دادا مرحوم کی ایک غزل احباب کی خدمت میں:
دل ہے کہ اس نے سیکڑوں فتنے اٹھائے ہیں
ہم ہیں کہ اس کو سینے سے پھر بھی لگائے ہیں
ہنس کر بروئے بزم غمِ دل چھپائے ہیں
چہرے پہ ہم خوشی کا ملمع چڑھائے ہیں
ایماں کی قوتوں نے دیا ہے مجھے ثبات
جب راہِ حق میں میرے قدم ڈگمگائے ہیں
غم بجھ گئے ہیں اور تمنا چمک...