ہر قدم مرحلہء دار و صلیب آج بھی ہے
جو کبھی تھا، وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے
جگمگاتے ہیں افق پر تو ستارے لیکن
راستہ منزلِ ہستی کا مہیب آج بھی ہے
سرِ مقتل جنہیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچے
سرِ منزل کوئی محتاط خطیب آج بھی ہے
یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کوشی
ایک نشتر سا رگِ جاں کے قریب آج...