دیر تک بیٹھے ہوئے دونوں نے بارش دیکھی
وہ دکھاتی تھی مجھے بجلی کے تاروں پہ لٹکتی ہوئی بوندیں
جو تعاقب میں تھیں اِک دوسرے کے
اور اِک دوسرے کو چھوتے ہی تاروں سے ٹپک جاتی تھیں
مجھ کو یہ فکر کہ بجلی کا کرنٹ
چھو گیا ننگی کسی تار سے تو آگ کے لگ جانے کا باعث ہو گا
اس نے کاغذ کی کئی کشتیاں پانی پر...