حضرت آپ نے بھی تو ملنے کی پخ لگائی ہوئی ہے کتاب کے ساتھ۔ ہماری طرف عرش سے اتاری گئی کتاب آپ روک کر بیٹھے ہیں اور ہم اس انتظار میں کہ کب اہلِ کتاب میں شمار ہوں :)
بہت خوبصورت غزل ہے، لاجواب اشعار ہیں
بظاہر ہیں بھری محفل میں لیکن
خداجانے کہاں بیٹھے ہوئے ہیں
ستارے ہیں کہ صحرائے فلک میں
بھٹک کر کارواں بیٹھے ہوئے ہیں
کنویں کی تہہ میں جھانکو عکس در عکس
یہاں سات آسماں بیٹھے ہوئے ہیں
کھنچی ہیں دل پہ پتھر کی لکیریں
نقوشِ رفتگاں بیٹھے ہوئے ہیں
واہ واہ واہ!
اعجاز صاحب کی اصلاح کے بعد، آپ کی غزل بہت خوبصورت ہو گئی ہے جیا راؤ ماشاءاللہ۔ ردیف خوب سوجھی آپ کو، اور امید ہے کہ مزید اشعار بھی سوجھتے رہیں گے اور یہاں اپنا کلام پوسٹ کرتی رہیں گی :)
شکریہ امید اور نظامی صاحب!
تغزل، رنگِ غزل، اور اسکی چاشنی، اور شعروں کا حسن جس سے سماں بندھ جاتا ہے، اور قاری لطف و نشاط و کیف و وارفتگی سی محسوس کرتا ہے!
سرکاری کانفرنس میں تو یہی کچھ ہونا تھا، اردو یتیم کو 'سرکاروں' نے کب پوچھا ہوگا!
اردو بلاگرز کی 'پریزنٹیشن' کے بارے میں میں بھی متمنی ہوں، ہاں یہ بھی جاننا چاہونگا کہ ارد شیر کاؤس جی نے کیا کہا بلاگنگ کے موضوع پر!
آپ کی بات بالکل بجا ہے احمد صاحب، جہاں گنجائش ہو وہاں ضرور اجازت ہونی چاہیئے، اور کئی معاملات میں میرا اصرار بھی یہی ہے!
دوسری بات بھی خوب کہی آپ نے، دراصل بلاغت کا مسئلہ ہے، عربی فارسی کے مانوس الفاظ اور انکا آہنگ صدیوں سے ہمارے ساتھ ہے۔ اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا جو مولانا شبلی نعمانی نے شعر...