لسانیات میں ادق الفاظ ہوں یا مرکبات، ان کا شاذ ہی استعمال ہوتا ہے کہ ان کے بے جا استعمال سے قاری کی یکسوئی اور دلچسپی مفقود ہو کر رہ جاتی ہے۔ بربنائے تہذیب، میں بھی ہمیشہ یہ کاوش کرتا آیا ہوں کہ انتہائی سلیس زبان میں اپنا مفہوم دوسروں تک منتقل کیا جائے