ہے دعا یاد مگر، حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو اندازے نوا یاد نہیں
ہم نےجن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہ ہی عہد وفایاد نہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں
میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں
کیسے بھر...