طارق بھائی۔
یہاں پہلا لفظ "جوع" ہوگا غالبا"۔۔۔بمعنی بھوک۔
جوع رزق جانِ خاصانِ خدا ست
اور دوسرا مصرع بھی کتابت کی کچھ نظر ثانی چاہتا ہے ۔ شعر بہر حال لاجواب ہے ۔
:)درست فرمایا آپ نے ۔۔ شاید وہ مقطع ہی تھا ۔۔۔یہ شعر بھی غالبا"
انہی کی طرح کسی ریاضی دان شاعر صاحب کا ہو گا ۔
میں تو اک حرف تہجی بھی نہیں پڑھ سکتا
تیری آنکھیں ہیں ریاضی کے سوالوں جیسی
یہ ٖقصہ ہم نے اس طرح سنا کہ ایک بادشاہ نے طیش میں اپنے باورچی کو ( یہ پوچھنے پر کہ آج کیا پکایا جائے ) کہہ دیا "خاک" جب کھانے کے وقت گوشت حاضر کیا گیا اور باوچی کی جانب سے مذکورہ وضاحت کی گئی تو باور چی کو انعام و اکرام سے نوازا گیا ۔:)
افروختن ۔ و ۔ سوختن ۔ و ۔ جامہ دریدن۔۔
پروانہ زمن شمع زمن گل زمن آموخت۔۔
شاعر کا نام معلوم نہیں-
روشنی بکھیرنا شمع نے ۔ جل مرنا پروانہ نے اور گریباں چاک کرنا گل نے ۔ مجھ سے سیکھا ہے۔
چو محو عشق شدی ،،،، رہنما چہ می جویٴ
بہ بحر غوطہ زدی ،،، ،نا خدا چہ می جویٴ
بذوق ِدل نفس طوف خویش کن بیدل
تو کعبہ در بغلے ،،،، جا بہ جا چہ می جویٴ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اگر عشق ﴿کے میدان میں﴾ گم ہو گیے تو رہنما کو کیا ڈھونڈنا؟
اگر سمندر میں غوطہ لگاچکے تو اب ناخدا کو کیا ڈھونڈنا؟
بیدل...
الف عین صاحب ۔۔کیا آخری حرف ۔۔ ख़ ۔۔ واقعی ۔خ ۔کی آواز دیتا ہے؟ میرا خیال تھا کہ غ کی طرح خ کا بھی متبادل ہندی میں کچھ نہیں اور یہ حرف در اصل ۔کھ۔ کی آواز سے زیادہ مشابہ ہے۔جیسے کہ خون کو بعض لوگوں کا کھون پڑھنا۔۔۔ آپ کی وضاحت ہو تو کچھ لطف آءے ۔
ندیم حفی صاحب بہت بہت ۔ خوش آمدید ۔محترم الف عین نے درست فرمایا ۔۔۔۔ آپ انھیں اسطرح موزوں کر سکتے ہیں ۔خوب کلام ہے ۔۔۔
وہ دل کہ زیر کرب تھا سو اب رہا ہوا
ہاں ۔ یاد رفتگاں کا یہی معجزہ ہوا
مجھ سے سوال پوچھ کے تڑپا تھا خود بھی وہ
مہر و وفا کے رازِسے یوں آشنا ہوا
بہت بہترین ہے جناب منصور صاحب۔۔۔۔ بس ایک چیز کی طرف اشارہ کر نا مناسب معلوم ہوتا ہے۔۔
حق کا میں ق اور ک علم الصرف اور تجوید کے اعتبار سے قریب المخرج حروف ہیں۔۔ ق ساکن کے فورا بعد ک ذرا ثقالت پیدا کرتا ہے اگر چہ وزن کے اعتبار سے کوی فرق نہیں پڑتا مگر مصر ع اور بحر کی روانی قدرے متاثر ہو...
بہت خوب انتخاب کیا ہے۔اور ترجمہ بھی خوب ڈھالا ہے۔۔۔ اگر پہلے مصرع میں ﴿ اصل اور رباعی کے مثل ۔۔اگر چہ مختلف وزن پر ہی ہو ﴾ قافیہ بندی ہو تو دوبالا ہو ۔۔مثلاً
واسطے کیوں طور کے درماندہ ہے