کیا مولوی ابراہیم خلیل کا اور کلام بھی موجود ہے؟اس غزل سے تو بڑے قادر الکلام معلوم ہوتے ہیں۔
یا کہیں آپ غالب کی غزل کو ان کا کلام بنا کر اپریل فول تو نہیں منا رہے۔ :P
یہی مقصد تھا میری بات کا کہ
دونوں انتہائی اہم مضمون ہیں. پہلا آگہی کا سفر اور دوسرا عشق میں کھوٹے پن کا درد بھرا احساس . کہ عشق کی راہوں میں کھوٹے پن سے کام نہیں چلتا.
مصنف خود بھی بیوروکریٹ رہے ہیں، اور ہلکے پھلکے انداز میں سرکاری دفاتر کے پورے نظام کو اس کتاب میں بیان کیا ہے. کافی ضخیم کتاب ہے.
ابھی میرے پاس نہیں ورنہ پبلشر کا بتا دیتا. غالباً نیٹ پر کہیں تعارف مل جائے
حسین احمد شیرازی کا بابو نگر پڑھ کر تو رہی سہی امید بھی نہیں رہی کہ یہ نظام نارمل طریقہ سے درست ہو سکے.
بظاہر ظریفانہ پیرائے میں لکھی گئی یہ کتاب ہمارے سرکاری نظام کو بری طرح بے نقاب کرتی ہے.
خوش آمدید۔
بھائی اپنا تعارف بھی کروا دیں ۔ تعارف و انٹرویو والے زمرہ میں لڑی بناکر ۔
دوسرا یہ کہ غلطی کی صورت میں پوسٹ کے نیچے کچھ وقت کے لئے تدوین کا آپشن ہوتا ہے، وہاں سے درست کیا جا سکتا ہے۔ نئی لڑی بنانے کی ضرورت نہیں۔ :)
مجھے سعدیہ بہن کی بات سے اتفاق ہے۔
میری رائے میں یہ زیادہ بہتر ہوتا کہ آپ نے جو تحریر بطورِ تمہید لکھی ہے وہ الگ تحریر ہوتی۔
اور یہ آخر ی حصہ الگ پوسٹ کیا ہوتا۔
بہرحال یہ صرف میری رائے ہے، آپ میرے سے بہتر جانتے ہیں کہ بات کیسے پیش کی جائے۔ :)
محفل میں خوش آمدید
یہاں رہنمائی کے لئے اساتذہ موجود ہیں۔ ان شاء اللہ اردو بھی بہتر ہو گی اور شاعری بھی۔
اور پوسٹ اسی طرح ہوتی ہے جیسے ابھی یہ آپ نے کی ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھیں کہ جو پوسٹ کر رہے ہوں اس کا زمرہ درست منتخب کریں۔ :)
خوش آمدید۔
بھائی، پہلے تو تعارف و انٹرویو میں جا کر تعارفی لڑی بنا کر اپنا تعارف کروا دیں۔
دوسرا یہ کہ اصلاحِ سخن کے حوالے سے محفل میں اصلاحِ سخن کا زمرہ موجود ہے، وہاں لڑی بنا دیا کریں، اساتذہ آپ کی رہنمائی کر دیں گے۔ :)
لفظ درست کر لیں : اذیت
میری رائے میں پناہ کی جگہ پنہ کر لیں تو وزن درست...
جب تک حاضر و غیب سے کچھ اور مضامین وارد نہیں ہوتے۔ زبردستی کی شاعری کے خلاف ہوں۔ :)
بقول دادا مرحوم:
اے نظرؔ کچھ چاہئے مقصد سے بھی وابستگی
خامہ فرسائی کی خاطر خامہ فرسائی نہ کر
حقائق یہ ہیں کہ میں نے آج تک اسے تضحیک، پریشانی، فریب، جھوٹ اور اچھے دوستوں کا اعتماد کھونے کا دن پایا ہے۔
میری اکلوتی غزل کا ایک شعر
دوستوں کو فریب دے کر ہم
کیوں بھروسے کا خون کرتے ہیں