نتائج تلاش

  1. محمد وارث

    آج کا شعر

    عالی جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے ساتھ بھی دے تو آخر پیارے کوئی کہاں تک جائے (جمیل الدین عالی)
  2. محمد وارث

    بانگِ درا کا ایک کردار -فاطمہ بنتِ عبداللہ

    بہت شکریہ شعیب صاحب، مضمون کی پسندیدگی کیلیئے آپ کا ممنون ہوں۔
  3. محمد وارث

    آپ بیتی - خواجہ حسن نظامی

    تعارف خواجہ حسن نظامی ایک متنوع اور متحرک شخصیت کے مالک تھے، ادیب، مصنف، مؤرخ اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ آپ عملی تصوف یعنی سلسلۂ پیری و مریدی کے قائل تھے اور ہزاروں، لاکھوں مرید انکے ہندوستان میں تھے۔ آپ 1878ء میں پیدا ہوئے اور 77 برس کی عمر پا کر 1955ء میں وفات پائی۔ خواجہ حسن نظامی...
  4. محمد وارث

    تبصرے - آپ بیتی خواجہ حسن نظامی

    میں نے خواجہ حسن نظامی کی خود نوشت سوانح، جو کہ اردو زبان کی پہلی خود نوشت سوانح ہے، کو برقیانے کا کام شروع کیا ہے، انشاءاللہ اپنی رفتار سے اسے مکمل کرونگا۔ ربط یہ ہے۔ http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=10119 مجھے خوشی ہوگی اگر احباب یہاں اپنے تبصرے، استفسارات اور رائے پیش کریں۔...
  5. محمد وارث

    آپ بیتی - خواجہ حسن نظامی

    فہرست - تعارف از محمد وارث - دیباچوں کا دیباچہ از خواجہ حسن نظامی - پہلا دیباچہ از لیلیٰ خواجہ بانو - دوسرا دیباچہ از ملا محمد الواحدی - تیسرا دیباچہ از مولوی شیخ محمد احسان الحق - آپ بیتی حسن نظامی - وجۂ تحریر کتابِ ہذا - حسن نظامی کا مختصر سراپا - بیعت - ذکرِ نسب - حسن نظامی کی ولادت...
  6. محمد وارث

    آپ بیتی - خواجہ حسن نظامی

    آپ بیتی از خواجہ حسن نظامی ۔
  7. محمد وارث

    آتش پارے ۔ منٹو

    دیوانہ شاعر (گزشتہ سے پیوستہ) یہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اسے کوٹ کے اندر لے جا کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ اسکے ہاتھوں کی طرح اسکا سینہ بھی غیر معمولی طور پر گرم تھا۔ اس وقت اسکی آنکھوں کے ڈورے بہت ابھرے ہوئے تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ "آپ علیل...
  8. محمد وارث

    واردات - منشی پریم چند

    مالکن (1) شیو داس نے بھنڈار کی کنجی اپنی بہو رام پیاری کے سامنے پھینک دی اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ "بہو آج سے گرہستی کی دیکھ بھال تمھارے ذمہ ہے۔ میرا سکھ بھگوان سے دیکھا نہیں گیا، نہیں تو کیا جوان بیٹے کو یوں چھین لیتے؟ مگر اس کا کام کرنے والا تو کوئی چاہیئے۔ اب ہل توڑ دوں گزر نہ...
  9. محمد وارث

    آج کا شعر

    فرخ صاحب اس شعر کے خالق برج نرائن چکبست ہیں اور اسی غزل کا مطلع حاضرِ خدمت ہے۔ دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا
  10. محمد وارث

    سابق برطانوی وزیر اعظم نے مذہب تبدیل کرلیا

    السلام علیکم ہمت علی صاحب، خبر شیئر کرنے کیلیے شکریہ آپ کا۔ ویسے "عنوان" دیکھ کر میں سمجھا کہ "اللہ جنت نصیب کرے" اپنے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز صاحب نے مذہب تبدیل کر لیا ہے سو کشاں کشاں چلا آیا ;) لیکن پہلی سطر ہی دیکھ کر ساری "امیدوں" پر پانی پھر گیا۔ بھائی اس ملک میں مذہب بدلنا کونسی ایسی...
  11. محمد وارث

    مضامینِ سر سید - انتخاب

    رسم و رواج (گزشتہ سے پیوستہ) جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں انکے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے انکو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں مگر انکے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔ مثلاً ہم یہ بات دیکھتے...
  12. محمد وارث

    آتش پارے ۔ منٹو

    دیوانہ شاعر (گزشتہ سے پیوستہ) "آپ ایسے گیت نہ گایا کریں۔۔۔۔۔۔۔یہ سخت خوفناک ہیں۔" "خوفناک۔۔۔۔۔۔۔نہیں، انہیں ہیبت ناک ہونا چاہیئے جبکہ میرے راگ کے ہر سُر میں رستے ہوئے زخموں کی جلن اور رکی ہوئی آہوں کی تپش معمور ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میرے شعلوں کی زبانیں آپ کی برفائی ہوئی روح کو اچھی طرح...
  13. محمد وارث

