رہی عمر بھر جو انیسِ جاں وہ بس آرزوئے نبی رہی
کبھی اشک بن کے رواں ہوئی ، کبھی درد بن کے دبی رہی
شہ دیں کے فکر و نگاہ سے مٹے نسل و رنگ کے فلسفے
نہ رہا تفاخرِ منصبی ، نہ رعونتِ نسبی رہی
سرِ دشتِ زیست برس گیا ، جو سحابِ رحمتِ مصطفے
نہ خرد کی بے ثمری رہی ، نہ جنوں کی جامہ دری رہی
تھی ہزار تیرگی...