اعجاز عبید صاحب
بے حد نوازش کے آپ نے ایک بار نہیں دو بار اس ناچیز کی ادنٰی کاوش پر اپنے تبصرے سے نوازا۔ غزل کے لئے آپ کی پسندیدگی میرے لئے سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ آپ سے اس سلسلے میں رہنمائی کی بھی درخواست ہے -
امید ہے آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
مخلص
محمد احمد
غزل
بہ پاسِ خاطرِ سرکار کیا نہیں کرتے
ہیں دل فگار مگر دل بُرا نہیں کرتے
ہماری ذات میں محشر بپا ہے مدت سے
مگر یہ ہم کہ کوئی فیصلہ نہیں کرتے
غبارِ راہ سے آگے نکل گئے ہوتے
جو رک کے پاؤں سے کانٹے جدا نہیں کرتے
و ہ دل پہ وار بھی کرتا ہے یہ بھی کہتاہے
کہ دل کے زخم عجب ہیں بھرا نہیں...
غزل
میں سمجھا مری گھٹن مٹانے آیا تھا
وہ جھونکا تو دیا بجھانے آیا تھا
موسمِ گل اُس بار بھی آیا تھا لیکن
کیا آیا بس خاک اُڑانے آیا تھا
چشم زدن میں ساری بستی ڈوب گئی
دریا کس کی پیاس بجھانے آیا تھا
مہر نشاں، زرکار قبا، وہ یار مرا
مجھ کو سنہرے خواب دکھانے آیا تھا
خالی چھتری دیکھ...