دادا مرحوم کی ایک غزل احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:
خلش کی بڑھ کے در دِبیکراں تک بات پہنچی ہے
محبت کی ذر ا دیکھیں کہاں تک بات پہنچی ہے
نکل کر آہِ دل میری سر ِعرشِ بریں پہنچی
درونِ دل سے چل کر آسماں تک بات پہنچی ہے
جو منزل تک پہنچ کر اُف پلٹ آیا ہے منزل سے
ا سی گم کردہ منزل کارواں تک بات...