پیارے دوستو، معذرت کے ساتھ یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ مندرجہ بالا غزل کو شمشاد بھائی نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے تو پھر ابھی اسے صرف پاکستانی بھائی کے نام ہی سمجھا جائے :( :cry: :roll: :oops: :x :o
قیصرانی
تو کیا ہوا، ہم بھی تو اس کے ساتھ ہی بیٹھے ہیں :lol:۔ پلگ اینڈ پلے کا فیچر اور چند ایک نہایت بنیادی یوزر فرینڈلی خصوصیات ہی تو ہمیں ونڈوز کے جال سے نہیں نکلنے دے رہیں :(
قیصرانی
زبردست پاکستانی بھائی۔ یہاںایک تحفہ آپ کا اور شمشاد بھائی کا منتظر ہے۔ وصول پا کر رسید جاری کیجئے گا۔
نوٹ: ہمارا کوئی برانچ یا ہیڈ آفس نہیں ہے لہٰذا براہٍ کرم رسید ہمارے ہی نام جاری کی جائے :lol:
قیصرانی
خوب انتظار مت کریں، بلکہ تھوڑا سا انتظار کریں :lol: دراصل میں ابھی یہی گانا اپ لوڈ کر رہا تھا، لیکن دوبار کوشش ناکام ہوئی نوے فیصد سے آگے جا کر۔ تو امید ہے کہ کل ہی کچھ کروں تو کروں ابھی ہمت نہیں ہو رہی
قیصرانی
وہ مالم نہیں
پھر دفعتا ایک عجیب واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے ناؤ گھر میں ہلچل مچ گئی۔ ایک روز جب وہ کالج سے لوٹنے کے بعد کھانا کھانے میں مصروف تھے تو ان کا نوکر گاما اندر داخل ہوا۔ حسب معمول اس کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں آنکھوں میں وہی خصوصی بے بسی تھی۔
جی جی۔ وہ بولا۔
جی جی۔ جاہ نے ازراہ...
نہیں بھئی۔ ایلی چلایا۔ جب انہیں دخل اندازی نا پسند ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔
اونہوں۔جمال بولا۔ انہیں کیا پتہ کہ یہ دخل اندازی نہیں وہ تمہارے قدر کیا جانیں مجھ سے پوچھو یار۔ اپنی قدر و منزلت مجھ سے پوچھو۔
ایلی خاموش ہو گیا۔
نہ جانا۔ خدا کے لئے۔ جمال نے اس کی منتیں کرنا شروع کر دیں۔ کچھ دن ٹھہر جاؤ پھر چلے...