مرثیہ نمبر 3
(گزشتہ سے پیوستہ)
چاروں شریر جب ہوئے دوزخ میں ایک جا
کانپا غضب سے ارزقِ ملعون و بے حیا
اس دم یہ بڑھ کے حضرتِ قاسم نے دی صدا
دیکھا ہماری ضرب کو او بانیِ جفا
دبکا ہوا ہے فوج میں کیوں منہ کو پھیر کے
ہشیار اب اجل تجھے لائی ہے گھیر کے
یہ سن کے آ گیا جو حرارت کا دل میں جوش
پہنا...