نتائج تلاش

  1. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    باجوہ ڈاکٹرائن نئے آرمی چیف کی منظوری تک چلتی رہے گی۔ فی الحال اس کا 6 ماہ تک کوئی امکان نہیں :)
  2. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    بہرحال ایک فرق تو ہوگا کہ خان صاحب 22 سالہ جدوجہد کے بعد لندن گئے۔ جبکہ نواز شریف، زرداری وغیرہ بار بار جیل کی ہوا کھا کر لندن گئے :)
  3. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    پی ٹی آئی حکومت نے اپنے آئینی و قانونی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہی آرمی چیف کو ایکسٹینشن دی تھی۔ جیسا کہ ماضی میں پی پی پی حکومت بھی دے چکی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ غیر اہم ایشو صرف آرمی چیف کی پوسٹ کو متنازعہ بنانے کیلئے اٹھایا ہے۔ کیونکہ اگر ایکسٹینشن دینا خلاف آئین و قانون تھا تو ماضی میں...
  4. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    دیوار سے لگی بلکہ چنوائی گئی اپوزیشن کو آرمی چیف کی ایکسٹینشن کیلئے راضی کرناکونسا مشکل کام ہے۔ اس کے عوض ان کو ماضی کی طرح کا کوئی این آر او، ڈیل شیل دے دی جائے گی۔ اللہ اللہ خیر سلہ! :)
  5. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    نواز شریف کے خلاف پاناما سکینڈل پی ٹی آئی نے بریک نہیں کیا تھا۔ وہ ان کے اپنے کالے کرتوت تھے جو بین الاقوامی صحافیوں نے ڈھونڈ کر ان کے منہ پر مل دئے۔ ایسے میں پی ٹی آئی ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہتی؟ وہ عدالت گئی اور نواز شریف کو اپنے اثاثوں کی منی ٹریل دینے کو کہا۔ اور جب انہوں نے اس کی بجائے...
  6. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    نواز شریف نے انہی صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو دوران ملازمت گھر بھیجا تھا۔ اور ان کی جگہ جنرل پرویز مشرف کو لگای تھا۔ اس وقت عدلیہ کو سانپ سونگھ گیا تھا کیا؟ اگر فوج ایک آزاد ادارہ ہے تو آئین طور پر تین سالہ مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل کیسے نواز شریف ان...
  7. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    آرمی چیف کی مدت ملازمت ٹرائل کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ تین سالہ مدت ملازمت بھی محض "روایات" کے تحت دی جاتی ہے۔ یعنی اس حوالہ سے بھی آج تک کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے۔ اور یہ صرف اس لئے کیونکہ یہ مکمل طور پر ایگزیکٹو کی صوابدید ہے۔ وہ چاہے تو 3 کی بجائے 5 سال یا چاہے تو معزولی و...
  8. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    یہ اس لئے کیونکہ ملک میں مغربی طرز کی جمہوریت نہیں بلکہ ایک ہائبرڈ نظام رائج ہے۔ جہاں اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دان مل جل کر پاور شیئرنگ فامولے کے تحت حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ سب پسند نہیں تو کسی مغربی جمہوریہ میں منتقل ہو جائیں۔ یا پورا نظام گرا کر ملک میں مغرب جیسی جمہوریت لانے...
  9. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    دو غلط کام ایک صحیح کام کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کے نزدیک عدلیہ کی مداخلت سے نواز شریف کو گھر بھیجنا غلط تھا تو اسی عدلیہ کی مداخلت سے آرمی چیف کی مدت کو روکنا بھی غلط ہے۔ غلط کو غلط کہنا سیکھیں۔ صرف اس چیز کو غلط نہ کہیں جو آپ کو پسند نہیں۔
  10. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    آب بھی قومی روایات اور عدالت کی ڈگر پر چلتے ہوئے فوج کو ایک ادارہ کہہ رہےہیں۔ حالانکہ آئین و قانون میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ فوج کوئی ادارہ ہے۔ ملک کے آزاد اداروں کا اپنا ایک آئینی و قانونی پروسیجر ہوتا ہے جیسے الیکشن کمیشنز، ڈی جی نیب وغیرہ کی تعیناتی حکومت اپوزیشن کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں...
  11. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    بات باقی جرنیلوں کی نااہلی کی نہیں ایگزیکٹو کے صوابدید کی ہے۔ ملک میں فوج ہی واحد سیکورٹی کا محکمہ نہیں ہے۔ یہاں نیوی، ایئرفورس، پولیس اور دیگر سیکورٹی کے محکمے بھی کام کر رہے ہیں۔ وہاں سربراہان کو ایکسٹینشن دیتے وقت اس قسم کے لقونے کیوں نہیں نکالے گئے؟ کیونکہ بقول عدالت آرمی چیف کی پوسٹ کے...
  12. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    آرمی چیف کا عہدہ کوئی آئینی پوسٹ نہیں۔ آئین پاکستان کے تحت فوج حکومت کا ذیلی محکمہ ہے جیسا کہ پولیس، ایئر فورس، نیوی اور دیگر سیکورٹی کی محکمے۔ انہیں کسی بھی طور پر آزاد ادارے تصور کرکے آئینی نہیں بنایا جا سکتا۔ ایسا کرنے والا تو خود آئین کی توہین کر رہا ہے۔ اب جیسا کہ وزیر اعظم، ان کی کابینہ...
  13. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    آیا عمران خان نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن اپنے سیاسی مفاد میں دیا ہے یا واقعی خطے کے سیکورٹی چیلنج کو دیکھتے ہوئے دیا ہے۔ اس کا تعین کرنا بھی عدالت عظمیٰ کاکام نہیں۔ یہ انتظامی معاملہ ہے اور مکمل طور پر ریاست کی ایگزیکٹو برانچ کی صوابدیدہے کہ وہ کس شخص کو کونسے محکمہ میں کتنے عرصہ کیلئے تعینات...
  14. جاسم محمد

