سماعِ دُرد کشاں، صُوفیاں چہ می دانند
ز شیوہ ہائے سَمندر، سپند را چہ خبر
(نظیری نیشاپوری)
تلچھٹ (دُرد) پینے والوں کے سماع کو صُوفی کیا جانیں، آگ میں جل کر زندہ رہنے والے (سمندر) کے طریق کا آگ میں جل کر ختم ہو جانے والی حرمل کو کیا خبر۔
شکریہ کاشفی صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!
عمران صاحب کی باتیں صحیح ہیں، پلیز 'کھینچ' کو صحیح کر دیں غزل میں۔
سنگِ دریا والے مصرعے میں واقعی کچھ ہے، کسی طرح بحر میں 'فٹ' نہیں ہو رہا۔
بہت شکریہ برادرم ایک اور خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے، شہزاد احمد واقعی بہت اچھے شاعر ہیں۔
اللہ آپ کا عشق سلامت رکھے تا کہ شاعری سے آپ کی محبت برقرار رہے :)