تیسرا درویش دو زانو ہو بیٹھا - جیب سے ایک نقرئی ڈبیاکہ جس پر زرنگار جڑے تھے , نکالی , اس سے ایک کامل چٹکی نسوار کی ڈالی اور ایک باریک پچکاری مار یوں گویا ہوا :
یہ سرگزشت مری ذرا کان دھر سنو
مجھ کو فلک نے کردیا زیروزبر سنو
اے یاران آوارہ گرد ! یہ فقیر آزاد منش ایک ماہ سے کچھ اوپر اس دھرنے میں...