بات کچھ یوں ہے کہ امین شارق مشاعرہ میں شریک نہ ہو پائے۔ ان کا کلام ہمارے پاس بطور امانت پہنچایا گیا ہے جو ہم جوں کا توں آپ احباب کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
دِل کو ہی چُپ کراؤں یا دیکھوں جِگر کو میں
حیراں ہُوں عاشقی میں چلُوں کِس ڈگر کو میں
اِک سِمت مے کدہ ہے تو اِک سِمت کُوئے یار
آتا نہیں...