بے اختیار قبلہ و کعبہ غالب دہلوی کا ایک شعر یاد آگیا :)
خوش بَوَد فارغ ز بندِ کفر و ایماں زیستن
حیف کافر مُردن و آوخ مسلماں زیستن
کفر اور ایمان کی الجھنوں سے آزاد زندگی بہت خوشی اور سکون سے گزرتی ہے، حیف کافر مرنے پر اور افسوس مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے پر۔
اجی صاحب اس انارکلی بازار سے ہم نے بھی بہت سے کلیاں چنی ہیں، لاہور میں تین سالہ قیام کے دوران اور اسکے بعد پچھلے پندرہ سالوں میں سینکڑوں بار۔
میرا لاہور جانا ہو تو اپنے سسرال جاؤں یا نہ جاؤں وہاں ضرور جاتا ہوں۔ افسوس سیالکوٹ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
ایک اور شعر دیکھیے اعجاز صاحب
خورشید ترا دیکھ کے منہ کانپ کے نکلا
مہ چادرِ مہتاب میں منہ ڈھانپ کے نکلا
اس میں آپ کے استدلال کے مطابق اگر کانپ کا ک اور ڈھانپ کی ڈ چھوڑ دی جائے تو باقی انپ اور ھانپ بچتے ہیں ظاہر ہے شاعر نے ان کو قوافی کیا ہے۔