    واردات - منشی پریم چند

    روشنی (گزشتہ سے پیوستہ) (3) گجن پور ابھی پانچ میل سے کم نہ تھا۔ رستہ نہایت پچیدہ، پیڑ بے برگ و بار، گھوڑے کو روکنا پڑتا۔ تیزی میں جان کا خطرہ تھا۔ آہستہ سنبھلتا ہوا چلا جاتا تھا کہ آسمان سے ابر گھر آیا، کچھ تو پہلے ہی سے چھایا ہوا تھا پر اب اس نے ایک عجیب صورت اختیار کر لی۔ برق کی چمک...
  14. محمد وارث

    مقدمہ شعر و شاعری ۔ مولانا حالی صفحہ 104 سے 170

    شعر ہی پر کچھ موقوف نہیں بلکہ تمام علوم و فنون میں انسان نے اسی طرح ترقی کی ہے کہ اگلے جو ادھورے نمونے چھوڑتے گئے پچھلے ان میں تصرف کرتے رہے، یہاں تک کہ ہر ایک علم اور ہر ایک فن کمال کے درجے کو پہنچ گیا۔ شعر کی ترقی بھی اسی طرح متصور ہے کہ قدما کے خیالات میں کچھ کچھ معقول تصرفات ہوتے رہیں۔ لیکن...
  15. محمد وارث

    مراثیِ انیس ۔ انتخاب

    مرثیہ نمبر 2 (گزشتہ سے پیوستہ) ڈوبا تھا کوئی اور کوئی خون میں تر تھا ہر نخل قد اس معرکہ میں زیر و زبر تھا ڈھالیں تھیں نہ ساعد تھے نہ بازو تھے نہ سر تھا پتّے تھے نہ شاخیں نہ شجر تھا نہ ثمر تھا یوں باغ کی رونق کبھی جاتے نہیں دیکھی ایسی بھی خزاں آج تک آتے نہیں دیکھی جو برچھیاں بے پھل...
  16. محمد وارث

    آج کا شعر

    زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالی انتہا ہے یہ بے حیائی کی
  17. محمد وارث

    غالب کے لطیفے

    تاریخ وفات آخری عمر میں موت کی آرزو بہت بڑھ گئی تھی، ہر سال اپنی تاریخِ وفات نکالتے اور یہ خیال کرتے کہ اس سال ضرور مر جاؤں گا۔ 1277ھ میں انہوں نے اپنے مرنے کی تاریخ کہی "غالب مُرد"۔ اس سے پہلے کے تمام مادے غلط ہو چکے تھے، منشی جواہر سنگھ جوہر سے مرزا نے اس مادے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا۔...
  18. محمد وارث

    غالب کے لطیفے

    غلام گردش میں ہے ایک دن مرزا، فتح الملک بہادر کو ملنے گئے، جب غلام گردش میں پہنچے تو خدمت گار نے صاحبِ عالم کو اطلاع دی کہ مرزا نوشہ صاحب آ رہے ہیں، وہ کسی کام میں مصروف تھے، بلا نہ سکے۔ مرزا وہیں ٹہلتے رہے۔ صاحبِ عالم نے کچھ دیر کے بعد ملازم کو پکار کر کہا۔ "ارے دیکھ، مرزا صاحب کہاں ہیں۔"...
  19. محمد وارث

    غالب کے لطیفے

    مصلّے کی تعظیم ایک مرتبہ زنان خانے میں جانے لگے تو دیکھا بیگم صاحبہ عین صحن میں مصلا بچھائے نماز پڑھ رہی ہیں، مرزا نے یہ دیکھا تو دروازے پر ٹھہر گئے جب وہ نماز پڑھ چکیں تو آپ نے جوتا اتار کر سر پر رکھا اور ننگے پاؤں آہستہ آہستہ ڈرتے ہچکچاتے ہوئے صحن تک آئے، بیگم نے یہ حالت دیکھی تو مسکرا کر...
  20. محمد وارث

    غالب کے لطیفے

    دلی میں گدھے ایک بار مرزا اور انکے ایک مہمان، جو کسی دوسرے شہر سے تشریف لائے تھے، کسی دعوت سے رات کے وقت واپس آ رہے تھے کہ ایک تنگ گلی میں ایک گدھا کھڑا تھا۔ مہمان رک کر بولا۔ "مرزا صاحب، دلی میں گدھے بہت ہیں۔" مرزا نے فوراً جواب دیا۔ "صاحب، باہر سے آ جاتے ہیں۔"
Top