مرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صفِ عدو سے نکل گئے
مری محفلوں سے نکل گئے مری گفتگو سے نکل گئے
وہ جو ایک پانی کی بوند تھی ترے بحرِ زہر میں ضم ہوئی
وہ جو قطرہ ہائے شراب تھے تری آب جو سے نکل گئے
جو مقامِ لا پہ کھڑے رہے ، صفِ سرخرو میں کھڑے رہے
جو مقامِ لا سے نکل گئے ، صفِ “سرخ رو “سے نکل گئے
ترے رنگ و...