ہر گل کی جبیں پر شکن ہے
کشمیر لٹا ہوا چمن ہے
پھولوں نے چھپا رکھا ہے ورنہ
زخموں سے اٹا بدن ہے
ہونٹوں پہ رکے ہوئے ہیں شعلے
آنکھوں پہ جمی ہوئی جلن ہے
ہر فرد ہے غم کا اک صحیفہ
ہر چہرہ حکایت محن ہے
پھیلا ہے ہاتھ برہمن کا
اس چاند کا مستقل گہن ہے
جلتے ہوئے گھر ، چھنے ہوئے کھیت
ہر...