقت اور ماہیت بارے post کی ،تو سوچا اپنی ایک پرانی نثری نظم ، جو اسی سوال کے گرد گھومتی ہے......شائع کر دی جائے.....کیونکہ یہ سوال بہتوں کے ہاں رہا ہے اور جواب بھی بہت سوں نے اپنے اپنے رنگ ، علم اور تجربے کی روشنی میں دیا ہے...... دریا کے اُس پار...
  7. فلک شیر

    "آنجہانی باپ کے لیے" نثری نظم(سردیشور دیال سکسینہ : ترجمہ از اسد محمد خاں)

    سورج کے ساتھ ساتھ شام کے منتر ڈوب جاتے ہیں گھنٹی بجتی تھی یتیم خانے میں بھوکے بھٹکے بچوں کے لوٹ آنے کی دور دور تک پھیلے کھیتوں پر، دھویں میں لپٹے گاؤں پر، برکھا سے بھیگی کچی ڈگر پر، جانے کیسا بھید بھرا اندھیرا پھیل جاتا تھا اور ایسے میں آواز آتی تھی، پِتا ! تمہارے پکارنے کی میرا نام اس اندھیارے...
Top