    رابی پیرزادہ شوبز چھوڑنے کے بعد دین کی تبلیغ کی راہ پر

    بہرحال ہمیں بدزنی نہیں کرنی چاہئے۔ ہم لوگوں کے دلوں کا حال نہیں جان سکتے۔
  15. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    عدالت کو اس معاملہ میں فیصلہ سازی کا اختیار نہیں۔ یہ آئینی و قانونی طور پر صدر مملکت کی ڈومین ہے۔
  16. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    ہماری کیا جرات جو بگ باس کا ایکسٹینشن روکیں۔اب قانونی ترامیم کر کے لامتناہی ایکسٹینشن دیں گے۔ :)
  17. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    جو اصل ایشو تھا یعنی بگ باس کے غیر آئینی و غیر قانونی لا محدود اختیارات اس پر ایک حرف نہیں کہا۔ اور جو نان ایشو تھا اس پر صفحات کالے کر دیے۔ ایسے مضحکہ خیز عدالتی نظام آپ کو ہی مبارک ہوں۔
  18. جاسم محمد

    سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ؛ آرمی چیف مدتِ ملازمت کیلئے قانون سازی وگرنہ 6 ماہ بعدریٹائر

    دنیا کی عجیب ترین سپریم کورٹ ہے۔ آرمی چیف کے ایکسٹینشن پر تفصیلی فیصلہ لکھ دیا لیکن آرمی چیف کے لامحدود اختیارات کس آئینی و قانونی حیثیت سے ہیں پر ایک لفظ نہیں کہا :)
  19. جاسم محمد

    رابی پیرزادہ شوبز چھوڑنے کے بعد دین کی تبلیغ کی راہ پر

    مومن کی فراست یہی ہے کہ وہ یہ تھپڑ کھانے سے قبل ہی سیدھا راستہ اپنا لیتا ہے۔
Top