فرہنگِ آصفیہ اور لغاتِ کشوری دونوں میں 'روحِ رواں' یا 'روح و رواں' کی ترکیب نظر نہیں آئی۔
عصرِ حاضر کی سب سے مستند لغت (مشتاق احمد یوسفی کی نظر میں) 'علمی اردو لغت' (جامع) از وارث سرہندی میں 'روحِ رواں' ہے:
['روحِ رواں: (ع ف امذ) وہ چیز یا شخص جس پر کسی چیز کا دارومدار ہو۔ زندہ روح۔ اصل چیز]...