اک فرشتہ خواب میں اِک شب مجھے عرشی ملا
ہاتھ میرا تھام کر پھر سیر کو وہ لے گیا
اک بڑے دالان میں لے جا کے یوں کہنے لگا
آ تجھے جنت، جہنم کا دکھاؤں ماجرا
اُس نے کھولا اپنی بائیں سمت اک کمرہ بڑا
اس کھلے کمرے کے بیچوں بیچ تھا رکھا ہوا
گول سا اک میز جو سائز میں تھا بے حد بڑا
گرد اس کے کرسیاں تھیں جن...