نتائج تلاش

  1. محمد تابش صدیقی

    آپ اداس ہو کر کیا کرتے ہیں ؟

    جب اداس ہوتا ہوں. توجہ کو مثبت چیزوں کی طرف لگاتا ہوں. اللہ تعالیٰ کے انعامات گننا شروع کر دیتا ہوں. اداسی کا اثر زائل ہو جاتا ہے.
  2. محمد تابش صدیقی

    شکر الحمداللہ. خوشگوار موسم. ٹھنڈی ہوائیں.

    شکر الحمداللہ. خوشگوار موسم. ٹھنڈی ہوائیں.
  3. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: دل ہے کہ اس نے سیکڑوں فتنے اٹھائے ہیں٭ نظرؔ لکھنوی

    شکریہ الشفاء بھائی شکریہ یوسف بھائی شکریہ لاریب بہن شکریہ عباد بھائی
  4. محمد تابش صدیقی

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    تو پھر کیا فیصلہ کیا یاز بھائی. بھینس لے رہے ہیں یا نہیں؟ مہدی بھائی! و علیکم السلام
  5. محمد تابش صدیقی

    اقبال کو نوبل انعام کیوں نہیں ملا ؟

    میں بھی مضمون نگار کی اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ: اقبال نے شاعری ان مقاصد کے لئے نہ کی تھی۔
  6. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    رباعی کے غالباً 24 اوزان ہیں۔ ان میں سے کوئی ہو گا۔
  7. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    رباعی کے حوالے سے محمد وارث بھائی زیادہ بہتر رائے دے سکتے ہیں۔
  8. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید آپ نے میرے جواب کا برا منایا ہے۔ وجہ سمجھ نہیں آئی۔ :)
  9. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    جی تقطیع نہیں ہو رہی۔ اور میں خود کم علمی کے باعث تقطیع کرنے سے قاصر ہوں۔ اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں۔ لیکن اس بات کاتجربہ ہے کہ عروض انجن بعض اوقات درست تقطیع نہیں کر پاتا۔
  10. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    عروض انجن اتنا پرفیکٹ بھی نہیں ہے۔ :)
  11. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    یہ لیں جناب
  12. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    نوٹ: مجھے اس بحر کی الف، بے کا بھی نہیں پتہ۔ صرف گوگل میں بحر کا نام ڈالنے سے جو دو پہلے ربط سامنے آئے، پیش کر دیے۔ :)
  13. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    اور یہ غالب
  14. محمد تابش صدیقی

    خائف ہیں ہست سے .....

    عروض کے ذریعے جوشؔ
  15. محمد تابش صدیقی

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    وہ بھی ایک حصہ دودھ میں تین حصہ پانی۔ :)
  16. محمد تابش صدیقی

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    میں نے تو ایسا نہ سنا نہ دیکھا آج تک۔
  17. محمد تابش صدیقی

    نظر لکھنوی غزل: دل ہے کہ اس نے سیکڑوں فتنے اٹھائے ہیں٭ نظرؔ لکھنوی

    دادا مرحوم کی ایک غزل احباب کی خدمت میں: دل ہے کہ اس نے سیکڑوں فتنے اٹھائے ہیں ہم ہیں کہ اس کو سینے سے پھر بھی لگائے ہیں ہنس کر بروئے بزم غمِ دل چھپائے ہیں چہرے پہ ہم خوشی کا ملمع چڑھائے ہیں ایماں کی قوتوں نے دیا ہے مجھے ثبات جب راہِ حق میں میرے قدم ڈگمگائے ہیں غم بجھ گئے ہیں اور تمنا چمک...
Top