بہت شکریہ مغل بھائی
آپ کی تحریر پڑھ کر کتاب پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ اس کتاب کو برقیانے کی آپ کی کوشش بھی لائقِ ستائش ہے کیوں کہ یہ وہ موضوعات ہیں جنہیں لوگ عام قبولیت نہ ملنے کے خوف سے چھیڑتے ہی نہیں ہیں۔ برقی کتابیں پڑھنا میرے لیے بے حد مشکل کام ہے لیکن پھر بھی کوشش ضرور کروں گا۔
غزل
ہے وہی مزاجِ صحرا، وہی ریت جل رہی ہے
نہ یہ جسم موم کا ہے، نہ یہ دھوپ ہی نئی ہے
وہ الگ ہی آسماں ہے، کوئی اور ہے زمیں بھی
جہاں فکر میں مری ماں، مری راہ دیکھتی ہے
یہ جو پیڑ جل رہا ہے، کڑی دھوپ میں مسلسل
یہی میرا استعارہ، یہی میری زندگی ہے
یہ جو پیاس کی ہے شدت، ہے یہی عطائے صحرا...
اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم اِنک حمید مجید ہ
اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی اِبراھیم وعلٰی آل اِبراھیم انک حمید مجید ہ