اک دن بوڑھے نیاز پہ جو بپتا آئی
برق اندازون نے کی چپکے سے چڑھائی
اور کچھ نہ سنی اس کی دھائی
پیشی امیر کی عدالت میں کرائی
پیچھے پیچھے جعفر کبڑا دوڑا آیا
منحوس شکل اپنی سرکار میں لایا
ھم ظلم کب تک برداشت کریں گے
کہہ رے گھڑے، سب تو سنیں گے
تیری مٹی کی جیبھ ھے سچی پیارے
اس سے سب نیاز کا...