اس کا بھی ایک حل موجود ہے۔ جیسے طلبہ، ڈاکٹرز، تاجران، وکلاء وغیرہ نے تنظیمیں اور یونینز (جتھے) بنا کر اپنی اپنی مرضی کی رٹ (مافیاز) ہر حکومت میں قائم کی ہوتی ہے۔ یہی کام غریب عوام بھی کر لے جو کہ بہت بڑی اکثریت ہے۔ یوں نہ قوم ٹیکس دے گی، نہ قومی خزانے پر چڑھے قرضے اور واجبات ادا ہوں گے۔...