شریر لڑکاایک تھا لڑکا بڑا شریر
نام تھا اس کا نور نذیراک دن اس کا جی للچایا
گاوں سے چل کر شہر کو آیاشہر میں آ کر اس نے دیکھا
وہاں کا پیسا ۔ گاوں جیساوہاں کا کھمبا ۔ ویسا ہی لمبا
وہاں کی روٹی ویسی ہی چھوٹیوہاں ڈھول ویسا ہی گولوہاں کی بلی ویسی ہی کالی
موٹی موٹی آنکھوں والیویسے پودے ، ویسے پیڑ...