مرثیہ نمبر 2
(گزشتہ سے پیوستہ)
جب کٹ گیا حلقِ پسرِ حیدرِ کرّار
خوش ہو کے پکارا پسر سعد جفا کار
اتریں ابھی گھوڑوں سے نہ سب فوج کے اسوار
پیدل بھی ابھی اپنی کمر کھولیں نہ زنہار
قتلِ شہِ بے کس کا صلا دینا ہے مجھ کو
اک کام ابھی اور ہے وہ لینا ہے مجھ کو
جو لوگ ادھر ہیں قدم آگے نہ بڑھائیں
جو...