۷۸۶
حامداً و مصلیاً
۱۹۰۱ میں جبکہ سرسید کی لائف یعنی کتاب حیات جاوید نامی پریس کانپور میں چھپ رہی تھی تو میں نے اُسمیں سرسید مرحوم کی پہلی تصنیف یعنی کتاب آثار الصنادید کا بیان (جسمین شہر دہلی کی عمارت کے نقشے اور اُنکے حالات درج ہیں) پڑھا اور ساتھ ہی اشتیاق ہوا کہ اس کتاب کو دیکھوں...