بہت خوب خلیل صاحب اب مفہوم واضح ہو گئے ہیں، فقط یہ کہ اب پہلے مصرعے میں شمع کو میم کی تشدید سے پڑھنا پڑھے گا یعنی شم مع، میرے خیال میں شاید یہ درست وزن نہیں ہے۔
آخری شعر کے پہلے مصرعے کو مثال کے طور پر یوں بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ شعر سوال ہے اور اس کے بعد شمع کا جواب ہے۔
لی کہاں سے آتشِ...
اجی صاحب ہم اپنی رائے پر اب بھی قائم ہیں، لٹرم پٹرم بھی ضروری ہی سہی ہماری طرح دال دلیے کیلیے لیکن شاعری کی محبوبہٴ دلنواز کچھ مزید توجہ چاہتی ہے آپ سے :)
خوب ترجمہ کیا آپ نے خلیل صاحب۔
کچھ بہتری کی صورتیں اس میں نکل سکتی ہیں۔
دوش می گفتم بہ شمعِ منزلِ ويران خويش
گيسوے تو از پر پروانہ دارد شانہ اے
رات میں نے یوں کہا تھا شمعِ ویراں سے مری
تابداری سب تری منت کشِ پروانہ ہے
شاعر کا خطاب اپنی ویران منزل کی جلتی ہوئی شمع سے ہے، لیکن آپ کے شعر...
خوش آمدید عباسی صاحب۔
کسی بھی فورم میں اوپر بائیں طرف نیا موضوع ارسال کریں لکھا ہوگا، اس پر کلک کریں اور جو لکھنا چاہتے ہیں لکھ دیں، ایک نیا تھریڈ شروع ہو جائے گا۔
کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر
بینش نہیں رکھتے یاں کے برنا اور پیر
اندھے ہیں جہاں کے لوگ سارے اے میر
سُوجھے نہ جسے اسے یہ کہتے ہیں بصیر
میر تقی میر
نہیں محب، تم دو الگ ایشوز کی بات کر رہے ہو۔ اردو سے محبت ہونا اور چیز ہے اور اردو بطور مدرسی مضمون کے پسند ہونا اور چیز ہے۔ مجھے تمھارا تو علم نہیں لیکن مجھے سکول کالج میں ریاضی اور فزکس پسند تھے اور اردو سے تو ایک طرح کی نفرت ہی تھی :)