زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ جاں کشادہ تھا
رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا
ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام
رخشِ ہَوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا
تیرا جمالِ کم نما آنکھ میں کیا اُتارتے
آئنہ بھی اداس تھا، چاند بھی ہجر زادہ تھا
کیا کبھی خالد اُس سے ہم کرتے بقدرِ دل سخن
اُتنے ہی کم سخن...