ریختہ صفحہ 71
ادھر ادھر خوش رنگ پھولوں کے پودے ہیں اور جس وقت ہوا ان پھولوں کو سرسراتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام پہاڑ ہنس رہا ہے۔ کیسی بہار تھی کہ سبحان اللہ۔ میں نے پانی پیا تو کتنا شیریں کہ دل باغ باغ ہو گیا۔ پہاڑی درخت میوؤں سے لدے کھڑے تھے۔ بھوک کے مارے بیتاب تھی۔ خوب توڑے خوب کھائے...