یہ پورا واقعہ کچھ اس طرح ہے:
ابراھیم ذوق بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر تھے غالب اور ذوق ایک دوسرے کے رقیب تھے ایک دن ابراھیم ذوق اپنے ٹولے کے ساتھ گزر رہا تھا کہ غالب نے مصرعہ اچھالا
بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
ابھی صرف یہ مصرعہ ہی اپنے رقیب کی شان میں عرض کیا تھا کہ بادشاہ کو خبر ہو گئ۔...