واہ واہ آصف صاحب، بہت خوبصورت غزل ہے، بہت داد قبول کیجیے قبلہ:
رفتہ رفتہ دور ہوئے جاتے ہیں اپنے پیاروں سے
یارو! ہم تو دور ہی اچھے درہم اور دیناروں سے
جانے والوں کو تو مانا، اک دن چھوڑ کے جانا ہے
برسوں حسرت جھانکتی رہتی ہے گھر کی دیواروں سے
مہد سے لیکر لحد تلک ہم روپ بدلتے رہتے ہیں
اس دنیا...